منگل، 13 مئی، 2025

*انڈیا پاکستان کشیدگی کے دوران ’انفارمیشن وار‘ اور وہ فوجی اہلکار جو اس ’جنگ‘ کا چہرہ بن گئے**بی بی سی اردو کی رپورٹ*BBC PK News Islamabad Report

سات مئی کو انڈیا کی جانب سے پاکستان میں کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کی ابتدائی تفصیلات بتانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں دیگر حکام کے علاوہ انڈین مسلح افواج کی دو خواتین افسران بھی شامل تھیں۔اس ابتدائی پریس بریفنگ کے بعد یہ سلسلہ نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان کی جانب سے بھی چل نکلا اور گذشتہ پانچ روز کے دوران لگ بھگ روزانہ کی بنیاد پر انڈیا اور پاکستان میں فوجی حکام کی جانب سے اس نوعیت کی پریس بریفنگز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا رہا جن میں دونوں ممالک کی فوجی ترجمانوں کے علاوہ ان افسران کو بھی سٹیج پر جگہ دی گئی جو فوجی کارروائیوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے رہے۔ان اہلکاروں میں انڈین بری فوج کی کرنل صوفیہ قریشی ہوں یا انڈین فضائیہ کی ونگ کمانڈر ومیکا سنگھ یا پاکستان ایئرفورس کے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد اور ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کسی نہ کسی طرح دونوں ممالک کے سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔اب جبکہ سیز فائر ہو چکا ہے تو دونوں ملکوں میں ’انفارمیشن وارفیئر‘ کے بارے میں بات بھی ہو رہی ہے اور دونوں اطراف سے کی گئی پریس بریفنگز اور دعوؤں کو پرکھا جا رہا ہے۔اس رپورٹ میں بی بی سی نے ان افسران کے فوجی کریئر کے بارے میں تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہے۔ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمدپاکستان کی جانب سے منعقد کی گئی پریس بریفنگز میں پاکستانی فضائیہ کی کارروائیوں کی تفصیلات ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کی جانب سے بتائی جاتی ہیں اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر ان کی بریفنگ سے لیے گئے بہت سے کلپس بھی وائرل ہیں۔پاکستان ایئرفورس کے ترجمان نے بی بی سی اُردو کی منزہ انوار کو بتایا کہ ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے دسمبر 1992 میں پاکستان ایئر فورس کے جی ڈی (پی) برانچ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔پاکستان ایئرفورس کے ترجمان کے مطابق اپنے کیریئر کے دوران ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے فائٹر سکواڈرن اور ایک آپریشنل ایئربیس کی کمانڈ کی ہے۔ وہ ایئر ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں اسسٹنٹ چیف آف ایئر سٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈویلپمنٹ) کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔فضائیہ کے ترجمان کے مطابق اُن کے پاس چین سے ملٹری آرٹس میں ماسٹرز کی ڈگری اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سکیورٹی اینڈ وار سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری ہے۔ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈائریکٹنگ سٹاف اور فیکلٹی ممبر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔پاکستان ایئر فورس کے ترجمان کے مطابق انھوں نے سعودی عرب میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس ٹیم کے کمانڈر کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دی ہیں جبکہ وہ ڈی جی پی آر ایئر فورس اور ڈی جی وارفیئر اینڈ سٹریٹیجی کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔اورنگزیب احمد اِس وقت ایئر ہیڈکوارٹر میں ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف (آپریشنز) کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ماضی میں انھیں ستارہ امتیاز (ملٹری) سے بھی نوازا گیا تھا۔کرنل صوفیہ قریشیانڈین ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والی کرنل صوفیہ قریشی انڈین بری فوج کی افسر ہیں اور وہ پہلی مرتبہ خبروں میں سنہ 2016 میں اس وقت آئی تھیں جب انڈیا کے شہر پونے میں کثیر القومی فیلڈ ٹریننگ مشقوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔'فورس 18' کے نام سے ہوئی ان مشقوں میں آسیان پلس ممالک شامل تھے اور انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ انڈیا میں اب تک کی سب سے بڑی زمینی افواج کی مشقیں تھیں۔ان مشقوں میں شامل 40 فوجیوں پر مشتمل انڈین فوجی دستے کی قیادت سگنل کور کی خاتون افسر لیفٹیننٹ کرنل صوفیہ قریشی نے کی تھی۔ اُس وقت انھیں کثیر القومی مشقوں میں انڈین فوج کی تربیتی ٹیم کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون افسر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔اُس وقت انڈیا کی وزارت دفاع نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اُن کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔صوفیہ قریشی کا تعلق ریاست گجرات کی ایک فوجی فیملی سے ہے اور اُن کے دادا بھی انڈین فوج میں افسر تھے۔ انھوں نے بائیو کیمسٹری میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔وہ چھ سال تک اقوام متحدہ کی امن فوج میں بھی کام کر چکی ہیں اور اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے سنہ 2006 میں کانگو میں بھی وقت گزارا تھا۔ اُس وقت ان کا بنیادی کردار امن آپریشنز میں تربیت سے متعلق تعاون فراہم کرنا تھا۔احمد شریف چوہدری: ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستانی فوج میں شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سکیورٹی امور پر طویل پریس کانفرنسز کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں بھی مسلح افواج کے نمائندوں کی جانب سے دی گئی مشترکہ بریفننگز کی سربراہی وہی کرتے نظر آئے۔اس دورانیے میں وہ کبھی دفتر خارجہ میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے ساتھ بیٹھے نظر آئے تو کبھی فضائیہ اور بحریہ کے حکام کے ساتھ مختلف آپریشنز کی تفصیلات بتاتے۔احمد شریف چوہدری کو گذشتہ برس مئی میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی اور وہ دسمبر 2022 سے فوج کے 22ویں ڈی جی آئی ایس پی آر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ماضی میں وہ ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بھی سربراہ بھی رہے ہیں۔ یہ ادارہ ہتھیاروں کے نظام سمیت سائنسی اور تکنیکی تحقیقات پر کام کرتا ہے۔ جبکہ وہ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں بھی تعینات رہے۔جنرل احمد شریف کا تعلق کور آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرز سے ہے اور ای ایم ای کے بہت کم افسران تھری سٹار رینک تک پہنچے ہیں۔سینیئر صحافی باقر سجاد سید نے بی بی بی سی کو بتایا کہ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر تعیناتی سے قبل وہ متعدد جگہوں پر پوسٹ رہے اور آپریشنز کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ویومیکا سنگھآپریشن سندور سے متعلق دی گئی بریفنگ میں شامل دوسری افسر انڈین فضائیہ کی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ تھیں۔ویومیکا سنگھ انڈین فضائیہ میں ہیلی کاپٹر پائلٹ ہیں۔ انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ ہمیشہ سے پائلٹ بننا چاہتی تھیں اور اُن کے نام کا مطلب بھی 'آسمان سے جڑنے والی' ہے۔ویومیکا سنگھ نیشنل کیڈٹ کور یعنی این سی سی سے تعلق رکھتی ہیں اور انھوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ انھوں نے سنہ 2019 میں انڈین ایئر فورس کی فلائنگ برانچ میں بطور پائلٹ مستقل کمیشن حاصل کیا تھا۔ویومیکا سنگھ 2500 گھنٹے سے زیادہ فلائنگ آورز کا تجربہ رکھتی ہیں۔ اور انڈین فضائیہ کے مطابق وہ جموں کشمیر اور شمال مشرقی انڈیا میں مشکل حالات کے دوران فلائنگ کر چکی ہیں۔انھوں نے کئی ریسکیو آپریشنز میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے جن میں سے ایک آپریشن نومبر 2020 میں اروناچل پردیش میں کیا گیا تھا۔

*‏🔴 ‏ایم ایم عالم ہوں۔ائیر کموڈور سجاد حیدر ہوں**نعمان BBC PK News Islamabad Report

علی خان ہوں، حسن صدیقی ہوں یا اب کامران مسیح ۔۔ پاکستان ائیر فورس 1965 کی جنگ سے لے کر 2025 کی جنگ تک نا قابل تسخیر رہی ہے۔۔دشمن کے جہاز پرندوں کی طرح گراتی آئی ہے۔۔ اور یہ سارے شاہین الحمدللہ غازی بن کر لوٹے 🇵🇰🛫*

*پاک بھارت فضائی جھڑپ میں پاکستان کو واضح فتح ملی: امریکی جریدہ*BBC PK News Islamabad Report M KHUDABUX ABBASI

اسلام آباد: معروف امریکی دفاعی جریدے "دی نیشنل انٹرسٹ" نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 7 مئی کو ہونے والی پاک بھارت فضائی جھڑپ میں پاکستان نے واضح کامیابی حاصل کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بیشتر دفاعی ماہرین کا اندازہ تھا کہ بھارت کی عددی برتری اور وسائل کی بنیاد پر اس کا پلڑا بھاری رہے گا، لیکن پاکستانی فضائیہ نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو بھرپور جواب دیا۔دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق، جھڑپ کے دوران پاکستان نے چین کے جدید J-10C طیارے اور PL-15 میزائلوں کی مدد سے بھارت کے 5 طیارے مار گرائے۔ ان میں سے 3 طیارے فرانسیسی ساختہ رافیل تھے، جنہیں بھارت نے اپنی فضائی طاقت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کامیابی کے باقاعدہ دعوے کیے گئے، جن کی بھارتی فوج یا حکومت نے کوئی تردید نہیں کی، جو بھارت کی دفاعی پوزیشن کو مشکوک بناتا ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ مغربی دنیا کے لیے بھی چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی طاقت کا ایک عملی پیغام تھی، اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ چینی ہتھیار جدید اور مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔

*🛑 مذاکرات میں آبی تنازع حل نہ ہوا تو پاک بھارت جنگ بندی خطرے میں پڑسکتی ہے، اسحٰق ڈار*BBC PK News Islamabad Report

*پانی کا مسئلہ حل نہ ہونا جنگی اقدام کے مترادف ہوگا، مسئلہ کشمیر علاقائی عدم استحکام کی جڑ ہے، خطے کو حق خودارادیت دینا ہوگا، نائب وزیراعظم کا سی این این کو انٹرویو

پیر، 12 مئی، 2025

*🛑معرکہ حق میں اسکوارڈن لیڈرعثمان یوسف سمیت 11 جوان اور 40 شہری شہید ہوئے، ترجمان پاک فوج*BBC PK News Islamabad Report M KHUDABUX ABBASI

🛑پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) نے بھارت کے خلاف معرکہ حق کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے شہدا اور زخمیوں کی تفصیلات جاری کردیں۔*آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معرکہ حق اور وطن کا تحفظ کرتے ہوئے 11 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے 78 اہلکار زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حملوں میں جام شہادت نوش کرنے والوں میں پاک فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف، چیف ٹیکنیشن اورنگزیب، سینئر ٹیکنیشن نجیب، کارپورل ٹیکنیشن فاروق اور سینئر ٹیکنیشن مبشر شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حملوں میں نائیک عبدالرحمن، لانس نائیک دلاورخان، لانس نائیک اکرام اللہ، نائیک وقار خالد، سپاہی محمد عدیل اکبر اور سپاہی نثار نے بھی جام شہادت نوش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے 6 اور 7 مئی کو بلااشتعال حملے شروع کیے، بھارتی حملوں میں 40 شہری شہید ہوئے جن میں 7 خواتین اور15 بچے بھی شامل تھے جبکہ حملوں میں حملوں میں 121 معصوم شہری زخمی بھی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق حملوں میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، زخمیوں میں 10 خواتین اور 27 بچے بھی شامل ہیں، سنگین جارحیت کے جواب میں پاک افواج نے مارکہ حق کے جھنڈے تلے بھرپورجواب دیا، آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے درست اور نمایاں جوابی حملے کیے گئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپوراورفیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔*🚨ہر نئی آنے والی اپ ڈیٹس سے باخبر رہنے کیلئے ہمارے ساتھ رہیئے اور چینل کے نوٹیفکیشن آن کرلیں*

*کوٹری: 9 سال قبل پسند کی شادی کرنے پر ایک ہی گھر کے 4 افراد قتل*BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

جامشورو کی تحصیل کوٹری خدا کی بستی میں ایک گھر سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیقی نے بتایا کہ گھر سے ملنے والی لاشیں کی شناخت عمران احمد خان اہلیہ عالیہ اور اس کے 2 کمسن بچوں کی ہیں۔ظفر صدیقی کے مطابق چاروں افراد کو کسی تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا ہے اور مقتول افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ عمران احمد نے 9 سال قبل پسند کی شادی کرکے کوٹری میں رہائش اختیار کی ہوئی تھی، واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا لگتا ہے اور لاشیں3 دن پرانی ہیں، لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی گئیں ہیں۔

*پاکستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام، بھارتی فوج نے اپنے ہی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کر دیا*BBC PK News

بھارتی فوج نے اپنے ہی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کر دیا۔ بھارت میں برکھا دت جیسے صحافی اور میڈیا کئی گھنٹوں سے یہ جھوٹ پھیلا رہے تھے کہ پاکستانی ڈرونز بھارت میں گھوم رہے ہیں اور وہ پاکستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا مسلسل الزام لگا رہے ہیں۔برکھا دت سوشل میڈیا پر کہہ رہی تھیں کہ جموں میں پاکستانی ڈرونز دیکھے اور پکڑے گئے ہیں۔ برکھا دت کے خیال میں مودی کی تقریر کے جواب میں ایسا ہوا ہے جبکہ بھارتی فوج نے واضح کر دیا ہے کہ ایسا کوئی ڈرون کہیں رپورٹ نہیں ہوا۔تاہم بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کسی بھی ڈرون کی کوئی اطلاع نہیں ہے، صورت حال پُرامن اور مکمل کنٹرول میں ہے۔اس سے قبل پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بھی کہا تھا کہ بھارتی میڈیا پاکستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی من گھڑت اور جھوٹی خبریں چلا رہا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے کسی بھی ڈرون نے سرحد یا لائن آف کنٹرول پار نہیں کی۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کی خبریں ہمیشہ کی طرح جھوٹ کا پلندہ ہیں،پاکستان سیز فائر کی مکمل پاس داری کر رہا ہے،حقیقت میں بھارتی ڈرونز لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔*

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...