ہفتہ، 8 مارچ، 2025

د ا ڑ ھی : "داڑھی روسی تاریخ میں وقار، طاقت اور بغاوت کی علامت۔"

ایڈیٹر: انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف ، ڈیلی بی بی سی نیوز پاکیہ زیادہ پرانی بات نہیں جب روسی مردوں کے لیے گھنی داڑھی رکھنا ایک لازمی روایت سمجھی جاتی تھی۔ داڑھی کو وقار، دینداری اور مردانگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، اور اسے منڈوانا بعض اوقات جرم تصور کیا جاتا تھا۔داڑھی: جنت کا پروانہسترہویں صدی کے اواخر میں روس کے قدامت پسند کلیسا کے سربراہ، اسقف اعظم آدریان نے لکھا:“خدا نے انسان کو داڑھی کے ساتھ پیدا کیا، صرف کتوں اور بلّیوں کے ہی داڑھیاں نہیں ہوتیں۔”اس عقیدے کے مطابق ہر وہ شخص جو اپنی داڑھی منڈواتا تھا، کلیسا سے خارج کر دیا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدامت پسند عیسائی عقیدے میں پیغمبر عیسٰی علیہ السلام کی پیروی ظاہری طور پر بھی ضروری سمجھی جاتی تھی، اور داڑھی کو ان کی مشابہت کا ایک لازمی جزو مانا جاتا تھا۔ اسی لیے یہ تصور پایا جاتا تھا کہ بغیر داڑھی والا مرد جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔داڑھی: طاقت اور غیرت کی علامتروس میں داڑھی کو مرد کی غیرت اور عزت کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ایک سنگین جرم تصور ہوتی تھی۔ چنانچہ تیرہویں صدی میں کسی کی داڑھی کے بال نوچنے پر سزا مقرر کی جا چکی تھی۔ سولہویں صدی میں بعض مجرموں کو شرمندہ کرنے کے لیے ان کی داڑھیاں زبردستی منڈوا دی جاتی تھیں۔ ایسی توہین کا ازالہ صرف دو طریقوں سے ممکن تھا: 1. کوئی نمایاں کارنامہ انجام دینا، یا 2. راہب بن کر گوشہ نشینی اختیار کرنا۔داڑھی: آزادی اور انفرادیت کی نشانیانیسویں صدی میں مغربی یورپ کے اثرات کے باعث روس میں داڑھی رکھنے کا رواج کم ہونے لگا، خاص طور پر شہروں میں۔ تاہم، تاجروں اور مذہبی رہنماؤں کے لیے داڑھی رکھنا اب بھی عام بات تھی۔سوویت دور کے ابتدائی سالوں میں داڑھی کو مختلف سماجی طبقات سے منسلک کیا جانے لگا۔ ایک مخصوص وقت میں یہ امیر کسانوں اور اکیڈمیشنز (دانشوروں) کی علامت سمجھی گئی، جبکہ بعد میں یہ غیر روایتی فنکاروں اور آزاد خیال افراد کی پہچان بن گئی۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا کے بیشتر انقلابی رہنماؤں نے داڑھی رکھی تھی، کیونکہ یہ روایت، طاقت اور بغاوت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔زار پیوتر اول اور داڑھی پر ٹیکس:یہ روایت سب سے پہلے زار پیوتر اول (پیٹر دی گریٹ) نے توڑی۔ 1698 میں، انہوں نے داڑھی رکھنے پر محصول (ٹیکس) عائد کر دیا، تاکہ روسی معاشرے کو مغربی یورپ کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ 1705 میں اس ٹیکس کو مختلف طبقات کے لحاظ سے درج ذیل سطحوں میں تقسیم کیا گیا: • سرکاری اہلکاروں اور درباریوں کو 600 روبل سالانہ دینا ہوتا تھا۔ • بڑے تاجروں پر 100 روبل سالانہ کی سزا تھی۔ • چھوٹے تاجروں اور ہنر مند کاریگروں کو 60 روبل سالانہ ادا کرنے پڑتے تھے۔ • ملازمین اور نچلے درجے کے سرکاری کارکنوں کے لیے 30 روبل سالانہ جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔ • کسان اگرچہ مکمل طور پر مستثنیٰ نہیں تھے، لیکن انہیں صرف شہر میں داخل ہونے پر ہر بار ایک کوپک ادا کرنا ہوتا تھا۔1715 میں بادشاہ کے حکم پر تمام طبقات کے لیے ٹیکس یکساں کر دیا گیا، یعنی ہر شخص کو داڑھی رکھنے کی پاداش میں 50 روبل سالانہ ادا کرنے پڑتے تھے۔ یہ قانون تقریباً 57 سال تک نافذ رہا، یہاں تک کہ 1772 میں داڑھی رکھنے پر عائد جرمانہ ختم کر دیا گیا۔نتیجہ:روس کی تاریخ میں داڑھی محض ایک جسمانی خصوصیت نہیں تھی، بلکہ یہ وقار، دینداری، طاقت، بغاوت، اور سماجی انفرادیت کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ و شوقت کے ساتھ، اس کی اہمیت مختلف پہلوؤں میں بدلتی رہی، لیکن یہ حقیقت باقی ہے کہ داڑھی ہمیشہ روسی مردوں کے طرزِ زندگی اور شناخت کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔منقول ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...