اتوار، 23 نومبر، 2025

*💥'Tejas' crash at Dubai Air Show dashes hopes for Indian fighter jet exports*


دبئی ایئر شو میں عالمی اسلحہ خریداروں کے سامنے بھارت کے تیجس فائٹر طیارے کا حادثہ قومی اعزاز کے لیے ایک نیا دھچکا ہے، جس سے یہ جیٹ اپنے کردار کو بطور گھریلو دفاعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے برقرار رکھنے کے لیے بھارتی فوجی آرڈرز پر انحصار کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، لیکن یہ واقعہ اس ہفتے کے اثر و رسوخ کے مقابلے کا اختتام تھا، جس میں بھارت کا بڑا حریف پاکستان بھی شریک تھا، 6 ماہ قبل دونوں پڑوسی ممالک نے دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی لڑائی میں سامنا کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق ایسا عوامی نقصان بھارت کی کوششوں پر ’سائے‘ ڈالے گا کہ وہ جیٹ کو بیرون ملک متعارف کرائے، جو 4 دہائیوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا تھا، بھارت نے اس موقع پر ونگ کمانڈر نمانش سیال کو خراج تحسین پیش کیا جو اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

دبئی میں نمائش کے دوران حادثہ
امریکی میچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے کہا کہ ’یہ منظر نامہ بے رحم ہے‘، اور ایئر شوز میں ہونے والے سابقہ حادثات کی طرف اشارہ کیا جہاں ممالک اور صنعتیں قومی کامیابیوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک حادثہ بالکل الٹ پیغام دیتا ہے، ایک ڈرامائی ناکامی کا پیغام، تاہم انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیجس منفی تشہیر کا سامنا کرے گا، لیکن امکان ہے کہ یہ دوبارہ رفتار حاصل کر لے گا۔

دبئی، پیرس اور برطانیہ کے فارنبرو کے بعددنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایئر شو ہے، اور ایسے پروگراموں میں حادثات اب نایاب ہو چکے ہیں۔

1999 میں روسی سوخو Su-30 پیرس ایئر شو میں زمین سے ٹکرانے کے بعد کریش کر گیا تھا، اور ایک دہائی قبل اسی ایئر شو میں سوویت MiG-29 کریش ہوا تھا، تمام عملہ محفوظ رہا اور بھارت نے دونوں طیاروں کے آرڈرز دے دیے تھے۔

برکی نے کہا کہ فائٹر طیاروں کی فروخت اعلیٰ آرڈر سیاسی حقائق سے متاثر ہوتی ہے، جو ایک وقتی واقعے پر فوقیت رکھتی ہیں۔

جی ای انجن سے طاقت
تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تھا، جب بھارت نے پرانے سوویت MiG-21s کی جگہ لینے کی کوشش کی تھی، جس میں آخری طیارہ حال ہی میں ستمبر میں ریٹائر ہوا، کیوں کہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی جانب سے تیجس کی ترسیل سست تھی۔

ریاستی ملکیت والی کمپنی نے 180 جدید Mk-1A طیاروں کے لیے ملکی آرڈرز دیے ہیں، لیکن جی ای ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ابھی تک ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔

ایک سابق ایچ اے ایل ایگزیکٹو نے (جنہوں نے حال ہی میں کمپنی چھوڑ دی تھی) کہا کہ دبئی میں حادثہ ’ابھی برآمدات کے امکانات ختم کر دیتا ہے‘۔

ہدف شدہ مارکیٹس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا شامل تھے، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں بھی دفتر کھولا تھا۔

سابق ایگزیکٹو نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آنے والے سالوں کے لیے توجہ ملکی استعمال کے لیے فائٹر کی پیداوار بڑھانے پر ہوگی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...