اتوار، 9 مارچ، 2025

ایک صدی کا سفر ,روح افزا کے سنگایڈیٹر : انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف ، بی بی سی نیوز پاک تفصیل: حکیم عبد المجید کے ہاں جو شربت کے معروف و مقبول

برانڈ *"روح افزا"* کے بانی تھے - خرفہ کے بیج، انگور، سنترے، تربوز، پودینہ، گاجر، تھوڑے پالک، خش خش، کنول، دو قسم کے سوسن کے پھولوں اور دمشقی گلاب کے عرق سے بنا روح افزا بطور ٹانک استعمال ہوتا تھا - لیکن لوگوں نے دیکھا کہ چمکیلے یا قوتی رنگ کے اِس شربت کے دو چمچ اگر ٹھنڈے دودھ میں یا صرف سادہ پانی میں گھول دیئے جائیں تو صرف خوش ذائقہ ہوتا ہے بلکہ دہلی کی جھلسا نے والی گرمی اور ریتیلی ہواؤں میں اُڑنے والے عجیب و غریب بخارات کا بھی اچھا توڑ ہے - جو مشروب بطور دوا شروع کیا گیا تھا، جلد ہی اِس علاقے میں گرمیوں کا مقبول ترین شربت بن گیا - روح افزا ایک کامیاب صنعت اور ہر گھر میں معروف ہوگیا - چالیس برس تک اُس نے بازار پر حکمرانی کی - پرانی دلّی کے ہیڈ کوارٹر میں تیار روح افزا دور دور تک بھیجا جاتا _____دکن میں حیدرآباد سے لے کر مغرب میں افغانستان تک - پھر بٹوارہ ہوگیا - ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی سرحد پر خدا کی شہ رگ کھل گئی اور دس لاکھ لوگ نفرت کا شکار ہوگئے - ہمسائے ایک دوسرے پر یوں ٹوٹ پڑے جیسے کبھی باہم آشنا نہ رہے ہوں، شادی بیاہ میں شریک نہ ہوے ہوں، ایک دوسرے کے گیت نہ گائے ہوں - فصلِ شہر میں داڑاریں پڑ گئیں - قدیمی خاندان (مسلمانوں کے) فرار ہونے لگے - نئے خاندان (ہندوؤں کے) آکر فصلِ شہر کے اردگرد بسنے لگے - روح افزا کو شدید نقصان پہنچا لیکن جلد ہی وہ بحران سے نکل آیا اور پاکستان میں اُس کی شاخ کھل گئی - ایک چوتھائی صدی گزرنے پر، مشرقی پاکستان میں قتلِ عام کے بعد اِس نے ایک شاخ نوزائیدہ ملک بنگلہ دیش میں بھی قائم کرلی - لیکن روح کو تازگی دینے والا روح افزا جو جنگوں اور تین تین ملکوں کی خونیں پیدائش جھیل کر بھی بچ گیا تھا، دنیا کی بیشتر اشیاء کی طرح بالآخر *"کوکا کولا"* سے مات کھا گیا؛ اقتباس : ارُندھتی رائے ناول #"بے پناہ شادمانی کی ملکیت صفحہ نمبر 29

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...