جمعہ، 28 نومبر، 2025

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد یحییٰ خان کی گم نامی سقوطِ ڈھاکہ کے محض چار دن بعد 20 دسمبر 1971ء کو جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے صدارت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات ذوالفقار علی بھٹو کے سپرد کر دیے

، یوں ایک فوجی حکمران کا اقتدار خاموشی سے اپنے انجام کو پہنچا۔ نئے حکمران نے ملک کی سیاسی، عسکری اور انتظامی خرابیوں کا بڑا حصہ یحییٰ خان کی پالیسیوں اور فیصلوں پر ڈال کر نہ صرف انہیں اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل کیا بلکہ اخلاقی و سیاسی طور پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھٹو صاحب نے عوامی غصے کے طوفان اور سیاسی دباؤ کے پیشِ نظر جنرل یحییٰ خان کی نقل و حرکت محدود کر کے انہیں نظربند کرنے کا فیصلہ کیا اور جنوری 1972ء میں باضابطہ طور پر گھر میں قید کروا دیا۔ راولپنڈی کے آرمی ہاؤس/ہارلے اسٹریٹ کے اس گھر تک صرف چند سرکاری اہلکار، سکیورٹی اسٹاف اور منتخب افسران کو رسائی حاصل تھی، عام شہری تو درکنار، صحافی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے، یوں ایک سابق صدر اور فوجی حکمران اچانک عوامی منظرنامے سے غائب ہو گیا۔ اُس کے بعد برسوں تک نہ یحییٰ خان کا کوئی باقاعدہ بیان منظرِ عام پر آیا، نہ کسی اخبار کو انٹرویو ملا، نہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر ان کی آواز سنائی دی۔ قومی سانحے کے بعد قوم جاننا چاہتی تھی کہ اقتدار کی راہداریوں میں کیا ہوا، فیصلے کیسے ہوئے، مگر جس شخص کے دستخطوں سے تاریخ کا دھارا بدل گیا، وہ اختیارات چھن جانے کے بعد مکمل خاموشی اوڑھ کر اپنے ہی سائے سے باتیں کرتا رہ گیا۔ جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کی تو اسی سیاسی طوفان کے درمیاں یحییٰ خان کی نظر بندی ختم ہوئی اور انہیں رہائی مل گئی۔ نئی فوجی حکومت کو امید تھی کہ شاید وہ ماضی کے راز افشا کریں گے، سقوطِ ڈھاکہ، جنگِ 1971ء اور اندرونی سازشوں پر روشنی ڈالیں گے، مگر یحییٰ خان نے بیان بازی سے مکمل گریز کیا اور حمود الرحمن کمیشن کو دی گئی اپنی گواہی ہی کو حرفِ آخر قرار دیا۔ آزادی ملنے کے باوجود وہ عملی طور پر گوشہ نشین ہی رہے، نہ سیاسی بحث میں شریک ہوئے، نہ کسی نئی مہم جوئی کا حصہ بنے، حالانکہ ان کے خلامقدمات کی بازگشت، الزامات اور تنقید کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ اپنی بقیہ زندگی راولپنڈی کی ہارلے اسٹریٹ کے ایک نسبتاً مختصر سے گھر میں گمنامی اور سکوت کے ساتھ گزارتے رہے، جہاں سے کبھی کبھار بیماری کے علاج کے لیے باہر آنا جانا ہی ان کی ’سرکاری خبر‘ بن جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانہ تھا جب انہی یحییٰ خان کے گرد طاقت کے متلاشی سیاست دانوں، درباریوں اور خوشامدیوں کے ہجوم ہوتے تھے، محفلیں گرم رہتی تھیں، فیصلوں کی بازگشت دارالحکومت سے مشرقی پاکستان تک سنی جاتی تھی۔ لیکن سقوطِ ڈھاکہ کے بعد وہی شخص تنہائی، ندامت، بیماری اور خاموشی کے حصار میں ایسا قید ہوا کہ تاریخ کی عدالت تو انہیں کٹہرے میں کھڑی کرتی رہی، مگر خود ملزم نے اپنا دفاع عوام کے سامنے پیش کرنا گوارا نہ کیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ جس جنرل کے دور میں مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، اس کی آخری رسومات بھی قومی سطح پر معمولی خبر بن کر رہ گئیں؛ 1980ء میں محض 63 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو نہ کوئی بڑے اجتماع کی گونج تھی، نہ کسی بڑے اعتراف یا تلافی کا اعلان۔ یوں ایک فوجی حکمران کی کہانی اقتدار کے ہنگاموں سے شروع ہو کر گمنامی اور سکوت میں ختم ہوئی، اور آج بھی سقوطِ ڈھاکہ کے ملبے تلے دبے سوال جواب کے منتظر ہیں کہ اصل ذمہ دار کون تھا، فیصلہ کہاں غلط ہوا اور کس موڑ پر تاریخ کا رُخ بدل گیا۔  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...