*حمایت 👍❤️*
*مذمت 🖐️🙏*
کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سنی تحریک کے سربراہ انجینئر ثروت اعجاز قادری سمیت 20 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ہفتے کی شب قادری ہاؤس میں کی گئی، جس کی تصدیق پولیس حکام اور سنی تحریک کے نمائندوں نے کی ہے۔
سنی تحریک کے ترجمان کے مطابق پولیس نے رات گئے قادری ہاؤس پر چھاپہ مارا اور پارٹی کے سینئر عہدیداران اور کارکنان کو حراست میں لے لیا، جن میں کراچی ڈویژن کے بعض عہدیدار بھی شامل ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کو بھی حراست میں لیا لیکن کچھ دیر بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ ناظم آباد ایک نمبر پر واقع قادری ہاؤس پر پولیس اور ایس آئی یو نے خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر بھتہ خوری میں ملوث کئی ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت جواد اور ملا شاہزیب کے نام سے ہوئی جن کا تعلق بدنام زمانہ بھتہ خور صمد کاٹھیاواڑی گروپ سے ہے۔
چھاپے کے دوران پولیس نے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا۔
اعلامیہ ایس آئی یو کے مطابق ایس آئی یو / سی آئی اے کی اہم کارروائی ریحان نامی گرفتار شدہ ملزم جوکہ جمشید کوارٹر میں بھتہ اور فائرنگ میں ملوث تھا،اس کی نشاندہی پر قادری ہاؤس پر چھاپے میں جواد قادری عرف خواجہ اور شاہزیب ملا سمیت متعدد ملزمان گرفتارکیا۔
دوسری جانب ترجمان پاکستان سنی تحریک نے کہا ہے کہ قادری ہاؤس پر پولیس کی چڑھائی کی مذمت کرتے ہیں ۔ چھاپے میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ پاکستان سنی تحریک کو قادری ہاؤس پر پولیس کے چھاپے پر شدید تحفظات ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے حق سچ کی آواز دبائی نہیں جاسکتی۔ مرکزی ترجمان نے دعوی کیا کہ قادری ہاؤس سے پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین انجینیئر محمد ثروت اعجاز قادری کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کی جانب سے کاروائی چھپانے کے لیے قادری ہاؤس کے کیمروں کو بھی توڑ دیا گیا۔ پولیس کے چھاپے کے دوران کراچی ڈویژن کے عہدے داران اور کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ پولیس نے ثروت اعجاز قادری سمیت 20 سے زائد ذمہ داران کارکنان کو گرفتار کیاہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں