Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
ہفتہ، 19 اپریل، 2025
بریکنگ نیوز عمرکوٹ: عمرکوٹ کے حالات کشیدہ ہونے جارہے ہیں، پولیس تیرتھ مالھی کی گرفتاری سے لاعلم ۔ BBC PK News Umer Kot
میرے ساتھی آزاد کرو ، اگر نہیں تو مجھے بھی گرفتار کرو ۔پولیس اور کارکنان کا ٹکراؤ ،پولیس کا لاٹھی چارج اور کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ ، ایک پولیس اہلکار زخمی ۔تین گھنٹوں سے لال مالھی اور کارکنان تھانے میں موجود۔ لال مالھی اور کارکنان کی گرفتاری کی بے بنیاد افواہیں ،خوف و ھراس کی فضا قائم ۔ خدا خیر کرے !!رپورٹ : ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر عمرکوٹ بی بی سی نیوز پاک
*شوہر کا اپنی بیوی سے محبت کرنا اور بیوی کا اپنے شوہر سے محبت کرنا بچوں کی صحت کا راز ہے* ایک فیملی BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI Islamabad
سیمینار میں شرکت کرنے والے نے کہا:"میں نے ایک تربیتی کورس میں شرکت کی جس میں 30 سے زیادہ شرکاء تھے۔ وہاں مقرر نے ایک سوال کیا:' *ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر کیا کر سکتی ہے؟'* جوابات مختلف تھے: 'محبت، دین، اخلاص، تقوی، دوستی، کھلا ذہن، سکون، احسان' اور ان کے مترادفاتمقرر نے خاموش ہو کر کہا: 'آپ کے تمام جوابات تربیت میں بہت اہم ہیں۔ لیکن میری تحقیقات کے مطابق، جو چیز سب سے اہم ہے وہ یہ ہے:' *ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر یہ کر سکتی ہے کہ وہ ان کے والد سے محبت کرے۔'* 🖤 *ازدواجی جھگڑے بچے کے دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتے ہیں، اس کے منفی اثرات پہلے چند ماہ سے شروع ہو* *جاتے ہیں اور لمبے عرصے تک رہتے ہیں* ایک محقق کہتا ہے:'ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا کہ *اپنے بچے کی تربیت کیسے کروں تاکہ وہ بڑا ہو کر ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے؟* *میں نے جواب دیا: 'اگر آپ اپنے بچے کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، تو گھر جائیں اور اپنی بیوی سے* *محبت کریں* ۔'💗 ' *Go home and love* *your wife.'💗* خلاصہ یہ کہ: *ایک محبت بھرا اور ہم آہنگ خاندان بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت میں حیرت انگیز بہتری لا سکتا ہے، اور یہ سب شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے* *سے محبت کے ذریعے ممکن ہے۔* *والدین کی محبت اور توجہ میں گھرا بچہ کم بیماریوں، کم ضد، کم تشدد، کم نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے اور تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے* اگر آپ ذمہ داری اور شعور کے ساتھ والدین نہیں بن سکتے، تو ایسی روحوں کو کیوں جنم دیتے ہیں جو آپ کی سختی سےتکلیف میں ہوں؟
ایک طلاق یافتہ اکیلی ماں نے لکھا:👇👇👇میں آپ کو یہ بات سمجھانے کے لیے لکھ رہی ہوں کہ اپنے شریک حیات کی خوبیوں کی قدر کرنا ضروری ہے، چاہے ان میں خامیاں ہوں! MIAN KHUDABUX ABBASI BBC PK News Article Islamabad
۔میری عمر 32 سال ہے۔میرے سابق شوہر اور میں نے 6 سال تک ڈیٹ کی۔ہم بہترین دوست تھے۔میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے کالج مکمل کر لیا اور کام شروع کر دیا۔پھر میرے خاندان اور اس کے خاندان نے ملاقات کی۔ہماری شادی ہوئی اور ہمارا ایک بیٹا ہوا۔ [اب 7 سال کا ہے]۔میرا شوہر کبھی کبھار غصے میں آ جاتا تھا لیکن ہمارے مسائل تب شروع ہوئے جب میں نے اسے یہ محسوس کرانا چاہا کہ وہ مجھے کنٹرول نہیں کر سکتا۔جب بھی ہم جھگڑتے، میں اپنا سامان باندھ کر اپنے خاندان کے پاس چلی جاتی اور انہیں صورتحال سمجھاتی۔میری بہنیں میرے شوہر کو فون کرتیں اور اس پر چیختیں۔اگر وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تو میں ہمیشہ اسے کہتی کہ اگر وہ چاہے تو مجھے طلاق دے سکتا ہے۔میں کبھی طلاق نہیں چاہتی تھی۔مجھے صرف اپنی عزت کا خیال تھا اور میں کبھی بھی اس کی نظروں میں ایک کمزور عورت نہیں بننا چاہتی تھی۔ایک دن میں نے اسے اتنا تنگ کیا کہ پہلی بار اس نے مجھے مارا اور گھر سے باہر نکال دیا۔میں اپنے خاندان کے پاس چلی گئی، میرے خاندان نے اسے پولیس میں رپورٹ کر دیا، ہر بار ایسا لگتا تھا جیسے میں ہی مظلوم ہوں!لیکن حقیقت میں، میں اپنے شوہر کو جذباتی طور پر تکلیف پہنچاتی تھی۔اسے گرفتار کر لیا گیا اور حراست میں رکھا گیا۔اس کے خاندان نے مجھ سے کیس واپس لینے کو کہا۔مجھے محسوس ہوا کہ میں غلط کر رہی ہوں۔میرا شوہر کبھی بھی پرتشدد انسان نہیں تھا، اس نے جو کیا وہ اس لیے کیا کیونکہ میں نے اسے مجبور کیا اور اس نے کھلے دل سے معافی مانگی۔میں نے کیس واپس لے لیا، اور ہم دوبارہ مل گئے۔تین ماہ بعد، ایک چھوٹے مسئلے پر میں نے پھر سے اپنا سامان باندھ لیا اور وہ اکیلا رہ گیا۔دو دن بعد، مجھے کال آئی کہ وہ ہسپتال میں ہے۔میرے خاندان نے مجھے کہا کہ وہاں نہ جاؤں کیونکہ ایسا لگے گا جیسے میں اسے منانے جا رہی ہوں اور میری بہنیں مانتی تھیں کہ وہ بیماری کا ڈرامہ کر رہا ہے۔اس دوران، لوگ مجھے مظلوم سمجھتے رہے جیسے میں ہی ظلم کا شکار ہوں۔وہ ایک ہفتہ ہسپتال میں رہا، جب وہ واپس آیا، مجھے صرف طلاق کا نوٹس ملا۔میں طلاق کو رد کرنا چاہتی تھی، لیکن میرے غرور کی وجہ سے، میں چاہتی تھی کہ وہ اپنا فیصلہ بدلے اور مجھ سے معافی مانگے۔میں نے اسے فون کیا اور کہا کہ اسے طلاق مل جائے گی کیونکہ میں جہنم میں جی رہی تھی۔جب ہم عدالت گئے، میں چاہتی تھی کہ وہ قیمت چکائے، اس لیے میں نے عدالت سے کہا کہ اس کی جائیداد تقسیم کی جائے۔میری حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے کھلے عام عدالت کو بتایا کہ جو کچھ بھی ہم نے اکٹھا حاصل کیا ہے وہ مجھے دیا جائے، اسے صرف طلاق چاہیے۔ہم جولائی 2009 میں طلاق یافتہ ہو گئے۔اب، میرا شوہر شادی شدہ ہے، جبکہ میں یہاں برباد ہو رہی ہوں!میرے خاندان والے میرے بارے میں چغلی کرتے ہیں۔میں اپنی بقا کے لیے اپنے بیٹے کے لیے جو میرے سابق شوہر دیتا ہے، اس پر انحصار کرتی ہوں۔مجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنی شادی برباد کی۔میں یہاں تمام بیویوں کو بتا رہی ہوں کہ انہیں مشورہ لیتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔دھوکہ نہ کھائیں، اپنے خاندان کی مداخلت کو اپنی شادی میں نہ آنے دیں میرے عزیز قاری۔یہاں تک کہ میری چھوٹی بہنیں بھی مجھ سے زیادہ عزت پاتی ہیں۔جن لوگوں نے مجھے طلاق لینے کی ترغیب دی، وہ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتے ہیں اور میرے بارے میں بری باتیں کرتے ہیں۔براہ کرم خواتین، اپنی شادی میں چوکسی سے کام لیں۔سوچا کہ اپنی کہانی شیئر کروں تاکہ آپ کی شادی بچ سکے۔غرور میں کوئی فائدہ نہیں۔کبھی کبھی یہ مرد کا قصور نہیں ہوتا،یہ آپ کا غرور ہوتا ہے، اور وہ لوگ جو آپ کو مشورہ دیتے ہیں، اس لیے اپنی شادی میں ہوشیار اور چوکنا رہیں۔اللہ ہمیں برائی سے، برے لوگوں سے، ان سے جو برائی کرتے ہیں اور دوسروں کو برائی کی دعوت دیتے ہیں، محفوظ رکھے یا کریم۔ آمین اپنے دوستوں کے ساتھ شیر کریں اور گھر کے لوگوں کے ساتھ بھیجزاک اللہ خیرا آپ کے وقت کے لیئے۔۔
جمعہ، 18 اپریل، 2025
کسی گھنے جنگل میں ایک بکری بے فکری سے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی، جیسے اُسے کسی خطرے کا کوئی ڈر نہ ہو۔ ایک درخت پر بیٹھا کوا یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ نیچے اُترا اور بکری سے پوچھنے لگا: MIAN KHUDABUX ABBASI BBC PK News Article Islamabad
تمہیں جنگل کے خونخوار جانوروں سے کوئی خوف نہیں؟ اتنی نڈر اور بے فکر کیسے ہو؟"بکری نے مسکرا کر کہا:"کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی مر گئی تھی، اپنے دو چھوٹے بچوں کو جنگل میں تنہا چھوڑ کر۔ میں نے اُن پر ترس کھایا اور اُنہیں اپنے دودھ سے پالا۔ آج وہ دونوں شیر جوان ہو چکے ہیں اور پورے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ ’ہماری بکری ماں کو کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے‘۔ اب جنگل کا کوئی درندہ، خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، میری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔"کوا بہت متاثر ہوا اور دل میں سوچنے لگا:"کاش مجھے بھی کبھی ایسا نیکی کا موقع ملے کہ پرندوں کی دنیا میں میرا بھی کوئی مقام بن جائے۔"یہ سوچتے ہوئے وہ اُڑتا جا رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر دریا میں ڈبکیاں کھاتے ایک چوہے پر پڑی۔ فوراً نیچے اُترا، چوہے کو پانی سے نکالا اور ایک پتھر پر لٹا کر اپنے پروں سے ہوا دینے لگا تاکہ وہ خشک ہو جائے۔جیسے ہی چوہے کے حواس بحال ہوئے، اُس نے بنا سوچے سمجھے کوے کے پر کترنے شروع کر دیے۔ کوا نیکی کی دھن میں مست، اور چوہا اپنے فطری مزاج میں مصروف۔ تھوڑی ہی دیر میں چوہا بالکل خشک ہو گیا اور بھاگتا ہوا اپنے بل میں جا گھسا۔کوا اپنی نیکی پر خوش ہو کر آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا، لیکن چند ہی لمحوں میں زمین پر منہ کے بل آ گرا۔ اُس کے پر کٹے ہوئے تھے اور اب وہ اُڑنے کے قابل نہ رہا۔ بس زمین پر کبھی اُچھلتا، کبھی گھسٹتا۔اتفاق سے بکری ادھر سے گزری تو کوے کو اُس حال میں دیکھ کر پوچھا:"ارے کوے! یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟"کوا غصے سے بولا:"یہ سب تمہاری باتوں کا نتیجہ ہے! تم سے متاثر ہو کر میں نے نیکی کے جذبے میں چوہے کی جان بچائی، مگر اُس نے میرے پر ہی کتر ڈالے!"بکری ہنس پڑی اور کہنے لگی:"ارے نادان! اگر نیکی ہی کرنی تھی تو کسی شیر کے بچے کے ساتھ کرتا۔ چوہا تو آخر چوہا ہی رہے گا۔ بدذات اور بداصل کو نیکی راس نہیں آتی۔ ایسے کے ساتھ بھلائی کا یہی انجام ہوتا ہے جو تمہارے ساتھ ہوا۔"اسی پر میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شہرہ آفاق شعر یاد آ گیا:"اصلاں نال جے نیکی کرئیے، نسلاں تائیں نئیں بھُلدےبدنسلاں نال نیکی کرئیے، پُٹھیاں چالاں چلدے"کوے کے بچے موتی چگنے سے ہنس نہیں بن جاتے،اور کھارے پانی کے کنویں میں چاہے کتنا ہی میٹھا ڈال دو، وہ کھارا ہی رہتا ہے۔
شال پریس کلب کے سامنے اسیران کے لواحقین کو اپنی آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔سمی دین بلوچ BBC PK News Quetta
جمعہ، 18 اپریل 2025 / زرمبش اردو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے ایک طرف عدلیہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے، تو دوسری جانب غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے اسیران کے لواحقین کو اپنی آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبگر بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر سیاسی اسیران کی غیر آئینی حراست کے خلاف اُن کے اہلِ خانہ نے شال پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا، جسے پولیس نے زبردستی اکھاڑ دیا۔ اس کے باوجود لواحقین سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے لکھا کہ اس احتجاجی کیمپ کا مقصد ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرنا اور بے گناہ اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ مگر پولیس کی جانب سے کیمپ لگانے سے روکنا، شہریوں کے اظہارِ رائے اور احتجاج کے آئینی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ہم کوئٹہ کے تمام شہریوں، سماجی و سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور باضمیر افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس احتجاجی کیمپ میں شریک ہو کر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کریں اور اُن کی آواز کو تقویت دیں۔
جمعرات، 17 اپریل، 2025
عمرکوٹ : ضمنی الیکشن این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج ۔رپورٹ : انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف اینڈ ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر ( عمرکوٹ )بی بی سی نیوز پاکستان ۔تفصیلات* BBC PK News Umer Kot
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری اکثریت سے کامیاب ، جبکہ انکے مدمقابل دریا بچاؤ تحریک کے متفقہ امیدوار لالچند مالھی 81160 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر نمایاں رہے۔ کامیاب امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور کو شاندار کامیابی حاصل کرنے پر علاقے کی عوام کی تعمیر و ترقی کی توقعات لیکر تہدل سے مبارکباد ۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*
پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...