امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اسٹاکٹن کے ایک بینکوئٹ ہال میں خاندانی اجتماع کے دوران مسلح ملزم کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہو گئے
سی این این کی رپورٹ کے مطابق سان جوآقن کاؤنٹی شیرف آفس کی ترجمان ہیتر برینٹ نے بتایا کہ زخمیوں میں بچے اور بالغ بھی شامل ہیں، فوری طور پر زخمیوں کی ہسپتال میں حالت کے بارے میں کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی۔
برینٹ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ کسی ہدف شدہ حملے کا حصہ ہو سکتا ہے، یہ ایک بہت ہی سرگرم اور جاری تحقیقات والا کیس ہے اور معلومات محدود ہیں۔
شیرف آفس کے مطابق فائرنگ شام 6 بجے سے تھوڑی پہلے شہر کے شمالی حصے میں ہوئی۔
یہ بینکوئٹ ہال ڈیری کوئن سمیت کئی کاروباروں کے ساتھ پارکنگ شیئر کرتا ہے، خاندانی تقریب کی میزبانی کر رہا تھا۔
برینٹ کے مطابق مشتبہ فائرنگ کرنے والا فرار ہو گیا ہے اور اب تک گرفتار نہیں ہوا، حکام نے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے تاکہ محققین ممکنہ مقصد جان سکیں، تفتیش کار تمام ممکنہ پہلوؤں کو کھنگال رہے ہیں۔
سان جوآقن کاؤنٹی شیرف آفس اس واقعے کی تحقیقات کی قیادت کر رہا ہے۔
یہ تشدد اسٹاکٹن کو ان امریکی کمیونٹیز کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل کرتا ہے، جہاں روزمرہ کے مقامات (اسکولز، شاپنگ سینٹرز، بارز اور دفاتر) میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔
گن وائلنس آرکائیو کے مطابق اس سال اب تک امریکا میں کم از کم 380 بڑے پیمانے کی فائرنگ کے واقعات ہو چکے ہیں، اس تعریف کے مطابق ’جب 4 یا زیادہ افراد پر گولیاں چلائی جائیں، شوٹر کو شمار نہیں کیا جاتا۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیوین نیوسم کو اس فائرنگ کے واقعے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اسٹاکٹن کی میئر کرسٹینا فوگازی نے ایک بیان میں کہا کہ گورنر نے کمیونٹی کی مدد کے لیے ریاست کی مکمل حمایت کی پیشکش کی ہے۔
فوگازی نے لکھا کہ آج رات ہمارا شہر ایک دل دہلا دینے والی اور تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، براہ کرم زخمیوں، ان کے اہلِ خانہ اور ہمارے فرسٹ رسپانڈرز کے لیے دعائیں کریں۔
پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کردی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔
واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شـہیـد جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی آج اپنا 58واں یوم تاسیس منا رہی ہے جس کی مناسبت سے ملک بھر میں ضلعی سطح پر تقریبات کا انعقاد اور کراچی کے علاقے کورنگی میں مرکزی جلسہ ہوگا۔
کورنگی میں جلسے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، شہر کے مختلف اضلاع میں پارٹی پرچم لگا دیئے گئے ہیں، بلاول بھٹو اور پارٹی کے دیگر مرکزی و صوبائی رہنما جلسے سے خطاب کریں گے۔
*🌼پی ٹی آئی کا ملک دشمن کے ساتھ گٹھ جوڑ بےنقاب ہو چکا، وزیر اعلیٰ کے پی کا منشیات فروشوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے، ان کی کارکردگی صفر ہے: وزیر اطلاعات*
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئندہ ہفتے اجلاس ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا ہے، اصلاحات کے عمل میں پیش رفت جاری ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ فنانسنگ بہت اہم ہے، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بہتری خوش آئند ہے، پائیدار ترقی کے لیے ادائیگی کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں، مجموعی طور پر برآمدات میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی بہتری کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے،آئی ٹی شعبے میں ماہانہ بنیادوں پر بہتری دیکھی جارہی ہے،ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، آئی ٹی سیکٹر بہترین کارکردگی پیش کر رہا ہے، حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن مناسب وقت پر جاری کر دیا جائے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر مزید کسی طرح کی قیاس آرائیوں کی گنجائش نہیں۔
ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلم غوری نے کہا کہ حکمراں اگر دینی اداروں کی اتنی ہی مدد کرنا چاہتے ہیں تو مساجد کے بل معاف کردیں۔ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا اس کی حکومت کی پالیسیوں سے جھگڑا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمران گرم زمین پر پاؤں نہ رکھیں ورنہ پاؤں جل جائیں گے۔ زنانہ پاؤں گرم زمین برداشت نہیں کر سکیں گے۔ پنجاب کے حکمران خوف کی فضا پیدا کرکے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔
ترجمان جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اگر غریب کو تنگ کرو گے تو یہ آگ تمہارے محلات تک بھی پہنچے گی۔ پنجاب کے حکمران علماء کرام سے پنگا بند کردیں۔ پنجاب کے حکمرانوں! علماء کرام کو پچیس ہزار میں خریدنا چاہتے ہو۔ حکمران اختلافات پیدا کرکے مذہبی تصادم کو ہوا دیتے ہیں۔ ہم تمام مسالک کی نمائندگی کرتے ہیں کسی ایک مسلک کے نمائندہ نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عسکری لیبارٹریز سے پیدا ہونے والو! علماء کو کوئی نہیں دبا سکتا۔ جس ضیاء الحق کی لیبارٹری سے تم پیدا ہوئے ہم نے اسے بھی چین سے حکومت نہیں کرنے دی۔ 27ویں ترمیم سے متفقہ آئین کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔
پشاور: خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور شروع کردیا گیا، گورنر راج کے لیے فیصل کریم کنڈی کو رکھنے یا ان کی جگہ نیا گورنر لانے کی تجویز زیر غور ہے، متوقع نئے گورنر کے لیے تین سابق فوجی افسران اور تین سیاسی شخصیات کے نام سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا کے لیے 6 ناموں پر غور کیا جارہا ہے جس میں تین سیاسی شخصیات اور تین سابق فوجی افسران شامل ہیں۔
سیاسی شخصیات میں امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیر پاؤ اور پرویز خٹک کے نام زیر غور ہیں۔
گورنر کے عہدے کیلئے سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کے ناموں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی بھی بدستور پہلی چوائس کے طور پر موجود ہیں۔ گورنر کی تبدیلی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ یا صوبائی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پالیسی کے تحت ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب عہدے سے ہٹانے کی خبروں پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ردعمل سامنے آگیا۔
فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے مجھے کچھ علم نہیں، اگر میڈیا ہی گورنر لگائے گا تو پھر اللہ حافظ ہے۔
گلشن اقبال بلاک 5 سے بوری سے انـسانی دھڑ برآمد ہوا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک فائیو سے بوری میں بند انـسان کا آدھا دھڑ ملا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو پہلے بڑے کالے شاپر اور پھر بوری میں ڈالا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مقتول کے جسم کو آرے یا تیز دھار آلے سے کــاٹا گیا ہے، لاش کی دونوں ٹانگیں اور اوپر کا حصہ موجود نہیں ہے، پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کرلیا۔
ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے تازہ قـتـل کیا گیا ہے، جائے وقوعہ کے اطراف کی سی سی ٹی وی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملنے والے انسانی دھڑ کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے اور بین الاقوامی میڈیامیں ان سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے پھراڈیالہ جیل بھی جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 4 نومبر سے بانی پی ٹی آئی کو آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا سے بانی پی ٹی آئی سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں، ہم اڈیالہ گئے وہاں دو منٹ کیلئے نہیں ملنے دیا گیا، ہائیکورٹ بھی گئے پھر بھی ملاقات نہ ہوسکی۔
ان کا کہنا تھاکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ این ایف سی ایوارڈ میں شرکت کریں گے، وہاں پر ضم اضلاع اور صوبے کی حقوق کیلئے لڑیں گے، 2018 سے اب تک صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ نہیں مل رہا، ضم اضلاع کو اپنے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ ایک ہزار 350 ارب روپے 7 سال کے وفاق پر این ایف سی ایوارڈ میں واجب الادا ہے، صوبے بھر کے جامعات میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سیمینار کررہے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی صوبے کے حقوق کیلئے مٹینگ کرنی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ سب کو مل کر صوبے کیلئے لڑنا ہوگا، سیاسی جدوجہد الگ، این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے حقوق کیلئے مشترکہ لڑنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم نہیں جائیں گے، میں بحیثیت وزیر اعلیٰ اور پارٹی کارکن بھی کام کر رہا ہوں، صوبے کے وزیر اعلیٰ کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، اس صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب میں مویشیوں کی چوری کے الزام میں پولیس نے 13 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔
سعودی میڈیا کے مطابق مویشیوں (بھیڑوں) کی چوری کے الزام میں 13 پاکستانیوں کو طائف میں گرفتار کیا گیا ہے۔
سعودی اخبار کے مطابق ملزمان مویشی چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق معاملہ زیر غور ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام نیاپاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ دہشتگردی اور سرحد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو کچھ فائدہ تو دے،کب تک کے صوبے کے شہریوں کو بےیار ومددگار چھوڑیں گے۔
بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں لگایا جاتا ہے، صوبے کے حالات اس کا تقاضا کررہے ہیں، ماضی میں پنجاب میں بھی گورنر راج لگانے کا تجربہ کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے گورنر خیبرپختونخوا کے لیے 5 نام زیر غور ہیں، زیر غور ناموں میں 3 سیاسی شخصیات اور 2 سابق فوجی افسران شامل ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ سیاسی شخصیات میں امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیر پاؤ اور پرویز خٹک کے نام زیر غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود کے نام بھی گورنر کے پی کے لیے زیر غور ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود سابق آئی جی ایف سی رہ چکے ہیں جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی سابق کور کمانڈر پشاور رہ چکے ہیں۔
*🌼ملک کی معیشت تباہ ہو چکی، پاکستان وہ نہیں جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں: سربراہ جے یو آئی*
مردان میں تقریب سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور شہباز شریف، ٹرمپ کو امن کا نوبل دلوانے کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، مسلح گروہ جنگ چھوڑ دیں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہماری افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں