اتوار، 1 جون، 2025

*بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، فیلڈ مارشل*BBC PK News

*بھارتی پراکسی وار اب چھپی نہیں بلکہ کھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی ہے، سید عاصم منیر*پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت کی پراکسی جنگ اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، ہمارے پاس بھارتی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں، دشمن کے عزائم کو ہر صورت ناکام بنائیں گے، جو دشمن ہماری خودمختاری چیلنج کرےگا،اسے منہ توڑ جواب دیں گے۔آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج ہر خطرے سے نمٹنےکےلیےمکمل تیار ہے، بلوچستان کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پاکستان کا مستقبل بلوچستان کے استحکام اور خوشحالی سے جڑا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کوئٹہ میں عظیم الشان جرگے سے خطاب کیا، یہ جرگہ بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر قبائلی قیادت سے مشاورت کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز "سابق ایرانی صدر احمدی نژاد"یہ ہیں سابق ایرانی صدر احمدی نژاد جو صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد کچھ عرصہ ایران کے تعلیمی اداروں میں بطور پروفیسر تدریسی فرائض انجام دیتے رہے اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد تہران کے نواحی گاؤں میں بکریاں چراتے اور اپنا گزر بسر کرتے ہیں ویسے ہونا تو یہ چاہئیے تھا، یہ بھی اقتدار میں آنے کے بعد خوب لوٹ مار کرتے؛ BBC PK News

دوبئی، لندن، بیلجیم، آسٹریلیا، نیویارک، جدہ میں بزنس ایمپائر کھڑے کرتے اور اپنی ایرانی قوم کو حدیثیں سُناتے کہ بھوک و افلاس رب تعالیٰ کی طرف سے قوموں کا امتحان ہوتا ہے.۔۔۔ گھر سے جب یہ دفتر جاتے تھے تو اپنا کھانا ساتھ لے جاتے تھے ۔۔ ایک دفعہ کسی ملک کے وزیراعظم کا تہران ائیرپورٹ پر استقبال کر رہے تھے ۔ جب اس سے بغلگیر ہونے لگے تو ان کا قمیض بغل سے پھٹا ہوا تھا۔۔۔۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز "کوا ایک ذھین پرندہ " ‏ BBC PK News Article jadiv baeruo chief executive Report

کوا ذہین پرندہ ہے یہ درخت کی چھوٹی موٹی ٹہنیوں تنکوں کو بطور اوزار استعمال کرکے کھانا تلاش کرنا جانتا ہے۔ اگر چور ڈاکو اسے اعتماد میں لیں تو شاید بڑے سے بڑے بینک کا تالا بھی کھول ڈالےکوے کے دماغ میں 1.5 بلین نیورون ہوتے ہیں اور اتنے ہی نیورون بہت سارے بندروں کی نسلوں میں ‏پائے جاتے ہیں لیکن یہاں ایک فرق ہے۔ کوے کا دماغ اور بندر کے دماغ کا سائز بہت مختلف ہے۔ اس ننھے دماغ کے اندر یہ تمام نیورون انتہائی قریب اور Pack ہیں مطلب فٹافٹ سگنلز ادھر سے ادھر جاتے اور دماغ کے نیورون کی کمیونیکشن یا بات چیت بہت اچھی ہے۔ یہی وجہ ہے آپ پتھر اٹھانے کے لئیے ‏جھکتے ہیں تو دوسری طرف کوا اڑ چکا ہوتا ہے۔ اس کا آئی کیو لیول انتہائی زبردست ہے اور ماہرین اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بن مانس یا سات سالا بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے برابر تصور کرتے ہیں۔ لیبارٹری میں کوے پر مختلف تجربات کئیے گئے اور ایسی گیمز مرتب کی گئیں ‏جہاں کوا آٹھ جگہوں سے تنکے کے ذریعے پتھر نکالے اور ان پتھروں کو باری باری ایک ڈبے میں ڈالے جب تک آٹھوں پتھر ڈبے میں نہیں پھینکے گا اسے کھانا نہیں ملے گا۔ جیسےہی کھیل شروع ہوا کوےنےلمحہ بھر ماحول کا جائزہ لیا تنکا اٹھایا، پتھر نکالے اور اپنا رزق حاصل کرلیا کوا ایک Scavanager یعنی ‏مردار خور پرندہ ہے۔ لیکن یہ اس کا بنیادی ذریعہ خوراک نہیں۔ اکثر آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ چھت پہ آپ نےکھانا لگایا ہو، ہاتھ دھونے گئےواپسی پہ دیکھا کہ کوا آپ کے ساتھ ہاتھ کر گیا😁. اگر تو باقاعدگی سےآپ چھت پر کھانا کھا رہے ہیں تو یقین جانئیےیہ آپ کےکھانے کا ٹائم ٹیبل جانتا ہےاور اگر ‏آپ دنوں کے ٹائم ٹیبل کےحساب سے ڈشیں کھاتے ہیں تو یہ ہر دن کی ڈش سے بھی خوب واقف ہے اور اپنی پسندیدہ ڈش والے دن آپ سے پہلے اس جگہ پہنچ جائے گا 😃. اسی طرح کوا کچرادان گاڑیوں کا ٹائم ٹیبل جانتا ہے، گوشت و سبزی مارکیٹ کا ٹائم ٹیبل جانتا ہے۔ اپنے علاقے میں ‏سوائے شیخ برادری کی دکان کے ، سب دکانوں کے اوقات جانتا ہے 😂. غرض جہاں خوراک کی بھرمار اور آسان دستیابی ہو کوا اس جگہ سے واقف ہے۔ یہ بیج، پھل، سبزی، گوشت، مردہ جانور و پرندے حتی کے انسانی لاشوں کو بھی نوچتا ہے اور چھوٹے پرندوں کے انڈے اور بچے بھی کھا جاتا ہے۔ ‏ایک موقع پرست پرندہ ہے جوہر جگہ ہر طرح کا کھانا کھاتا ہے۔ کوے کو اکثر ریت کھاتے دیکھا گیا ہے دراصل بہت سارے پرندے بشمول کوا ایسا کرتے ہیں ، پرندوں کے دانت نہیں ہوتے اور ریت یا ننھے کنکر ان کے معدے میں چکی کی طرح کام کرتے ہیں خوراک کو پیس کر اسے ہضم ہونے میں مدد ‏کرتے ہیں کوے سے دوستی بہت مہنگی پڑسکتی ہے لیکن آپ کو نہیں، اس کو جس کا زیور یا پیسے چرا کر آپ کے پاس لائے 😀. بس آپ کسی طریقے سے اسے سمجھادیں کہ آپ کو کیا کیا پسند ہے۔ کوا کسی کا احسان نہیں رکھتا، آپ اس کو کھانا دانہ ڈالتے رہیں، یہ آپ کے لئیے تحفے تحائف لانا شروع ‏کردے گا، جی ہاں! کوا وہ واحد پرندہ ہے جو آپ کے لئیے تحفے لے کر آتا ہے۔ امریکہ میں ایک ننھی لڑکی نے کووں سے دوستی کرلی اور روز ان کو دانہ ڈالتی، کووں نے اسے مختلف تحفے دئیے جن میں لوہے تانبے کے چھوٹے موٹے ٹکڑے، جیولری، کھلونے کے ٹکڑے اور ہڈی شامل تھے. کوے کا یہ ‏برتائو دراصل انسان سے بہت اچھا تعلق (Bond) بنانے کے لئیے ہے تاکہ اسے مفت میں خوراک ملتی رہے۔ کوے سے دشمنی کوا پرندوں کی دنیا کا سلمان خان ہے، جسے اپناتا ہے دل سے اپناتا ہےاورجسے پھینکتا ہے دل سے پھینکتا ہے😃 یہ انتہائی سوشل پرندہ ہے مطلب اپنے گروہ کے ساتھ رہتا ہے۔ آپ ایک بار اسے ‏پتھر ماردو بس! اب یہ اور اس کا خاندان آپ کو جب بھی دیکھے گا کوسے گا۔ اور اگر غلطی سے آپ نے کوئی کوا مار ڈالا تو سمجھ لیں ساری زندگی ٹین کا ڈبہ اپنے پیچھے باندھ لیا جو اب بجتا رہے گا۔ یہ نہ صرف انتقامی جذبات رکھتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی آپ کے حلئیے سے آگاہ کرتا ہے۔ ‏اگر آپ اکیلے کہیں سے گزر رہے ہوں پر کوئی شور نہیں لیکن آپ کا خاص دوست وہاں آپ کے ساتھ جارہا ہے تو کووں کا ہجوم آپ پر منڈلانا شروع کردے اور کاں کاں کرے، تو سمجھ جائو آپ کے سنگی(دوست) نے کچھ سنگ(پتھر) کووں پر پھینکے ہیں جو اب اس کی سنگھی (گلا) گھونٹنا ‏چاہتے ہیں 😝. کوے کی یادداشت انتہائی زبردست ہوتی ہے اور یہ اچھے برے چہروں کو نہیں بھولتا ۔ کوے مردہ کوے کے آگے پیچھے اکٹھے ہوکر ماتم کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کا یہ رویہ دراصل باقی کووں کو خطرے سے آگاہ کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اس علاقے سے محتاط ہوجائیں ۔ کوے بیمار ‏یا کمزور کوے کو پسند نہیں کرتے۔ انہیں لگتا ہے کہ بیمار کوا جھنڈ میں خطرہ لاسکتا ہے وہ ایسے کہ کمزور کوے کو بلی، عقاب الو وغیرہ شکار کر سکتے ہیں جو اس کے بنیادی شکاری ہیں۔ اسلئیے اکثر ایسے کوے کو باقی کے کوےخود چونچ مار مار کر مار ڈالتے ہیں کوا زمین کرید کر چیزیں نکالنا اور چھپانا ‏جانتا ہے۔ کسی جگہ پر کوے حادثاتی اموات کا شکار ہونا شروع ہوجائیں تو وہ وہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں۔ کوا چھوٹی موٹی ٹہنیوں تنکوں سے اپنا گھونسلہ بناتا ہے اور ایسے درخت کا انتخاب کرتا ہے جو گھنا اور پھیلا ہوا ہو۔ ان کا انڈے دینے کا وقت اپریل تا جولائی ہوتا ہے اور تین سے پانچ انڈے ‏دیتے ہیں۔ ایک ہی درخت پر کوے کے بہت سارے گھونسلےہوسکتے ہیں۔ عام طور پر کوے 15سے 20 سال کی عمر پاتے ہیں جبکہ ریکارڈ کے مطابق کئی کووں کی عمر 30 سے 40 سال تک بھی ہوئی ہے۔ کوے کو ایک جینیاتی بیماری Leucism ہوجاتی ہے جس میں اسکے سارے پر یا کچھ حصہ کالا رنگ ‏نہیں بنا پاتا اس لئیے سفید رنگ واضح ہوجاتا ہے لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ کوا طوطے کی طرح بول سکتا ہے جی ہاں! کوے کو آپ انسانی بولی سکھا سکتے ہیں۔ دراصل کوے کا شمار SongBirds میں ہوتا ہے جن کے گلے میں خاص قسم کا عضو Syrinx ہوتا ہے جس کے زریعے وہ مختلف ‏آوازیں نکال سکتے ہیں۔ یہ Mimicry مادہ کو خوش کرنے کے لئیے یا شکاری پرندوں کو بھگانے کے لیے ہوتی ہے۔ کوے ویسٹ نائیل وائرس کا شکار ہوکر مرتے رہتے ہیں لیکن آبھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ انسانوں میں اس بیماری کی وجہ کوا ہے۔البتہ کوے کی بیٹ بلکہ سب پرندوں کی بیٹ خشک ہوکر ‏ہوا میں اڑتی رہتی ہے جو کہ سانس اور پیٹ کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئیے پالتو پرندوں کو کچن سے دور رکھیں اور ان کی صفائی کرتے وقت ماسک پہنیں۔ کوے کو کیسے سدھایا جائے؟ اگر کوے کو سدھانا چاہتے ہیں تو اسے مونگ پھلی کے دانے کھلائیں ، گوشت کی چربی چھیچھڑے وغیرہ ‏کھلائیں تحفے آنا شروع ہوجائیں گے 😅 کوے کو کیسے بھگایا جائے؟ کوے اگر فصلوں کا باغ کا نقصان کرتے ہیں تو الو یا بلی کا پتلا رکھ دیں، کوئی روشنی منعکس کرنے والی چمکیلی چیز مثلاً کمپیوٹر کی سی ڈی کھلونا موٹر کی اندرونی چمکیلی کوئل وغیرہ درخت یا اونچی چھڑی سے لٹکا دیں تاکہ ہوا سے ‏ہلتی رہے کوے بھاگ جائیں گے۔ کوے کا مقصد خدا نے کوے کا ایک خاص مقصد رکھا ہےوہ یہ کہ چھوٹے موٹے گلے سڑے پودے، گوشت دانہ دنکا سب کو اٹھا کر کھاتا جائے اور ماحول کو صاف رکھے۔ جہاں باقی جانور نہیں پہنچ پاتے وہاں کوے کی چونچ اور عقل پہنچ جاتی ہے۔ ماحول کو خوراک کی آلودگی سے بچا ‏کر دوسرے جانوروں اور انسانوں کو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھے جو گلی سڑی خوراک کی وجہ پھیل سکتی ہیں۔ کووں کا خاندان سوائے نارتھ اور سائوتھ پول، انٹارکٹکا، اور براعظم جنوبی امریکہ کے جنوبی حصے کے علاوہ ساری دنیا میں موجود ہے۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز بریکنگ نیوزمیرپورخاص : میرپورخاص نیو سول ہسپتال میرپورخاص کے میڈیسن اسٹور میں آگ لگ گئی ریسکیو 1122 ، BBC PK News Mirpur Khas Jaidev baeruo chief executive Report

مین سپل کارپوریشن کی فائر بریگیڈ عملے کی جانب سے آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں

*پشاور: مولانا فضل الرحمان کا کم عمری میں شادی سے متعلق قانون کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان*BBC PK News Islamabad Report

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کم عمری میں شادی کے قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔پشاور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شناخت اسلام ہے، ملک کی اسلامی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جو قانون سازیاں ہوئیں ، آئی ایم ایف کی تجاویز کو بنیاد بنایا گیا، اقوام متحدہ کی قرار داد کا حوالہ دیکر کم عمر بچیوں کی شادیوں کا قانون سازی کی جا رہی ہے، صدر مملکت مدارس کے قانون پر دستخط نہیں کر رہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی ہو رہی ہے، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ ملک میں مسلح گروہ کے بیانیے کو تقویت مل رہی ہے۔سربراہ جے یوآئی نے کہا کہ جنرل مشرف کے زمانے میں بھی خواتین سے متعلق قانون سازی کی گئی ، خلاصہ یہ ہے کہ جائز نکاح کے لئے مشکلات ، زنا_بالجبر کے لئے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کم عمری شادی کے قانون کو مسترد کر چکی ہے۔مولانا فضل نے کم عمری میں شادی کے قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے اپنا بیانیہ رکھیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ھم نے عالمی انقلاب کی باتیں کیں، ہم ایک نئی سرد جنگ میں داخل ہو چکے ہیں، چین کی قیادت میں ایشیا نئی اقتصادی طاقت بننے جا رہا ہے، انڈیا پاکستان کی کشمکش ، توقع کی جا رہی تھی معاملات مفاہمت کیساتھ حل کئے جا رہے ہیں مودی کی حماقتیں جنگ پر لے آئیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی مثال پر لطیفہ یاد آگیا، پی پی پی نے پی ٹی آئی کے خلاف احتجاج اس لئے کیا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کی کرپشن کا بھی ریکارڈ توڑ لیا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات ناگزیر ہیں، سی پیک کو افغانستان اور دوسری ریاستوں کی طرف بڑھانا نیک شگون ہے۔

*انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے کیا کہا؟*BBC PK News

*جنرل انیل چوہان کے انٹرویو پر انڈیا میں ردِعمل: ’بلومبرگ ٹی وی پر نقصانات کا اعتراف کر سکتے ہیں تو اپنے ملک میں خاموشی کیوں؟‘**کئی انڈین صارفین تو یقین ہی نہیں کر پا رہے، بیشتر گروک سے پوچھتے دکھائی دیے کہ ’کیا یہ سچ ہے؟*ایک دن میں دوسری بار چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) انیل چوہان نے تسلیم کیا ہے کہ انڈیا کو نقصانات اٹھانے پڑے اور اس کے لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔ جب یہی سوال راہل گاندھی جی نے پوچھا تھا تو بی جے پی کے ٹرولز نے اُنھیں ملک دشمن قرار دیا تھا۔‘’سی ڈی ایس کو بلومبرگ اور رؤئٹرز کو انٹرویو دینے کے لیے کس نے کہا؟ وہ بھی سنگاپور میں؟ کیا کسی نے جنرل انیل کو بریف اور تیار نہیں کیا کہ انٹرنیشنل میڈیا ان سے کیا سوالات کرے گا؟‘’جب آپ شروع سے ہی آپریشن سندور کی بریفنگ میں نقصانات کی تعداد بتانے سے گریز کر رہے ہیں تو اب انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے لڑاکا طیاروں کےگرائے جانے کا اعتراف کیوں کیا؟’ارے نہیں نہیں جنرل انیل کہہ رہے ہیں کہ ہمارے طیاروں کو ہلکا سا نقصان پہنچا، انھوں نے یہ نہیں کہا ہمارے جیٹ گرائے گئے‘یہ اس ردِعمل کی ایک جھلک ہے جو گذشتہ سہ پہر سے سوشل میڈیا پر انڈین صارفین کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں۔گذشتہ روز سنگاپور میں جب انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان سے پاکستان کی جانب سے انڈیا کے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے متعلق دو مختلف انٹرویوز (بلوم برگ اور روئٹرز) میں پوچھا گیا تو ان کے دیے گئے جواب نے بہت سے انڈین صارفین کو بظاہر ناراض کیا ہے۔انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے بیان نے مزید سوالات کو بھی جنم دیا ہے اور کئی انڈین صارفین اب یہ بھی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ’انڈیا نے پاکستان کے خلاف لڑائی میں اپنے لڑاکا طیارے کیسے گنوا دیے جبکہ انڈین طیارے تو اپنی ہی فضائی حدود سے میزائل فائر کر رہے تھے؟‘جہاں کئی انڈین صحافیوں سے لے کر عام عوام تک کو اس بات کا غصہ ہے کہ جنرل انیل کو انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی جو ہم مقامی میڈیا تک میں نہیں چلا رہے وہیں کئی انڈین صارفین تو یقین ہی نہیں کر پا رہے اور بیشتر گروک سے پوچھتے دکھائی دیے کہ ’کیا یہ سچ ہے؟ گروگ بتاؤ کہ یہ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیو ہے؟‘اس کے علاوہ انڈیا میں اپوزیشن جماعتوں خصوصاً کانگریس کی جانب سے بھی مودی حکومت سے اس انٹرویو کے بعد سوالات کیے جا رہے ہیں۔انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے کیا کہا؟سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر سنیچر کے روز بلومبرگ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جب سی ڈی ایس انیل چوہان سے پوچھا گیا کہ کیا مئی میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ فوجی تصادم کے دوران کوئی انڈین لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا؟بلومبرگ ٹی وی نے اس انٹرویو کا ایک منٹ اور پانچ سیکنڈ کا حصہ اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر پوسٹ کیا ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے جنرل انیل چوہان نے کہا ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گئے۔‘ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انڈیا نے کتنے طیارے کھوئے۔چوہان نے کہا کہ ’طیارے کیوں گرے، کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘اس پر صحافی نے ان سے دوبارہ سوال کیا کہ کم از کم ایک جیٹ مار گرایا گیا، کیا یہ درست ہے؟اس پر جنرل انیل چوہان نے کہا کہ ’اچھی بات یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو پہچاننے میں کامیاب رہے، ہم نے انھیں درست کیا اور پھر دو دن بعد ان پر عمل درآمد کیا۔ اس کے بعد ہم نے اپنے تمام جیٹ طیارے اڑائے اور طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنایا۔‘صحافی نے ایک بار پھر پوچھا ’پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ چھ انڈین لڑاکا طیاروں کو مار گرانے میں کامیاب رہا، کیا اس کا اندازہ درست ہے؟‘اس کے جواب میں جنرل انیل چوہان نے کہا کہ ’یہ بالکل غلط ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا یہ معلومات بالکل بھی اہم نہیں ہیں۔ اہم یہ ہے کہ جیٹ طیارے کیوں گرے اور اس کے بعد ہم نے کیا کیا؟ یہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہے۔‘اس کے بعد خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں بھی جنرل چوہان نے یہی بات دہرائی۔خیال رہے کہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب انڈیا کے 6 طیارے مار گرائے جن میں تین رفال بھی شامل ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے چھ انڈین طیارے مار گرائے ہیں جن میں کچھ فرانسیسی ساختہ رفال جیٹ بھی شامل ہیں۔پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا ’میں آپ کو تصدیق کر سکتا ہوں کہ اب تک پانچ انڈین طیارے جن میں تین رافیل، ایک ایس یو-30 اور ایک مگ-29 شامل ہیں اور ایک ہیرون ڈرون کو مار گرایا گیا ہے۔‘پاکستان کی جانب سے انڈین طیارے گرائے جانے کے دعوے کی اس سے قبل انڈیا نے تصدیق یا تردید نہیں کی تھی اور انڈیا کے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ اس بارے میں جواب صحیح وقت پر دیں گے۔انڈین فضائیہ (آئی اے ایف) کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے تینوں مسلح افواج کے سربران کے ہمراہ پریس بریفننگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’جنگ میں نقصان معمول کی بات ہے‘ لیکن انھوں نے بھی پاکستانی دعوے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا۔یاد رہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ ان میں نظر آنے والا ملبہ فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کا ہے۔ اسی نوعیت کی ایک تصدیق واشنگٹن پوسٹ بھی کر چکا ہے۔حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے بھی مرکزی حکومت سے پاکستان کے ساتھ فوجی تنازع میں لڑاکا طیاروں کو پہنچنے والے نقصان پر سوال اٹھایا تھا۔کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان انڈیا تنازع کا جائزہ لینے کے لیے ایک جائزہ کمیٹی بنائے جو پورے معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔17 مئی کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے پوچھا تھا کہ انڈیا نے کتنے طیارے کھوئے ہیں؟سوشل میڈیا پر ردِعمل: ’بلومبرگ ٹی وی پر نقصانات کا اعتراف کر سکتے ہیں تو اپنے ملک میں خاموشی کیوں؟‘سوشل میڈیا پر بلومبرگ اور روئٹرز کے انٹرویو کلپس وائرل ہیں اور انڈن صارفین کی جانب سے خاصا سحت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ایم پی اور سابق صحافی ساگریکا گوس پوچھتی ہیں کہ یہ خبر سب سے پہلے بین الاقوامی میڈیا کو کیوں دی گئی؟ یہ حقائق سب سے پہلے انڈیا کے شہریوں، پارلیمنٹ، اور عوامی نمائندوں کو کیوں نہیں بتائے گئے؟’کیا یہ جاننا عوام کا حق نہیں؟ کیا قومی سلامتی کے نام پر سچ صرف بیرونِ ملک بانٹا جائے گا؟‘بلال شاہ نے لکھا ’حکومت اپنے شہریوں سے یہ سچ کیوں چھپا رہی ہے؟‘پروفیسر اشوک سوئن نے ایکس پر جنرل انیل کے انٹرویو کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’انڈین فوج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے سنگاپور میں بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں انڈیا نے اپنے لڑاکا طیارے کھوئے ہیں۔‘وہ پوچھتے ہیں کہ ’یہی بات وہ انڈین عوام اور انڈین میڈیا کو انڈیا میں کیوں نہیں بتاتے؟‘ایک اور ٹویٹ میں وہ پوچھتے ہیں ’اکتوبر 2024 میں 100 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے 2000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ایران میں 20 سے زائد مقامات کو تین مرحلوں میں نشانہ بنایا اور اس پورے آپریشن میں اسرائیل کا ایک بھی طیارہ ضائع نہیں ہوا۔’تو پھر انڈیا نے پاکستان کے خلاف لڑائی میں اپنے لڑاکا طیارے کیسے گنوا دیے جب کہ انڈین طیارے تو اپنی ہی فضائی حدود سے میزائل فائر کر رہے تھے؟‘ایک اور صارف نے لکھا ’سچائی کا ایک نایاب لمحہ مگر غیر ملکی سرزمین پر۔۔۔‘’اگر انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف بلومبرگ ٹی وی پر نقصانات کا اعتراف کر سکتے ہیں تو اپنے ملک میں خاموشی کیوں؟ یہ واضح طور پر ملکی بیانیے کو قابو میں رکھنے کی کوشش ہے جبکہ اصل حقائق کا اعتراف بیرونِ ملک کیا جا رہا ہے۔‘’مودی حکومت نے ملک کو گمراہ کیا تھا، لیکن اب دھند صاف ہو رہی ہے‘کنگریس لیڈر جے رام رمیش نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر بلومبرگ ٹی وی کو دی گئی سی ڈی ایس جنرل انیل چوہان کی یہ ویڈیو شیئر کی ہے۔انھوں نے یہ بھی لکھا کہ 29 جولائی 1999 کو اس وقت کی واجپائی حکومت نے موجودہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے والد اور سٹریٹجک امور کے ماہر کے سبرامنیم کی صدارت میں کارگل ریویو کمیٹی تشکیل دی تھی۔انھوں نے لکھا ’یہ کمیٹی کارگل جنگ ختم ہونے کے تین دن بعد بنائی گئی تھی اور اس نے پانچ ماہ میں اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی۔ ضروری ترامیم کے بعد یہ رپورٹ ’حیرت سے حساب تک‘ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی گئی تھی۔‘انھوں نے سوال کیا کہ کیا سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس سٹاف کی طرف سے دی گئی معلومات کے بعد مودی حکومت اب ایسا کوئی قدم اٹھائے گی؟ادھر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ مودی حکومت نے ملک کو گمراہ کیا تھا، لیکن اب دھند صاف ہو رہی ہے۔ انھوں نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔کانگریس صدر نے یہ بھی لکھا کہ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر ایک آزاد ماہر کمیٹی ملک کی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لے۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز *DISTRICT MIRPURKHAS POLICE*Press ReleaseDated 31.05.2025*BBC PK News Mirpur Khas Jaidev baeruo chief executive Report

ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ کے سخت احکامات پر میرپورخاص پولیس کی جانب سے منشیات فروش عناصر کے خلاف کامیاب کاروائیاں جاری،02 ملزمان گرفتار، مضر صحت سفینہ گٹکے اور مین پڑیاں برآمد**▪️ تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن▪️*👈ایس ایچ او سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن انسپکٹر غازی خان راجڑ نے ہمراہ ٹیم متعلقہ تھانے کی حدود میں دوران گشت منشیات فروش عناصر کے خلاف کامیاب کاروائی کرتے ہوئے ملزم 1. بنام نور محمد مری اور ملزم 2. بنام واحد بخش مری کو مین پڑیاں سپلائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا، گرفتار ملزمان کے قبضے سے 102 عدد مضر صحت مین پڑیاں اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی.👈 گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 76/2025 زیر دفعہ 4/8 گٹکا ممعانت ایکٹ سیٹلائٹ ٹاون پولیس اسٹیشن پر درج، ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے.*▪️ تھانہ کوٹ غلام محمد▪️*👈ایس ایچ او کوٹ غلام محمد پولیس اسٹیشن انسپکٹر فرمان اگیم نے ہمراہ ٹیم متعلقہ تھانے کی حدود میں خفیہ اطلاع ملنے پر منشیات فروش کے خلاف کامیاب کاروائی کرتے ہوئے ملزم بنام حسنین راجپوت ولد عبدالمجید راجپوت کو گرفتار کرکے ملزم کے قبضے سے 600 ساشے سفینہ گٹکے برآمد کرلیے.👈 گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 55/2025 زیر دفعہ 4/8 گٹکا ممعانت ایکٹ کوٹ غلام محمد پولیس اسٹیشن پر درج، ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے.*✍️ ترجمان میرپورخاص پولیس*

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...