ہفتہ، 24 مئی، 2025

رپورٹ : انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف & ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر بی بی سی پاکستان نیوز BBC PK News Umer Kot Hira Lal Om Prakash Report

عمرکوٹ: ایس ایس پی عمرکوٹ عزیر احمد کے احکامات پر منشیات، دیسی شراب اور گٹکا ماوا کے خلاف کارواٸیاں . . . 02 روپوش منشیات فروشوں سمیت 05 ملزمان گرفتار، 660 گٹکا / ماوا 65 لیٹر دیسی شراب برآمد۔تفصیلات:01). پولیس تھانہ کنری:منشیات کے مقدمے میں روپوش ملزم عرفان بلوچ گرفتار، کراٸم نمبر 233/2024 دفعہ 9. 1 3B نارکوٹیکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔ 02). پولیس تھانہ کنری:منشیات کے مقدمے میں روپوش ملزم سکندر مغل گرفتار، کراٸم نمبر 54/2025 دفعہ 9. 1 3B نارکوٹیکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔ 03). پولیس تھانہ چھور:چوری کے مقدمے میں مطلوب ملزم گلاب بھیل گرفتار، کراٸم نمبر 13/2025 دفعہ 379 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج ہے۔ 04). پولیس تھانہ ٹالہی:گٹکا ایکٹ کے تحت ملزم قار بخش گشکوری گرفتار 430 گٹکا/ماوا برآمد کراٸم نمبر 10/2025 دفعہ 4. 5. 8 گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔05). پولیس تھانہ ٹالہی:حدود آرڈیننس کے تحت مفرور ملزم صبحان گشکوری اور شگن پر مقدمہ درج۔ 65 لیٹر دیسی شراب برآمد کراٸم نمبر 11/2025 دفعہ 3/4 حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔06). پولیس تھانہ نبی سر :گٹکا ایکٹ کے تحت کارواٸ ملزم صدام حسین رند گرفتار 220 گٹکا ماوا برآمد کراٸم نمبر 18/2025 دفعہ 4. 5. 8 گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج۔

جمعہ، 23 مئی، 2025

رپورٹ : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف بی بی سی پاکستان نیوز یوگنڈا میں دنیا کا سب سے بڑا سونے کا زخیرہ دریافت ، 320000 ٹن خالص سونے کی موجودگی کے امکانات ۔ BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

تفصیلات: یوگنڈا نے حال ہی میں 31 ملین میٹرک ٹن سے زائد سونے کی خام دھات دریافت کی ہے، جس میں اندازاً 320,000 میٹرک ٹن خالص سونا موجود ہو سکتا ہے۔اس حیران کن دریافت کی مجموعی مالیت تقریباً 12 ٹریلین امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو یوگنڈا کو دنیا کے سرفہرست سونے پیدا کرنے والے ممالک کی صف میں لا سکتی ہے۔اگر نکاسی اور صفائی کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا، تو یہ دریافت یوگنڈا کی معیشت میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہے، اور عالمی سونے کی مارکیٹ پر گہرا اثر ڈال سکتی ھے یوگنڈا کے لیے خوشحالی کا ایک نیا باب شروع ہونے کو ہے۔

رپورٹ : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف بی بی سی پاکستان نیوز کراچی : وزیرِ اعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی / BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

چیئرمین STEVTA جناب جنید بلند سے STEVTA کی لیگل ٹیم انچارج فرقان اللہ عباسی اور لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ راجیش کمار کی ملاقات۔تفصیلات : کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے معاون خصوصی / چیئرمین اسٹیوٹا جنید بلند سے اسٹیوٹا کی لیگل ٹیم انچارج فرقان اللہ عباسی اور لیگل ٹیم کے ائڈوائیزر ایڈووکیٹ راجیش کمار کی ملاقات ۔ اس اہم ملاقات میں ادارے کے زیر التواء قانونی مقدمات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ چیئرمین جنید بلند صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی جائے جس کے ذریعے پینڈنگ کیسس کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔

رپورٹ : انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف عمرکوٹ بی بی سی پاکستان نیوز "آج کی بہت بڑی ایمان افزا خبر"مٹھی : قرآن مجید کا ڈھاٹکی/ تھری زبان میں مکمل ترجمہ۔ BBC PK News Umer Kot Om Prakash Report

یہ شرف محمد صدیق راہموں نے حاصل کیا ۔تفصیلات:تھرپارکر کے گاؤں رڑاکڑ میں حاجی محمد صدیق راہموں نے قرآن مجید کا ڈھاٹکی زباں میں ترجمہ کیا ہے، ڈھاٹکی زبان میں یے پہلا مکمل ترجمہ کیا گیا ہے، حتیٰ کہ اس سے پہلے عبدالکریم آزاد اور پروفیسر مراد علی راہموں نے بھی قرآن پاک کا ڈھاٹکی میں ترجمہ کیا تھا جو مکمل نہیں ہو سکا،ڈھاٹکی تھرپارکر کی قدیم زبان ہونے کے ساتھ ساتھ سندھی زبان کے دیگر لہجوں کے ساتھ اک خوبصورت لہجہ ہے، اور یہاں کے مقامی لوگ یے زبان بولتے ہیں.

ایڈیٹر : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف بی بی سی پاکستان نیوز انڈیا نے اوڈیشہ کے سمبل پوری زبان کے ادیب و شاعر "BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

ھلدر ناگ" کو بھارت کے سب سے بڑے سولین ایوارڈ "پدما شری ایوارڈ" سے نوازا گیا۔تفصیلات: بھارتی حکومت نے بھارت کاسب سے بڑا " پدما شری "سولین ایوارڈ ایک ایسے شاعر و ادیب کو دیا ھے جس کے پاس تین جوڑے کپڑے ، پھٹے ہوئے جوتے ہیں اور اس کی کتاب ایک یونیورسٹی کے نصاب میں بھی شامل کر لی گئی ہے!جب اُسے ہندوستان کا سب سے بڑا ایوارڈ "پدما شری" ملا تو اُس کی کوئی کتاب اس وقت تک پبلش نہیں ہوئی تھی۔ اُس نے جتنی شاعری لکھی اُسے زبانی یاد تھی۔ اُس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ دہلی تک کا سفر کر کے ایوارڈ وصول کرتا۔ اُس نے خط لکھا: مجھے ایوارڈ پوسٹ کر دیں, میرے پاس کرایہ نہیں، کہ میں وہاں آ سکوں"تین کپڑے، ٹوٹی ہوئی جوتی اور ایک بوسیدہ عینک اُس کا کل سرمایہ تھی، لیکن اُس کی شاعری کی گونج پھیل چُکی تھی۔یہ کہانی ہے اوڈیشہ سے تعلق رکھنے والے سمبل پوری زبان کے شاعر ہلدھر ناگ کی جنہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔

رپورٹ : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز بڑی کامیاب کارروائی جامشورو : BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کی ہدایت پر محکمہ نارکوٹکس کنٹرول کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاریمحکمہ نارکوٹکس کنٹرول کی ایکسائز انسپکٹر جاوید مہر کی سربراہی میں ٹول پلازہ اکرو چیک پوسٹ پر کاروائیجامشورو چیک پوسٹ پر کاروائی کے دوران ایک ملزمہ لطیفہ رہائشی لاہوری محلہ لاڑکانہ ا کے قبضے سے 1000 گرام آئس برآمدمحکمہ نارکوٹکس کنٹرول جامشورو نے ملزمہ کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیاملزمہ سے مزید تفتیش جاری ہےوزیر ایکسائز سندھ مکیش کمار چاولہ کی منشیات فروشوں کے خلاف بلاتفریق کاروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت۔

جمعرات، 22 مئی، 2025

یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے ایک دکان پر تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا ۔۔۔ پڑھنے کا شروع سے شوق تھاہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر BBC PK News Islamabad Article MIAN KHUDABUX ABBASI

ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔ اُس نے لکھا کہ:میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک شیخ صاحب کا واقعہ سنایا۔💥شیخ صاحب لاہور میں ایک معمولی سے دفتر میں ملازم تھے، دن کچھ ایسے پھرے کہ اسی دفتر کے صاحب کو پسند آ گئے اور یوں انکی فیملی میں ہی شیخ صاحب کی شادی ہو گئی۔ قدرت شیخ صاحب پر مہربان تھی، دن رات اور رات دن میں بدلتے گئے اور شیخ صاحب ایک دکان سے ایک مارکیٹ اور پھر ایک فیکٹری سے دو، چار، اور پھر نہ جانے کتنی فیکٹریوں کے مالک بنتے گئے۔دھن برستا گیا، دو بچے ہو گئے۔ شیخ صاحب نے کرائے والے کمرے سے ایک اپارٹمنٹ اور پھر لاہور کے انتہائی پوش علاقے میں دو کنال کی ایک کوٹھی خرید لی۔ مالی کی ضرورت پیش آئی تو چکوال سے آئے ہوئے سلطان کو فیکٹری سے نکال کر پندرہ سو روپے ماہوار پر اپنی کوٹھی پر ملازم رکھ لیا۔سلطان ایک انتہائی شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا، نہ کوئی عداوت، نہ کبھی کوئی شکایت۔ ایک بار شیخ صاحب دن کے دس بجے کسی کام سے گھر واپس آئے تو گاڑی دروازے پر ہی کھڑی کر دی کہ ابھی واپس دفتر جانا تھا۔ دروازے سے گھر کے داخلی دروازے کے درمیان اللہ جانے کیا ہوا کہ پودوں کو پانی دیتے سلطان کے ہاتھ سے پائپ پھسلا اور شیخ صاحب کے کپڑوں پر پوری ایک تیز پھوار جا پڑی،شیخ صاحب بھیگ گئے۔ سلطان پاؤں میں گر گیا، گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی۔ لیکن شیخ صاحب کا دماغ آسمان پر تھا۔ غصے میں نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، وہیں کھڑے کھڑے سلطان کو نوکری سے نکال دیا۔کہا شام سے پہلے اس گھر سے نکل جاؤ۔سلطان بیچارہ سامان کی پوٹلی باندھ کر گھر سے نکل کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا کہ شاید صاحب کا غصہ شام تک ٹھنڈا ہو جائے تو واپس بلا لیں۔ شام کو شیخ صاحب واپس آئے، دیکھا سلطان ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، گارڈ کو کہا اسے دھکے دیکر نکال دو، یہ یہاں نظر نہ آئے، صبح ہوئی تو سلطان جا چکا تھا۔ رب جانے کہاں گیا تھا۔وقت گزرتا گیا، شیخ صاحب کے تیزی سے ترقی پاتے کاروبار اور فیکٹریوں میں ایک ٹھہراؤ سا آنے لگا۔ کاروبار میں ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ کم پڑتی گئی۔ لیکن شیخ صاحب زندگی سے بہت مطمئن تھے۔ پھر ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، پوری فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ مزدور بھی جل گئے۔ شیخ صاحب کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں کا جھٹکا لگ گیا۔ کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا تو شیخ صاحب کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہو گئے۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا،دوستوں کے ساتھ سیر پر مری گیا واپسی پر حادثہ ہوا تو وہ جوان جہان دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شیخ صاحب کی کمر ٹوٹ گئی۔نقصان پر نقصان ہوتے گئے۔ دو کنال کی کوٹھی بیچ کر دس مرلے کے عوامی طرز کے محلے میں آ گئے۔ جب عقل سے کچھ پلے نہ پڑا تو پیروں فقیروں کے ہاں چلے گئے کہ شاید کوئی دعا ہاتھ لگ جائے اور بگڑی ہوئی زندگی پھر سے سنور جائے۔ باقی ماندہ کاروبار بیچ کر اور کچھ دیگر پراپرٹی کو رہن رکھ کر بنک سے قرضہ لیا اور چھوٹے بیٹے کو ایک نیا کاروبار کر کے دیا۔ اسکے پارٹنر دوست نے دغا کیا اور سارا پیسہ ڈوب گیا۔ شیخ صاحب ساٹھ سال کی عمر میں چارپائی سے لگ گئے۔ایک دن ایک پرانا جاننے والا ملنے آیا، حالات دیکھے تو بہت افسوس کیا۔ کہا شیخ صاحب ایک بزرگ لاھور آئے ہوئے ہیں، بہت بڑے اللّہ والے ہیں، اگر ان کے پاس سے دعا کروا لیں تو اللہ کرم کرے گا۔شیخ صاحب فورا تیار ہو گئے۔ ان کے پاس پہنچے، ملاقات کی، مسئلہ بیان کیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں، کچھ دیر مراقبے کی کیفیت میں رہے، پھر آنکھیں کھولیں، شیخ کو دیکھا اور کہا "تم نے سلطان کو کیوں نکالا تھا؟"شیخ کے سر کے اوپر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک نہ تھمنے والی لڑی جاری ہو گئی، شیخ بزرگ کے پاؤں میں گر گیا، معافیاں مانگنے لگا۔ بزرگ نے اسے کہا میری بات سنو۔ پروردگار رازق ہے، وہ رزق ضرور دے گا لیکن اسکا وسیلہ انسانوں کو ہی بنائے گا۔اوپر سے نیچے آتے پانی کی تقسیم جس طرح نہروں نالوں کی طرح ہوتی ہے رزق کی تقسیم اسی طرح ہے۔ پروردگار کے نزدیک ہم میں سے ہر ایک شخص وسیلہ ہے کسی اور کے رزق کا۔ اگر آپ وسیلہ بننے سے انکار کرو گے تو تمہارے حصے کا وہ رزق جو اس وسیلے سے تمہیں بطور معاوضہ مل رہا تھا ختم ہو جائے گا۔تمہیں لاکھوں کروڑوں سلطان کو پندرہ سو روپے دینے کے لیے ملتے تھے۔ تم نے وہ روک لیے، اوپر والے نے تمہارا معاوضہ ختم کر دیا۔ اب جاؤ اور سلطان کو ڈھونڈو، اگر وہ مان جائے معاف کر دے تو تمہارے دن پھر جائیں گے۔شیخ کی دنیا لٹ گئی، وہ سر پیٹتا گھر آیا پرانے کاغذات ڈھونڈتا رہا کہ شاید کہیں سلطان کا کوئی پتہ، کوئی شناختی کارڈ، کوئی اور معلومات مل سکیں۔ کچھ بھی نہ ملا تو شیخ دیوانہ وار سلطان کو ڈھونڈنے چکوال جانے والی بس میں بیٹھ کر چکوال چلا گیا۔ مگر سلطان نہ ملا۔چھوٹا بیٹا ڈھونڈتا ڈھونڈتا چکوال اڈے پر آ پہنچا اور باپ کو واپس لاہور لے آیا۔ لیکن شیخ کا دل کا سکون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دن بعد شیخ پھر گھر سے غائب ہوا تو بیٹے کو معلوم تھا کہ کہاں ملے گا۔وہ چکوال پہنچا تو دیکھا باپ زمین پر بیٹھا سر میں راکھ ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا سلطان تم کہاں ہو، سلطان تم کہاں ہو۔ بیٹا خود روتا ہوا باپ کو واپس لے آیا۔ چند دن کے بعد شیخ کا انتقال ہو گیا۔کالم نگار نے لکھا، میں نے اپنے دوست کو یہ پوری کہانی سنائی اور اسے کہا، چپڑاسی کو نہ نکالو، اسکا رزق تمہارے رزق سے جُڑا ہے، اسے تو رب کہیں اور سے بھی دے دے گا کہ اس کے پاس وسیلہ بنانے کے لیے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس معاوضے والی نعمت سے محروم ہو جاوؐ۔مجھے یہ واقعہ پڑھے ہوئے کافی سال گزر گئے ہیں۔ آپ یقین کریں اس تحریر نے میری زندگی بدل دی۔ میں مالی معاملات میں بہت زیادہ محتاط رھتا ہوں۔ اگر کسی کے پاس کچھ پیسے ادھار کیصورت میں رہ گئے تو نہیں مانگے کہ کہیں اوپر والے سے ملنے والا معاوضہ کم نہ ہو جائے۔ کوشش ہوتی ھے کہ میری وجہ سے لوگوں کا رزق لگا رھے گھر میں کام والی رکھی تو مشکل حالات میں بھی انکار نہیں کیا کہ اسکا رزق لگا رھے اپنے پاس کام کرنے والے کسی لڑکے کو کبھی نہیں نکالا کہ میری وجہ سے کسی کے گھر میں پریشانی نا ہو کسی کے رزق کا وسیلہ ختم نا ھو جائے میں نے ہمیشہ نیک نیتی سے وسیلہ بننے کی کوششیں بھی کیں، میں کبھی تنگ دست نہیں ہوا۔ اللّٰہ نے ہمیشہ مجھے نوازا ، ایک سے بڑھ کر ایک وسیلہ ملتا گیا اور میں آگے بڑھتا رہا ۔۔۔آپ بھی ارادہ کریں کہ کبھی آپکی وجہ سے کسی کا رزق بند نہیں ہو گاآپ وسیلہ بنتے رھیں اللہ پاک آپ کیلئے وسیلے بناتا رھے گا ان شاءاللہ ..منقول

*💫News Details**Sunday 19 Shaban Al-Mu'azzam 1447 AH* *February 8, 2026💫*

سانحہ اسلام آباد، بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی فنڈنگ انڈیا سے، پہلے 5 سو اب 15 سو ڈالر دیئے جاتے ہیں، وزیر داخلہ ...