وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد یا وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انکے پاس تعداد پوری ہے ، 48 گھنٹوں میں اہم اعلان کریں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم چوہدری انوارالحق کافی مطمئن ہیں۔
اگر ان ہائوس تبدیلی آتی ہے تو گزشتہ سوا چار سال میں یہ چوتھی حکومت سازی ہوگی۔
عام انتخابات2021ء کے بعد سب پہلے تحریک انصاف کے عبد القیوم نیازی سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی مرضی سے وزیراعظم آزاد کشمیر بنے۔
تقریباً ایک سال بعد خود عمران خان کی مشاورت و مرضی سے وزیراعظم آزاد کشمیر کو ہٹاکر خان کے قریبی ساتھی سردار تنویر الیاس کو وزیراعظم بنایا گیا۔
مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے کچھ عرصے بعد وزیراعظم آزاد کشمیر کی نااہلی کے ساتھ ہی حکومت تبدیل ہوئی اور تحریک انصاف فاروڈ بلاک کے چودھری انوارالحق وزیراعظم #آزادکشمیر بنے۔
اب چوتھی تبدیلی کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ آزاد کشمیر اسمبلی کی مدت بھی پونے ایک سال کے قریب باقی رہ گئی ہے۔
اس موقع پر اتنی بڑی تبدیلی کوئلے کی کان میں منہ کالا کرنے کے مترادف ہے ، مگر نئی حکومت آئندہ انتخابات میں اہم کردار ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ آزاد کشمیر میں موجود حکومت ہی انتخابات کراتی ہے یعنی نگراں حکومت نہیں بنتی، یہ بھی کہ حکومت کی مدت میں توسیع کا بھی امکان ہوسکتا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں