کراچی: کلفٹن بلاک 2 اتوار بازار چائنہ پورٹ کے قریب گراؤنڈ سے ایک شخص کی لاش ملی ہے۔
پولیس کے مطابق لاش کی شناخت 40 سالہ سید مہتاب احمد کے نام سے ہوئی، متوفی منظور کالونی کا رہائشی اور اسٹیٹ ایجنسی کا کام کرتا تھا، وہ گزشتہ روز گھر سے نکلا اور واپس نہیں لوٹا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی کے پاس سے اس کا قومی شناختی کارڈ، پرس، گھڑی اور دیگر قیمتی چیزیں ملی ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لاش کو گاڑی میں سوار نامعلوم ملزمان پھینک کر فرار ہوئے۔
ایس ایچ او بوٹ بیسن محمد عرفان راؤ کا کہنا ہے کہ بظاہر جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں، لاش پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کی جا رہی ہے تاکہ وجہ موت کا تعین ہو سکے۔
*مقتول کے لواحقین نے احتجاج، مشتعل افراد نے نجی سوسائٹی کے دفتر کو آگ لگادی*
نتھیا گلی:
گلیات میں گاڑی کھڑے کرنے کے معاملے پر مقامی نوجوان کے قتل پر مشتعل ہجوم نے قاتل چوکیدار کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق تھانہ چھانگلہ گلی کے علاقے سیر غربی میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی پارکنگ میں عمران عباسی نامی مقامی نوجوان گاڑی کھڑی کرکے گھر چلا گیا اور دوسرے دن آیا تو چوکیدار نے تکرار شروع کر دی۔
چوکیدار خان زمان نے چھری کے پے درپے وار کر کے نوجوان عمران عباسی کو قتل اور بھائی کو زخمی کر دیا۔ اطلاع ملتے ہی مقامی لوگوں کی کثیر تعداد پہنچ گئی اور سوسائٹی کے 5 گھروں کو آگ لگا دی جس پر گلیات بھر کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔
قاتل چوکیدار ہجوم کو دیکھ کرعمارت کے تہہ خانہ میں چھپ گیا جس پر پولیس دیوار توڑ کر اندر داخل ہوگئی اور قاتل کو تہہ خانہ سے باہر نکالا جسے دیکھتے ہی ہجوم بے قابو ہوگیا۔ مشتعل ہجوم نے اپنی عدالت لگا کر قاتل کو پتھر اور ڈنڈے مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔
تشدد اور ہنگامے سے کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، قاتل چوکیدار کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ابیٹ آباد اسپتال منتقل کر دی گئی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں