بدھ، 25 مارچ، 2026

BBC Pakistan News Digital News Details

*💫خبروں کی تفصیل💫*
*💫بدھ5 شوال المکرم 1447ھ*
*25 مارچ 2025ء💫*

امریکا، ایران مذاکرات، میزبانی کیلئے شہباز کی پیشکش
تہران اور اصفہان کی توانائی تنصیبات پر بمباری، تل ابیب میں میزائلوں کی بارش، بحرین کا فوجی اڈہ بھی نشانہ

ٹرمپ نے وزیراعظم کا بیان شیئر کردیا

اسحاق ڈار کا اماراتی ہم منصب سے رابطہ، کشیدگی میں کمی پر زور

پٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر خزانہ

کراچی کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا خونی کھیل جاری، 6 شہری لقمہ اجل بن گئے

ایران جوہری مقاصد سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

ایران کی جغرافیائی طاقت، امریکی حدود اور بڑھتی معاشی لاگت نے ٹرمپ کو پسپائی پر مجبور کردیا، عالمی مبصرین

ٹرمپ، مودی ٹیلیفونک رابطہ، آبنائے ہرمز کو قابل رسائی رکھنے کی اہمیت پر زور

امریکا ایران مذاکرات کا مقام ابھی طے نہیں، سفارتی ذرائع

پاکستان گاٹ ٹیلنٹ کا جیو ٹی وی سے آغاز

خلیجی ریاستیں ایران کیخلاف جنگ میں شمولیت کے قریب، وال اسٹریٹ جرنل

مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کیساتھ مذاکرات کی منظوری دیدی، اسرائیلی اخبار

کے پی، معدنیات ٹھیکوں میں سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات، آڈٹ کا فیصلہ

جنیوا، انسانی حقوق کمیشن میں پاکستان کا بھارت کو کرارا جواب

صدر نے وزیرِ اعظم کی سفارش پر فوجی اعزازات کی منظوری دیدی

گولڈ مارکیٹ: سونا فی تولہ 16300 روپے مہنگا

ایرانی وفد کا آج پاکستان پہنچنے کا امکان، ثالثوں سے ضمانتیں مانگے گا، بھارتی میڈیا

خارگ جزیرے پر قبضے کا منصوبہ، پنٹاگون کا ایئر بورن ڈویژن کی تعیناتی پر غور

ٹرمپ کو 25 ویں آئینی ترمیم سے ہٹانے کی بازگشت

اسرائیل کو دو سالہ غزہ جنگ اور لبنان آپریشنز سے 8.6 فی صد جی ڈی پی نقصان

بڑے خلیجی ملک نے ٹرمپ پر جنگ جاری رکھنے کیلئے دباؤ بڑھا دیا، نیویارک ٹائمز

پاکستان کا ابھرتا ہوا ثالثی کردار بھارت کیلئے گہرا سفارتی دھچکا

ایران پر فوجی دباؤ میں ناکامی، اسرائیل میں موساد پر سیاسی تنقید

عمران سے بشریٰ بی بی کی ملاقات، صحت اور زیر سماعت مقدمات پر گفتگو

او جی ڈی سی ایل کا پساخی 13 سے تیل پیداوار شروع کرنے کا اعلان

ایک ہفتے کا دورہ سندھ، صدر زرداری واپس اسلام آباد پہنچ گئے

پشاور سے کراچی جانیوالی تیزگام ایکسپریس کو لودھراں کے قریب خوفناک حادثہ، وزیر ریلوے کا نوٹس

اسحاق ڈار کی چین کے سفیر اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے الگ الگ ملاقاتیں

شہباز اور عاصم منیر کی بصیرت، پاکستان ایک مرتبہ پھر کلیدی حیثیت کا حامل

ٹرمپ نے ایران جنگ کا ذمہ دار وزیر دفاع ہیگ سیتھ کو قرار دیدیا

افغانستان میں مختلف گروپ اقتدار کی جنگ میں پھر الجھ گئے

امن مذاکرات، امریکی حکام کی تیاری، تہران سے حتمی جواب نہیں ملا

پاکستان کی ثالثی کوششیں قابل ستائش لیکن چند سوالات؟

پاکستان میں 64 فیصد ریاستی ملکیتی اداروں کا آڈٹ مکمل نہ ہونے کا انکشاف

’’سائبر وار فیئر‘‘ 25 دن میں جی پی ایس ڈیٹا پر ہزاروں حملے

عید کی چھٹیوں پر جانے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد ڈیوٹی سے غیر حاضر

ٹرمپ، مذاکرات کا اچانک فیصلہ، چند منٹ قبل عالمی مالیاتی منڈیوں میں مشتبہ بڑی سرمایہ کاری

15 برس کے دوران سرحدی علاقوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا، امریکی تھنک ٹینک

سرکاری اسکولز کی طالبات کیلئے روٹ بیسڈ کرایہ پر ٹرانسپورٹ سروس کے قیام کا فیصلہ

نکاح نامہ میں وقت نہ لکھا ہو تو بیوی کے مانگنے پر مہر دینا ہوگا، لاہور ہائیکورٹ

پنجاب انفارمیشن کمیشن کا غیر معمولی فیصلہ، آر ٹی آئی قانون کا غلط استعمال بدنیتی قرار

الیکشن کمیشن نے کل 161 سیاسی جماعتوں میں سے 18 کے انتخابی نشانات روک لئے

عمران سے اہل خانہ اور وکلا کی فوری ملاقات کرائی جائے، پی ٹی آئی

سندھ حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن کا سوچ رہی ہے، ناصر حسین شاہ

کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران سے مذاکرات کرے، علیمہ خان

تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں، قومی حکومت بنائیں، محمود اچکزئی

نیتن یاہو یہودیوں کا نمائندہ ہے نہ اسرائیل سیکولر ملک، یعقوب شاپیرو

اسرائیلی فوج کا ایک سالہ بچے پر باپ کے سامنے تشدد، سگریٹ سے جلایا

ایف آئی اے کے 32 اہلکاروں کے بین الصوبائی تبادلے

مشرق وسطیٰ کی 33 اندرون ملک 15 پروازیں منسوخ، 40 میں تاخیر

نئی دہلی کی خصوصی عدالت نے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنادی

وزیر اعظم /فیلڈ مارشل دور اندیشی سے خارجہ پالیسی آگے بڑھا رہے ہیں، وفاقی وزیر

پاکستان کا عالمی امیج بہتر بنانے کیلئے انگریزی نیوز چینلز شروع کرنیکی ترغیب

دفاعی معاہدے میں ایران اور ترکیہ کو شامل کیا جائے، حافظ نعیم

کوٹے کے مطابق پٹرول الاٹ کرنے کا فیصلہ، ایپ کی تیاری جاری

ایران نے ابھی تک مذاکرات کا فیصلہ نہیں کیا، سینئر صحافی

اسٹاک مارکیٹ، امریکا اور ایران کشیدگی میں کمی کی اطلاعات پر تیزی، سرمایہ کاری مالیت 84 ارب 86 کروڑ 95 لاکھ روپے بڑھ گئی

افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی‘ طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری

یورپی یونین کو سب سے بڑے جاسوسی اسکینڈل کا سامنا

سندھ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ 383 ڈرگ انسپکٹرز بھرتی کرے گا

سید طحہ کے الیکٹرک کے سی ای او مقرر، 15 اپریل سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے

بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی سینیٹر شیری رحمٰن سے تعزیت

ملک بھر میں موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

مذاکرات پر ٹرمپ کی پوسٹ سے پہلے تیل پر 580 ملین ڈالر کی شرطیں

میمز، میزائل اور مذاق، ایران ٹرمپ کیخلاف سائبر وار میں آگے

اوگرا، آئل سپلائی چین شفاف بنانے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس ڈیجیٹل سسٹم متعارف

فضل الرحمان نے مجلس شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا

سندھ میں آج سے گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی

منگل، 24 مارچ، 2026

Since yesterday, there has been silence in Delhi after the Financial Times' breaking news about Pakistan's central role in the Iran, Israel, US war. Today, President Trump told the world by retweeting Shehbaz Sharif's tweet about mediation.

*ہمارے بھارتی دوست کیا کہتے ہیں؟*

*تحریر: سینئر صحافی عارف انیس*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچیس فروری دو ہزار چھبیس۔ مودی اسرائیل میں ہیں۔ نیتن یاہو نے "بھائی" کہا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نیسٹ کا وہ عظیم الشان میڈل دیا جو اس سے پہلے کسی کو نہیں ملا تھا۔ مودی نے کہا: "بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔" اڑتالیس گھنٹے بعد اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بمباری شروع کر دی۔ بلومبرگ نے دورے کو "مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک" لکھا۔ ایک اسرائیلی صحافی نے مودی کو نیتن یاہو کے انتخابات کا "سستا اشتہار" قرار دیا۔
ایک مہینہ گزرا ہے۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ پنچایت کی منجی پر پاکستان بیٹھا ہے اور بھارت کہیں نظر نہیں آتا۔
آج چوبیس مارچ کو دی وائر نے، جو بھارت کا معتبر آزاد صحافتی ادارہ ہے، چھ نکات پر مبنی مضمون شائع کیا جس کی سرخی تھی: "پاکستان کا امریکہ ایران ثالث بننا بھارت کے لیے اسٹریٹیجک دھچکا کیوں ہے۔" مضمون نے اسے "آزاد بھارت کی سفارتی تاریخ کے سب سے ذلت آمیز لمحات میں سے ایک" قرار دیا۔ چھ نکات یہ تھے: مودی کی دس سالہ "پاکستان کو تنہا کرو" پالیسی ناکام ہو گئی کیونکہ اصل بحران میں امریکہ نے مودی کو نہیں عاصم منیر کو فون کیا۔ "وشوگرو" کا بیانیہ دھرا رہ گیا کیونکہ ٹھوس سفارتی ڈھانچہ انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد سے گزرا، نئی دہلی سے نہیں۔ بھارت کا ایران سے اعتبار ختم ہو گیا کیونکہ تیل کی درآمد بند کی، چابہار میں سرمایہ کاری سست کی اور تہران نے پاکستان کو "قابل عمل ذریعہ" قبول کیا۔ ٹرمپ بھارت کو صرف خریدار سمجھتا ہے، شراکت دار نہیں۔ چابہار پر اربوں خرچ کر کے نقشے پر پاکستان کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی مگر طاقت کے اصل راہداریوں میں بھارت خود نظرانداز ہو گیا۔ اور پاکستان، ترکی، مصر کی تکون ایک نیا درمیانی طاقت بلاک ہے جس نے بھارت کو عالمی جنوب کی قیادت سے محروم کر دیا۔
مگر یہ بات صرف دی وائر نے نہیں لکھی۔ فارن پالیسی، ایشیا ٹائمز، ڈپلومیٹ، بلومبرگ، نیوز لانڈری، دی ویک، پیپلز ڈسپیچ۔ سب نے ایک ہی نتیجہ نکالا۔

فارن پالیسی میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے سمت گنگولی نے لکھا کہ بھارت کی غیرجانبداری کو "جسمانی ضرب" لگی ہے۔ امریکی آبدوز نے ایرانی بحری جہاز دینا کو بحر ہند میں ڈبو دیا۔ ستاسی ملاح مارے گئے۔ یہ جہاز بھارتی بحریہ کی مشق "میلان" سے واپس لوٹ رہا تھا۔ بھارت نے نہ مذمت کی، نہ تعزیت۔ امریکی وزیر جنگ نے فخر کا اظہار کیا۔ گنگولی نے لکھا: "دہائیوں کی دو طرفہ کوششیں بے فائدہ خطرے میں ہیں۔"
ایشیا ٹائمز نے لکھا: "مودی کی ایران پر خاموشی نے مشرق وسطیٰ میں بھارت کی آواز گم کر دی۔" ڈپلومیٹ نے دو مضامین لکھے۔ پہلے میں لکھا کہ مودی نے اٹھائیس فروری کو منبع میں ایک سو اڑسٹھ بچیوں کی ہلاکت پر خاموشی اختیار کی مگر اگلے ہفتے خلیجی رہنماؤں کو فون کر کے ایرانی حملوں پر تشویش ظاہر کی۔ "یہ ملا جلا پیغام بھارت کو غیرجانبدار نہیں بلکہ تل ابیب اور واشنگٹن کی طرف جھکا ہوا دکھاتا ہے بغیر صاف لفظوں کے۔" دوسرے میں لکھا کہ ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران کے خلاف ووٹ، تیل کی بندش اور اسرائیل سے قربت نے تہران میں بھارت کا اعتبار ختم کر دیا۔ نیوز لانڈری نے سابق سفارتکار بھدراکمار کا حوالہ دیا کہ انیس سو چورانوے میں ایران نے بھارت کو کشمیر پر اقوام متحدہ میں بچایا تھا۔ آج بھارت نے ایران کو تنہا چھوڑا۔ نیوز لانڈری نے اسے "اخلاقی بزدلی" لکھا۔
معاشی تصویر مزید تباہ کن ہے۔ بھارت کی نوے فیصد ایل پی جی درآمد آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ آبنائے بند ہونے کے بعد ایل پی جی کی قلت، سلنڈر مہنگے، ایندھن مراکز پر قطاریں، کارخانے بند، پیداوار نصف۔ تیل ستر سے ایک سو بیس ڈالر تک پہنچا۔ چار ریاستوں میں اپریل میں انتخابات ہیں۔ مودی نے تیرہ مارچ کو ایرانی صدر کو فون کر کے آبنائے سے بھارتی جہازوں کی گزرگاہ مانگی۔ وشوگرو سے التجا کرنے والا بن گیا۔
ادھر پاکستان۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق "بنیادی ثالث۔" ایکسیوز نے اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ مصر، پاکستان اور ترکی نے پیغام رسانی کی اور اسلام آباد میں روبرو ملاقات کی ترتیب ہو رہی ہے۔ آئرش ٹائمز نے لکھا کہ ایرانی نئے سپریم لیڈر نے نوروز کے پیغام میں پاکستان کا خصوصی نام لیا۔ عاصم منیر ٹرمپ سے فون کرتا ہے، ریاض میں سعودی وزیر دفاع سے ملتا ہے، راولپنڈی میں شیعہ علماء سے ملتا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ ڈار نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی مگر امریکہ پورا پروگرام ختم کروانا چاہتا تھا۔ اسلام آباد نے ثالثی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی نے جو بنیادی غلطی کی وہ یہ ہے: ظاہری شان و شوکت کو اصل سفارتکاری سمجھ لیا۔ ہاؤڈی مودی ریلیاں، گلے ملنے کی ویڈیوز، غیر ملکی ایوارڈ۔ یہ تماشا ہے۔ اصل سفارتکاری خاموش ہوتی ہے۔ نتائج سے ماپی جاتی ہے۔ پاکستان نے وہی کیا۔ خاموشی سے ٹرمپ سے بات کی۔ خاموشی سے تہران کو پیغام پہنچایا۔ خاموشی سے ریاض میں دفاعی معاہدہ فعال کیا۔ اور فنانشل ٹائمز میں "مرکزی ثالث" کہ کر پکارا گیا. 
دی وائر نے اپنے مضمون کا اختتام ان الفاظ سے کیا: "مالی اور جمہوری طور پر بحران زدہ پاکستان سے پچھڑ جانا بھارت کے لیے گہری قومی شرمندگی ہونی چاہیے، ایسی شرمندگی جس کی ذمہ داری صرف اس آدمی پر ہے جس نے بارہ سال بھارت پر حکومت کی ہے۔"

but the whole world is paying the price. The whole world is suffering the consequences. Turkish President Erdogan

*‏یہ جنگ اسـرائیـل کی جنگ ہے۔۔ نـیـتـن یـاہو کی بقا کی جنگ ہے لیکن اس کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے۔ اس کےنتائج پوری دنیا بھگت رہی ہے۔۔ ترک صدر اردگان

We have removed the leadership of Iran, this is regime change, new leadership is going to make a deal: Trump



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہےکہ ایران میں اب کوئی قیادت باقی نہیں رہی، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

میڈیا سےگفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران رضامند ہےکہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائےگا، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اب ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ان کی نیوی، ائیر فورس تباہ کر دی ہے، ہم نے ان کی قیادت ختم کردی ہے، یہ رجیم چینج ہے، انہوں نے ہمیں ایک تحفہ بھیجا جو کل مل گیا، ایران نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا ہے، تحفہ بہت قیمتی اور آبنائے ہُرمُز سے متعلق تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اب نئی قیادت ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسا کام کرتے ہیں، ایران کی نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔ سعودی عرب، یو اےای اور قطر ایران کے معاملے میں بہت بہترین رہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے بات چیت میں نائب صدر جےڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر بھی شریک ہیں۔

police party raided the house of PPP Ladies Wing Tharparkar President Smt. Sumitra Manjiani to arrest Ashok Chauhan, but no arrest warrant, no FIR, no ladies police. The SHO pushed Smt. Sumitra Manjiani and used rude language.A wave of anger and sorrow has erupted in the public, social and political circles over the violation of the sanctity of the chador and the four walls. Demand that the Chief Minister of Sindh and the Central President of Ladies Wing, Smt. Faryal Talpur, take immediate notice and action.

مٹھی : پ پ پ لیڈیز ونگ تھرپارکر کی صدر شریمتی سمترا منجیانی کے گھر پر اشوک چوہان کی گرفتاری کے لئے ایس ایچ او ڈیپلو محمد مراد منگریو بمع میل پولیس پارٹی کا دھاوا ، نہ گرفتاری وارنٹ ، نہ ایف آئی آر ، نہ ہی لیڈیز پولیس ۔ ایس ایچ او نے شریمتی سمترا منجیانی کو دھکے دیئے اور نا شائستہ زبان درازی کی ۔
عوام الناس، سماجی وسیاسی حلقوں میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے پر، غم و غصہ کی لہر ۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور مرکزی صدر لیڈیز ونگ محترمہ فریال تالپور صاحبہ سے فی الفور نوٹس اور کاروائی کرنے کا مطالبہ ۔
رپورٹ: انجنیئر جئدیو مھیشوری چیف ایگزیکٹو سندھ 

تفصیلات: 

مٹھی : خبر کے مطابق چند روز قبل ضلع تھرپارکر میں دو ڈاکٹرز کی مبینہ خودکشی کے واقعات پر پ پ پ تحصیل انفارمیشن سیکرٹری اشوک چوہان کی جانب سے پولیس کی ناقص کارکردگی پر کمینٹ دینے کے رد عمل میں ڈیپلو پولیس کے ایس ایچ او بمع پولیس، پ پ پ تحصیل ڈیپلو کے انفارمیشن سیکرٹری کی تلاش میں پ پ پ ضلعی صدر لیڈیز ونگ تھرپارکر شریمتی سمترا منجیانی کے گھر پر غیر قانونی طور پر بغیر لیڈیز پولیس کے ، بغیر گرفتاری وارنٹ کے اور بغیر ایف آئی آر کے دھاوا ڈالا ، حراسمینٹ ، خوف اور دہشت کا ماحول برپا کیا ۔ ایک طرف میں شریمتی سمترا منجیانی ۔۔۔۔ایک عورت۔ ۔۔۔۔وہ بھی اپنے گھر میں اکیلی۔۔۔۔۔!
اور یہاں ایس ایچ او ڈیپلو ۔۔۔۔۔۔ایک خوف کی علامت ۔۔۔۔۔۔۔اور پولیس ساتھ۔۔۔
اشوک چوہان کو تلاش کرنے میں پولیس کو ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا اور ایس ایچ او ڈیپلو کا رویہ قابل ندامت اور ناشائستہ تھا 
شریمتی سمترا منجیانی نے مزید کہا کہ ہماری ہی حکومت میں ایک اہم اور ضلعی صدر خواتین ونگ کے ساتھ پولیس 
کا یہ ناروا سلوک ہے ، تو عام عوام کے ساتھ کیا دھشت اور قانونی کارروائی کرکے عوام میں بیچینی ختم کیجائے ۔

HEADLINES BBC PAKISTAN NEWS DIGITAL ,PAKISTAN,LONDON,UK,KARACHI,ISLAMABAD,LAHORE



 24 مارچ 2026 | بروز منگل | اہم خبروں کی جھلکیاں |

 ایر_ان کا امریکا اور اس را_ئیل پر 78 ویں میزائل لہر کا آغاز، تل ابیب سمیت امریکی فوجی اڈے نشانہ
ایر_ان کے اس را_ئیل پر نئے حملے، جنوبی اس را_ئیل میں نقصان کی اطلاعات، تباہی کے مناظر سامنے آگئے

 ایر_ان نے ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف اہداف پر ملٹی وارہیڈ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے

امریکی صدر کے اعلان کے باوجود اس ra_ئیل کے ایر_ان کے اہم توانائی انفرا اسٹرکچر پر فضائی حملے

ایر_ان کے شہر اصفہان میں توانائی انفرا اسٹرکچر پر فضائی حملے کیے گئے، خرم شہر پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا

 جنگ کے آغاز سے اب تک 4,829 افراد زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں لائے جا چکے ہیں، اس ra_ئیل کی وزارتِ صحت کا اعلان

بحرین نے آبنائے ہرمز میں طاقت کے استعمال کے لیے سلامتی کونسل سے منظوری لینےکی تجویز پیش کر دی

شہیـد علی لاریجانی کی جگہ محمد باقر ذوالقدر ایر_انی سـپریم لـیڈر نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکرٹری مقرر

ملک مخالف آن لائن پروپیگنڈےکا الزام، ایر_انی پولیس نے 466 افراد کو گرفتار کرلیا

 لڑنےکے بجائے بات چیت کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے،چینی وزیر خارجہ کی ایر_انی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو

جرمن صدر نے امریکا کی ایر_ان جنگ کو تباہ کن غلطی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

 حالیہ توانائی بحران دنیاکےکسی بھی پچھلے بحران سے بڑا بحران ہے: آئی اے ای اے

 ہمارے نقصانات پورے ہونے تک جنگ نہیں رکےگی: مشیر سـپریم لـیڈر

جنگ کے آغاز سے اب تک ایر_ان پر 9 ہزار سے زائد حملے کیے: امریکی فوج

صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں جنگ کے مقاصد معاہدے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں: نیتن یاہو

 امریکا اور ایر_ان کے درمیان مذاکرات اس ہفتےکے آخر میں اسلام آباد میں ہوسکتے ہیں، اس ra_ئیلی میڈیاکا دعویٰ

پاکستان خودکو ایر_ان کیخلاف جنگ کے خاتمے کیلئے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، برطانوی اخبار

 فریقین نے اتفاق کیا تو پاکستان ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسحاق ڈار کا ایر_انی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

 ایر_ان کا مکمل خاتمہ کوئی آپشن نہیں، ہم ایک دوسرےکے ہمسائے ہیں اور رہیں گے، ترجمان قطری وزارت خارجہ

 ایر_ان کے بارے میں آپ کا جو بھی نظریہ ہو لیکن جنگ میں پہل ایر_ان نے نہیں کی، عمانی وزیر خارجہ

امریکی فوج کی بغدادکےکیمپ وکٹری فوجی اڈے سے مکمل انخلا کی تیاری

تہران کی جانب آنے والا اس ra_ئیلی ڈرون ہرمیس تباہ کر دیا: ایر_انی پاسـداران انـقـلاب

حزب اللہ کا میزائل حملوں میں اس ra_ئیلی فوج کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ

تل ابیب پرایر_انی میزائل حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے، اس ra_ئیلی ایمرجنسی سروس

امریکا ایر_ان جنگ میں روزانہ 2 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے: اماراتی اخبار

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد تک اضافہ

 چین کا ایر_ان کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ؛ پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

 لبنان نے ایر_انی سفیر کو ناقابل قبول شخصیت قرار دیکر ملک بدر کردیا

پیٹرول و گیس کی شدید قلّت؛ فلپائن کی حکومت نے بڑا اعلان کردیا

سعودی عرب نے مشرقی صوبے کی جانب آنے والے 30 ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا

 تیل کی عالمی قیمتیں ایک روز کی کمی کے بعد دوبارہ 100 ڈالر سے تجاوز

 ایر_انی سـپریم لـیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی امریکا سے مذاکرات کی حمایت

ایر_ان جنگ کا 25 واں دن: ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے، تہران کا دوٹوک انکار

ایر_ان جنگ کا بڑا اثر: دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالر کا جھٹکا

ٹیکساس میں زوردار دھماکہ، آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی، خوفناک مناظر سامنے آگئے

 جنگ بندی کیلئے مذاکرات کی خبروں کے درمیان ایر_ان کے امریکا و اس ra_ئیل کیخلاف میزائیل حملے جاری

 امریکا و اس ra_ئیل سے جنگ بندی کیلئے ایر_ان کی 6 سخت شرائط سامنے آگئیں

 ’ایر_ان کیساتھ کئی نکات طے پاگئے‘؛ ٹرمپ نے پاور پلانٹس پر حملے 5 دن کیلیے مؤخرکر دیئے

 امریکا ایر_ان مذاکرات؛ پیٹرول قیمتں کم، اسٹاک ایکسچینج میں تیزی؛ ڈالر اور سونا مستحکم

امریکی صدر ٹرمپ کو ایر_ان کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی امید ہے؛ اس ra_ئیلی وزیراعظم

 مشرق وسطٰی جنگ؛ برطانیہ نے ایر_انی سفیر کو طلب کرلیا

ٹرمپ مذاکرات کا شوشہ چھوڑ کر پیٹرول کی قیمتیں کم اور جنگ میں وقفہ چاہتے ہیں؛ ایر_ان

 ایشیائی ترقیاتی بینک کا مشرق وسطیٰ تنازع سے متاثرہ ممالک کیلئے امدادی پیکیج کی فراہمی کا اعلان

 امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے رواں ہفتے دورہ پاکستان کا امکان ہے، امریکی میڈیا

 پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے، وزیراعظم

 جنگ کے خاتمے کیلیے مذاکرات کی جاری کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، وزیراعظم

 امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کا بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کردیا

امریکا ایر_ان جنگ رکوانے کیلیے پاکستانی کوششیں، ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی ٹیلیفونک گفتگو

اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک غیرملکی سافٹ ویئر کا انکشاف، تمام ادارے ہائی الرٹ

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال، توانائی بحران سمیت اہم امور پر غور

ایر_ان، اس ra_ئیل، امریکا جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے، چینی سفیر

 امریکا اس ra_ئیل کے حملے، ایر_ان نے ملٹی وار ہیڈ میزائل داغ دیے، اس ra_ئیلی صدر بال بال بچ گئے

فضائی جہاز سے لی گئی فضائی منظر کشی میں آبنائے ہرمز پر بڑی تعداد میں جہاز پھنسے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، سمندری آمد ورفت شدید متاثر

 مشرقی وسطیٰ میں جنگ: عراقی فضائی حدود 9 رمضان سے بند، پاکستانی زائرین پریشان

افـغـاـ ن مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی، طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری

 حیدرآباد میں واقع پاساکھی-13 کنویں سے تیل کی پیداوار کا آغاز

عید پر خیبرپختونخوا میں سیاحت کا نیا ریکارڈ قائم ،3 دنوں میں 2 لاکھ 62 ہزار سے زیادہ سیاحوں نے سیاحتی مقامات کا رُخ کیا

 کراچی میں فینسی نمبر پلیٹس والی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کیخلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ

 ملک بھر میں آج سے موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

 کراچی؛ محکمہ موسمیات کی گرج چمک کے ساتھ تیز بارش، آندھی چلنے کی پیشگوئی

 پنجاب: تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع اور پیٹرول کی منصفانہ تقسیم کیلئے کوپن سسٹم متعارف کرانے کی تجویز

 کراچی: وین کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 2 افراد جاں بحق، ڈرائیور وین چھوڑ کر فرار

 کراچی: سید طحہٰ کو کے الیکٹرک کا نیا سی ای او تعینات کر دیا گیا

 مصطفیٰ عامر قتــل کیس: ارمغان کے گھر چھاپے کے دوران فائرنگ سے زخمی ڈی ایس پی دم توڑ گیا

 عمران خان سے بشریٰ بی بی کی ملاقات، صحت اور زیرسماعت مقدمات پر گفتگو

 عمران خان نے اپنے بچوں کو بتایا ہے ان کی آنکھ میں تھوڑی بہت بہتری ہے: بہن علیمہ خان

 حکومت کا عوام کو کوٹا کے مطابق پیٹرول دینے کا فیصلہ، ایپ کی تیاری جاری

 پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی وزیرخزانہ

 امریکی ریاست جارجیا میں واقع 134 سال پرانی عدالتی بلڈنگ شعلوں کی لپیٹ میں آگئی

 آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، 12 ہزار 861 بڑے ریٹیلرز پوائنٹ آف سیل سے منسلک

 کراچی میں دہشت گردی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہیلپ لائن متعارف

 کراچی میں ڈرائیو ان سینیما دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ

 پاکستان میں فی تولہ سونا 16300 روپے مہنگا ہوکر 4 لاکھ 64 ہزار 62 روپے کا ہوگیا

 امریکا کا عراق پر فضائی حملہ، الـحـشد الـشعـبی کے کمانڈر سمیت 10 جنگجو جاں بحق


President, I have received a call from Pindi. The phone is ringing, Arif Anis.

*صدر صاب، پنڈی سے فون آیا ہے*

فون بجا۔
بائیس مارچ دو ہزار چھبیس، اتوار کی رات۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے فون کیا۔ فنانشل ٹائمز نے آج تیئس مارچ کو یہ خبر دو ایسے ذرائع کے حوالے سے بریک کی ہے جنھیں اس گفتگو کی تفصیلات بتائی گئیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے فنانشل ٹائمز کے حوالے سے رپورٹ دہرائی: پاکستان نے خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے بنیادی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ فنانشل ٹائمز، سن یا مرر نہیں ہے، اگر وہ کچھ چھاپتا ہے تو توجہ دینی بنتی ہے. 

تیئس مارچ دو ہزار چھبیس۔ یہ تاریخ یاد رکھیں کہ اس دن کا تاریخ کا حصہ بننے کا چانس ہے. 

آج صبح ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بڑے حرفوں میں لکھا: "میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی بجلی گھروں اور توانائی ڈھانچے پر تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیے جائیں۔" بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، این پی آر سب نے تصدیق کی۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایران کے ساتھ "بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت" ہوئی ہے اور دونوں فریقین "معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔" کہا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام ایرانی فریق کی ایک "اعلیٰ شخصیت" سے گفتگو کی۔ بنیادی مطالبہ: ایران یورینیم افزودگی بند کرے۔ سی این بی سی کو بتایا: "ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔"

ٹرمپ نے ہفتے کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ آبنائے ہرمز کھولو ورنہ بجلی گھر تباہ کر دیں گے۔ مہلت آج شام ختم ہونی تھی۔ مگر حملے ملتوی ہو گئے۔ تیل کی قیمتیں فوری طور پر گریں۔ عالمی منڈیوں میں ابھار آیا۔

ایران نے فوراً تردید کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کو بتایا: "گزشتہ چند دنوں میں بعض دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے جن میں کہا گیا کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے۔ لیکن ایران نے جواب نہیں دیا۔ گزشتہ چوبیس دنوں میں امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہوئی۔" مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مزید سخت لہجے میں ایکس پر لکھا: "امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ یہ جھوٹی خبریں تیل اور مالیاتی منڈیوں میں ہیرا پھیری اور امریکہ اور اسرائیل کو جس دلدل میں پھنسے ہیں اس سے نکالنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔"

لیکن ایرانی ترجمان کا ایک جملہ پکڑو۔ "دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے۔"

یہ "دوست ممالک" کون ہیں؟

سی این این کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اڑتالیس گھنٹوں میں درجن بھر سے زائد فون کالز کیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سے بات کی۔ مصری وزیر خارجہ سے بات کی۔ قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بات کی۔ سعودی وزیر خارجہ سے بات کی۔ پاکستانی عہدیداروں سے بات کی۔ مصر اور ناروے کی قیادت سے بات کی۔ سی این این نے لکھا: "بات چیت سے واقف افراد کے مطابق ترکی اور مصر دونوں نے فریقین کے درمیان پیغامات پہنچائے ہیں۔"

مگر فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ "بنیادی ثالث" پاکستان ہے۔ روایتی ثالث عمان اور قطر اس وقت کم فعال ہیں۔

اب سوال یہ ہے: پاکستان یہ کردار کیسے ادا کر سکتا ہے؟ اس کی بنیاد سمجھنا ضروری ہے۔

پہلی بنیاد: رسائی۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی بیک وقت واشنگٹن، تہران اور ریاض تینوں تک رسائی ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کا ایک حصہ باقاعدہ طور پر ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان انیس سو اناسی سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یعنی جب ایران کو امریکہ تک کوئی پیغام پہنچانا ہو تو ایک راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔ مسلم نیٹ ورک ٹی وی کو ایک پاکستانی سینئر سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: "پاکستان روایتی ثالثوں کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کر رہا۔ وہ ایک ایسے وقت میں پل بننے کی کوشش کر رہا ہے جب اعتماد کا بحران شدید ہے اور رابطے کے ذرائع بکھرے ہوئے ہیں۔" اس نے مزید کہا: "پاکستان کو یہاں جو چیز متعلقہ بناتی ہے وہ رسائی ہے۔ فوجی سطح پر اور سیاسی سطح پر دونوں فریقوں تک۔"

دوسری بنیاد: عاصم منیر کا ذاتی رشتہ ٹرمپ کے ساتھ۔

جون دو ہزار پچیس۔ مئی کے پاک بھارت تصادم کے بعد ٹرمپ نے عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس بلایا۔ کابینہ روم میں ظہرانہ۔ پھر اوول آفس میں ملاقات۔ ایک گھنٹے کی طے شدہ ملاقات دو گھنٹے سے تجاوز کر گئی۔ ٹرمپ کے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف تھے۔ عاصم منیر کے ساتھ صرف قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک تھے۔ کوئی سویلین وزیر نہیں۔ کوئی سفیر نہیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدر نے پاکستانی فوجی سربراہ کو سویلین قیادت کے بغیر تنہا وائٹ ہاؤس میں بلایا تھا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا: "عاصم منیر سے ملنا میرے لیے اعزاز ہے۔ میں نے انھیں شکریہ ادا کرنے کے لیے بلایا ہے کہ انھوں نے جنگ نہیں کی۔" پھر کہا: "وہ ایران کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ ایران کے بارے میں کچھ بھی خوش نہیں ہیں۔ اس (عاصم منیر) نے میری بات سے اتفاق کیا۔"

ڈان اخبار نے لکھا کہ ملاقات "تلاشی" نوعیت کی تھی، حتمی نہیں۔ مگر ٹرمپ کے لیے یہ حکمت عملی تھی۔ اسرائیل ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی شمولیت چاہتا تھا۔ ٹرمپ ایسا شراکت دار ڈھونڈ رہا تھا جو قریب ہو اور جس کے پاس انٹیلی جنس کی گہرائی ہو۔

تیسری بنیاد: سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ۔

ستمبر دو ہزار پچیس۔ ریاض کے الیمامہ محل میں ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ عاصم منیر ساتھ تھے۔ بنیادی شق: "کسی بھی فریق پر جارحیت دونوں پر جارحیت تصور ہو گی۔" نیٹو کی شق پانچ جیسی زبان۔ یہ معاہدہ اس لیے ہوا کیونکہ ستمبر دو ہزار پچیس میں اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا تھا جو خلیجی تعاون کونسل کے کسی رکن ملک پر پہلا حملہ تھا اور خلیجی ممالک کا امریکی حفاظتی ضمانتوں پر اعتماد ڈگمگا گیا تھا۔

اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس۔ جنگ شروع ہوئی۔ ایران نے جوابی حملوں میں سعودی عرب پر بھی میزائل داغے۔ چھ مارچ کو سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ شہزادہ سلطان ہوائی اڈے کی طرف تین بیلسٹک میزائل روکے گئے۔ سات مارچ کو سعودی عرب نے پہلی بار باہمی دفاعی معاہدہ فعال کیا۔ عاصم منیر فوری طور پر ریاض پہنچے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات ہوئی۔ شہزادہ خالد نے ایکس پر لکھا کہ دونوں نے "ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں اور انھیں معاہدے کے تحت روکنے کے اقدامات" پر بات کی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ عاصم منیر کے دورے نے پاکستان کو حرمین شریفین اور سعودی ڈھانچے کے "سلامتی ضامن" کے طور پر پیش کیا۔ حج دو ہزار چھبیس تین ماہ سے بھی کم فاصلے پر ہے اور حج کی سلامتی ایرانی میزائل حملوں سے براہ راست خطرے میں ہے۔

ایک اور تفصیل۔ جنوری دو ہزار چھبیس میں پاکستانی ایف سولہ بلاک باون طیارے سعودی عرب میں کثیرالقومی فوجی مشق کے لیے موجود تھے. ۔ تجزیہ نگاروں نے بعد میں لکھا کہ یہ تعیناتی اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اسی نوعیت کی ہم آہنگی کی مشق معلوم ہوتی ہے جو حقیقی تصادم میں درکار ہوتی ہے۔

چوتھی بنیاد: ایران کے ساتھ سرحد اور تعلقات۔

پاکستان کی ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر کی سرحد ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مئی دو ہزار پچیس میں پاک بھارت تصادم کے فوراً بعد ایران کا دورہ کیا تھا۔ صدر مسعود پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ یہ ذاتی رشتے ابھی اہم ہیں۔

تین مارچ دو ہزار چھبیس کو پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک ایسا بیان دیا جس نے ہر دارالحکومت میں ہلچل مچا دی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ذاتی طور پر تہران کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ نہ کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ خارج نہیں کیا۔ مذاق نہیں اڑایا۔ ضمانتیں مانگیں کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ایران نے اسے اتنا سنجیدگی سے لیا کہ سعودی عرب میں ایرانی سفیر نے باقاعدہ عوامی بیان دیا جس میں ریاض کے اس وعدے کو سراہا کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

ڈپلومیٹ میگزین نے لکھا کہ وزیر خارجہ ڈار نے پارلیمنٹ کو بریفنگ میں بتایا: "ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن امریکہ ایران کا پورا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم کروانا چاہتا تھا۔" ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں ثالثی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

پانچویں بنیاد: اندرونی جہاد۔

جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان کے اندر طوفان اٹھا۔ پاکستان کی شیعہ آبادی مجموعی آبادی کے پندرہ سے بیس فیصد ہے۔ خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر سڑکوں پر نکل آئے۔ کراچی میں مظاہرین امریکی قونصل خانے کی طرف بڑھے۔ امریکی میرین سکیورٹی گارڈز نے فائرنگ کی۔ کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے۔ ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں جھڑپوں میں کم از کم تیئس افراد ہلاک ہوئے۔ گلگت بلتستان میں تین دن کا کرفیو لگایا گیا۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملہ کیا۔ بارہ افراد مارے گئے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر جلائی گئیں۔ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائی گئیں۔

الجزیرہ نے لکھا کہ پاکستان کی خطرناک فرقہ وارانہ تاریخ ایک اور خطرے کی تہہ ہے۔ زینبیون بریگیڈ، جو پاکستانی نژاد شیعہ ملیشیا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی تربیت، مالی تعاون اور کمان میں کام کرتی ہے، نے گزشتہ دہائی میں ہزاروں لڑاکا بھرتی کیے ہیں۔ کرم ایجنسی جو اس بریگیڈ کا بنیادی بھرتی مرکز ہے وہاں دو ہزار چوبیس کے آخری ہفتوں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ایک سو تیس سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

بیس مارچ کو عاصم منیر نے راولپنڈی میں شیعہ علماء سے ملاقات کی۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تفصیلات بتائیں۔ اور صاف الفاظ میں کہا: "پاکستان میں کسی دوسرے ملک کے واقعات کی بنیاد پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔" ترجمان پاک فوج نے اسے دہرایا: "بیرونی واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔"

اب تصویر دیکھیں. 

ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں بندھا ہوا ہے۔ معاہدے کی شق فعال ہو چکی ہے۔ سعودی عرب نے نو دن مسلسل ایرانی حملے برداشت کیے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں نے "سرخ لکیر" عبور کر لی ہے۔ پہلی مارچ کو امریکہ، بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور امارات کا مشترکہ بیان آیا: "ہم ان حملوں کے خلاف دفاع کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔"

دوسری طرف ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر کی سرحد ہے۔ واشنگٹن میں ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔ تہران سے براہ راست بات کر سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی بات سنجیدگی سے سنتا ہے۔

تیسری طرف خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مزدور ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ الجزیرہ نے لکھا کہ معاشی طور پر خلیجی ممالک سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کے لیے قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ فراہم کرتی ہیں۔

چوتھی طرف ملک کے اندر فرقہ وارانہ تناؤ ابل رہا ہے۔ پانچویں طرف افغانستان کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ پاکستانی سفیر ماسکو نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے افغان تنازعے میں روسی ثالثی مانگی ہے۔

اور ان سب دباؤوں کے درمیان فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ سے فون پر بات ہو رہی ہے۔

اب آج کے دن کی گہرائی سمجھیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے آج کینبرا میں کہا: "کوئی ملک اس بحران سے محفوظ نہیں ہے اگر صورتحال اسی سمت جاتی رہی۔" انھوں نے کہا کہ نو ممالک میں چالیس سے زائد توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ بحران انیس سو تہتر اور انیس سو اناسی کے مشترکہ تیل بحرانوں سے بدتر ہے جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیرل یومیہ کا نقصان ہوا تھا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنا "دو ہزار چھبیس کی باقی مدت کے لیے مکمل طور پر ناممکن ہے" سمندری مال برداری کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے زینیٹا کے ماہر پیٹر سینڈ نے سی این این کو بتایا۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل تیئسویں دن بڑھیں اور تین ڈالر چھیانوے سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئیں جو اگست دو ہزار بائیس کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔

ایران کی دفاعی کونسل نے آج دھمکی دی: اگر بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو پوری خلیج میں توانائی اور پانی کے ڈھانچے نشانہ بنائے جائیں گے اور آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔ "غیر متحارب" ممالک صرف ایران سے ہم آہنگی سے آبنائے سے گزر سکیں گے۔ ساحلوں یا جزائر پر حملے کی صورت میں پوری خلیج مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

ادھر اسرائیل تہران پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی وسیع پیمانے پر حملے ہوئے۔

برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا: "ہم بحرین، کویت اور سعودی عرب میں فوری طور پر مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام تعینات کر رہے ہیں۔"

بحرین میں آج شدید دھماکے اور فضائی خطرے کے سائرن سنے گئے۔ اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھی خلیج میں پہلی بار سائرن بجے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں سے کہا: "پرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام پر جائیں۔"

اور اس سب کے بیچ میں یوکرین کے صدر زیلینسکی نے کہا کہ ان کے پاس "ناقابل تردید ثبوت" ہیں کہ روس ایران کو انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔

اب بتاؤ۔ اس شطرنج کی بساط پر پاکستان کہاں ہے؟

پاکستان ایک رسی پر چل رہا ہے۔ دائیں طرف سعودی عرب ہے جو کہتا ہے معاہدے پر عمل کرو۔ بائیں طرف ایران ہے جس کے ساتھ سرحد ہے اور جس کی شیعہ آبادی ملک کے اندر ہر جمعے کو سڑکوں پر آ سکتی ہے۔ نیچے ایندھن کا بحران ہے جو معیشت کی ریڑھ توڑ سکتا ہے۔ اوپر ٹرمپ ہے جو ایک دن مہلت دیتا ہے دوسرے دن معاہدے کی بات کرتا ہے۔

اس سب کے درمیان عاصم منیر کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے تینوں فریقوں کا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ ٹرمپ اسے "اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل" کہتا ہے۔ سعودی ولی عہد اس سے ذاتی طور پر ملتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ اس کے ملک کی بات سنتا ہے۔ یہ تینوں کانوں تک بیک وقت رسائی ہی اصل طاقت ہے۔

لیکن خطرے اتنے ہی بڑے ہیں۔

اگر خلیجی تعاون کونسل نے اجتماعی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو پاکستان پر باہمی دفاعی معاہدے کے تحت فوج بھیجنے کا دباؤ آئے گا۔ سعودی عرب اور امارات نے "سرخ لکیر" کی بات کی ہے۔ تجزیہ نگار رضا رانا نے الجزیرہ کو بتایا: "ایران کا بنیادی خطرہ فضائی ہے، ڈرون اور میزائل۔ اور یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان مدد کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہو گا کہ پاکستان جنگ کا فریق بن جائے۔ اور یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔"

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے: پاکستان ایران کے خلاف کسی فوجی مہم میں حصہ نہیں لے گا۔ لیکن واضح کرنا اور حقیقت میں نہ لینا دو الگ باتیں ہیں۔ جب دباؤ بڑھتا ہے تو واضح لائنیں دھندلی ہو جاتی ہیں۔

آج کا دن اہم ہے۔ چوبیس دن کی بمباری کے بعد پہلی بار ایک کھڑکی کھلی ہے۔ پانچ دن کی مہلت۔ چھوٹی سی۔ مگر کھلی ہے۔

ٹرمپ نے سی این این کو بتایا: "آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔" کہا کہ وہ آبنائے پر مشترکہ امریکی ایرانی کنٹرول دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تجویز اتنی حیران کن ہے کہ کسی نے سنجیدگی سے لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن ٹرمپ نے کہی ہے۔

اصل سوال یہ ہے: کیا یہ پانچ دن کافی ہیں؟

ایران کا لہجہ دیکھو تو نہیں لگتا۔ قالیباف نے واضح کر دیا ہے۔ دفاعی کونسل نے بارودی سرنگوں کی دھمکی دے دی ہے۔ اسرائیل تہران پر بمباری بند نہیں کر رہا۔ خلیجی ممالک جنھوں نے جنگ کی مخالفت کی تھی اب کہہ رہے ہیں کہ جنگ بندی سے پہلے ایرانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا ضروری ہے۔

مگر ایک فون ہے جو راولپنڈی سے واشنگٹن گیا ہے۔

اور ایک ملک ہے جو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔ شنید ہے کہ امریکی نائب صدر اسلام آباد آکر مزاکرات میں شامل ہوگا. 

آج دنیا کی نظریں واشنگٹن، تہران اور تل ابیب پر ہیں۔ مگر فون راولپنڈی سے آیا ہے۔ پاکستان ہیز پنچڈ وے ابو اٹس ویٹ. 

پنڈی والے افغانستان والے جوئے کے بعد شاید پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جوا کھیل رہے ہیں. ٹرمپ اور ایران اور عربوں کے درمیان پڑنا شیر پر سواری کے مترادف ہے. اقوام متحدہ عضو معطل بن چکی ہے. غزہ پیس بورڈ کا پلیٹ فارم استعمال ہو سکتا ہے. تاہم زرا سا توازن درہم برہم ہوا تو تو کچھ بڑوں کے سر لڑھک سکتے ہیں. اللہ کرے پاکستان اس میں سرخرو ٹھہرے. 

اگلے پانچ دن بتائیں گے کہ یہ فون تاریخ بدلتا ہے یا تاریخ کا حاشیہ بن کر رہ جاتا ہے۔

عارف انیس

BBC Pakistan News Digital News Details

*💫خبروں کی تفصیل💫* *💫بدھ5 شوال المکرم 1447ھ* *25 مارچ 2025ء💫* امریکا، ایران مذاکرات، میزبانی کیلئے شہباز کی پیشکش تہران اور ...