پیر، 3 مارچ، 2025

*پیٹرولیم ڈیلرز نے حکومت سے مذاکرات کے بعد کل ہڑتال کی کال واپس لے لی*

وفاقی حکومت سے مذاکرات کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے کل کی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔وزیر پiٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک سے پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے مذاکرات ہوئے جس میں چیئرمین اوگرا اور وزارت پیٹرولیم کے حکام بھی شریک ہوئے۔ذرائع نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی مخالفت کی گئی۔ذرائع کا کہنا تھاکہ پیٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے عمل میں ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مکمل ان پٹ لی جائے گی۔وزیر پیٹرولیم نے آئل سیکٹر کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب ترجمان پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وزیر پیٹرولیم سے مذاکرات ہوئے اور ڈیلرز نے کل کی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔

*ہم نے ریاست کے لئے اپنی سیاست قربان کر دی، ملکی مفاد میں فیصلے کئے گئے، وزیر اطلاعات*

خارجہ محاذ پر پی ٹی آئی دور حکومت میں پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا،عطا تارڑ

*اعترافی بیان کیلئے دباؤ ہے، کہا گیا اعتراف کرلو گے تو کم سزا ملے گی، شیراز کا بیان*

کراچی میں مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں ملزم شیراز کو بیان دینے کے لیے عدالت میں پیش کردیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ملزم شیراز نے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کو بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ اعترافی بیان کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے،کہا گیا ہے کہ اعتراف کرو گے تو کم سزا ملے گی، ملزم کے اس بیان پر عدالت نے تفتیشی افسر کی ملزم شیراز کے اعترافی بیان کی درخواست مسترد کردی۔ملزم شیراز نے کہا کہ میں اس کیس کاگواہ ہوں، میرے سامنے ارمغان نے مصطفیٰ کو قتل کیا ہے، جن حالات میں قتل ہوا ، میں مصطفیٰ کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔قبل ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم کو سوچنے کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دے دیا تھا، ملزم نے سوچ سمجھ کر اپنا بیان ریکارڈ کروادیا، جس کے بعد تفتیشی افسر کی ملزم کے اعترافی بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست مسترد کردی گئی۔وقفے سے قبل فاضل جج نے ملزم کو کہا تھا کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے، آپ اچھی طرح سوچ لیں، پھر سوچ سمجھ کر ایک گھنٹے بعد بیان ریکارڈ کروادیں، بعد ازاں جج نے سماعت ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کردی تھی۔مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں ملزم شیراز کو ایک گھنٹے بعد بیان دینے کے لیے پیش کیا گیا تو اس نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ اعترافی بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

رپورٹ ، جئدیو مھیشوری کراچی 


*7 ارب ڈالرز کے قرض پروگرام پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات کا آغاز*

*مذاکرات 14 مارچ تک جاری رہیں گے، جائزے کی کامیابی پر پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی، پاکستان کیلئے تقریباً ایک ارب ڈالر کی کلائمٹ فنانسنگ کا بھی فیصلہ ہوگا۔ حکام*

*بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ* 

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی

4 رکنی ٹیم ڈاکٹر الطاف حسین کی سربراہی میں اڈیالہ جیل پہنچی

ٹیم میں ڈاکٹر عمر فاروق،محمد علی عارف اور تاشفین امتیاز شامل

میڈیکل ٹیم بانی پی ٹی آئی کی طبی معائنہ کرکے اپنی رپورٹ مرتب کرے گی
ڈاکٹروں کی ٹیم آدھ گھنٹہ تک اڈیالہ جیل میں رہی

ڈاکٹروں کی ٹیم نے تقریبا آدھ گھنٹہ بانی پی ٹی آئی کا معمول کا طبی معائنہ کیا۔۔۔


*اقتصادی جائزہ مذاکرات؛ آئی ایم ایف کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں چوری روکنے کا مطالبہ*

*پراپرٹی کی غلط مالیت ظاہر کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی، حکومت کی رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی فعال کرنے کی یقین دہانی*

اسلام آباد: پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کا مطالبہ کردیا ہے، جس پر پاکستان نے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پاکستان اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پہلے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات شروع ہوگئے ہیں اور 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کی اگلی قسط کے حصول کے لیے مذاکرات 15 مارچ تک جاری رہیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں تکنیکی اور دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح کی بات چیت ہو گی۔ آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر حکام نے پراپرٹی کی غلط مالیت ظاہر کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی تیاری بھی کرلی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کیا جائے گا، پراپرٹی کی غلط مالیت ظاہر کرنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں ہوں گی اور رجسٹریشن نہ کرانے والے ایجنٹس پر 5 لاکھ روپے مالیت تک جرمانہ عائد ہوسکے گا۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی 3 سال تک قید کی سزا کا اختیار مل سکتا ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ اتھارٹی غلط معلومات پر ایجنٹ کا لائسنس منسوخ کرسکے گی۔ اتھارٹی کو غلط معلومات دینے پر 2 سے 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اتھارٹی غلط پراپرٹی ٹرانسفر کرنے پر 5 سے 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کرسکتی ہے۔ اسی طرح ریگولیٹری اتھارٹی کو مطلوبہ دستاویز فراہم نہ کرنے پر 2 لاکھ تک جرمانہ عائد ہوسکے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان آنے والا آئی ایم ایف کا وفد آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے تجاویز دے گا۔ اس دوران وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اداروں سے بھی مذاکرات ہوں گے۔ علاوہ ازیں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے الگ الگ مذاکرات ہوں گے۔

آئی ایم ایف وفد پہلے مرحلے میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کرے گا، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی لیول کے مذاکرات ہوں گے۔

*کراچی: آج سحری میں گیس سپلائی مزید بہتر ہوجائے گی، ایم ڈی سوئی سدرن*

کراچی: اتوار کو گھریلو صارفین کے لیے گیس سپلائی میں غیر معمولی کمی کے معاملے پر قائم مقام ایم ڈی سوئی سدرن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر بہتر گیس سپلائی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔

قائم مقام ایم ڈی سوئی سدرن امین راجپوت نے کہا کہ آج سحری میں گیس سپلائی بہتر ہوئی ہے جب کہ کراچی اور دیگر علاقوں میں آج سےگیس سپلائی مزید بہترہوگی۔

دوسری جانب پشاور میں جی ایم سوئی گیس وقاص شنواری نے کہا کہ رمضان میں سحری و افطاری کے اوقات میں صارفین کو گیس فراہم کی جارہی ہے، سحری کےوقت 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ افطار کے وقت 110 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی گئی، تمام علاقوں میں گیس پریشر کا معائنہ کیا گیا، آخری صارف تک گیس کی دستیابی یقینی بنائی گئی، گیس پریشر سے متعلق کسی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔


*‏🚨 آج سے ٹھیک 9 سال پہلے 3 مارچ 2016 کو بھارت کے نیوی کمانڈر کلبھوشن یادیو کو جاسوسی کرتے پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔*

*آئی پی پیز کے پاس مذاکرات نہ کرنے یا ثالثی اور فرانزک آڈٹ کروانے کا آپشن ہے، اویس لغاری*

*بجلی کی قیمتوں کو صارفین بالخصوص صنعت کیلئے مسابقتی سطح تک پہنچائیں گے، وفاقی وزیر کا پاور سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ پارٹنرز کے ساتھ اجلاس*

*’چاند 2 دن کا ہے‘ بنوں میں علما پر تنقید کرنے والے شہری کیخلاف پیکا کے تحت مقدمہ*

پولیس نے بنوں میں علما کے خلاف نامناسب ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر ایک شہری کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماماش خیل کے رہائشی ابرار نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی، جس میں اس نے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کا اعلان نہ کرنے پر علمائے کرام کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالغفار قریشی یہ معاملہ صدر پولیس کے علم میں لائے جس پر قانونی کارروائی شروع کی گئی۔



ایف آئی آر میں شکایت کنندہ مولانا عبدالغفار قریشی نے پولیس کو بتایا کہ ابرار نے ماہ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا اعلان نہ کرنے پر علما کی مذمت کی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ چاند 2 دن کا ہے، بنوں اور پاکستان کے علما نے ہمیں پہلے روزےمریم نواز کی سولر پینل انسٹالیشن پراسیس جلد مکمل کرنے کی ہدایت*

*عوام کو مہنگی بجلی سے ریلیف دینا چاہتے ہیں، مریم نواز*

*فری سولر پینل اسکیم میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے، مریم نواز* سے محروم کردیا ہے۔

ملک کے بالائی علاقوں بھی بارشوں اور پہاروں پر برفباری کا سلسلہ جاری*
 
*بارشوں کا موجودہ سلسلہ آج رات تک برسے گا، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات*
  
*رواں ہفتہ مزید بارشوں کا امکان نہیں،ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات عرفان ورک*

*جڑواں شہروں میں سب سے زیادہ بارش 24 ملی میٹر گولڑہ کے مقام پر ریکارڈ*

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صورتحال ’لبرل عالمی نظام‘ کے زوال پذیر ہونے کا اشارہ ہے مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

’ٹرمپ کی پوتن جیسی سوچ‘ اور ’مغربی عالمی نظام‘ کے خاتمے کا خدشہ
 فروری 2025 میں جرمنی میں مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کے ماسک پہنے ہوئے ہیں ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
،تصویر کا کیپشنفروری 2025 میں جرمنی میں مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کے ماسک پہنے ہوئے ہیں
مضمون کی تفصیل
مصنف,گریگور اتانیسین
عہدہ,بی بی سی پاکستان 
یوکرین پر روس کے باقاعدہ حملے کو تین برس ہو چکے ہیں اور اس دوران امریکہ اور بین الاقوامی اتحادیوں نے روس کے ساتھ ایک ایسے اچھوت جیسا برتاؤ کیا جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب رہا۔

تاہم اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال کو یکسر پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ وہ ماسکو کے ساتھ تعلقات بحال کر رہے ہیں اور روس کو جارح قرار دینے یا یوکرین کو اس جنگ میں مظلوم تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

یہ معاملہ عوامی سطح پر اس وقت اور نمایاں ہوا جب جمعے کے روز صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات میں تناؤ اور کشیدگی نے جنم لیا اور اس دوران یوکرین کی جنگ اور اسے ختم کرنے کے طریقۂ کار پر کھل کر بحث کی گئی۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صورتحال 1990 کی دہائی میں جنم لینے والے ’لبرل عالمی نظام‘ (لبرل ورلڈ آرڈر) کے زوال پذیر ہونے کا اشارہ ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

لبرل بالادستی کا دور
لبرل عالمی نظام دراصل عالمی معاہدوں، اصولوں اور ضوابط پر مبنی ایک بین الاقوامی نظام کی وضاحت کرتا ہے جس کے پیچھے بنیادی نظریہ یہ ہے کہ مغربی لبرل جمہوریت حکومت کا سب سے بہتر ماڈل ہے۔

اس نظام میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ جیسے ادارے، اس کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل شامل ہیں۔

یہ نظام ایک مخصوص سوچ اور روایات کی بھی نمائندگی کرتا ہے مثلا آزادانہ تجارت، جس کی حمایت عالمی تجارتی تنظیم، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ،اور عالمی بینک جیسے ادارے کرتے ہیں۔

اس نظام کے تحت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں یا بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ان فیصلوں کی روشنی میں اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتی ہے یا انتہائی صورت میں فوجی کارروائیوں کی اجازت دے سکتی ہے۔

تاہم اس کے برعکس اکثر پابندیاں اور فوجی کارروائیاں اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر عمل میں لائی جاتی ہیں اور اس پر روس کافی عرصے سے تنقید کرتا رہا ہے۔ سال 2007 میں میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ ’طاقت کے استعمال کو صرف اسی صورت میں جائز سمجھا جا سکتا ہے جب اسے اقوام متحدہ کی منظوری حاصل ہو اور ہمیں اقوام متحدہ کی جگہ نیٹو یا یورپی یونین کو لانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

سنہ 2023 میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی جنگ کو ’آزادی کی بڑی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے اسے اصولوں اور طاقت پر مبنی نظام کے درمیان لڑائی قرار دیا تھا۔

کئی ممالک کے خیال میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ کر کے روس نے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ عالمی نظام کی بھی دھجیاں بکھیر دی۔ 2014 کے بعد سے روسی صدر پوتن نے خود بھی اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے۔

مغربی ممالک کے تناظر میں یوکرین کے خلاف روسی جارحیت سرد جنگ کے بعد قواعد پر مبنی نظام کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر جی جان آئیکن بیری نے فنانشل ٹائمز سے بات چیت میں کہا کہ ’ہم نے نظم و نسق کے تین اہم اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی دیکھی ہے۔‘

’پہلی یہ کہ طاقت کے ذریعے علاقائی سرحدیں تبدیل نہیں کی جاتیں۔ دوسری یہ کہ جنگ میں عام شہریوں کے خلاف تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔ تیسرا یہ کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہیں دی جاتی۔پوتن نے پہلی دو خلاف ورزیوں پر عملاً کام کیا اور تیسری کی دھمکی دی۔ لہٰذا یہ قواعد پر مبنی نظام کے لیے ایک سنگین بحران ہے۔‘

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا موقف ہے کہ مغربی نقطہ نظر میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اداروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

روس نے متعدد بار 1999 میں نیٹو افواج کی یوگوسلاویہ پر بمباری، 2003 میں امریکی قیادت میں عراق پر حملے اور 2008 میں کوسوو کی آزادی کو تسلیم کیے جانے کی مثالیں دی ہیں جنھیں مغربی طاقتوں کے ایسے اقدامات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کیے گئے اور جو روس کے مطابق اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔

جمعے کو صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی ڈرامائی ملاقات،تصویر کا ذریعہREUTERS
،تصویر کا کیپشنجمعے کو صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی ڈرامائی ملاقات جس میں تلخ گفتگو کی گئی
لبرل ورلڈ آرڈر کی سب سے اہم حالیہ مثالوں میں سے ایک امریکہ کا اسرائیل اور حماس تنازع پر مؤقف تھا۔ بہت سے ممالک نے جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کے لیے فوجی حمایت پر سخت تنقید کی اور واشنگٹن پر ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے لاتعلقی برتنے کا الزام لگایا گیا۔

ترکی کی پارلیمان کے سپیکر نعمان کرتلمش نے واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’یہ واضح طور پر منافقت اور دوہرا معیار ہے۔ یہ ایک قسم کی نسل پرستی ہے، کیونکہ اگر آپ فلسطینی متاثرین کو یوکرینی متاثرین کے برابر نہیں سمجھتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ انسانیت کے اندر ایک درجہ بندی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے۔‘

آئیکن بیری اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ’لبرل عالمی نظام بڑی حد تک امریکہ، امریکی ڈالر اور امریکی معیشت سے جڑا ہوا تھا۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے زیادہ نیٹو اور اتحادیوں پر مشتمل تھا۔‘

ان کے مطابق اسے امریکہ کی ’لبرل بالادستی‘ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

امریکہ: عملداری سے انتشار تک
 صدر بائیڈن مارچ 2022 میں وارسا میں خطاب کرتے ہوئے،تصویر کا ذریعہREUTERS
،تصویر کا کیپشنصدر بائیڈن مارچ 2022 میں وارسا میں خطاب کرتے ہوئے
وہ ممالک جو موجودہ عالمی قوانین کو چیلنج کرتے ہیں انھیں روایتی طور پر ’ترمیم پسند طاقتیں یا ریاستیں‘ کہا جاتا ہے۔ امریکی قانون ساز اور تجزیہ کار بہت برسوں سے چین اور روس کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرتے رہے ہیں اور یہ دلیل دیتے رہے کہ دونوں ممالک عالمی سطح پر امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

پروفیسر آئیکن بری کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ خود ایسی ریاست بن رہا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ عالمی تجارت اور اتحاد سے لے کر جمہوری یکجہتی اور انسانی حقوق کے تحفظ تک ’لبرل ورلڈ آرڈر‘ کے تقریباً ہر پہلو کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ’میری انتظامیہ ماضی کی ناکام خارجہ پالیسی، گذشتہ انتظامیہ کی ناکامیوں اور ماضی سے فیصلہ کن دوری اختیار کر رہی ہے۔‘

ان کی انتظامیہ کی جانب سے دیگر سخت گیر چیزوں کے متعارف کروائے جانے کے ساتھ ساتھ یہ تبدیلی کانگریس اور عدلیہ کے لیے بہت مشکل ہو گی کیونکہ وزارت خارجہ براہ راست صدر کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

ٹرمپ زیلنسکی تکرار کے بعد یورپی ممالک کی یوکرینی صدر کی حمایت لیکن پھر بھی امریکہ سے عسکری امداد کی خواہش کیوں؟
1 مار چ 2025
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات تکرار میں کیسے بدل گئی اور اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
1 مار چ 2025
صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ ’گولڈ کارڈ‘ سکیم کیا ہے جس کے تحت امریکی شہریت حاصل کی جا سکتی ہے
27 فروری 2025
غزہ میں رقص کرتے ٹرمپ، بکنی میں ملبوس مرد اور بلند عمارتیں: امریکی صدر کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیو پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
27 فروری 2025
امریکی مفادات کا حوالہ دے کر ٹرمپ انتظامیہ نے روس کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے اقدام کو جائز ٹھہرایا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تنازع روس، یوکرین اور یورپ کے لیے نقصان دہ ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ امریکہ کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

تاہم ٹرمپ کی سفارتی پالیسی امریکی عوام میں سب سے کم مقبول رہی ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی شہریوں کی ترجیح ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی ہے جبکہ ٹرمپ کے روس یوکرین جنگ اور اسرائیل فلسطین تنازع پر مؤقف کو عوام میں بہت کم حمایت حاصل ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دو تہائی سے زیادہ امریکی یوکرین کو اتحادی سمجھتے ہیں اور تقریباً نصف یوکرینی صدر زیلنسکی کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کی سفارتی ہلچل
غزہ میں تباہ حال مکانات،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
،تصویر کا کیپشننیٹو کے شراکت داروں سمیت کئی ممالک نے امریکہ پر فلسطینیوں کے بارے میں منافقت اور بے حسی کا الزام لگایا
یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں روسی اور یوریشین سٹڈیز کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر جولی نیوٹن کا کہنا ہے کہ ’فروری 2025 میں اب وہ امریکہ ہی ہے جس نے قواعد پر مبنی عالمی نظام کو خطرے میں ڈالا ہے۔ ‘

اس کی مثال وہ ٹرمپ کے یوکرین کے وسائل پر کنٹرول کے مطالبات، روس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں، صدر زیلنسکی پر ٹرمپ کے کھلے حملے، اور یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے ان کے اتحادیوں کی حمایت سے دیتی ہیں۔

24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے تین سال مکمل ہونے پر امریکہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اُس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جس میں روسی جارحیت اور یوکرینی سرزمین پر روسی قبضے کی مذمت کی گئی تھی۔

اس کے بجائے امریکی سفارت کاروں نے ایک بیان میں روس یوکرین تنازع میں جانوں کے ضیاع پر محض افسوس کا اظہار کیا گیا۔

اسی دوران ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان معاشی تعلقات بحال کرنے کے لیے روسی صدر پوتن کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جولی نیوٹن کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کی سفارتی پالیسی ’ہیلسنکی چارٹر‘ کے اصولوں کو تباہ کر رہی ہے اور امریکہ کو اپنے ہی اتحادیوں کی نظر میں ایک مخالف کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ ہیلسنکی معاہدہ 1975 میں امریکہ، سوویت یونین اور یورپی ممالک کے درمیان طے پانے والا معاہدہ تھا جس کا مقصد علاقائی سالمیت، ممالک کی سرحدوں کو نہ چھیڑنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کو مضبوط کرنا تھا۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے روسی امور کے ماہر سرگئی راڈچینکو کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ’ٹرمپ پوتن کی ہی طرح سوچتے ہیں جیسے 19ویں صدی کے سامراجی حکمران سوچا کرتے تھے۔‘

سرگئی راڈ چینکو مزید کہتے ہیں کہ ’یورپ کے پاس روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے مضبوط معیشت اور مالیاتی ذرائع موجود ہیں۔ ٹرمپ پوتن کے ساتھ مذاکرات کو جتنا بھی آگے لے جائیں، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ یورپی ممالک بھی اسی طرح روس کے ساتھ تعلقات معمول پر لے آئیں گے۔‘

اٹلانٹک کونسل کے یوریشیا سینٹر کی شیلبی ماگڈ کے مطابق ’لبرل عالمی نظام‘ کے خاتمے کا اعلان ابھی قبل از وقت ہوگا۔ امریکہ کی روس پر پابندیاں اب بھی برقرار ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ انھیں صرف اسی صورت میں ہٹایا جائے گا جب روس جنگ ختم کرے گا۔

شیلبی ماگڈ کے مطابق ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ وقت سے پہلے اور خطرناک حد تک تعلقات کو معمول پر لانے کا امکان موجود ہے لیکن ہم ابھی مکمل طور پر وہاں نہیں پہنچے۔‘

’آخرکارعالمی نظام پر دیرپا اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جنگ کس طرح ختم ہوتی ہے اور امن کیسے نافذ کیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ اس نتیجے تک کیسے پہنچا جاتا ہے۔‘

اتوار، 2 مارچ، 2025

*وزیراعلیٰ کے پی سے افغان قونصل جنرل کی ملاقات، سرحد جلد ازجلدکھولنے پر اتفاق*

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی) علی امین گنڈاپور سے افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر نے ملاقات کی جس میں رمضان اور عیدالفطر کے پیش نظر سرحدکو جلد سے جلد کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں باہمی تجارت کےفروغ اور صوبے میں مقیم افعان شہریوں کو درپیش مسائل بھی زیرغور آئے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحدکو جلدکھولنےکی ضرورت ہے، اس کے لیے افغان سفارتخانہ اپنا کردار ادا کرے۔

*فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی معطلی ختم کردی*

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کی معطلی ختم کردی ہے۔

فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔فیفا نے پی ایف ایف کانگریس کی جانب سے آئینی ترامیم منظور ہونے کے بعد پاکستان کی معطلی ختم کی ہے۔

پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی کے رکن شاہد کھوکھر کے مطابق پی ایف ایف کانگریس کے اجلاس میں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد معطلی ختم ہوئی، پاکستان فٹبال فیڈریشن کی مسلسل سپورٹ پر فیفا اور اے ایف سی کے شکرگزار ہیں۔

*ٹل پاراچنار مرکزی شاہراہ 153 روز بعد بھی نہ کھل سکی، شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ*

ضلع کرم میں ٹل پاراچنار مرکزی شاہراہ کو بند ہوئے 153 روز گزرگئے ہیں تاہم حکومت اب تک شاہراہ نہ کھلواسکی۔

کھانے پینے کی اشیاء، پیٹرول اور ادویات کی قلت سے لوگ پہلے ہی پریشان تھے، رمضان المبارک میں روزہ داروں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، پاراچنار کے شہریوں نے جگہ جگہ احتجاج شروع کردیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ خوراک نہ ملنے سے پہلے سے ہی پریشان تھے اور اب سحر و افطار بھی صرف پانی سے کررہے ہیں۔

ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار اور نواحی علاقوں میں سحری کے وقت بجلی کی بندش نے بھی لوگوں کی مشکلات بڑھادی ہیں۔


*بجلی کی بحالی کے بعد کراچی کو پپری پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی فراہمی شروع*

کراچی واٹر کارپوریشن کے پپری پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی بحالی کے بعد شہر کو پانی کی فراہمی شروع ہوگئی۔

ترجمان واٹر کارپوریشن نے اپنے جاری ایک اعلامیہ میں بتایا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے پپری پمپنگ اسٹیشن پر 3 بج کر 35 منٹ پر اچانک بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا جس کے باعث پپری پمپنگ اسٹیشن کی تمام پمپنگ مکمل طور پر بند ہوگئی۔

تاہم پپری پمپنگ اسٹیشن کی بجلی 7 بج کر 35 منٹ پر بحال ہوئی جس کے بعد پپری سے شہر کو پانی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث شہر کو ٹوٹل 35 ایم جی ڈی پانی کی کمی کا سامنا ہوا جس کی وجہ سے لانڈھی کورنگی شاہ فیصل بن قاسم اور ڈی ایچ اے کے علاقے متاثر ہوں گے۔

ترجمان کےالیکٹرک کا کہناہے کہ پپری اسٹیشن پر آنے والے جزوی تعطل پر کے الیکٹرک عملے نے فوری کارروائی کی، فالٹ شام میں آیا جسے افطار کے فوراً بعد درست کر کے بجلی مکمل بحال کر دی گئی ہے۔


*حکومتی دعوے دھرے کے دھرے، کراچی کے مختلف علاقوں میں سحر و افطار کے وقت گیس غائب*

کراچی: ماہ رمضان کی پہلی سحری کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی سحر و افطار کے وقت بند رہی، حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے شہریوں کو سحری کے وقت کھانا پکانے میں مشکلات پیش آئیں۔

تفصیلات کے مطابق ملیر رفاع عام سوسائٹی، ناظم آباد، گلبہار اور رنچھوڑ لائن جیسے علاقوں میں گیس غائب تھی جس سے سحری کے اوقات میں شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، افطار سے قبل ایل پی جی کی دکانوں پر شہریوں کا رش لگا رہا ،گیس سے محروم علاقوں کے مکینوں نے بازار سے اشیاء خرید کر روزہ افطار کیا۔

ایس ایس جی سی نے رمضان میں رات 3 بجے سے صبح 9 بجے تک گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر اس کے باوجود سحر و افطار کے اوقات میں گیس کی فراہمی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ شہریوں نے ایس ایس جی سی سے مزید اقدامات کی توقع کی ہے تاکہ رمضان میں گیس کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے اور عوام کو اس پریشانی سے نجات مل سکے۔

 رمضان کے مہینے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو سحری اور افطاری کے اوقات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عزیز آباد، حسین آباد، دستگیر، واٹر پمپ، انچولی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، گلزار ہجری، ملیر جعفر طیار سوسائٹی، لیاقت اسکوائر، جناح اسکوائر، ایف ساؤتھ، جی ایریا، اردو نگر، کھوکرا پار اور دیگر علاقوں میں گیس کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔


*وزیر اعظم نے سحر و افطار میں گیس کی عدم فراہمی پر نوٹس لے لیا*

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ماہ رمضان کے دوران سحر و افطار میں گیس کی فراہمی میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعظم نے اس حوالے سے رات گئے ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں سوئی کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز اور سینئر انتظامیہ کے ساتھ سحر و افطار میں گیس کی فراہمی کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

وزیر اعظم کی ہدایات پر سوئی سدرن گیس کمپنی نے فوری طور پر گیس پریشر میں 10 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ گیس ڈسٹریبیوشن مراکز کے آخری سروں پر واقع علاقوں میں سحری اور افطار کے اوقات سے 30-45 منٹ پہلے گیس کی فراہمی شروع کر دی جائے گی، جس سے ان علاقوں میں گیس کے پریشر میں بہتری آئے گی۔

سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی ترسیل کے نظام کی نگرانی کے لیے ہیڈ آفس اور ریجنل دفاتر میں کنٹرول رومز بنانے کا اعلان بھی کیا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر گیس کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ گیس کے کم پریشر کی شکایات کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔


*💫خبروں کی تفصیل💫*پیر2؍رمضان المبارک 1446ھ 3؍مارچ 2025ء*🌟آج کا اخبار اہم خبریں🌟*

رمضان میں مہنگائی، وزیراعظم برہم، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے کنٹرول کے حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں، شہباز شریفیوکرین تنازع پر مغرب تقسیم، یورپ عالمی اتحاد اور دفاعی اخراجات بڑھانے پر متفق، ٹرمپ کو دکھائیں گے امریکا کے بغیر بھی براعظم کا دفاع کرسکتے ہیں، یورپی رہنماایران، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی، وزیر خزانہ کا مواخذہ، عہدے سے برطرفدہشتگردی کے پیچھے منظم گٹھ جوڑ، مخصوص عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے، آرمی چیفسینئر بیوروکریسی میں ترقی کا عمل دو سال سے تعطل کا شکار، گریڈ 22 کی 40 اسامیاں خالیوزیراعظم کے مشیر محمد علی کو نجکاری کا قلمدان دیئے جانے کا امکانبھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے 9 سال مکملنیلم جہلم پلانٹ مئی 2024ء سے بند، وزیراعظم کی طرف سے کمیٹی تشکیلوزیراعظم سے بلاول بھٹو زرداری کی آج ملاقات کا امکاندنیا کا طویل روزہ سویڈن و ناروے میں ساڑھے 20 گھنٹے کا ہےاسرائیل نے غزہ کیلئے امداد پھر معطل کردی، بمباری میں 4 فلسطینی شہیدکرم، امن و امان صورتحال معمول پر نہ آسکی، ٹل پارا چنار شاہراہ 5 ماہ سے بند، پٹرول 12 سو روپے لٹر فروختپبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب‘ بزدار دور میں کرپشن کے 18 کیسز کی تحقیقات کا حکموزیراعظم رواں ہفتہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کی ایڈوائس ارسال کرینگےاگنائٹ ویب سائٹ کو ایک سے زائد ہیکرز نے مختلف ممالک سے نشانہ بنایاخودکش بمبار نے بارودی مواد سے بھری گاڑی قافلے سے ٹکرا دی، 2 جوان شہید، 2 شہریوں سمیت 10 زخمیدوبارہ 12 اکتوبر مسلط نہ ہوا تو معاشی بحران سے چھٹکارا پا لیں گے، رانا ثناءکوریا، سینیگال، سعودیہ سمیت 8 ممالک سے مزید 40 پاکستانی بے دخلمہمند ڈیم ہائیڈرو پاورمنصوبے کے پی سی ون پر نظرثانی کا عمل شروعامریکا، پہلی بار نجی کمپنی کے خلائی جہاز کی چاند پر کامیاب لینڈنگاپوزیشن اتحاد میں مزید جماعتوں کو شامل کرنے پر اتفاقوفاقی کابینہ میں توسیع کے بعد اب مزید اہم فیصلوں کی تیاریکمپنی صرف عید اور عیدالاضحی سرکاری طور پر مناتی ہے، رمضان نہیں۔NIRC کا بڑا اقدام، کیسز کی تیز سماعت کیلئے جدید ڈیجیٹل سسٹم متعارفپاکستان کا مسئلہ اخلاقی، ہم بہت سے بحرانوں کا شکار ہیں، بیرسٹر ظفرپرویز خٹک کی کابینہ شمولیت پر لیگی رہنماؤں نے تحفظات ظاہر کئے، اختیار ولینئی سڑک کی تعمیر، مجاہد کالونی ناظم آباد میں 11 سو مکانات توڑے جاچکےفروری میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہشہر میں ہیوی ٹریفک نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی، ٹریفک حادثات میں 2 ہلاکوزیراعلیٰ کو ارسال سمری میں نامزد امیدواروں میں کسی کو تعلیمی بورڈ کا تجربہ نہیںحکومت اپوزیشن اتحاد کیخلاف ثابت قدم رہے گی، عرفان صدیقیمری بلک واٹر اسکیم ختم کرنے کا فیصلہ، ساز و سامان کے تخمینہ کیلئے کمیٹی قائمیو اے ای ہلال احمر کی جانب سے ہزاروں خاندانوں میں افطار دستر خوان کا انعقاد جاریبھارت، 80 فیصد سے زائد آئی ٹی ملازمین چکنائی والے جگر کی بیماری میں مبتلاگیس کی بندش، شہری بناء سحری روزہ رکھنے پر مجبورسولر ہوم سسٹم کی تقسیم کے حوالے سے تقریب، شرجیل میمن کی شرکتبنگلہ دیش نے بھارتی اخبار کی خبر کو جھوٹی قرار دیکر مسترد کردیاافغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے جرگہ تشکیل دیدیا، گنڈاپور، افغانوں کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہگجرات، مسلح افراد کی گاڑی پر فائرنگ، 6 افراد جاں بحق11 مارچ سے 15 اپریل تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 9 اجلاس ہونگےکراچی ایئرپورٹ پر امریکی شہری سمیت 44 مسافر ایک دن میں آف لوڈسعودی عرب کا یمن میں ملیریا سے نمٹنے کے پروگرام کا دوسرا مرحلہرابطہ کمیٹی معطل ہے تحلیل نہیں، خالد مقبول کا انکشافسعودی عرب سے 4 سال بعد وطن واپس لوٹنے والا شہری پولیس سے لٹ گیاشہتاج فاروقی انتقال کر گئیںامداد کی بندش کے بعد این جی او کا امریکی اخبار میں بڑا اشتہاراسٹیل ملز ملازمین کا نیشنل ہائی وے پر 7 گھنٹے احتجاج، ٹریفک کا نظام درہم برہمحکومت کا 130 روپے کلو چینی کا وعدہ دھرا رہ گیا، عوام 160 روپے خریدنے پر مجبورفائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی میں مشکلاتاینٹی بائیوٹک مزاحمت ٹائم بم، پاکستان میں سالانہ 59 ہزار اموات کا سبب، ماہرینکراچی، ڈمپرز میں کیمرے اور ٹریکر لگانے کیلئے 15 دن کی مہلتزکوٰۃ کی کٹوتی کیلئے تمام بینک آج بندرہیں گے‘ اسٹیٹ بینکسر سید یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منور حسین عہدے سے برطرفپنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی افسران کا خصوصی تربیتی کورس مکملعطامحمدمحمداسلم جئدیو مھیشوری اسلام آباد ٹو کراچی 

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...