پیر، 19 مئی، 2025

کچہ کراچی سے ہنگامی انخلاء کا حکم جاری، اغواء برائے تاوان گینگز کیخلاف "چٹھہ تاجک اسٹائل" میں بڑے آپریشن کا فیصلہ، بھونگ بچاؤ بند پر پولیس کی طرف سے انتہائی تیز رفتار مورچہ بندی شروع رحیم یار خان ( رپورٹ : فقیر عبدالقدوس سرخ پوش) BBC PK News RYK Report

کرائم فائٹر ڈی پی او رحیم یارخان عرفان سموں نے سندھ پنجاب بارڈر ایریاز سے اغواء برائے تاوان گینگز کے مستقل خاتمے کیلئے کچہ کراچی میں بڑے آپریشن کی تیاری مکمل کر لی ہے، اس سلسلے میں سرجیکل آپریشن سے قبل کچہ ایریا سے تمام آبادی کو انخلاء کا حکم دیدیا گیا ہے تاکہ آپریشن کے دوران پولیس اور اغوا برائے تاوان گینگز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں سویلینز کا جانی و مالی نقصان نہ ہو، آپریشن کی ہنگامی تیاریوں کے سلسلے میں پولیس والے ایکسی ویٹر کے ذریعے بھونگ بچاؤ بند کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے مورچے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ کھود رہے ہیں، جو سندھ پنجاب بارڈر تک کھودے جائیں گے، ذرائع کے مطابق اس وقت کچہ کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں کچہ روجھان، کچی حیدر آباد اور کچی جمال سے کچہ سونمیانی تک اغوا برائے تاوان گینگز کے پانچ چھ گروہ سرگرم ہیں جو اغواء برائے تاوان کے ساتھ ساتھ چوری ، ڈکیتی، مویشی چوری، راہزنی، بھونگہ گردی اور کرائے کے قاتل کے طور پر ٹارگٹ کلنگز میں بھی ملوث ہیں، پچھلے آٹھ دس برسوں کے دوران یہ افسوسناک صورتحال بھی پیدا ہوتی رہی کہ پنجاب پولیس اور سندھ پولیس کے اس علاقے میں کئی افسران و اہلکاروں کے ان ڈاکوؤں کے ساتھ مسلسل رابطے قائم ہو گئے، جس کی وجہ سے اغواء برائے تاوان گینگز کے حوصلے بہت بڑھ گئے، یہ گینگز کچہ سونمیانی سے کچہ ماچھکہ تک خاصے طویل دریائی علاقے میں پندرہ بیس کلومیٹر طویل تک پھیلے ہوئے ہیں، ذرائع کے مطابق دریائے سندھ کے بارڈر کے قریب بھونگ بچاؤ بند پر بنڈا موڑ چوکی سے ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے پر سب سے پہلے میرا لٹھانی گینگ کی کمین گاہیں ہیں، اس کے بعد شبیر لٹھانی گینگ کی پناہ گاہیں ہیں، دیگر گینگز نذیر لٹھانی گینگ، نواب سکھانی گینگ، قابل سکھانی گینگ ان سے کچھ فاصلے پر کچہ کراچی اور ملحقہ کچہ ایریاز میں سرگرم ہیں، کچہ ماچھکہ اور کچہ کراچی کے ایریاز میں لنڈ گینگ اور اندھڑ گینگ بھی سرگرم ہے، تنویر عرف تنیو اندھڑ اور مور زادہ دشتی ( شہزاد دشتی کا بھائی) اس اندھڑ گینگ کے سرغنہ ہیں، کچہ کراچی کے مغرب میں کچہ روجھان کے قریب پولیس کے سابق رضاکار گروپ نذیر ڈپٹی کا گھرانہ آباد ہے، نذیر ڈپٹی کا تعلق بھی لٹھانی قبیلے سے ہے اور یہ لوگ کم و بیش دس پندرہ برس تک پولیس کے معاون رہے، خاص طور پر سہیل حبیب تاجک اور سہیل ظفر چٹھہ کے ادوار میں 2010ء میں جو آپریشن توبہ ہوا تھا، اس میں نذیر ڈپٹی اور اس کے رشتے داروں نے آر پی او بہاولپور میجر (ر) عابد قادری ، ڈی پی او سہیل حبیب تاجک اور ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ کی خاصی معاونت کی، اس آپریشن کے ذریعے تمام اغواء برائے تاوان گینگز سے اس ایریا کو مکمل خالی کروا لیا گیا تھا۔ آپریشن توبہ اور اس سے پہلے کئی آپریشنز میں پولیس معاونت کی وجہ سے ڈاکو گینگز کے ساتھ نذیر ڈپٹی والوں کی سخت رنجش پیدا ہو گئی، بعد ازاں کئی سال بعد جب ڈاکو گینگ اس ایریا میں واپس آگئے تو کئی پولیس افسران ان کے ساتھ رابطے میں رہنے لگے، جس کی وجہ سے ان گینگز کی طاقت بڑھتی چلی گئی اور انہوں نے اپنے ہم نوالہ ہم پیالہ پولیس افسران کی ملی بھگت سے نذیر ڈپٹی کے گروپ کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں، ڈاکوؤں کے ساتھ تعلقات کے الزامات میں حال ہی میں ملازمت سے برطرف کیئے جانے والے دو ایس ایچ اوز سیف اللہ ملہی اور نوید واہلہ کا رحیم یارخان پولیس میں جو "خاص گروپ" ہے اس نے نذیر ڈپٹی کیخلاف مختلف ڈی پی اوز اور آر پی اوز کے کان بھرے اور اعلیٰ حکام کو کئی منفی رپورٹس بھجوائیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ نذیر ڈپٹی پولیس رضاکار گروپ میں شامل کئی نوجوان پولیس معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی چوری سمیت مختلف جرائم پیشہ سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں، تاہم اس سلسلے میں کبھی کوئی ایسا بڑا واقعہ سامنے نہیں آیا جو ان پولیس افسران کے موقف کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا، لیکن اس اندرونی کشمکش کا نقصان یہ ہوا کہ نذیر ڈپٹی رضاکار گروپ دل برداشتہ ہو کر پولیس معاونت سے دست بردار ہوگیا، اور یہی نتیجہ کچہ کراچی کے اغواء برائے تاوان گینگز اصل میں چاہتے تھے کہ کچہ ایریاز کے اندر سے پولیس کو سپورٹ نہ ملے۔ کم و بیش ایسی ہی افسوس ناک صورتحال کا سامنا کچی حیدر آباد، کچی جمال، کچہ سونمیانی، کچہ روجھان اور کچہ ماچھکہ کے پولیس معاونین کو کرنا پڑا، جب کچہ ایریاز کے اندر کم و بیش تمام پولیس رضاکار پولیس معاونت سے دل برداشتہ ہو گئے تو پولیس رفتہ رفتہ غیر موثر ہونے لگی جس کے نتیجے میں یہ ڈاکو گینگز اتنے دیدہ دلیر ہو گئے کہ انہوں نے نہ صرف کچہ ایریاز میں گھات لگا کر حملے کر کے پولیس کے جوانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا، بلکہ پولیس معاونین کو قتل کرنے کیلئے ضلع کے دور دراز علاقوں میں خونریز وارداتیں ڈال کر واپس اسی کچے میں آ کر روپوش ہونے لگے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ رحیم یار خان پولیس ایک بار پھر کچہ کراچی کے اطراف میں مورچہ بندیاں کر رہی ہے، کچہ کراچی کے مشرق میں یہ مورچہ بندیاں تین چار کلومیٹر ایریا میں مکمل ہو گئی ہیں، اس کے ساتھ ہی ڈی پی او عرفان سموں نے کچہ کراچی سے مکمل انخلاء والے "چٹھہ تاجک فارمولے" پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے اور پورے کچہ ایریا میں منادی کروا دی گئی ہے کہ تمام لوگ چاہے وہ عام دیہاتی ہیں یا کوئی بھی ہیں، وہ اپنا مال مویشی لے کر کچہ ایریا مستقل طور پر چھوڑ دیں کیونکہ کسی بھی وقت انتہائی زوردار آپریشن شروع ہو جائے گا اور اس دوران کراس فائرنگ سے علاقے میں سویلینز کا نقصان ہوسکتا ہے، اس لیئے کچہ خالی کرنے کی وارننگ بڑے پیمانے پر دیدی گئی ہے، تاحال یہ واضح نہیں کہ کچہ سے بے گھر ہونے والے پرامن عوام اور سابق پولیس رضاکاروں کی بحالی کیلئے کیا انتظامات کیئے گئے ہیں، ماضی میں ایسے انتظامات کیلئے رحیم یارخان چیمبر آف کامرس ، فلور ملز ایسوسی ایشن ، کاٹن جنرز ایسوسی ایشن ، بھٹہ خشت مالکان ایسوسی ایشن ، پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی، انجمن آڑھتیاں سبزی منڈی، ضلعی انجمن تاجران ، کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن سمیت مختلف کاروباری تنظیمیں کروڑوں روپے مالیت کی فنڈنگ کرکے ضلعی پولیس کی معاونت کرتی رہی ہیں جس کی وجہ سے کچہ سے انخلاء کا شکار ہونے والے غریب ہاریوں، کاشتکاروں اور ان کے مویشیوں کے کھانے پینے، چارے اور خیمہ بستیوں کا انتظام کرنے میں سہولت رہتی تھی۔

اتوار، 18 مئی، 2025

*پاکستان نے حملےکی پیشگی اطلاع کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا*BBC PK News Islamabad Report M KHUDABUX ABBASI

اسلام آباد: پاکستان نے حملےکی پیشگی اطلاع کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان کو مشتبہ مقامات پر حملوں سے آگاہ کیا تھا۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان" میں کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ جے شنکر نے یہ سب کسے بتایا؟ایک سوال پر اسحاق ڈار نےکہا کہ پہلگام واقعے کے بعد کچھ ملکوں نے پاکستان سےکہا کہ اب بھارت پنچ لگائےگا، تو ہم نے جواب میں ان ملکوں سےکہا کہ بھارت نے پنچ لگایا تو پاکستان اس کا جواب دےگا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان تیار تھا، حرکت میں تب آیا جب نور خان ائیربیس کو نشانہ بنانےکی کوشش کی گئی۔اسحاق ڈار نے ایک بار پھر کہا کہ سیز فائر کے لیے پہلا فون 10 مئی کو امریکی وزیر خارجہ کا آیا، جنہوں نے بتایا کہ بھارت سیز فائر پر تیار ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت آج تک پہلگام واقعےکا ثبوت دینے میں ناکام ہے۔ اس کا سارا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حد تو یہ ہے کہ پاکستان نے ایف 16 اُڑایا ہی نہیں اور بھارت نے ایف 16 مار گرانےکا دعویٰ کردیا۔

*پشاور میں آندھی نے تباہی مچادی، بچے سمیت 3 افراد جاں بحق*BBC PK News Report Peshawar KPK

پشاور: خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں آندھی نے تباہی مچادی، جس کے دوران مختلف حادثات میں بچے سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہوگئے۔پشاور کے علاقے پرانی سبزی منڈی میں قدیمی درخت کا بڑا حصہ گرنے سے دو اور رانوگڑھی میں دیوار کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔اس کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات پر درخت ، دیواریں، سائن بورڈ گرنے سے 12 افراد ذخمی ہوگئے۔تیز آندھی کی وجہ سے بجلی کا نظام برہم برہم ہوا اور 110 فیڈرز ٹرپ کر گئے جبکہ کئی مقامات پر بجلی کی تاریں کٹ کر گر گئیں اور کئی گھنٹے تک شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی بند رہی۔پشاور میں دن بھر تپتی دھوپ کے بعد سہ پہر کے بعد کالی گھٹائیں چھاگئیں اور بونداباندی کے بعد تیز آندھی چلنے لگی، آندھی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ شہر کے مختلف مقامات پر سائن بورڈز، درخت اور دیواریں گر گئیں۔گھنٹہ گھر کے قریب سبزی منڈی میں قدیمی درخت کا بڑا حصہ گرگیا، جس سے سبزی کا کاروبار کرنے والے دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ درخت گرنے سے کئی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ریسکیو حکام کے مطابق درخت گرنے سے جاں بحق ہونے والے آپس میں چچا زاد بھائی تھے جو سبزی کا کاروبار کرتے تھے۔ آندھی سے مختلف واقعات میں 12 افراد زخمی ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور سلیم اکرم کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں دیواریں، سائن بورڈ گرنے سے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں 3 افراد جاں بحق اور 12 ذخمی ہوئے۔

*🚨کراچی؛ افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلیے فرئیر ہال سے نشان پاکستان پارک تک ہیوی بائیک ریلی*BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

ریلی میں منفرد اور چمچماتی مختلف اقسام کی ہیوی بائیک کی بڑی تعدادشامل تھی*ریلی کا آغاز فرئیرہال سے ہوا اور تین تلوار چورنگی سے ہوتی ہوئی نشان پاکستان پارک پہنچی، ریلی میں منفرد اور چمچماتی مختلف اقسام کی ہیوی بائیک کی بڑی تعدادشامل تھی۔شرکاء کا کہناتھا کہ افواج پاکستان نے ہندوستان کو دندان شکن جواب دیکر قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے، سی ویو پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔

*حکومتِ سندھ کا چین کے تعاون سے منی ٹرک اسمبلنگ لائن کراچی میں قائم کرنے کا اعلان*BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

حکومت سندھ نے چین کے تعاون سے منی ٹرک کی اسمبلنگ لائن جلد کراچی میں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور چینی سرمایہ کاروں نے کراچی میں پلانٹ لگانے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔چین کے شہر بوزھو میں سپر منی ٹرک کی رونمائی کی تقریب ہوئی جس میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے شرکت کی۔تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سپر منی ٹرک منصوبہ پاک چین صنعتی اشتراک اور تکنیکی تعاون کی شاندار مثال ہے جو دونوں ممالک کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھولے گا۔

*اجازت نامےکے بغیر حج پر جانے والا گناہ گار ہوگا، مفتی اعظم مصر*۔ BBC PK News Egypt Report

مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر نظیر محمد عیاد نےکہا ہےکہ سعودی حکومت کے سرکاری اجازت نامےکے بغیر حج ادا کرنا نا صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ شرعاً بھی ناجائز ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں مصری مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ جب اجازت نامے کا حصول عوامی مفاد کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہو تو اس کی خلاف ورزی گناہ کے زمرے میں آتی ہے، جو شخص اجازت نامےکے بغیر حج پر جاتا ہے وہ گناہ گار ہوتا ہے۔ڈاکٹر نظیر کا کہنا تھا کہ اجازت نامہ حج کی استطاعت کی بنیادی شرط بن چکا ہے اور جب کسی کو اجازت نامہ نہ ملے تو اس پر حج فرض نہیں

*قلعہ عبداللہ: گلستان بازار میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی*BBC PK News Qila Abdullah Balochistan Report

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کےگلستان بازار میں دھماکےکے باعث4 افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔لیویز ذرائع کے مطابق دھماکا جبار مارکیٹ کے قریب ہوا، دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔لیویز ذرائع کا کہنا ہےکہ دھماکے سے جبار مارکیٹ کی متعدد دکانیں گرگئیں، دھماکے کے باعث کئی دکانوں میں آگ بھی لگ گئی۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ ریاض خان کے مطابق دھماکے میں4 افراد شہید ہوئےہیں جب کہ 20 افراد زخمی ہیں جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق ایف سی قلعےکی عقبی دیوار کے ساتھ مارکیٹ بھی ہے، دھماکے کے بعد مسلح افراد اور ایف سی اہلکاروں میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

*💫News Details**Sunday 19 Shaban Al-Mu'azzam 1447 AH* *February 8, 2026💫*

سانحہ اسلام آباد، بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی فنڈنگ انڈیا سے، پہلے 5 سو اب 15 سو ڈالر دیئے جاتے ہیں، وزیر داخلہ ...