پیر، 2 جون، 2025

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز تربیلا سے آٹھ گنا بڑا "سواں ڈیم" — BBC PK News

پاکستان کی آبی معیشت کا نیا سنگِ میل۔سواں ڈیم پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے تلہ گنگ، ڈھوک پٹھان کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔ یہ مقام جغرافیائی طور پر مثالی اور قدرتی ذخیرۂ آب کے لیے بہترین ہے۔سوال: سواں ڈیم کی گنجائش کتنی ہو گی؟سواں ڈیم کی وسعت حیران کن ہو گی — یہ تربیلا سے آٹھ گنا اور کالا باغ سے دس گنا بڑا ہو گا، جو پاکستان کے آبی ذخائر میں انقلابی اضافہ کرے گا۔سوال: اس میں پانی کہاں سے آئے گا؟ایک لنک کینال بنائی جائے جو تربیلہ کے رائیٹ سائیڈ سے پانی اٹھائے گی اور ہرو دریا کو کنکٹ کرتی ہوئی سواں میں پانی گرائے گی ۔مطلب پانی انڈس سے آئے گا جب گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہونگے۔ سواں ڈیم میں پانی خاص حکمتِ عملی کے تحت اُس وقت چھوڑا جائے گا جب پاکستان کے دریا سیلابی کیفیت میں ہوں گے۔ اس سے نہ صرف نچلی آبادیوں کو بچایا جا سکے گا بلکہ قیمتی پانی ذخیرہ بھی ہو گا۔سوال: ڈیلٹا کو اس ڈیم سے کیا فائدہ پہنچے گا؟سواں ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کا نظام رن آف ریور (Run-of-River) میں تبدیل ہو جائے گا، جس سے سلٹ نکال کر براہِ راست ڈیلٹا تک پہنچائی جا سکے گی۔ یہ سلٹ اتنی زیادہ ہو گی کہ ڈیلٹا کے کٹاؤ کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا، اور تربیلا اپنی اصل کارکردگی میں دوبارہ بحال ہو جائے گا۔سوال: صوبوں کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟یہ ڈیم سال بھر کالا باغ جتنا پانی ڈیلٹا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھے گا۔ دو دو تربیلا جتنا پانی پنجاب اور سندھ کو، اور ایک ایک تربیلا جتنا پانی بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو ملے گا۔سوال: کیا اس سے دریاؤں کی روانی متاثر ہو گی؟ہرگز نہیں۔ سواں ڈیم کسی دریا کے قدرتی بہاؤ کو نہیں روکے گا، بلکہ پانی کی روانی کو بہتر بنائے گا۔ اس سے فصلوں کو بروقت پانی کی فراہمی ممکن ہو گی اور دیر سے پانی پہنچنے کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔سوال: کیا یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی کا ضامن بنے گا؟بے شک۔ سواں ڈیم کی بدولت ملک میں پینے اور زرعی مقاصد کے لیے وافر پانی دستیاب ہو گا، جو زرعی انقلاب اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔سوال: کیا اس کی لاگت زیادہ ہو گی؟نہیں، سواں ڈیم کی تعمیر پر لاگت دوسرے بڑے ڈیموں کے برابر یا اس سے بھی کم متوقع ہے، کیونکہ اسے سادہ مگر مؤثر ٹیکنالوجی سے تعمیر کیا جائے گا۔سوال: کیا آبادی متاثر ہو گی؟متاثرہ آبادی کو ان کی زمین سے کئی گنا زیادہ نہری رقبہ اور ساتھ ایک منظم کالونی میں سرکاری پلاٹس مہیا کیے جائیں گے تاکہ ان کی زندگی کا معیار بہتر ہو سکے۔سوال: راولپنڈی اور اسلام آباد کو کیا فائدہ ہو گا؟سواں ڈیم کی بدولت راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں پانی کی کمی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ شہری پانی کی قلت کے بجائے وافر پانی کی سہولت سے مستفید ہوں گے۔منقول ۔۔‎

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...