پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع کر دی گئی۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے 8 نومبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت 4 یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پرمکمل پابندی ہو گی۔*💥شمالی وزیرستان: پاک-افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 2 خوارج ہلاک، 5 زخمی*
*🌼خفیہ کارروائی میں مزید 2 خوارج کے ہلاک اور 4 سے 5 کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی ذرائع**💥کراچی: براق پیٹرول پمپ سچل موڑ کے قریب ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر بھتیجا جاں بحق، چچا زخمی*رپورٹ جئدیو مھیشوری سندھ
رپورٹ کے مطابق سچل تھانے کے علاقے سپر ہائی وے پر واقع براق پیٹرول پمپ سچل موڑ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے بچے سمیت 2 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرچھیپا ایمبولنس کے ذریعے اسپارکو روڈ پرواقع ڈاؤ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے بچے کے جاں بحق ہونے والے بچے کی تصدیق کردی گئی۔
جاں بحق بچے کی شناخت 12 سالہ حسنین ولد محمد قاسم اورزخمی کی شناخت 55 سالہ علی اصغر ولد حاجی بخش کے نام سے کی گئی فائرنگ سے جاں بحق بچہ اورزخمی شخص چچا بھیجا ہیں اوراندرون سندھ دادو کے رہائشی ہیں۔
ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فرخ رضا کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق چھینا جھپٹی کرتے ہوئے فائرنگ ہوئی جس میں 2 اشخاص شدید زخمی ہوئے۔
اسپتال ذرائع ایک شدید زخمی بچے کے جابحق ہونے کی تصدیق کررہے ہیں ایس ایچ او سچل حسب ضابطہ معاملات کی پڑتال کررہے ہیں اور ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔
رابطہ کرنے پر ایس ایچ او سچل امین کھوسو نے بتایا کہ فائرنگ سے جاں بحق و زخمی چچھا بھتیجا سہراب گوٹھ سے حیدر آباد جانے والے سپر ہائیوے پر براق پیٹرول پمپ سچل موڑ کے قریب سڑک کنارے درختوں کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل سوار 2 مسلح ملزمان ڈکیتی کی نیت سے ان کے پاس آکر رکے تو چچا نے اپنا اسلحہ نکال لیا جس پرنامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کردی۔
چچا کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی، 2 طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں چچا بھیجا زخمی ہوگئے جب کہ مسلح ملزمان بھی زخمی حالت میں موقع پر سے فرارہوئے۔
زخمی چچا بھتیجے کو فوری طور پر قریبی اسپتال منقتل کیا گیا جہاں فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا 12 سالہ حسنین ولد محمد قاسم جانبر نہ ہوسکا۔
انھوں نے بتایاکہ فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر پیش آیا ہے،پولیس زخمی حالت میں موقع پر سے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔
ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوںگے ،ادھرنیوکراچی تھانے کے نارتھ کراچی اللہ والی مسجد کے قریب ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پرمسلح ملزمان کی فائرنگ سے 35 سالہ نجم نواز ولد حق نواز زخمی ہوگیا جسے فوری طور پرعباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کردی۔رواں سال شہرقائد میں ڈکیتی مزاحمت پرجاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 76 ہوگئی
راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ خولہ چوہدری کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سائبر کرائم ایجنسی نے خولہ چوہدری کو گزشتہ شب دو اینٹی اسٹیٹ سوشل میڈیا پوسٹس کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
آج انہیں راولپنڈی ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
ذرائع کے مطابق خولہ چوہدری کے خلاف مقدمہ آن لائن ریاستی اداروں کے خلاف مواد کی تشہیر کے الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق مزید سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سرگرمیوں کی جانچ بھی جاری ہے۔*💥کراچی: ایس آئی یو کی ’حراست‘ میں نوجوان کی موت، 6 اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج*رپورٹ جئدیو مھیشوری سندھ
کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو ) کی حراست میں نوجوان عرفان کی موت کا مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 6 اہلکاروں کے خلاف درج کرلیا۔
ذرائع ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ اینٹی کرپشن سرکل میں ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔
ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے دوران حراست عرفان پر تشدد کیا جس سے اس کی موت ہوئی جب کہ اہلکاروں نے نوجوان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا تھا۔
مزید کہا گیا کہ نوجوان کی غیر قانونی گرفتاری سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، مقدمے میں نامزد ملزم اے ایس آئی عابد شاہ اور پولیس کانسٹیبل آصف زیر حراست ہیں باقی 4 ملزم پولیس اہلکار مفرور ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
واضح رہے کہ 22 اکتوبر کو کراچی میں ایس آئی یو پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان عرفان جاں بحق ہوگیا تھا، جبکہ پولیس سرجن نے بتایا تھا کہ نوجوان عرفان کے پوسٹ مارٹم میں جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔