جمعرات، 13 نومبر، 2025

تجھے اے جگر! مبارک یہ شکستِ فاتحانہ عامر خاکوانی BBC PK NEWS

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں پر افسوس بھی ہے مگر یہ بھی خوشی ہے کہ انہوں نے ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ ایسی مثال جس کی ہمارے ہاں خاصی کمی ہے۔ مجھے شدید حیرت ہو رہی ہےکہ بعض احباب جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ پر تنقید کر رہے ہیں، طنز فرما رہے ہیں، ان کی تضحیک کر رہے ہیں، مگر کیوں ؟ کیا اس لئے کہ ان فاضل جج صاحبان نے کمپرومائز ہونے سے انکار کر دیا۔ وہ حکمرانوں کے دربار پر سجدہ ریز نہیں ہوئے ، انہوں نے جرات رندانہ سے کام لیا ۔ اگر وہ حکمرانوں ، مقتدر قوتوں سے ہاتھ ملا لیتے تو آج سربلند ہوتے، سرفراز ہوتے ۔ کیا یہ ایسا جرم ہے جس پر ہنسا جائے، طنز کیا جائے، تنقید کی جائے ؟ حق تو یہ ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے ایک ایسی شاندار مثال قائم کی ہے، جرات ، عزیمت اور اصول پسندی کی ایک روشن جگمگاتی ہوئے شمع روشن کی ہے ،جسے دل وجاں سے سراہنا چاہیے، اس کی ستائش ہونی چاہیے۔ ان ججوں کے لئے گیت لکھے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اپنا نام تاریخ میں سنہری الفاظ سے درج کرایا ہے۔ کل کو جب مورخ تاریخ لکھے گا ،جب لکھنے والے ستائیسویں ترمیم جیسی متنازع اور نہایت عجلت میں منظؤر کی گئی آئینی ترمیم کا ذکر کریں گے جس نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا، جس نے عدلیہ کی کمر توڑ دی ، تب یہ لازمی لکھا جائے گا کہ چند جج صاحبان ایسے تھے جنہوں نے یہ بے اصولی برداشت نہیں کی، جنہیں نے اپنی ملازمتیں قربان کر دیں۔ جو اس مشکل اور کٹھن وقت میں کھڑے رہے، سربلند رہے ۔ جناب جسٹس منصور علی شاہ اور جناب جسٹس اطہر من اللہ کی نذر ہمارے پیارے شاعر دوست سعداللہ شاہ کے دو اشعار کرنا چاہتا ہوں اے مرے دوست! ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں‌میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھوقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوںکب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ(عامر خاکوانی، تیرہ نومبر )

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...