اتوار، 1 جون، 2025

*بابر کو غصہ نہ دلائیں**تحریر: سلیم خالق*کراچی: دنیا BBC PK News Karachi Article Sleem Khaliq

میں ہر باپ ہی اپنی اولاد سے بے تحاشا محبت کرتا ہے، اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی بنے اور اس کیلئے سخت محنت بھی کرتا ہے، البتہ بڑی کامیابی صرف چند فیصد کے حصے میں ہی آتی ہے۔ بابر اعظم کے والد اعظم صدیقی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو انٹرنیشنل کرکٹر بنانے کیلئے جو تگ و دو کی اس میں کامیاب بھی رہے، کسی انسان کیلئے اس سے بڑی کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ اس کا بیٹا بڑی شخصیت بن جائے اور دنیا بھر میں نام کمائے۔ زیادہ تر کرکٹرز کو دیکھیں تو ان کے والدین پڑھائی پر توجہ دینے کی تلقین کرتے رہے، البتہ بڑے بھائیوں نے کھیلنے میں مدد دی، یہاں معاملہ الٹ رہا، بابر کے والد نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، میں نے ایسے کرکٹرز بھی دیکھے جو ساتھی کے ہوٹل روم میں آ کر کہتے تھے کہ ’’یار میرا باپ مجھے بہت تنگ کر رہا ہے، اسپیس ہی نہیں دیتا، تیرے پاس فون آئے تو بولنا یہاں نہیں ہوں‘‘ پھر یہی ہوا جب فون آیا تو جھوٹ کہا گیا۔دوسری جانب بابر جیسے تابعدار بیٹے ہیں، جو اب بھی والد سے پوچھے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھاتے، جو کسی کا عروج دیکھے تو زوال آنے پر سب سے زیادہ دکھ اسی کو ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے بابر اعظم کی کارکردگی اب ماضی جیسی نہیں رہی، جس کی وجہ سے وہ قومی ٹیم سے باہر ہوچکے،کپتانی پہلے ہی چھن چکی تھی، پی ایس ایل کا سیزن بھی مایوس کن گزرا، کنگ کا لقب پانے والے بابر کو ایسا دن دیکھنا پڑے گا، شاید ہی کسی نے یہ سوچا ہوا۔ ظاہر سی بات ہے والد کو اس کا سب سے زیادہ دکھ ہو رہا ہو گا، ابھی انھیں اپنے بیٹے کو سنبھالنا اور سمجھانا چاہیے کہ ہمت نہ ہارو، محنت جاری رکھو، یہ وقت بھی گزر جائے گا، البتہ اعظم صاحب لگتا ہے خود ہی ہمت ہارنے لگے ہیں، کم از کم ان کے سوشل میڈیا پیغامات تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کامران اکمل نے یہ بات کہی کہ ’’بابر اعظم اور محمد رضوان کو وائٹ بال کی جگہ صرف ٹیسٹ میں حصہ لینا چاہیے‘‘ وہ پاکستان کی جانب سے 250 سے زائد انٹرنیشنل میچز کھیل چکے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں، کئی دیگر سابق کرکٹرز نے بھی بابر اور رضوان کے بارے میں ایسی باتیں کی ہیں۔Pakistan travel guideآپ جانتے ہوں گے بابر کے والد اکمل برادرز کے چچا ہیں لہذا انھیں بھتیجے کا مشورہ پسند نہ آیا اور لمبی چوڑی پوسٹ کر دی، میڈیا میں چچا بھتیجے کی لفظی جنگ کا خاصا چرچا رہا، اس منفی پبلسٹی کا کوئی فائدہ نہ ہوا البتہ فرسٹریشن ظاہر ہو گئی۔بدقسمتی سے ہم کسی کو بہت جلد اوپر پہنچاتے ہیں اور زمین پر واپس لانے میں تو بالکل بھی تاخیر نہیں برتتے، بابر نے اپنی بہترین کارکردگی سے دنیا بھر میں نام کمایا، ہرکھلاڑی کے کیریئر میں بْرا وقت آتا ہے لیکن ان کے والد یا بھائی ناقدین سے لڑنے نہیں لگ جاتے، بابر کو کسی کی ٹویٹ، خبر یا سپورٹ ٹیم میں واپس نہیں لا سکتی، اس کے لیے ان کا بیٹ ہی کافی ہے لیکن متنازع بننے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا، ان کی وجہ سے والد بھی ’’منی سیلیبریٹی‘‘ بن چکے ہیں۔سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز ہیں، وہ کوئی سخت بات کریں تو میڈیا خبر بنا کر چلا دیتا ہے، اس شہرت کا فائدہ نہیں نقصان ہی ہوگا، لائم لائٹ میں بابر کو ہی رہنے دیں، بطور والد ان کی پریشانی سب سمجھتے ہیں لیکن وہ خود کچھ نہیں کر سکتے، بابر کو ہی ماضی جیسی پرفارمنس سے دوبارہ اوپر آنا ہے۔ دراصل سوشل میڈیا نے بھی کھلاڑیوں کے مسائل بڑھائے ہیں، بابر کے نام پر بعض لوگوں نے اتنا کمایا کہ آج بیرون ملک جائیدادوں کے مالک ہیں، یوٹیوب چینلز سے بھی رقوم کمائیں، ایک ’’کرکٹر‘‘ سابق بورڈ چیف تو ان کے پیچھے چھپ کر اپنی خامیاں چھپاتے رہے۔ ان سب نے اپنی دکان چمکانے کیلیے بابر کو کرکٹ سے بڑھ کر شخصیت جیسا روپ دیا، کنگ بنا کر پیش کیا، جب تک بیٹ نے ساتھ دیا سب ٹھیک رہا اب کل کے بچے ٹی وی پر کہتے ہیں کہ ’’بابر کی کمی کوئی بھی پوری کر سکتا ہے‘‘۔وہ بعض لوگوں کی باتوں میں آکر ان تک ہی محدود رہے، حلقہ احباب بڑھانے کی ضرورت نہ سمجھی، بابر تو برانڈ تھے ان کو کیش کر کے وہ لوگ مڈل کلاس سے اپر کلاس بن گئے، بابر اب تنہا ہیں، صرف ان کے والد ہی ساتھ نظر آتے ہیں، بابر نے بیٹ تو بدل لیا اب اردگرد موجود لوگوں کو بھی بدل کر دیکھیں یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔ چمچہ گیری کر کے آسمان پر چڑھانے والے لوگوں سے اب دور ہوں،والد صاحب یقینی طور پر مخلص ہیں ان کی مشاورت سے آگے بڑھیں لیکن ساتھ انھیں بھی کہہ دیں کہ سوشل میڈیا سے ناطہ توڑ لیں۔بابر کی حال ہی میں ایک ویڈیو آئی جس میں وہ پرستاروں سے الجھ رہے ہیں ایسے معاملات سے بھی بچنے کی کوشش کریں،لوگ تنگ کرتے ہیں ایسے میں نظرانداز کرنا ہی بہتر حل ہے،مداح بھی انھیں غصہ نہ دلائیں اور کھیل پر فوکس کرنے دیں، بابر سوشل میڈیا واریئرز سے دور رہیں جو اب انھیں محمد حارث اور سلمان علی آغا جیسے کرکٹرز سے بھی لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، فلاں نے ان فالو کر دیا فلاں نے نام نہ لیا، ان باتوں میں پڑ کر کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف کارکردگی سے ہی ایسا جواب آ سکتا ہے جو سب دیکھیں گے۔ بدقسمتی سے پی ایس ایل میں بابر کو یہ موقع ملا تھا جس سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے، پاکستان کو موجودہ دور میں جو کرکٹرز ملے بلاشبہ بابر اعظم ان میں بہترین ہیں، انھوں نے ملک کیلیے بڑے کارنامے سرانجام دیے اور وہ بدستور ایسا کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے کھیل پر فوکس رکھیں باقی غیرضروری باتوں کو چھوڑ دیں۔انھیں انا کو بھی پس پشت رکھنا ہوگا، سابق کرکٹرز سے بھی بات کریں تاکہ فارم واپس لانے میں مدد مل سکے،انگلینڈ ہی چلے جاتے جہاں سیزن جاری ہے،اعظم صدیقی صاحب کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی فلم نہیں جہاں شاہ رخ خان کی طرح ڈائیلاگ بول دیا کہ ’’ بیٹے کو ہاتھ لگانے سے پہلے باپ سے بات کر‘‘ اصل زندگی میں جب بیٹا مشکل میں پڑا تھا تو بیچارے شاہ رخ بھی خوب پریشان ہو گئے تھے، وہ یہ یاد رکھیں کہ اسٹار بابر ہے وہ نہیں۔ لوگوں سے سوشل میڈیا پر بحث نہ کریں، بابر کو مشورے دیں، اب سائیکل نہیں تو مرسیڈیز میں ہی بٹھا کر گراؤنڈ لے جایا کریں جہاں وہ پریکٹس کر کے پہلے والی فارم میں واپس آ سکیں۔

رپورٹ : ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر عمرکوٹ ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز پریس ریلیزتاریخ: 01 جون 2025ضلع عمرکوٹ – تھانہ چھورتھانہ چھور پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے چوری کے مقدمہ نمبر 17/2025، بجرم دفعات 457، 380، 215 تعزیراتِ پاکستان میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ BBC PK News Umer Kot Hira Lal

گرفتار ملزمان کے نام درج ذیل ہیں:1. سراج ولد محمد جمن اریسر2. اسامہ ولد جان محمد اریسر3. آفتاب ولد علی احمد اریسر4. محمد عباس ولد محمد خان اریسرپولیس نے ملزمان کے قبضے سے درج ذیل چوری شدہ سامان برآمد کیا:دو عدد دروازےایک عدد پول بمعہ سولر لائٹپولیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور مقدمہ کی تفتیش مکمل شفافیت کے ساتھ کی جا رہی ہے۔جاری کردہ: ترجمان ایس ایس پی عمر کوٹ میڈیا سیل

*پاک چین دوستی زندہ باد❤️**بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو اسے اتحادی کی سالمیت پر حملہ سمجھیں گے، چینی تجزیہ کار کی وارننگ*BBC PK News Islamabad

چین کے سینیئر تجزیہ کار وکٹرگاؤ نے بھارت کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار نہ بنایا جائے۔بھارتی چینل کو انٹرویو میں وکٹرگاؤ نے کہا کہ چین بھارت کی طرح پانی روکنے جیسی اوچھی حرکت نہیں کرے گا، تاہم چین دریا کے بالائی حصے پر ہے، اگر بھارت نے پاکستان کے لیے پانی روکا تو چین خاموش نہیں رہے گا، پاکستان کاپانی روکنےکی کسی بھی کوشش کو چین اپنے اتحادی کی سالمیت پر حملہ سمجھے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی چین کی جانب سے آتا ہے، اگر بھارت پاکستان کا پانی روکتا ہے تو چین اس معاملے میں ضرور اپنا کردار ادا کرے گا، بھارت ایسا کسی دوسرے کیساتھ کچھ نہ کرے، جیسا وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے ساتھ نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی پوری دنیا کے سامنے واضح ہے، چین کبھی بھی اپنے دوست کی خودمختاری اور سالمیت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔

*بھارت میں پاکستان سے ’ ہمدردی ’ رکھنے کے الزام میں درجنوں افراد گرفتار*BBC PK News

اتوار کو ایک اعلیٰ بھارتی سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ حالیہ پاک بھارت مختصر جنگ کے ایک ماہ بعد، بھارتی پولیس نے پاکستان کے ساتھ ’ ہمدردی’ رکھنے کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔یہ گرفتاریاں شمال مشرقی ریاست آسام میں ہوئیں، جہاں کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ ’ پاکستان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے 81 ملک دشمن اب سلاخوں کے پیچھے ہیں۔’

*کراچی میں 3.6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے**زلزلے کی گہرائی 10 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی*BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کراچی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جن کی ریکٹر اسکیل پر شدت 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے۔زلزلے کی گہرائی 10 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز کراچی کےعلاقے قائد آباد کے نزدیک تھا۔زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

*پی پی 52 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب: پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری، لیگی امیدوار کو برتری*پی BBC PK News Sialkot Adnan Abbasi Report

 پی 52 سیالکوٹ ضمنی انتخاب کے 185پولنگ اسٹیشن میں سے 17 کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگ کی حنا ارشد وڑائچ 6230 ووٹ لےکر آگے ہیں۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار فاخرنشاط گھمن 2305 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

*بھارتی طیارے گرنے کا اعتراف، سابق فوجی افسر کا بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ*BBC PK News

بھارتی فوج کے سابق افسر اور دفاعی تجزیہ ماہر پراوین ساہنی نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔اپنے بیان میں پراوین ساہنی نے کہا کہ جنرل انیل چوہان کا یہ اعتراف کہ بھارتی فضائیہ کے طیارے دو دن تک گراؤنڈ رہے، ان کے مستعفی ہونے کے لیے کافی ہے، بھارتی فضائیہ کے طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کرنے کے بعد مودی سرکار کو نئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور ائیر چیف کا تقرر کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا انیل چوہان وار فیئر کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے، پاک فضائیہ نے جنگ کے آغاز میں ہی فضا میں برتری حاصل کر لی تھی جس نے جنگ کا نتیجہ متعین کر دیا تھا۔پراوین ساہنی کا کہنا تھا کہ جب سے مودی اقتدار میں آئے ہیں، بھارتی فضائیہ تنزلی کی طرف گامزن ہے، بھارت کو ایسی سرکار کی ضرورت ہے جو جدید جنگوں کو سمجھتی ہو، ایسے اعترافات کے بعد بھی آپریشن سندور کی کامیابی کا دعویٰ کرنا عجیب ہے۔

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...