پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں رکھا پرانا بارودی مواد پھٹنے سے دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔
کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) میاں سعید نے اہلکار کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تھانے پر حملے کے شواہد نہیں ملے، دھماکے کے بعد اطراف کا علاقہ سیل کر دیا گیا ہے، دھماکے سے بلڈنگ کا ایک حصہ منہدم ہو گیا ہے۔
سی سی پی او میاں سعید نے بتایا کہ دھماکا پولیس اسٹیشن کے بارودی مواد کے کمرے میں موجود پرانا دھماکا خیز مواد کے پھٹنے کی وجہ سے ہوا ہے، آگ دیگر گولا بارود تک بھی پھیلی جس سے مزید دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک سی ٹی ڈی اہلکار شہید، 2 اہلکار زخمی ہوئے ہیں، تمام ملزمان کو لاک اپ سے محفوظ طور پر نکال لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر
۔
کراچی:
گلستان جوہر بلاک 12 میں آتشزدگی کے باعث 200 سے زائد جھگیاں جلنے سے اس میں رکھا سامان اور متعدد موٹر سائیکلیں جل کر خاکستر ہوگئیں جبکہ مویشی بھی جل کر ہلاک ہوگئے۔
آتشزدگی کے نتیجے میں کسی انسانی جان کا نقصان نہیں ہوا، فائر آفیسر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتاتے ہیں تاہم مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
گلستان جوہر بلاک 12 منور چورنگی کے قریب ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جھگیوں میں آگ لگ گئی، آگ لگنے کی اطلاع پر کے ایم سی کی 4 فائربریگیڈ کی گاڑیاں اور ریسکیو 1122 کے تین فائرٹینڈر موقع پر پہنچ گئے اور آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کے ایم سی کے واٹر باؤزر اور واٹر ٹینکر استعمال کیے گئے۔
فائر آفیسر کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ پلاٹ میں لگے بجلی کے کنڈے کاٹے جا رہے تھے اسی دوران شارٹ سرکٹ ہوا اور آگ لگ گئی، پلاٹ پر مجموعی طور پر 500 جھگیاں ہیں جس میں سے 200 سے زائد جھگیاں اور اس میں رکھا سامان مکمل طور پر جل گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی کے بعد جھگیوں میں مقیم لوگوں کی متعدد موٹر سائیکلیں جل گئیں جبکہ بکریاں، بکرے، بلیاں اور دیگر جانور بھی جھلس کر مرگئے، تاہم انسانی جان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ جھگیوں میں رکھی موٹر سائیکلیں اور مویشی بھی جل گئے، آگ اس وقت لگی جب وہ سو رہے تھے، اس پلاٹ پر 10 سال سے زائد عرصے سے رہائش پذیر تھے اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ پلاٹ پر مقیم افراد کا تعلق پنجاب اور بلوچستان سے ہے۔
*🌼ادارے کا ایسی تصویر سوشل میڈیا پر ڈالنا ”پیکا ایکٹ“ کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے، ماہر قانون*
کراچی کا نیا ای چالان سسٹم، جو ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، اب شہریوں کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ ایک جانب یہ نظام شہریوں کی جیبوں سے ہزاروں روپے نکال رہا ہے تو دوسری جانب اس نے نجی زندگی کی رازداری پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک جوڑا اپنی گاڑی میں ایک دوسرے کے قریب بیٹھا نظر آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر ای چالان سسٹم کے کیمرے نے لی ہے۔
یہ دعویٰ سامنے آتے ہی شہریوں نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیا اور میمز کے ساتھ ساتھ اس نظام کی نگرانی پر تنقید شروع کر دی۔
یہ معاملہ آج نیوز کے پروگرام ”دس“ میں بھی زیر بحث آیا۔ پروگرام کے میزبان عمران سلطان نے ماہر قانون ایڈووکیٹ فہد بلوچ سے سوال کیا کہ اگر کسی خاتون یا مرد کی گاڑی میں بیٹھے ہونے کی ایسی تصویر سوشل میڈیا پر آجائے تو ذمہ داری کس کی ہوگی؟
ایڈووکیٹ فہد بلوچ نے واضح طور پر کہا کہ اگر یہ تصویر کسی سرکاری ادارے کی جانب سے لیک ہوئی ہے تو اس ادارے کے سربراہ براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ فہد بلوچ کے مطابق ایسا اقدام ”پیکا ایکٹ“ کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ تصویر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی ہے، تو ادارے کو فوری وضاحت دینی چاہیے کہ یہ ان کی جانب سے جاری نہیں کی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ادارے کے سربراہ کو واضح پالیسی دینی چاہیے کہ ان کی طرف سے جاری ہونے والی کوئی بھی تصویر صرف سرکاری یا آفیشل پیجز پر شیئر کی جائے گی تاکہ عوام کو غلط فہمی نہ ہو۔
جب یہ معاملہ سندھ حکومت کی ترجمان تحسین عابدی کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وائرل ہونے والی تصویر ادارے کی جانب سے جاری نہیں کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اس تصویر کا فرانزک تجزیہ کرائے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ تصویر حقیقی ہے یا مصنوعی۔
کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں گھر میں آگ لگنے سے ماں بیٹی جھلس کر جاں بحق ہوگئیں، 50 سالہ ماں اور نوجوان بیٹی کی لاشیں ہسپتال منتقل کردی گئیں۔
شاہ فیصل کالونی میں گھر میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے سے ماں بیٹی جاں بحق ہوگئیں۔
پولیس کے مطابق جھلس کر جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی کی شناخت 50 سالہ کلیم النسا اور 25 سالہ بیٹی عتیقہ کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئیں، پولیس کے مطابق جائے حادثے سے متعلق مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہے۔
کراچی میں ملیر کینٹ چیک پوسٹ نمبر 06 کے قریب ڈمپر کی ٹکر سے 35 سالہ ایف آئی اے افسر جاں بحق ہوگیا، پولیس نے واقعے کے ذمہ دار ڈرائیور کو گرفتار کرلیا، ملزم کا ڈرائیونگ لائسنس ایکسپائر نکلا۔
پولیس حکام کے مطابق ملیر کینٹ چیک پوسٹ نمبر 06 کے قریب ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار 35 سالہ ایف آئی اے افسر جاں بحق ہوگیا۔
متوفی کی شناخت محمد ایوب خان کے نام سے ہوئی ہے، جو ایف آئی اے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر تھا اور کراچی ایئرپورٹ پر ڈیوٹی پر مامور تھا۔
پولیس حکام کے مطابق ایف آئی اے کا افسر ڈیوٹی سے گھر واپس جارہا تھا کہ ڈمپر کی ٹکر کے باعث حادثے کا شکار ہوگیا، حادثے کے بعد موٹرسائیکل ڈمپر کے نیچے پھنس گئی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ڈمپر ڈرائیور انور خان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم کا ڈرائیونگ لائسنس 16 اکتوبر 2025 کو ایکسپائر ہوچکا ہے۔
ریسکیو سروس کے مطابق جاں بحق ایف آئی اے افسر کی لاش کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
شاہراہ فیصل پر ریس لگاتی کار کی موٹرسائیکل کو ٹکر، 2 افراد زخمی
ادھر شاہراہ فیصل پر ریس کے دوران ایک بے قابو کار نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، حادثے میں کار اور موٹرسائیکل پر سوار دو افراد زخمی ہوگئے۔
حادثہ شارع فیصل بلوچ پل پر پیش آیا، دو تیز رفتار کاریں ریس لگارہی تھی، اس دوران ایک کار نے بے قابو ہو کر موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، حادثے میں کار اور موٹرسائیکل پر سوار 2 افراد زخمی ہوگئے، کار حادثے کا شکار ہو کر الٹ گئی۔
زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پولیس نے کار کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، آس پاس کی سی سی ٹی وی فٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں۔واقعہ کے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
*🌼نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر سعودی عرب جاتے ہوئے خولہ ادریس چوہدری اور ان کے خاوند کو روکا گیا*
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی خاتون خولہ ادریس کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔
نیو اسلام آباد سے سعودی عرب جاتے ہوئے خولہ ادریس چوہدری اور ان کے خاوند کو روکا گیا۔
خولہ ادریس کے خاوند بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کو سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کی ٹیم کے حوالے کردیا گیا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہارٹ اٹیک کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو دل میں تکلیف کے باعث الشفا اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹرز کے مطابق سابق وزیراعظم کو ہارٹ اٹیک ہوا جبکہ ٹیسٹ کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ اُن کے دل کی دو شریانیں بند ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے شاہد خاقان عباسی کے دل میں دو اسٹنٹ ڈال دیے۔
شاہد خاقان عباسی اسپتال میں زیرِ علاج جبکہ ڈاکٹرز نے اُن کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا ہے
*🌼طاـ لباـ ن حکومت اندرونی دھڑے بندی اور عدم استحکام کا شکار ہے اور وہ بھارتی پراکسیوں کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام بھارتی پراکسیز سے واقف ہیں، خواجہ آصف کی ٹوئٹ*
*وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گرد کیمپ دکھانے کا چیلنج دے دیا۔*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں