پیر، 7 جولائی، 2025

چینی، سیاست اور سکینڈلز: پاکستان میں شوگر ملز مالکان کون ہیں اور کتنے بااثر ہیں؟ BBC PK News Tanveer Malik Report

تنویر ملک
عہدہ,صحافی
چائے سے لے کر مشروبات اور مٹھائیوں کی تیاری تک پاکستان میں چینی کا استعمال خوراک کا اہم جزو ہے مگر اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ پاکستانیوں کے کھانے پینے کی چیزوں پر اٹھنے والے اخراجات پر اثر اانداز ہوتا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ہر پاکستانی سالانہ تقریباً 28 کلو گرام چینی استعمال کرتا ہے۔

مگر چینی کا نام کھانے پینے تک محدود نہیں بلکہ اسے پاکستانی سیاست، اس میں سرگرم اہم شخصیات اور خاندانوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اس کی قیمت بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہر چند برس بعد بحران جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

گذشتہ ماہ پاکستان میں چینی کی درآمد کے حکومتی فیصلے پر خاصی تنقید ہوئی ہے۔ ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حکومت نے شوگر ملز کو گذشتہ مالی سال کے دوران چینی برآمد کرنے کی اجازت ہی کیوں دی تھی۔

2 جولائی کو نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق لاکھوں ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت اس لیے دی گئی تاکہ ’مقامی مارکیٹ میں مناسب سپلائی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے ساڑھے سات لاکھ ٹن سے زائد چینی کی برآمد کی تھی جبکہ اب حکومت نے اتنی ہی مقدار درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...