جمعرات، 27 فروری، 2025

*بجلی کے بل اربوں روپے تک جا پہنچے، پنجاب کی جیلوں کو سولر انرجی پر لانے کا فیصلہ*

لاہور: پنجاب بھر کی 43 جیلوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے حتمی پلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی منظوری کیلئے پیش کردیا ہے۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ تمام جیلوں کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا ہے، سروے کے دوران جیلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کیلئے لاگت کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پنجاب کی 43 جیلوں میں بجلی اور گیس کا سالانہ بل ساڑھے 4 ارب تک پہنچ چکا ہے، تمام جیلوں کو 4 ارب 35 کروڑ کی لاگت سے شمسی توانائی پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ترجمان کے مطابق گرین انرجی کے مجوزہ حل پر مرحلہ وار عملدرآمد سے بجلی کے بلوں میں 60 فیصد کمی آئے گی، منصوبے کیلئے جاری مالی سال کے دوران 2 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

*کراچی: بوٹ بیسن پر جھگڑے کا معاملہ، شہری پر تشدد کرنیوالے گارڈز گرفتار، مرکزی ملزم بلوچستان فرار*

کراچی کے علاقے بوٹ بیسن پر جھگڑے کے دوران شہری کو تشدد بنانے والے دو نجی گارڈز کو پولیس نے حراست میں لے لیا جبکہ مرکزی ملزم بلوچستان فرار ہو گیا۔گزشتہ روز کراچی کے علاقے بوٹ بیسن پر شاہ زین مری اور ان کے سکیورٹی گارڈز کی جانب سے ایک شہری پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تھی، فوٹیج میں شاہ زین مری کو اپنے سکیورٹی گارڈز کے ہمراہ شہری پر تشدد کرتے دیکھا گیا گیا تھا۔شہری پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے اس حوالے سے بتایا گیا رات گئے 2 مقامات پر کارروائی کرکے شہری پر تشدد کرنے والے 2 گارڈز کو گرفتار کر لیا گیا ہے، دونوں گارڈز سے 4 جدید ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، گرفتار غوث بخش اور جلاد خان، شاہ زین مری کے گارڈز ہیں

`*👏🛑 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟* 🛑🛑 *27 فروری 2025 | بروز جمعرات | اہم خبروں کی جھلکیاں |*

*🚨 (1) رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل جمعے کو ہوگا🚨 (2) 4 شہریوں کی میتیں ملنے پر اسرائیل نے 456 فلسطینی قیدی رہا کردیے، 97 مصر جلاوطن🚨 (3) وفاقی کابینہ میں توسیع، 12 وزرا، 9 وزرائے مملکت اور 3 مشیروں نے حلف اٹھا لیا🚨 (4) صدر مملکت نے ابو ظبی کے ولی عہد کو نشان پاکستان سے نواز دیا🚨 (5) پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں تعاون کے 5 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط🚨 (6) اپوزیشن کی قومی یکجہتی کانفرنس، پیکا سمیت تمام غیر آئینی ترامیم ختم کرنے کا مطالبہ🚨 (7) قومی کانفرنس کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن رہنما ’زبردستی‘ ہوٹل میں داخل، رہنماؤں کا خطاب🚨 (8) اپوزیشن جماعتوں کے جاری کردہ اعلامیے پر جے یو آئی نے سائن نہیں کیے، سینیٹر کامران مرتضی🚨 (9) پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان🚨 (10) امریکی کانگریس اراکین کا عمران خان کی رہائی کیلئے سیکریٹری اسٹیٹ کو خط، اقدامات پر زور🚨 (11) نواز شریف سیاسی میدان میں متحرک، رہنماؤں کا خیبرپختونخوا کے دوروں کا مشورہ🚨 (12) سندھ کابینہ نے کراچی کیلئے ڈبل ڈیکر بسوں کی منظوری دیدی🚨 (13) وزیراعلیٰ سندھ کا خواتین کیلئے ایک ہزار پنک الیکٹرک موٹر سائیکلیں خریدنے کا اعلان🚨 (14) وزارت خزانہ نے عیدالفطر سے قبل مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا🚨 (15) لوگ اپنی طاقت پر کرکٹ بورڈ میں آتے ہیں اور مرضی کرتے ہیں، ان کی مراعات حیران کن ہیں: رانا ثنااللہ🚨 (16) چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نہ آنے پر بھارت میں ایشیا کپ کا انعقاد مشکل میں پڑ گیا🚨 (17) چیمپئنز ٹرافی؛ بارش کے باعث پاکستان اور بنگلادیش کا میچ بھی منسوخ🚨 (18) ملک میں احتجاج کے حق کو ختم کردیا گیا ہے، ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم🚨 (19) مولانا فضل الرحمان نے کہا کچھ مجبوریاں ہیں، 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دوں گا، بیرسٹر گوہر🚨 (20) مصطفی قتل کیس؛ ملزم ارمغان کے تشدد کا شکار لڑکی مل گئی🚨 (21) مصطفیٰ عامر کیس: ملزم ارمغان کا مزید 5 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور🚨 (22) 10 دن واش روم نہ جانے دیا جاتا تو آپ یہاں کھڑے نہیں ہوتے، جج کا ارمغان سے مکالمہ🚨 (23) ’گالم گلوچ کے بعد فائرنگ، خون صاف کیا‘ گواہ کے سنسنی خیز انکشافات، عدالت میں ارمغان کو پہچان لیا🚨 (24) مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کے اکاؤنٹس اور جعل سازی کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں🚨 (25) پولیس کو ساحر حسن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، نہ ہی کسی قسم کی منشیات برآمد ہوئیں، اداکار ساجد حسن🚨 (26) لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق 6 پاکستانیوں کی میتیں پاکستان پہنچا دی گئیں🚨 (27) آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی چھٹی سالگرہ پر مسلح افواج کا مادر وطن کے دفاع کے عزم کا اعادہ🚨 (28) آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 برس، وزیراعظم کا افواج کو خراج تحسین، پوری قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے، شہباز شریف🚨 (29) گلگت: تیز رفتار گاڑی نے فٹ پاتھ پر کھڑی 3 سگی بہنوں سمیت 4 طالبات کو کچل دیا🚨 (30) محکمہ موسمیات نے آج ملک کے مختلف مقامات پر بارشوں کی پیشگوئی کردی🚨 (31) لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش کا الرٹ جاری🚨 (32) کراچی: لانڈھی میں ٹرالر نے موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا🚨 (33) انگلینڈ افغانستان میچ کے دوران گراؤنڈ میں جانیوالا تماشائی گرفتار، مقدمہ درج🚨 (34) سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے کی کمی، سونا 3 لاکھ 3 ہزار روپے کا ہوگیا🚨 (35) سویلینز کا ملٹری ٹرائل کیس: لگتا ہے اے ٹی سی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں، جج آئینی بینچ🚨 (36) کیا آپ ٹرک چلاتی ہیں؟ 'ٹرک تو میں چلا سکتی ہوں‘، ساتھی جج کے سوال پر جسٹس مسرت کا جواب🚨 (37) شہباز حکومت میں ملک سے 20 لاکھ لوگ ہجرت کرچکے ہیں: مزمل اسلم کا دعویٰ🚨 (38) نیپرا نے موسم گرما کیلئے پانی کی صورتحال پر واپڈا سے تفصیلات طلب کرلیں🚨 (39) موٹروے پر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پر گاڑی بند، مقدمہ درج، جرمانہ ہوگا🚨 (40) سندھ میں سیلاب متاثرین کے بجائے کسی اور کے مکانات بنائے جارہے ہیں، چیئرمین قائمہ کمیٹی🚨 (41) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کا اجلاس، ملک میں کتوں، گدھوں، مینڈک کے گوشت کی فروخت کا انکشاف🚨 (42) سردار اختر مینگل مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتاری دینے تھانے پہنچ گئے، پولیس کا گرفتاری سے انکار*🚨 (4 سندھ ہائیکورٹ کا قتل کیس میں نادرا کو ایک کروڑ 65 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم🚨 (44) شہری عبدالرشید خانزادہ اور ان کی اہلیہ نے 2011 میں سڑک حادثے میں بیٹی کے انتقال پر نادرا کے خلاف درخواست دائر کی تھی🚨 (45) نواز شریف کا نظریہ اور پروگرام ہی پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلواسکتا ہے، زاہد خان🚨 (46) لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججوں کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس کل ہوگا🚨 (47) زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب 92 کروڑ 57 لاکھ ڈالرز پر پہنچ گئے🚨 (48) پنجاب کے تھیٹر میں فحاشی پھیلانے اور ذو معنی فقرے کسنے والے آرٹسٹوں کے گرد شکنجہ مزید سخت🚨 (49) حکومت نے کمپٹیشن ایپلٹ ٹریبونل میں نئے چیئرمین اور ممبران کو تعینات کردیا🚨 (50) گیس کو ایل پی جی بناکر بیچنے کا منصوبہ، صارفین کو گیس ملنے میں مزید کمی آجائیگی، سوئی سدرن کا اعتراف🚨 (51) افغانستان جانے والے ڈی اے پی کی کلیئرنس کیلئے انشورنس گارنٹی لازمی قرار🚨 (52) اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈی اے سمیت متعلقہ اداروں کو ریڑھی بانوں کا مسئلہ حل کرنیکا حکم🚨 (53) اسلام آباد: فیصل مسجد کے احاطے میں ایک شخص نے خود کوگولی مارلی🚨 (54) نیپرا کا این ٹی ڈی سی کو ایک کروڑ روپے جرمانہ🚨 (55) امریکی فوج میں بڑی تبدیلی: ہزاروں ٹرانس جینڈر اہلکار نکالنے کا فیصلہ🚨 (56) غیر قانونی سمز کیخلاف کریک ڈاؤن جاری، پی ٹی اے کا نجی فرنچائز پر چھاپہ🚨 (57) چیمپئنز ٹرافی: بھارت کو دھچکا، روہت شرما کی میچ میں شرکت مشکوک🚨 (58) کراچی: سی ٹی ڈی کی کیماڑی میں کارروائی، کالعدم جماعت کا رکن گرفتار🚨 (59) فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق مسائل درپیش ہیں، پی ٹی اے🚨 (60) چارسدہ: مردہ مرغیوں سے بھری گاڑی کی پولیس اہلکار کو ٹکر، ملزمان گرفتار*

کراچی: سندھ کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت شروعاجلاس میں صوبائی وزراء، مشیراں، معاون خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک۔

رپورٹ: انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف تفصیلات:سندھ کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت شروع ۔ اجلاس میں صوبائی وزراء, مشیراں، معاونین خصوصی ، چیف سیکرٹری ، پرنسیپل سیکرٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ۔کابینہ اجلاس میں 30 نکات پر غور کیا جائے گا اور اہم فیصلے متوقع ہیں، ترجمان وزیراعلیٰ سندھترقیاتی کاموں کی تکمیل میں تیزی لائی جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی وزراء کو ہدایتجن اسکیموں پر کام سست روی کا شکار ہے؛ وہاں پیش رفت کو تیز کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھہم اپنے ترقیاتی منصوبوں کا مسلسل معائنہ کرتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کو وزراء کی آگاہیوزیر اعلیٰ سندھ کی رمضان المبارک کے انتظامات بہتر بنانے کی ہدایترمضان المبارک کا بابرکت مہینہ آرہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہانتظامیہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر ضابطہ لائے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایتذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، وزیر اعلیٰ سندھمصنوعی مہنگائی پر سخت کارروائی کی جائے، وزیر اعلیٰ سندھ کا حکمتاجروں کو بابرکت ماہ میں اشیائے خورد و نوش کی مناسب قیمتیں مقرر کرنی ہوں گی، وزیر اعلیٰ سندھعوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں، وزیر اعلیٰ سندھرمضان میں پانی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، وزیر اعلیٰ سندھٹریفک مینجمنٹ کو مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام کو مشکلات نہ ہوں، وزیر اعلیٰ سندھبازاروں میں معیاری اشیاء کی وافر اور سستی فراہمی یقینی بنائی جائے، وزیر اعلیٰ سندھ

عمرکوٹ: ایس ایس پی عمرکوٹ عزیر احمد کے احکامات پر ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ، منشیات و حدود آرڈیننس کے تحت کارواٸیاں ۔۔۔ مجموعی طور پر 08 ملزمان گرفتار ۔۔۔1650 گٹکا/ماوا 130 لیٹر دیسی شراب اور موٹر ساٸیکل برآمد۔

رپورٹ: انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ رپورٹر تفصیلات: 01). پولیس تھانہ عمرکوٹ سٹی: گٹکا کے خلاف کارواٸ، ملزم ہیرو میگھواڑ گرفتار، 1650 گٹکا ماوا اور ایک موٹر ساٸیکل برآمد۔ کراٸم نمبر 35/2025 دفعہ 4. 5. 8 گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج۔ 02). پولیس تھانہ پتھورو:پولیس تھانہ پتھورو کا دیسی شراب کی بٹھی پر چھاپہ ملزم عارف شر گرفتار، 130 لیٹر دیسی شراب برآمد، کراٸم نمبر 06/2025 دفعہ 3/4 حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج۔03). پولیس تھانہ ویمن عمرکوٹ:پولیس تھانہ ویمن کی کارواٸ ہیومن ٹریفکنگ کے مقدمے میں مطلوب ملزم شہناز سولنگی، زاہدہ خاصخیلی اور فرحان مگسی گرفتار، مدعیہ زرینہ گجو کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جسکے مطابق خاتون ملوکہ گجو کو شھر لے جانے کا بہانہ کر کے اغوا کیا گیا۔ مغویہ کو بازیاب کرالیا گیا ہے مزید کارواٸ جاری ہے۔ کراٸم نمبر 06/2025 دفعہ 371A. B ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔04). پولیس تھانہ ویمن عمرکوٹ:پولیس تھانہ ویمن کی ایک اور کارواٸ ہیومن ٹریفکنگ اور اغوا کے مقدمے میں مطلوب ملزم پونجو بھیل، چندو بھیل، بالو بھیل گرفتار، مدعی ہاشم بھیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جسکے مطابق دو خواتین کو اغوا کیا گیا۔ مزید کارواٸ جاری ہے۔ کراٸم نمبر 07/2025 دفعہ 452، 365B تعزیرات پاکستان اور ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

ڈاکٹر شاہنواز کے والد اپنے بیٹے کی تدفین کے وقت جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اُس پر بات نہیں کرتے اور خاموش ہو جاتے ہیں۔۔۔ اُن کے چھوٹے بیٹے بابر ہمیں اس جگہ لے گئے جہاں مشتعل افراد نے اُن کے بھائی کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔



سلمان تاثیر سے ڈاکٹر شاہنواز تک: کیا توہین مذہب کا معاملہ پاکستانی پولیس میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے؟
Play video, "توہینِ مذہب کے ملزمان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت: کیا پولیس فورس میں شدت پسند رویے موجود ہیں؟", دورانیہ 9,54
09:54

،ویڈیو کیپشنتوہینِ مذہب کے ملزمان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت، کیا پولیس فورس میں شدت پسند رویے موجود ہیں؟
مضمون کی تفصیل
مصنف,جئدیومھیشوری
عہدہ,بی بی سی پاکستان ڈاٹ کام، عمرکوٹ

صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے قصبے جھانرو میں موجود ڈاکٹر شاہنواز کے والد اور ریٹائرڈ سکول ٹیچر صالح محمد اِس بات پر حیران ہیں کہ توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے اُن کے بیٹے کی ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے ذمہ دار کسی ایک بھی پولیس افسر یا اہلکار کو چھ ماہ گزرنے کے باوجود گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

یاد رہے کہ ستمبر 2024 میں ڈاکٹر شاہنواز کی پولیس تحویل میں قتل کا مقدمہ سندھ پولیس کے ایک ڈی آئی جی، دو ایس ایس پیز سمیت ایک درجن سے زائد پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ یہ افسران اور اہلکار فی الحال معطل ہیں تاہم ان میں سے کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔

صالح محمد کہتے ہیں کہ ’جب میرے بیٹے نے رضاکارانہ گرفتاری دے دی تھی تو میں مطمئن ہو گیا کہ وہ ایک ڈی آئی جی سطح کے افسر کی حراست میں ہے جو اس کے ساتھ کوئی ناانصافی یا غلط کام نہیں کرے گا۔‘

صالح محمد کے بیٹے اور عمر کوٹ سول ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر شاہنواز کے خلاف ستمبر 2024 میں مبینہ توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد اُن کی گرفتاری کراچی سے ہوئی تاہم پولیس کی جانب سے 18 ستمبر کی رات ایک مقابلے کے دوران اُن کی ہلاکت کا دعویٰ کر دیا گیا۔

19 ستمبر کی صبح چند مذہبی گروہوں کے اراکین نے ڈی آئی جی آفس پہنچ کر اُن پولیس افسران کی پذیرائی کی تھی جو اس کام میں ملوث تھے اور انھیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے تھے۔میرپورخاص میں جب ڈاکٹر شاہنواز کی موت کا جشن منایا جا رہا تھا تو اُس مقام سے لگ بھگ سو کلومیٹر دور قصبہ جھانرو میں موجود ڈاکٹر شاہنواز کے اہلخانہ پولیس تحفظ کی عدم موجودگی میں اپنے بیٹے کی میت دفنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

شاہنواز
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شاہنواز کے والد صالح محمد: ’اگر ڈی آئی جی سطح کا افسر مجرم نکلے اور جھوٹ بولے تو کس پر اعتماد کریں؟‘
تدفین کے وقت جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا والد محمد صالح اس پر بات نہیں کرتے خاموش ہو جاتے ہیں اور ان کے آنکھوں میں پانی آ جاتا ہے۔ اُن کے چھوٹے بیٹے بابر علی ہمیں اس جگہ لے گئے جہاں تدفین کی کوشش کے دوران مشتعل افراد نے اُن کے بھائی کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔

بابر بتاتے ہیں کہ اُن کے بھائی کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد مشتعل ہجوم اُن کا پیچھا کرتا آ رہا تھا اور وہ جیسے ہی اپنی آبائی زمین پر بھائی کی تدفین کے لیے پہنچے تو ہجوم وہاں بھی پہنچ گیا۔ ’انھوں نے اپنی موٹر سائیکلیں کھڑی کیں اور دھمکیاں دیں کہ تمھیں بھی جلا دیں گے۔ ہم وہاں سے بھاگے اور ہمارے پیچھے انھوں نے ہمارے بھائی کی لاش کی بے حرمتی کی، اسے آگ لگا دی اور فرار ہو گئے۔‘

صالح محمد اور ان کے اہلخانہ اس بات پر حیران تھے کہ مشتعل افراد کیسے ان سے پہلے ہر اس جگہ پہنچ پا رہے تھے جہاں انھوں نے اپنے بیٹے کی تدفین کرنی تھی۔

صالح محمد کہتے ہیں کہ ’اگر ہمارے ملک اور صوبے میں ڈی آئی جی سطح کا افسر مجرم نکلے، جھوٹ بولے کہ بندہ مقابلے میں مارا گیا جبکہ پولیس نے گرفتاری تو ظاہر ہی نہیں کی تو اس کی کیا بات کریں، کیسے اعتماد کریں۔‘

ڈاکٹر شاہنوا،تصویر کا ذریعہSocial Media
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شاہنواز کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا جبکہ تدفین کی کوشش کے دوران مشتعل ہجوم ان کی لاش کو آگ لگا دی تھی
’پولیس اور مذہبی جماعت میں رابطہ کاری‘

ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کیس میں نامزد ملزمان میں شامل افراد میں سے 11 ضمانت پر ہیں جبکہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی اور ایس ایس پی چوہدری سمیت سات ملزمان عدالت کی جانب سے مفرور قرار دیے گئے ہیں۔

میرپور خاص میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے پیش کیے گئے چالان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت ملزم پولیس افسران مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے ایک مقامی رہنما پیر عمر جان سرہندی مسلسل رابطے میں تھے۔ عمر جان سرہندی اس کیس میں ملزم ہیں اور فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے چالان کے مطابق یہ افراد تفتیشی ٹیم پر اثر انداز ہونے کے لیے سیاسی شخصیات سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

چالان کے مطابق وقوعہ کے وقت ایس ایس پی اسد چوہدری سی آئی اے سینٹر پر موجود تھے اور وہ ایک مشکوک فون نمبر کے ساتھ بھی رابطے میں تھے۔ اس کے علاوہ وہ سی آئی اے ٹیم کے اہلکار محمد اقبال سے بھی رابطے میں تھے جس کے فون کی 'لوکیشن' مقامی مذہبی رہنما کے ساتھ ظاہر ہو رہی تھی۔

ایف آئی اے کے عدالت میں جمع کروائے گئے حتمی چالان سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر کنبھار کو گرفتار کرنے والی ٹیم میں شامل پولیس کانسٹیبل معشوق بھی مذہبی جماعت کی ٹیم کے رکن عمر جان کے ساتھ رابطے میں تھے۔

ایف آئی اے نے عمر جان کی موبائل کا فرانزک کیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 18 نومبر کو انھوں نے ایس ایس عمرکوٹ آصف رضا سے رابطہ کیا تھا۔پیر عمر جان نے ایف آئی اے کو اپنی دو ویڈیوز پیش کی ہیں جس میں ڈاکٹر شاہنواز کے بارے میں انھوں نے جو مؤقف اختیار کیا تھا اس کی تفصیلات موجود تھیں۔

ایف آئی اے کے چالان میں بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی جاوید سونھارو جسکانی وقوعہ کے وقت اپنے دفتر میں موجود تھے اور ان کا صرف ایس ایس پی اسد چوہدری سے رابطہ تھا جبکہ ایس ایس پی آصف رضا اور عمر جان سے موبائل فون کے ذریعے رابطے کے ثبوت نہیں ملے تاہم پی ٹی سی ایل نمبر کا ذکر نہیں کیا گیا۔
Police،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے حتمی چالان کے مطابق پولیس اہلکاروں کے مذہبی جماعت کے رہنماؤں سے رابطے تھے (فائل فوٹو)
’سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا‘
ایف آئی اے کے حتمی چالان میں تحریک لبیک کے رہنما پیر عمر جان سرہندی، ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی آصف رضا، ایس ایس پی اسد علی چوہدری، عنایت علی زرداری، ہدایت اللہ، ندار پرویز، غلام قادر، نیاز محمد کھوسو اور دانش بھٹی سمیت 23 ملزمان کے خلاف ٹرائل کی اپیل کی گئی ہے۔

شاہنواز کنبھار قتل کیس کی پیروی کرنے والے پینل میں شامل ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاہنواز کی گرفتاری سے لے کر اُن کی لاش کو جلانے تک سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا ہے۔

سجاد چانڈیو نے کہا کہ عدالت میں جمع کروائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مولوی اور پولیس افسران رابطے تھے۔ ’عمرکوٹ پولیس نے شاہنواز کو کراچی سے گرفتار کیا اور اُن کی گرفتاری سے مقامی پولیس کو لاعلم رکھا گیا۔ اس کے بعد ڈی آئی جی کے کہنے پر ان کی حراست میرپورخاص پولیس کے حوالے کی گئی اور اس وقت بھی مذہبی عناصر پولیس سے رابطے میں تھے۔‘

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’شاہنواز کو قتل کرنے کے بعد جب اُن کی لاش لواحقین کے حوالے کی گئی تو صبح تقریباً چھ بجے بھی ملزمان میں رابطہ کاری ہو رہی تھی۔ شاہنواز کی میت جلانے کی وجہ جسم پر موجود تشدد کے نشانات کو چھپانا تھا۔ یہ سب ایک پورا منصوبہ تھا جو ایف آئی اے کی عدالت میں جمع کروائی گئی تحقیقات میں ثابت ہوا ہے۔‘

’سوچا نہ تھا کہ سرکاری محافظ یہ کرے گا؟‘
تصویر
،تصویر کا کیپشن’کسی کے ساتھ ظلم ہو اور بغیر قانونی کارروائی کیے ہوئے کسی شخص کا محض الزام کی بنیاد پر قتل ہو جائے تو اس دکھ کو میرے خاندان کے علاوہ اور کون زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے‘
شاہنواز کا کیس ہی واحد نہیں ہے جس میں پولیس ملزم بن کر سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

شاہنواز کے قتل سے صرف آٹھ روز قبل 11 ستمبر 2024 کو کوئٹہ میں ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عبدالعلی نامی شہری کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور بعدازاں وہ تھانے کے اندر ایک پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک کر دیے گئے۔

عبدالعلی کے لواحقین کو بھی تدفین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بعدازاں ہونے والے ایک مقامی جرگے نے قتل کے ملزم اہلکار کو معاف کر دیا اور اس کو رہا کر دیا گیا جبکہ رہائی کے موقع پر ان کو پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا گیا۔ یاد رہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریاست کی جانب سے اس معاملے کی پیروی کی جائے گی تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔

پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ سنہ 2011 میں پنجاب کے اُس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کو اُن کے اپنے ہی سرکاری محافظ نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ممتاز قادری نامی یہ اہلکار ایک مذہبی گروہ سے متاثر تھے۔

ڈاکٹر شاہنواز کا قتل: ’میرے بیٹے کی لاش باقی نسلوں کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کی جائے‘
28 ستمبر 2024
ڈاکٹر شاہنواز: ’ہم جلتی لاش کے شعلے دیکھ رہے تھے اور آس پاس کھڑے لوگ نعرے لگا رہے تھے‘
26 ستمبر 2024
ورثا کا توہین رسالت کے ملزم کے قاتل پولیس کانسٹیبل کو معاف کرنے کا اعلان: ’قبیلے نے معاف کیا ہے ریاست نے نہیں‘
19 ستمبر 2024
پاکستان میں ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان ’ٹھوس شواہد اور اعترافِ جرم‘ کے باوجود پراسرار حالات میں مارے کیوں جاتے ہیں؟
7 فروری 2025
سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اُن دنوں صورتحال کافی سنگین تھی۔ ’میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ٹی وی پر گالیاں دے رہا تھا اور میرے والد کے قتل کی باتیں کر رہا تھا۔ اس سے قبل میں نے ٹی وی پر کبھی ایسی چیز نہیں دیکھی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس معاملے کا پتہ تھا جس میں آسیہ بی بی پھنسی ہوئی تھیں۔ ہم نے پوری رپورٹس دیکھی ہوئی تھیں کہ اُن کو کیسے پھنسایا گیا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیسے بات کر رہے ہیں قتل کی۔ میں نے اپنا والد کو کہا تھا کہ ابا ہماری عوام میں بہت غربت ہے بہت ان پڑھ ہیں، میرا خیال ہے اُن کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں۔ اس پر وہ بڑے غصے میں آئے تھے اور انھوں نے مجھے کہا تھا کہ میں نے اللہ کو جواب دینا ہے تم لوگوں کو نہیں۔‘

شہباز تاثیر کے مطابق ’یقیناً آپ کو ڈر لگتا ہے مگر پھر آپ سوچتے ہیں کہ میرے والد صاحب گورنر ہیں اور ان کی کافی سکیورٹی ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا اپنا گارڈ اس طرح کی حرکت کر سکتا ہے، وہ بھی ایک آفیشل گارڈ۔ ہمارے لیے تو یہ بہت صدمے کی بات تھی۔‘

عمرکوٹ اور کوئٹہ میں حالیہ پولیس کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’کسی کے ساتھ ظلم ہو اور بغیر قانونی کارروائی کیے ہوئے کسی شخص کا محض الزام کی بنیاد پر قتل ہو جائے تو اس دکھ کو میرے خاندان کے علاوہ اور کون زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔‘

عبدالعلی،تصویر کا ذریعہBalochistan Police
،تصویر کا کیپشنتوہین مذہب کے الزام میں گرفتار عبدالعلی کو ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا
’کمانڈ کی سپورٹ کے بغیر یہ اقدام ممکن نہیں‘
سلمان تاثیر سے لے کر ڈاکٹر شاہنواز کے قتل تک میں مشترکہ بات یہ رہی کہ قتل کرنے والوں میں پولیس اہلکار شامل تھے۔ ہم نے یہ ہی جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پولیس کی صفوں میں مذہبی انتہا پسندی کا رجحان فروغ پا رہا ہے اور کیا اس کے سدباب کے لیے کوئی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں یا نہیں؟

چرچ ہوں، امام بارگاہیں ہوں، مساجد یا مندر، پولیس اہلکار لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اہلکار ہی شدت پسند رویہ اختیار کر لیں تو اس کا معاشرے پر کیا اثر ہو گا؟

برطانیہ کی واروک یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر زوہا وسیم کہتی ہیں کہ ’حالیہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ نچلے رینک اور اعلیٰ افسران کسی نہ کسی طرح مذہبی انتہا پسندی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں: خاص طور پر جب توہین مذہب کی بات آتی ہے تو وہ اس معاملے پر ہمدری رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ جو اہلکار توہین مذہب کے ملزمان کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہو رہے ہیں وہ یہ اقدام اپنے افسران کی لاعلمی میں نہیں لے سکتے۔ ’وہ ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے اگر انھیں پتا نہ ہو کہ انھیں اوپر کی سطح پر یعنی پولیس کمانڈ سے سپورٹ ملے گی۔‘

زوہا وسیم کے مطابق ’پولیس ایک سیکولر ادارہ تو نہیں ہے۔ پولیس وہی مذہبی نظریات اپناتی ہے جو معاشرے میں عام ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو معاشرے میں عدم برداشت کا رویہ ملتا ہے تو پولیس میں بھی عدم برداشت والے لوگ ملیں گے۔ ماضی کے واقعات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ پولیس افسران میں سے کچھ کی طالبان کے ساتھ، کچھ کی فرقہ وارانہ شدت پسند تنظیموں کے ساتھ اور کچھ کی تحریک لبیک جیسی جماعتوں کے ساتھ بھی ہمدریاں موجود ہیں۔‘

’مذہبی جماعتوں کا پولیس پر دباؤ رہتا ہے‘
پولیس
،تصویر کا کیپشن’کچھ اکا دکا کیسز یقیناً موجود ہوتے ہیں لیکن مجموعی طور پر سندھ پولیس بڑی روشن خیال ہے‘
پاکستان کے کئی علاقوں میں پولیس بھی شدت پسند تنظیموں کا نشانہ بن چکی ہے۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ بطور فورس پولیس میں مذہبی شدت پسندی کا رجحان موجود نہیں ہے بلکہ یہ انفرادی واقعات تھے۔

ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کہتے ہیں کہ سندھ پولیس کسی بھی طرح مذہبی شدت پسندی کا شکار نہیں ہے اور اس کے لیے سینیئر افسران نے بڑی محنت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نچلے رینک کے اہلکار چونکہ معاشرے کے ساتھ زیادہ رابطے میں ہوتے ہیں تو اس بات کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے کہ اُن کی رائے متاثر ہو جائے۔ تاہم کسی بھی سطح پر یہ نہیں دیکھا گیا کہ اہلکاروں میں مذہبی شدت پسندی موجود ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کافی کیسز ایسے دیکھے ہیں جن میں بعض لوگ قرآن مجید کی بےحرمتی کرتے ہیں اور اُن میں سے زیادہ تر ذہنی طور پر صحتمند نہیں ہوتے ہیں۔ جب پولیس افسران ایسے افراد کو ہینڈل کر رہے ہوتے ہیں تو وہ ان ملزمان کو بچا رہے ہوتے ہیں جن کی جان کے درپے مشتعل ہجوم ہوتا ہے۔‘

اُن کی رائے میں ’کچھ اکا دکا کیسز یقیناً موجود ہوتے ہیں کیونکہ پولیس افسران کے بھی کوئی نظریات اور عقیدے ہوتے ہیں لیکن مجموعی طور پر سندھ پولیس بڑی روشن خیال ہے اور اس میں کسی قسم کی شدت پسندی نہیں ہے۔‘

عرفان علی بلوچ تسلیم کرتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کا پولیس پر دباؤ رہتا ہے تاہم ان کے مطابق اس کا پیشہ ورانہ انداز میں سامنا کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ’توہین مذہب کے کیسز میں پولیس پر بہت دباؤ ہوتا ہے، مذہبی گروہوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اُن کی بات مانی جائے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ پولیس افسران نے اس نوعیت کے کیسز کو ہینڈل کرنا سیکھ لیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو بھی توہین مذہب کا کیس ہوتا ہے اس کو ایس پی یا ایس پی ایس پی سطح کے افسر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘

’مؤثر حکمت عملی موجود نہیں‘
تصویر
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شاہنواز کی قبر پر موجود ان کا بھائی
ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی تحقیقات میں ایف آئی اے، پولیس اور سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹس میں پولیس افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس واقعے کو ماورائے عدالت کے پیرائے میں تو دیکھا گیا ہے لیکن اس سوال کو مد نظر نہیں رکھا گیا کہ پولیس میں ایسے شدت پسند رویوں کی وجوہات کیا ہے اور اس کا تدارک کیسے ممکن ہے۔

ڈاکٹر شاہنواز اور عبدالعلی کے قتل کے علاوہ توہین مذہب کے مقدمات کا سامنے کرنے والے تین افراد کی پنجاب کی جیلوں کے اندر ہلاکت ہو چکی ہے۔ ادارہ برائے سماجی انصاف کے مطابق ان اموات کو حادثاتی یا فطری قرار دیا گیا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جبکہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ اُن کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے میں بعض واقعات مشتعل ہجوم کو پولیس کی معاونت حاصل رہتی ہے۔

پاکستان انسٹیٹوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کہتے ہیں کہ پولیس کے مذہبی شدت پسندی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ ایک سنگین معاملہ بن چکا ہے اور اس کا تدارک نظر نہیں آتا۔

انھوں نے کہا کہ ’پولیس میں ڈی ریڈکلائزیشن یعنی شدت پسندی کی روک تھام کی غرض سے کچھ علما کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، مگر اُن کا پس منظر بھی مشکوک ہوتا ہے لہٰذا پولیس کے پاس اس شدت پسندی سے متعلق کوئی مؤثر حکمت عملی موجود نہیں ہے۔‘

ڈی آئی جی عرفان بلوچ کہتے ہیں کہ جب پولیس کے پارٹ پر ایسے واقعات ہو رہے ہوتے ہیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ قانون کے محافظ ہی قانون توڑ رہے ہیں تو یہ بات معاشرے کے لیے خطرناک بن جاتی ہے۔ ’اس کے لیے پولیس کی سینیئر قیادت بڑا غور و فکر کرتی ہے اور ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات بھی لیے جا رہے ہوتے ہیں۔ جو افراد اس ایشو پر کام کرتے ہیں ان سے بھی رابطہ کر رہے ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے مذہبی شدت پسندی نہ صرف اس ادارے میں ہے بلکہ اور جگہوں پر بھی ہے۔‘ بقول اُن کے خاص طور پر جو حساس مقامات ہیں وہاں تعینات ہونے والے پولیس اہلکاروں کا نفسیاتی تجزیہ ہونا چاہیے تاکہ وہ ایسا کوئی غیر قانونی قدم نہ اٹھائیں۔

زوہا وسیم کہتی ہیں کہ پاکستان میں پولیس ایک ریاستی ادارے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی ادارہ بھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’پولیس کو ریاست کی پالیسی کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے اور اگر ریاست کی پالیسی یہی ہو کہ انتہا پسند جماعتوں کی حمایت کرنی ہے اور انھیں پھلنے پھولنے دینا ہے اور ان سے اپنے سیاسی مقاصد پورے کروانے ہیں تو آپ پولیس سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ الگ ہی کام کرے گی۔‘

زوہا وسیم کے مطابق ’پولیس بھی ان پالیسوں کے اندر کام کرے گی جب تک ریاست اور معاشرے میں انتہا پسندی کا علاج نہیں کیا جائے گا تو پولیس میں بھی آپ فرق نہیں کر پائیں گے۔‘


’جس وقت وہ میٹنگ جاری تھی، اس دوران پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے شام 5.45 بجے فوج کی طرف سے موصول ایک پیغام سنانے کے لیے بات چیت کو روک دیا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کی جانب نو میزائل ’پوائنٹ‘ کر رکھے ہیں جو اس دن کسی بھی وقت داغے جا سکتے ہیں۔


ابھینندن ورتھمان: پاکستان کی تحویل میں انڈین پائلٹ کی موجودگی کے دوران پسِ پردہ کیا ہوتا رہا؟
ابھینندن،تصویر کا ذریعہGetty Images
مضمون کی تفصیل
مصنف,نیاز فاروقی
عہدہ,بی بی سی اردو، دلی
12 جنوری 2024
یہ تحریر پہلی مرتبہ بی بی سی کی ویب سائٹ پر جنوری 2024 کو شائع ہوئی تھی جسے آج کے دن کی مناسبت سے دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔

27 فروری 2019 وہ دن تھا جب پاکستان کی فضائیہ نے انڈین جنگی طیارہ مار گرایا اور فائٹر پائلٹ وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو اپنی تحویل میں لے لیا جس سے حالیہ تاریخ میں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور سرحدی کشیدگی ایک نئی بلندی کو جا پہنچی۔

27 فروری کے یہ واقعات ایک مرتبہ پھر گذشتہ برس اس وقت زیرِبحث آئے جب پاکستان میں اس وقت تعینات انڈیا کے سابق ہائی کمشنر اجے بساریہ کی کتاب منظرِ عام پر آئی۔

بعدازاں اس کتاب میں کیے گئے دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کی اس وقت کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’بظاہر یہ کتاب فروری 2019 کے گرد انڈیا کے افسانوی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ فروری 2019 میں دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی کتاب ’نیور گیو این انچ‘ میں یہاں تک کہا ہے کہ یہ کشیدگی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری جنگ کا خدشہ تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپریل 2019 کے دوران گجرات کے ایک جلسے میں انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’امریکہ نے پاکستان کو پائلٹ واپس کرنے کا کہا ورنہ مودی 12 میزائلوں کے ساتھ تیار تھے، یہ رات قتل کی رات ہونا تھی۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ نے نریندر مودی کے اس بیان کو ’غیر زمہ دارانہ اور جنگی جنون پر مبنی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’بالا کوٹ میں مہم جوئی کا فوری اور مؤثر جواب، طیارے کو مار گرانا اور پائلٹ کی گرفتاری ہماری مسلح افواج کی تیاری، عزم اور صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔‘

انڈیا کے سابق ہائی کمشنر اجے بساریہ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ انڈین پائلٹ ابھینندن کو حراست میں لیے جانے کے بعد پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان دونوں ممالک میں کشیدگی کم کرنے کے لیے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کرنا چاہتے تھے جس پر انڈیا نے ’کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔‘

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان حقیقی طور پر اس جھڑپ کی شدت میں اضافے سے ’خوفزدہ تھا۔‘

تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس حوالے سے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ پاکستان نے ابھینندن کی واپسی کے ذریعے تناؤ کم کرنے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ دکھایا تھا جبکہ اجے بساریا کی کتاب ’فروری 2019 سے متعلق انڈیا کے افسانوی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

ابھینندن،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشن27 فروری 2019 وہ دن تھا جب پاکستان کی فضائیہ نے انڈین جنگی طیارہ مار گرایا اور فائٹر پائلٹ وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا
27 فروری کو پس پردہ کیا ہوا؟

دونوں ممالک میں تازہ کشیدگی سال 2019 میں اس وقت سامنے آئی تھی جب انڈین فضائیہ کے طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ کے علاقے میں گولہ بارود گرایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستانی سرزمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ’سرجیکل سٹرائیک‘ کی ہے۔

پاکستان نے اس کے جواب میں انڈین طیارہ مِگ 21 مار گرایا تھا اور ایک انڈین پائلٹ ابھینندن کو حراست میں لے لیا تھا جسے بعد ازاں ’کشیدگی کم کرنے کے لیے‘ انڈیا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

27 فروری کا ذکر نئی دہلی میں واقع ’ایلیف پبلیکیشنز‘ کی طرف سے حال ہی میں شائع کی گئی کتاب میں بھی ملتا ہے جس میں اجے بساریہ پاکستان میں اپنے قیام کی روداد بیان کرتے ہیں۔

جب پلوامہ حملہ کے بعد انڈیا نے اپنی طرف سے فوجی کارروائیاں کی اس وقت وہ دہلی آئے ہوئے تھے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’میں 26 فروری کی صبح کو دہلی میں اس وقت بیدار ہوا جب سوشل میڈیا پر انڈیا کی طرف سے پاکستان میں بم گرائے جانے کے بارے میں باتیں جاری تھیں۔‘

اسلام آباد میں ان کے ایک ساتھی نے اس صبح آئی ایس پی آر کے ترجمان آصف غفور کا ایک ٹویٹ شیئر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ایک انڈین لڑاکا طیارے نے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد بم گرایا ہے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان نے اگلے دن جوابی کارروائی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چار کلومیٹر کے اندر فوجی اہداف کے قریب گولہ بارود گرایا۔ بعد ازاں انڈین بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 24 پاکستانی طیارے انڈین فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

27 فروری کو طیاروں کی اس ڈاگ فائٹ کے دوران انڈین فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن کا طیارہ پاکستان کے ایک میزائل کا شکار ہو گیا۔ وہ ایل او سی سے سات کلومیٹر اندر گرے اور حراست میں لے لیے گئے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی کتاب ’نیور گیو این انچ‘ میں لکھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ دنیا کو صحیح طرح معلوم نہیں کہ فروری 2019 میں انڈیا اور پاکستان کی لڑائی جوہری جھڑپ میں بدل سکتی تھی۔‘

وہ اس وقت ویتنام میں تھے جب انھیں ’انڈین ہم منصب نے نیند سے جگایا، انھیں خدشہ تھا کہ پاکستان نے حملے کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ انھوں نے بتایا انڈیا خود بھی جھڑپوں کی تیاریوں پر غور کر رہا تھا۔‘

مائیک پومپیو لکھتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے ’اصل رہنما‘ جنرل باجوہ سے رابطہ کیا جنھوں نے اس کی تردید کی مگر انھیں خدشہ تھا کہ ’انڈین جوہری ہتھیار تعینات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب میں سابق انڈین ہائی کمشنر اجے بساریہ لکھتے ہیں کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے ’پی فائیو‘ ممالک (یعنی امریکہ، انگلینڈ، فرانس، روس اور چین) کے سفارتکاروں کو طلب کیا۔

بالاکوٹ حملہ اور ’سرپرائز ڈے‘: انڈیا اور پاکستان نے رائے عامہ کی تبدیلی کیسے کی؟
27 فروری 2021
ابھینندن کی ڈرامائی گرفتاری کی کہانی
1 مار چ 2019
کیا پاکستان نے سعودی دباؤ پر ابھینندن کو چھوڑا تھا؟
28 فروری 2020
ابھینندن،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہمارے وزیر اعظم اس وقت دستیاب نہیں‘
انڈین سفارتکاراجے بساریہ کا اپنی کتاب میں یہ دعویٰ ہے کہ انڈین طیاروں کی پاکستان حدود میں سٹرائیک اور پاکستان کے جوابی ردعمل میں انڈین پائلٹ کو پکڑنے کے بعد ’سفارت کاروں کی نظر میں پاکستان حقیقی طور پر کشیدگی میں اضافے کے امکانات سے خوفزدہ نظر آ رہا تھا۔‘

بساریہ نے اپنی کتاب میں اس بارے میں لکھا کہ ’جس وقت وہ میٹنگ جاری تھی، اس دوران پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے شام 5.45 بجے فوج کی طرف سے موصول ایک پیغام سنانے کے لیے بات چیت کو روک دیا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کی جانب نو میزائل ’پوائنٹ‘ کر رکھے ہیں جو اس دن کسی بھی وقت داغے جا سکتے ہیں۔‘

بساریہ مزید لکھتے ہیں کہ ’تہمینہ جنجوعہ چاہتی تھیں کہ سفارتکار یہ بات اپنے ممالک کے رہنماؤں تک پہنچائیں اور انڈیا سے کہیں کہ وہ صورتحال کو مزید آگے نہ بڑھائے۔ اس کی وجہ سے ’پی فائیو‘ دارالحکومتوں، اسلام آباد اور نئی دہلی میں سفارتی سرگرمیوں میں ہلچل مچ گئی!‘

وہ ایک ’پی فائیو‘ سفارت کار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’ان سفارت کاروں میں سے ایک نے کہا کہ پاکستان کو خود اپنے تحفظات کو براہ راست انڈیا تک پہنچانا چاہیے۔‘

بساریہ لکھتے ہیں کہ اس وقت انھیں اسلام آباد میں موجود انڈیا میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کا آدھی رات کو فون آیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کرنے کے خواہشمند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے سینئیر حکام سے چیک کیا اور جواب دیا کہ ہمارے وزیر اعظم اس وقت دستیاب نہیں ہیں لیکن اگر عمران خان کے کوئی ضروری پیغام پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ یقیناً مجھے دے سکتے ہیں۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ اس کے بعد اس رات انھیں کال نہیں آئی۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ درین اثنا امریکہ اور برطانیہ کے سفیروں نے انڈیا کو مطلع کیا کہ پاکستان اب کشیدگی کو کم کرنے، انڈیا کے ڈوزیئر پر عمل کرنے، اور دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ سفیروں نے انڈیا کو یہ بھی بتایا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم خود یہ اعلان کریں گے اور پائلٹ کو اگلے دن انڈیا واپس کر دیا جائے گا۔‘

انھوں نے لکھا کہ یکم مارچ کو انڈیا نے ورتھمان کی واپسی کے لیے طریقے تیار کرنا شروع کر دیا اور ’فیصلہ کیا کہ پاکستان سے کہا جائے کہ وہ پائلٹ کی واپسی کا میڈیا میں تماشا نہ بنائے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’(ہماری) ورتھمان کی بازیابی کے لیے انڈین ایئر فورس کا طیارہ بھیجنے کے لیے تیار تھی لیکن پاکستان نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انھیں شام پانچ بجے رہا کیا جانا تھا لیکن آخر کار رات نو بجے رہا کیا گیا۔‘

’یہ انڈیا کا فروری 2019 کے گرد افسانوی بیانیہ ہے‘
تاہم پاکستانی پاکستانی دفتر نے اجے بساریا کی کتاب میں درج تفصیلات کےحوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’بظاہر یہ کتاب فروری 2019 کے گرد انڈیا کے افسانوی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

دفترِ خارجہ کی ترجمان سے ایک صحافی کی جانب سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ اجے بساریہ نے یہ دعویٰ کیا کہ انڈیا نے اس وقت ایک پاکستانی وزیر اعظم کی کال لینے سے انکار کیا، اس پر وہ کیا کہنا چاہیں گی۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے جواباً کہا کہ ’انڈیا میں حکمرانوں نے پلوامہ واقعے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔۔۔ مسٹر بساریہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بالاکوٹ انڈیا کے لیے ایک فوجی ناکامی تھی۔ یہ انڈین مہم جوئی کی ایک مثال تھی جو ان کے لیے بُری طرح اور شرمناک حد تک غلط ثابت ہوئی کیونکہ انڈین طیارے مار گرائے گئے، اور ایک انڈین پائلٹ کو پاکستان نے حراست میں لے لیا۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان نے اس صورتحال کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تاہم ’یہ افسوسناک ہے کہ ایک سفارتکار جبر اور طاقت کے استعمال کی بات کر رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ 28 فروری کو عمران خان نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں انڈیا کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو یکم مارچ کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے ایوان کو بتایا تھا کہ ’آج انڈیا نے پلوامہ کے بارے میں مراسلہ بھیجا ہے مگر اس سے پہلے انھوں نے حملہ کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘ انھوں نے ایوان کو بتایا تھا کہ ’میں نے کل بھی مودی سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس عمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ میں انڈیا کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ مزید کوئی کارروائی نہ کریں کیونکہ ایسی صورت میں ہم بھی کارروائی پر مجبور ہوں گے۔‘


*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...