پولیس کے مطابق قلات کی تحصیل خالق آباد کے علاقے سربند میں قبائلی رہنما شاکر سعداللہ لانگو کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں شاکر خیراللہ لانگو، محمد کریم اور محمد ظاہر بھی شامل ہیں۔
لیویز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
اس سے قبل ہفتے کو قلات کے علاقے منگچر میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔
پولیس کا بتانا ہے کہ فائرنگ سے بعض افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔
ڈاکٹر نبیہ نے شادی کی، انھیں مبارک باد لیکن اس بار وہ مولانا طارق جمیل کو لے گئیں، پچھلی بار انھوں نے علیم خان کو رگڑا لگا ڈالا تھا، اپنا گھر نہ ہونے کےباوجود، اس بار عوام مولانا طارق جمیل کے دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر نکاح پڑھانے اور غیر محرم کو چھونے جیسے معاملات کو لیکر پریشان ہیں، مولانا ویسے تو عمر کے اس حصے میں ہیں، جہاں ساری عورتیں بیٹیاں ہی لگتی ہیں، کچھ ہمارے ہاں کا کلچر بھی ایسا ہے کہ بیٹی سب کی سانجھی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے، جب ایک شخص عالم دین ہونے کا کلیم کرتا ہے تو لوگ اس سے شرعی اصولوں پر پورا اترنے کی توقع بھی کرتے ہیں، عرف اور شرعی عرف کا لحاظ رکھنا ہی پیشہ ورانہ تقاضے کی تکمیل ہوتا ہے۔ ویسے ڈاکٹر صاحبہ ، بشرطیکہ وہ ڈاکٹر صاحبہ ہوں جب بھی کچھ لیتی ہیں تو سوشل میڈیا کو بہت کونٹینٹ دے جاتی ہیں، پچھلی بار مکان کرائے پر لیا تو سیلاب کے دنوں میں یوٹیوبرز کی چاندی کر دی، اس بار دلہا لیا ہے تو 35 کلو سونا پہننے اور اس کی قیمت صرف ڈیڑھ کروڑ بتا کر بھی کونٹینٹ کری ایٹرز کا بہت بھلا کیا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں، اول تو کاش وہ مارکیٹ مل جائے جہاں کباڑ کے بھاؤ سونا ملتا ہے، یعنی صرف ڈیڑھ کروڑ کا 35 کلو سونا، اور دوسرا یہ دلہن تھی یا سبزی منڈی کی پلے دارنی، جس نے 35 کلو یعنی ایک من کے قریب تو صرف گردن پر وزن اٹھا رکھا تھا۔ خیر اللہ ڈاکٹر صاحبہ کو شادی مبارک کرے اور اللہ کرے کہ اب ان کا حساب اور معلومات ٹھیک ہو جائیں۔
#یوسف_سراج
*🌼اس ترمیم کے بعد سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت نہیں رہے گی بلکہ یہ حیثیت ایک نئی وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کو حاصل ہو جائے گی، قانونی ماہرین*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں