Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
ہفتہ، 12 اپریل، 2025
عمرکوٹ : ضلع عمرکوٹ ضمنی انتخاب فول پروف حفاظتی و انتظامی اقدامات کے حوالے سے سیکیورٹی ڈیوٹی پلان جاری کردیا گیا ۔۔۔ مجموعی طور پر 4200 پولیس آفیشلز الیکشن ڈیوٹی انجام دینگے۔رپورٹ : انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف بی بی سی پاکستان تفصیلات : BBC PK Umer Kot
مرتب : انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان عمان نے گوادر انڈیا کو بیچنے کی کوشش کی تھی لیکن جواہر لعل نہرو نے یہ آفر مسترد کردی تھی ۔ BBC PK
آج انڈیا میں اس وجہ سے نہرو پر سب سے زیادہ تنقید کی جاتی ہے۔1783ء میں عمان کے سلطان بیدخل ہوکر یہاں آئے۔ خان آف قلات نے گوادر ان کو بطور جاگیر دے دیا۔سلطان نے جب عمان میں سلطنت واپس حاصل کی تو گوادر کو عمان میں شامل کرلیا۔یوں گوادر تقریباً 175 سال تک عمان کے پاس رہا۔ عمانی حکومت یہاں سے نہ صرف ٹیکس وصول کرتی تھی بلکہ اس کا گورنر، انتظامیہ اور فوجی عملہ بھی عمانی ہی ہوتے تھے۔ گوادر میں عمانی کرنسی چلتی تھی اور لوگ عمان کے شہری کہلاتے تھے۔یہ قبضہ برطانوی راج کے زمانے میں بھی برقرار رہا کیونکہ برطانوی حکومت نے عمانی سلطنت کے اس قبضے کو تسلیم کیا ہوا تھا۔جب پاکستان بنا تو پھر ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوا جب پاکستان نے عمان سے رابطہ کیا تو عمان کا جواب حیران کن تھا,اس سے پہلے 1950ء کے عشرے میں جب پاکستان بن چکا تھا، تو عمانی حکومت نے مالی مشکلات کے باعث گوادر کو فروخت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمان نے گوادر سب سے پہلے بھارت کے اُس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔لیکن نہرو نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ بھارتی مؤرخ ایس جی جسوال اپنی کتاب "Indian Ocean and India's Security" میں لکھتے ہیں کہ:"نہرو کی حکومت گوادر کو بھارت کا حصہ بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی کیونکہ وہ اس خطے کو اسٹریٹجک اہمیت دینے کے حق میں نہیں تھے۔"پاکستان نے 4 سال طویل مذاکرات کے بعد گوادر خریداپاکستان نے 1954 میں باقاعدہ طور پر عمان سے گوادر کے حصول کیلئے مذاکرات کا آغاز کیا۔ یہ مذاکرات انتہائی پیچیدہ اور صبر آزما تھے کیونکہ عمان ابتدائی طور پر گوادر کی قیمت بہت زیادہ مانگ رہا تھا۔بالآخر 8 ستمبر 1958 کو پاکستان اور سلطنت عمان کے درمیان معاہدہ طے پایا اور پاکستان نے 3 ملین برطانوی پاؤنڈز کے عوض گوادر خرید لیا۔ اُس وقت کے وزیر خارجہ فیروز خان نون نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔اگر موجودہ کرنسی ریٹ کے مطابق اس رقم کا اندازہ لگایا جائے تو یہ رقم آج کے دور میں تقریباً ساڑھے پانچ ارب پاکستانی روپے سے زائد بنتی ہے۔ اُس زمانے میں یہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کیلئے ایک بڑی ادائیگی تھی لیکن اس کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت نے اس خریداری کو تاریخ کے بہترین سودوں میں تبدیل کردیا۔3 اکتوبر 1958 کو گوادر کو باقاعدہ پاکستان کا حصہ قرار دے دیا گیا۔ پاکستان کی نیوی نے یہاں کنٹرول سنبھالا اور رفتہ رفتہ اسے بلوچستان میں ضم کردیا گیا۔ گوادر کے عوام نے خوشی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی کیونکہ اُن کے قبائلی، لسانی اور ثقافتی رشتے پہلے ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں سے جڑے ہوئے تھے۔آج گوادر نہ صرف پاکستان کا اہم ترین بندرگاہی شہر ہے بلکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) اور دنیا کے بڑے تجارتی منصوبوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں گوادر پورٹ، انٹرنیشنل ایئرپورٹ، فری زون، اور ایکسپریس ویز جیسے منصوبے مستقبل میں پاکستان کی معیشت کا چہرہ بدل سکتے ہیں۔گوادر کی وہ زمین جو ایک وقت میں غیر ملکی سلطنت کے پاس تھی، آج پاکستان کے ہاتھ میں ایک انمول اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔حوالہ جاتGazetteer of the Persian Gulf by J.G. LorimerIndian Ocean and India's Security by S.G. JassalDawn Newspaper Archives, 9 September 1958Ministry of Foreign Affairs, Government of Pakistan, Archives 1958منقول
"کاش کے وہ جہالت پھر لوٹ آئے "ہم نے جب اپنے معاشرے میں آنکھ کھولی تو ایک خوبصورت جہالت کا سامنا ہوا ۔ MIAN KHUDABUX ABBASI BBC PK News
ہمارا گاوں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں سے تومحروم تھا لیکن اطمینان اس قدر تھا جیسے زندگی کی ہر سہولت ہمیں میسر ہو ۔ کائنات کی سب سے خوبصورت چیز جو میسر تھی وہ تھی محبت ۔ کوئی غیر نہیں تھا سب اپنے تھے ۔ نانیال کی طرف والے سب مامے، ماسیاں، نانے نانیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ددیال کی طرف والے سارے چاچے چاچیاں، پھوپھیاں دادے دادیاں ہوا کرتی تھیں ۔۔ یہ تو جب ہمیں نیا شعور ملا تو معلوم پڑا کہ وہ تو ہمارے چاچے مامے نہ تھے بلکہ دوسری برادریوں کے لوگ تھے ۔ ہمارے بزرگ بڑے جاہل تھے کام ایک کا ہوتا تو سارے ملکر کرتے تھے ۔ جن کے پاس بیل ہوتے وہ خود آکر دوسروں کی زمین کاشت کرنا شروع کر دیتے ۔ گھاس کٹائی کے لیے گھر والوں کو دعوت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی بلکہ گھاس کاٹنے والے خود پیغام بھیجتے کہ ہم فلاں دن آ رہے ہیں ۔ پاگل تھے گھاس کٹائی پر ڈھول بجاتے اور اپنی پوری طاقت لگا دیتے جیسے انہیں کوئی انعام ملنے والا ہو ۔ جب کوئی گھر بناتا تو جنگل سے کئی من وزنی لکڑ دشوار راستوں سے اپنے کندھوں پر اٹھا کے لاتے پھر کئی ٹن مٹی چھت پر ڈالتے اور شام کو گھی شکر کے مزے لوٹ کر گھروں کو لوٹ جاتے ۔جب کسی کی شادی ہو تو دولہے کو تو مہندی لگی ہی ہوتی تھی باقی گھر والے بھی جیسے مہندی لگائے ہوں کیونکہ باقی جاہل خود آکر کام کرنا شروع کر دیتے ۔ اتنے پاگل تھے کہ اگر کسی سے شادی کی دوستی کر لیں تو اسے ایسے نبھاتے جیسے سسی نے کچے گڑھے پر دریا میں چھلانگ لگا کر نبھائی ۔۔ مک کوٹائی( مکئی) ایسے ایک ایک دانہ صاف کرتے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے بال سنوارے ۔کتنے پاگل تھے کنک (گندم) گوائی پر تپتی دھوپ میں بیلوں کے ساتھ ایسے چکر کاٹتے جیسے کوئی سزا بھگت رہے ہوں ۔ اگر کوئی ایک فوت ہو جاتا یا جاتی تو دھاڑیں مار مار کر سب ایسے روتے کہ پہچان ہی نہ ہو پاتی کہ کس کا کون مرا ۔۔ دوسرے کے بچوں کی خوشی ایسے مناتے جیسے انکی اپنی اولاد ہو ۔۔ اتنے جاہل تھے کہ جرم اور مقدموں سے بھی واقف نہ تھے ۔ لیکن پھر وقت نے کروٹ بدلی اب نئی جنریشن کا دور تھا کچھ پڑھی لکھی باشعور جنریشن کا دور جس نے یہ سمجھنا اور سمجھانا شروع کیا کہ ہم بیشک سارے انسان ہوں بیشک سب مسلمان بھی ہوں لیکن ہم میں کچھ فرق ہے جو باقی رہنا ضروری ہے ۔ وہ فرق برادری کا فرق ہے قبیلے کا فرق ہے رنگ نسل کا فرق ہے ۔ اب انسان کی پہچان انسان نہ تھی برداری تھی قبیلہ تھا پھر قبیلوں میں بھی ٹبر تھا ۔ اب ہر ایک ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میرا مرتبہ بلند ہے اور میری حثیت امتیازی ہے ۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ دوسرے کو کم تر کہے اور سمجھے ۔ اب ہر کوئی دست و گریباں تھا اور جو کوئی اس دوڑ میں شامل نہ ہوا تو وہ زمانے کا بزدل اور گھٹیا انسان ٹھہرا ۔ اب گھر تو کچھ پکے اور اور بڑے تھے لیکن پھر بھی تنگ ہونا شروع ہو گے ۔ وہ زمینیں جو ایک دوسرے کو قریب کرتی تھیں جن کا پیٹ چیر کر غلہ اگتا تھا جس کی خوشبو سے لطف لیا جاتا تھا اب نفرت کی بنیاد بن چکی تھیں ۔ شعور جو آیا تھا اب ہر ایک کو پٹواری تحصیلدار تک رسائی ہو چلی تھی اور پھر اوپر سے نظام وہ جس کا پیٹ بھرنے کو ایک دوسرے سے لڑنا ضروری تھا ۔ اب نفرتیں ہر دہلیز پر پہنچ چکی تھیں ہم اپنی وہ متاع جسے محبت کہتے ہیں وہ گنوا چکے تھے ۔ اب انسانیت اور مسلمانیت کا سبق تو زہر لگنے لگا تھا اب تو خدا بھی ناراض ہو چکا تھا ۔پھر نفرتیں اپنے انجام کو بڑھیں انسان انسان کے قتل پر آمادہ ہو چلا تھا ۔ برتری کے نشے میں ہم گھروں کا سکون تباہ کر چکے تھے ہم بھول چکے تھے کہ کائنات کی سب سے بڑی برتری تو اخلاقی برتری ہوتی ہے ۔ اب اخلاق سے ہمارا تعلق صرف اتنا رہ چکا تھا کہ صرف ہمارے گاوں کے دو بندوں کا نام اخلاق تھا لیکن ہم نے ان کو بھی اخلاق کہنا گوارہ نہ کیا ایک کو خاقی اور دوسرے کو منا بنا دیا ۔۔۔ اب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے کی وجہیں ڈھونڈنے میں لگے تھے ۔ پھر قدرت نے بھی معاف نہ کیا اس نے بھی ہمیں موقع دے دیا ۔ مار دھاڑ سے جب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے میں ناکام ہوئے تو بات قتل پر آ گئی ۔ اب ایک تسلسل سے یہ عمل جاری ہے ۔ اب تو ہم اخباروں اور ٹی وی کی زینت بھی بن گے ۔ اب شاید ہی کوئی ایسا دن ہو گا جس دن عدالتوں میں ہمارے گاؤں کا کوئی فرد کھڑا نہ ہو ۔ ایف آئی آر اتنی ہو چکی کہ اب ڈھونڈنا پڑتا ہیکہ کیا ہمارے گاؤں کا کوئی ایسا فرد بھی ہے جس پر کوئی کیس نہ ہو ۔ اب ان جاہل بزرگوں میں سے کم ہی زندہ ہیں جو زندہ ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ان میں سے اگر کوئی مرتا ہے تو دوسرا اس کا منہ دیکھنے کی خواہش کرتا ہے لیکن ہم باشعور لوگ اسے یہ جاہلانہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اس سے ہماری توہین کا خدشہ درپیش ہے ۔۔ ان نفرتوں نے صرف انسان ہی نہیں پانی ، سکول اور مسجدیں بھی تقسیم کر دیں۔ اب تو اللّه کے گھر بھی اللّه کے گھر نہیں رہے ۔ ہر کوئی اندر سے ٹوٹ چکا ہے لیکن پھر بھی بضد ہے ۔ وہ نفرت کا اعلاج نفرت سے ہی کرنا چاہتا ہے ۔ اب محبت کا پیغام برادری قبیلے سے غداری سمجھا جاتا ہے ۔ اب دعا بھی صرف دعا خیر ہوتی ہے دعا خیر کا ایک عجب مفہوم نکال رکھاہے ۔ ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار کر کے اس کیساتھ مکمل بائیکاٹ کا نام دعا خیر رکھ دیا گیا ہے ۔ لیکن ۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ؟کیا ہی اچھا ہو اگر ہم آج بھی سنبھل جائیں اپنے اندر کی ساری نفرتیں مٹا کر دوسرے کے حق میں دعا کرنے کی کڑوی گولی کھا لیں ۔ پھر ممکن ہے اللّه بھی معاف فرما دے اور ہم اس نفرت کی آگ سے نکل آئیں تاکہ کوئی بچہ یتیم نہ ہو کسی اور کا سہاگ نہ اجڑے کسی اور کی گود خالی نہ ہو ۔ تاکہ ہم زندگی جیسی قیمتی نعمت کو جی سکیں اس کائنات کے حسن سے لطف اندوز ہو سکیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکیں کہ وہ شعور ، عمل و کردار کی ان بلندیوں پر جائیں کہ وہ خوبصورت جہالت پھر لوٹ آئے جس نے انسانوں کو اعلی اخلاق کے درجے پر کھڑا کر رکھا تھا پیار اور محبت اُس دور کی بات ہے فراز جب مکان کچے اور لوگ سچے ہوا کرتے تھے
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے:"! MIAN KHUDABUX ABBASI
کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!"بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا:"کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟"چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے:"کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!"بوڑھا کسان پھر مسکرایا:"کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟"اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔گاؤں والے پھر آئے:"کتنی بدقسمتی ہے!"کسان نے پھر وہی جواب دیا:"کیا معلوم؟"کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج میں لے جایا گیا۔ مگر کسان کا بیٹا چونکہ زخمی تھا، اس لیے بچ گیا۔اب گاؤں والے بولے:"واقعی! تمھاری قسمت تو بہت اچھی نکلی!"بوڑھا کسان صرف مسکرا دیا۔🌟 سبق:زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ فوراً اچھا یا برا نظر آ سکتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ پتہ چلتا ہے کہ ہر واقعہ کسی بڑی حکمت کا حصہ ہوتا ہے۔ صبر، شکر اور امید کو کبھی نہ چھوڑیں۔اگر آپ کو ہماری یہ کاوش پسند آئی ہو تو 👍 لائک اور 🔄 شیئر ضرور کریں، اور 🔔 چینل سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*
پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...