پشاور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پشاور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 28 فروری، 2025

مولانا حامد الحق اپنے والد مولانا سمیع الحق کے قریب سمجھے جاتے تھے اور انھوں نے سیاسی طور پر ان سے بہت کچھ سیکھا۔۔۔ ’پاکستان کے ریاستی اداروں کے لیے بھی جامعہ حقانیہ انتہائی اہم رہا ہے اور اس کے ذریعے ایسے مؤثر چینل کو استعمال کیا جاتا رہا ہے جس سے ریاستی پالیسیوں کے نفاذ میں آسانی ہوتی ہے



والد کے قریب سمجھے جانے والے مولانا حامد الحق کون تھے اور مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کی سیاسی و مذہبی اہمیت کیا ہے؟
مدرسہ ،تصویر کا ذریعہFacebook/Hamid-Ul-Haq-Haqqani
،تصویر کا کیپشنمولانا حامد الحق اپنے والد مولانا سمیع الحق کے قریب سمجھے جاتے تھے اور انھوں نے سیاسی طور پر ان سے بہت کچھ سیکھا تھا۔
مضمون کی تفصیل
مصنف,عزیز اللہ خان
عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
ایک گھنٹہ قبل
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں جمعے کو ہونے والے خودکش حملے میں جے یو آئی (س) کے سربراہ اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔

آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بی بی سی کو اس دھماکے میں مولانا حامد الحق کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکہ جمعے کی نماز کے بعد ہوا اور حملہ آور کا ہدف جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) سمیع الحق گروپ کے سربراہ اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق تھے۔

واضح رہے کہ اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی شدت پسند تنظیم یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

مولانا حامد الحق کون تھے؟
حامد الحق ،تصویر کا ذریعہFacebook/Hamid-Ul-Haq-Haqqani
،تصویر کا کیپشنمولانا حامد الحق نے سنہ 2002 میں متحدہ مجلس عمل کی ٹکٹ پر انتحابات میں حصہ لیا تھا اور اپنے حلقے اکوڑہ خٹک سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
سیاسی و مذہبی جماعت جمعیت علما اسلام (س) گروپ کے 57 سالہ رہنما مولانا حامد الحق اپنی پارٹی کے سربراہ اور خیبر پحتونخوا کے ضلع نوشہرہ کے مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے نائب مہتمم تھے۔ ان کے چچا مولانا انوار الحق اس وقت مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم ہیں۔ وہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔

مولانا حامد الحق سنہ 2018 میں اپنے والد مولانا سمیع الحق کے اسلام آباد میں قتل کے بعد جماعت کے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔

مولانا حامد الحق 1968 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے اور انھوں نے دینی تعلیم دارالعلوم حقانیہ سے حاصل کی تھی۔ انھوں نے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر دنیاوی تعلیم میں گریجویشن کر رکھی تھی۔

وہ پاکستانی مدرسہ جس کے طلبہ طالبان کابینہ میں بھی شامل رہے
8 ستمبر 2021
سراج الدین حقانی کی واحد تصویر جو پاکستانی گلوکارہ کے کیسٹ کور میں ’سمگل‘ کی گئی
8 ستمبر 2021
مولانا سمیع الحق کون تھے؟
2 نومبر 2018
’سرکاری سکولوں کا فنڈ دارالعلوم حقانیہ کو کیوں دیا؟‘
12 اپريل 2019

امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان میں مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی تھی اور سنہ 2002 کے عام انتخابات میں پاکستان کے سابق آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی پالیسیوں کے خلاف ایک سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل قائم کیا گیا۔

مذہبی جماعتوں کے اس سیاسی اتحاد نے 2002 کے عام انتخابات میں بڑی تعداد میں صوبائی و قومی سطح پر نشستیں جیتیں اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کی تھی۔

مولانا حامد الحق نے سنہ 2002 میں متحدہ مجلس عمل کی ٹکٹ پر انتحابات میں حصہ لیا تھا اور اپنے حلقے اکوڑہ خٹک سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

وہ 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ انھوں نے اس کے بعد بھی انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔

مولانا حامد الحق اپنے والد مولانا سمیع الحق کے قریب سمجھے جاتے تھے اور انھوں نے سیاسی طور پر ان سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ ان کے والد ایک معروف سیاسی اور مذہبی شخصیت تھے۔

حامد الحق اور ان کی جماعت کے دیگر اراکین افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے وفود میں شامل رہے ہیں اور گذشتہ دنوں صوبائی حکومت کی جانب سے بلائے گئے دینی جماعتوں کے رہنماؤں اور علما کرام کے ایک اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔

اس اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی تھی اور اس میں أفغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے وفود تشکیل دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی اہمیت کیا ہے؟
مدرسہ ،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنجامعہ دارالعلوم حقانیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ طالبان کی ایک ایسی یونیورسٹی ہے جہاں سے فارغ ہونے والے طلبا پاکستان اور افغانستان میں مذہبی سیاسی منظر نامے اور عسکری تحریکوں میں متحرک پائے گئے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں جمعے کو خودکش حملے میں نشانہ بننے والا مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پاکستان کے مدارس میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور مختلف ادوار حکومت میں اس مدرسے کو حکومتی گرانٹس بھی دی جاتی رہی ہے۔

یہ کوئی عام مدرسہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی اہم درسگاہ ہے جس نے علمی روایت کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر اور افغانستان پر سوویت حملے کے بعد سے عسکری سطح پر بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس مدرسے کی بنیاد مولانا سمیع الحق کے والد شیخ الحدیث مولانا عبدالحق نے پاکستان بننے کے ایک ماہ بعد یعنی ستمبر 1947 میں رکھی تھی۔

یہ مدرسہ پشاور سے اسلام آباد جانے والی شاہراہ جی ٹی روڈ پر اکوڑہ خٹک کے مقام پر واقع ہے۔

ماضی میں افغانستان سے تجارت اور آمد و رفت کے لیے یہ ایک اہم مقام رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے ماضی میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اس مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے رہے ہیں۔

جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ طالبان کی ایک ایسی یونیورسٹی ہے جہاں سے فارغ ہونے والے طلبا پاکستان اور افغانستان میں مذہبی سیاسی منظر نامے اور عسکری تحریکوں میں متحرک پائے گئے ہیں۔

حالیہ دہائیوں میں پاکستان اور افغانستان میں جب بھی سیاسی یا عسکری طور پر کوئی تبدیلی سامنے آئی ہے تو اس وقت اس مدرسے کا کردار اور اس مدرسے کے سینیئر رہنماؤں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔

یہ مدرسہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سابق سربراہ مولانا سمیع الحق کی وجہ سے بھی زیادہ شہرت رکھتا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ میں مولانا سمیع الحق کو 'بابائے طالبان' بھی کہا جاتا رہا ہے۔

دارالعلوم حقانیہ کا سیاسی اثر و رسوخ
مدرسہ ،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل تین طالبعلم اس وقت افغانستان کی عبوری حکومت میں وزیر ہیں۔
سنہ 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کیے گئے۔ ان میں دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ مولانا سمیع الحق کی جماعت اور ان کے مدرسے دارالعلوم حقانیہ نے بھی بھرپور آواز اٹھائی تھی۔

اس کے علاوہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندی میں جب اضافہ ہوا تو اس وقت حکومت نے مولانا سمیع الحق سے تعاون طلب کیا تھا تاکہ علاقے میں امن قائم ہو اور تشدد کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت نے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کو فنڈز بھی جاری کیے تھے۔

سال 2019 میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس مدرسے کو تین کروڑ روپے کی گرانٹ دی تھی جبکہ پی ٹی آئی کے سابق دورِ حکومت میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اس مدرسے کے لیے بھاری گرانٹ منظور کی تھی جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی تھی۔

سنہ 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد جب طالبان نے کابل پر قبضہ کر کے ایک عبوری حکومت کا اعلان کیا تو اس وقت بھی جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا نام سامنے آیا ہے۔

اس وقت سکیورٹی امور کے تجزیہ کار اور پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کوئی عام مدرسہ نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی روایات رہی ہیں۔ اس میں علمی روایت کے علاوہ اس مدرسے کا عسکریت پسندی اور مذہبی سیاسی تحریکوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار رہا ہے۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ اس مدرسے کا پاکستان کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر اثر اب بھی ہے اور اس وقت افغانستان کی حکومت، شوریٰ اور اداروں میں متعدد ایسے لوگ شامل ہیں جو اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں یا اس جامعہ سے ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔

getty،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعامر رانا کے مطابق پاکستان کے ریاستی اداروں کے لیے بھی جامعہ حقانیہ انتہائی اہم رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک ایسے مؤثر چینل کو استعمال کیا جاتا رہا ہے جس سے ریاستی پالیسیوں کے نفاذ میں آسانی ہوتی ہےاور مختلف اوقات میں اس ذریعے کو استعمال کیا گیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) کے رہنما اور مدرسے کے اعلیٰ عہدیدار مولانا یوسف شاہ نے سنہ 2021 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ماضی میں بھی افغان طالبان کی حکومت میں جامعہ حقانیہ سے تعلیم حاصل کرنے والے متعدد افراد شامل تھے۔

مولانا یوسف شاہ کے مطابق اس مدرسے میں سابق افغان رہنما مولانا جلال الدین حقانی، مولانا یونس خالص، مولانا محمد نبی محمدی اور دیگر نے تعلیم حاصل کی تھی اور یہ وہی قائدین ہیں جنھوں نے سویت یونین کو شکست دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ صرف افغانستان نہیں بلکہ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں ان کے مدرسے سے فارغ التحصیل افراد کام کر رہے ہیں، پارلیمان میں بھی اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں میں ان کے مدرسے کے رہنما شامل ہیں۔

واضح رہے کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل تین طالبعلم اس وقت افغانستان کی عبوری حکومت میں وزیر ہیں۔

عامر رانا کے مطابق پاکستان کے ریاستی اداروں کے لیے بھی جامعہ حقانیہ انتہائی اہم رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک ایسے مؤثر چینل کو استعمال کیا جاتا رہا ہے جس سے ریاستی پالیسیوں کے نفاذ میں آسانی ہوتی ہےاور مختلف اوقات میں اس ذریعے کو استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایسا بھی ہوا ہے کہ جب ریاستی اداروں کی پالیسیاں تبدیل ہوئیں تو اس مدرسے نے ان پالیسیوں کے لیے بھی کردار ادا کیا جیسا کہ پیغام پاکستان کا سلسلہ تھا جس میں مدرسے کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ بھی شامل ہے اور جامعہ حقانیہ کے قائدین اس پالیسی کو ساتھ لے کر چلے۔

انھوں نے کہا کہ اس ادارے کا ریاست کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تصادم سامنے نہیں آیا البتہ کچھ مواقع پر مدرسے کی جانب سے اختلافی آوازیں ضرور سامنے آئی ہیں۔


*پرویز خٹک کو وزیراعظم کا مشیر بنانے پر اختیار ولی پارٹی قیادت سے ناراض*

پشاور: پی ٹی آئی دور حکومت میں سابق وزیر دفاع رہنے والے پرویز خٹک کو وزیراعظم کا مشیر بنانے پر اختیار ولی پارٹی قیادت سے ناراض ہوگئے۔مسلم لیگ کے رہنما اختیار ولی نے سوشل میڈیا پر اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔سینیئر رہنما نے پارٹی کے تینوں عہدوں صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری، چیف کوآرڈینیٹر یوتھ اور ممبر سی ای سی سے مستعفی ہونے پر مشاورت شروع کر دی۔اختیار ولی نے کہا کہ پارٹی کے مرکزی عہدیداروں سے کوئی رابطہ نہیں کیا، مجھے عہدوں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی وزارت چاہیے، خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن کہاں کھڑی ہے، اسے پارٹی کو خود دیکھنا ہوگا۔سینیئر رہنما نے کہا کہ سیاست ہمیشہ مفاہمت اور مصلحت کی شکار رہی ہے لیکن مصلحت میں اپنی شناخت کو نہیں کھونا چاہیے۔واضح رہے کہ اختیار ولی پرویز خٹک کے سیاسی حریف رہ چکے ہیں اور کئی بار الیکشن میں مدمقابل رہے۔

*رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے اجلاس آج ہوگا، سپارکو کی اہم پیش گوئی

*رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج پشاور میں ہوگا، سپارکو نے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئی کردی۔رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ابولخبیر آزاد کی زیر صدارت آج شام پشاور میں منعقد ہوگا۔چاند کی رویت کے لیے تمام زونل ہیڈکوارٹرز میں بھی زونل کمیٹیوں کے اجلاس منعقد ہوں گے، اسلام آباد میں بھی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس وزارت مذہبی امور میں ہوگا۔اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق آج چاندنظر آنے کاامکان نہیں، پہلاروزہ اتوار کو ہوگا۔ترجمان سپارکو کا کہنا تھا کہ نیا چاند 28 فروری کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 45 منٹ پر پیدا ہوگا اور اسی دن غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 12 گھنٹے ہوگی جب کہ 28 فروری کو کم بلندی اور فاصلے کی وجہ سے چاند نظر آنا مشکل ہوگا۔ترجمان سپارکو کا مزید کہنا تھا کہ شوال کا چاند 30 مارچ کو متوقع ہے اور عیدالفطر 31 مارچ کو ہوسکتی ہے۔

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...