بدھ، 28 مئی، 2025

گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا انجام،شادی تو ناں ہوئی چار لڑکوں نے لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،کوٹلی سوہلناں: BBC PK News Rawalakot Kot Report

جنگل میں مبینہ زیادتی، دو ملزمان گرفتار، پولیس کی تفتیش جاریتفصیلات کے مطابق آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی یونین کونسل سوہلناں نمب کے مقام پر واقع گاؤں مہولی ناڑ کی رہائشی 19 سالہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ اُسے شادی کا جھانسہ دے کر جنگل میں لے جایا گیا اور مبینہ طور پر اس کی عزت پامال کی گئی۔ متاثرہ لڑکی جو مہولی پُل کی رہائشی بتائی جا رہی ہے، کا کہنا ہے کہ حفسان عرف شانی قوم جٹ، ساکن سہنسہ، نے اُسے شادی کا وعدہ دے کر جنگل لے جا کر زیادتی کی۔ایف آئی آر میں درج لڑکی کے بیان کے مطابق، حفسان کے ساتھ موجودگی کے دوران شکیل قوم گجر نے اُنہیں دیکھ کر حفسان کے بھائی سفیان کو اطلاع دی۔ جب وہ جنگل سے واپسی پر تھی تو راستے میں احسن قوم جاٹ، سفیان اور شکیل نے انہیں روک کر حفسان پر تشدد کیا، تاہم حفسان فرار ہو گیا۔ متاثرہ لڑکی کا الزام ہے کہ بعد ازاں ان افراد نے اُسے دوبارہ جنگل میں لے جا کر زیادتی کی، اور پھر اُسے سڑک پر چھوڑ دیا۔مزید کہا گیا کہ حفسان دوبارہ واپس آیا اور شادی کا وعدہ کیا، لیکن لڑکی کی درخواست کے باوجود اُسے گھر نہ چھوڑا اور رات جنگل میں ہی رکنے پر مجبور کیا۔ ایس ایچ او تھانہ ناڑ اشتیاق علی نے لڑکی کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اصل حقائق تفتیش کے بعد منظر عام پر آئیں گےاور قانون کے مطابق تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔پولیس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے میڈیکل اور دیگر شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کارروائی جاری ہے۔

*پاکستان اور ایران کا زائرین کیلئے بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ*BBC PK News Islamabad Report

تہران: پاکستان اور ایران نے زائرین کے لئے بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے ہم منصب اسکندر مومنی سے اہم ملاقات کی جس میں متعدد بڑے فیصلے کئے گئے۔دوران ملاقات اس بات پر اتفاق پایا کہ اربعین اور محرم الحرام کے دوران پاک ایران بارڈر زائرین کیلئے 24 گھنٹے کھلا رہے گا، زائرین کی سہولت اور مسائل کے فوری حل کیلئے ہاٹ لائن کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا، اربعین سے قبل مشہد میں پاکستانی زائرین سے متعلق پاکستان ایران اور عراق کی وزارت داخلہ کی سہ ملکی کانفرنس کرانے کا بھی فیصلہ ہوا۔اس موقع پر زائرین کی سکیورٹی کیلئے پروازوں کی تعداد بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا، جس پر عمل درآمد کے لئے لائحہ عمل جلد ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا، بحری راستے سے بھی زائرین کو ایران اور عراق بھجوانے پر گفتگو ہوئی۔

*گوجرانوالہ: حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی، ملزمان 2 لاکھ سے زائد کی رقم لے اڑے*BBC PK News Gujranwala Report

گوجرانوالہ میں قومی کرکٹر حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔قومی کرکٹر حسن علی کے بھائی خرم نے بتایا کہ والدہ بازار جارہی تھیں کہ اس دوران ڈاکو والدہ سے پرس چھین کر فرار ہوگئے، پرس میں 2 لاکھ 30 ہزار روپے تھے۔ حسن علی کے بھائی خرم نے مزید بتایا کہ واردات کرنے والے دو ملزمان موٹر سائیکل پر سوار تھے۔پولیس کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے، جلد ملزمان کو گرفتار کرلیں گے۔

رپورٹ : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ،انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف ھیرالال مالہی ،تحصیل رپورٹر ڈیلی بی بی سی پاک نیوز عمرکوٹ : BBC PK News Umer Kot Hira Lal Om Prakash Report

پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو 27 سال مکمل ، آج ملک بھرمیں یوم تکبیر جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے ۔تفصیلات : عمرکوٹ: آج پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو 27 سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں یوم تکبیر و معرکہ حق کی کامیابی پر اظہار تشکر کی تقریبات ، پر امن ریلیوں اور جشن یکجہتی و یگانیت اور مسلح افواج کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیئے عبادت گاہوں میں دعائوں اور دشمن کو نیست و نابود اور کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا سلسلہ جاری ہے ۔ یا اللہ تبارک تعالٰی ، رحمۃ اللہ وبرکاتہ ہمیں کامیابیاں عطا فرمائے ۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاک نیوز پاکستان میں شدید ترین گرمی کی لہر اور اس کے خطرناک اثرات ۔گرمی کی شدید لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

امپیریل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محققین بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ موسم کی یہ انگڑائی پاکستان کا کیا حشر کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے لیے یہ سرے سے کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں بیٹھا ڈاکٹر رابرٹ روڈ دہائی دے رہا ہے کہ موسموں کے اس آتش فشاں کو سنجیدگی سے لیجئے ورنہ ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے لیکن پاکستان کے اہلِ دانش سیاست کی دلدل میں غرق ہوئے پڑے ہیں۔ندی خشک پڑی ہے اور چشمے کا پانی نڈھال ہے۔ مارگلہ کے جنگل میں آج درجہ حرارت 42 کو چھو رہا ہے۔ عید پر بارش ہوئی تو درجہ حرارت 22 تک آ گیا تھا لیکن عید سے پہلے اپریل کے آخری دنوں میں بھی یہ 40 سے تجاوز کر گیا تھا۔ مارگلہ میں چیت اور وساکھ کے دنوں میں ایسی گرمی کبھی نہیں پڑی۔ یہ جیٹھ ہاڑ کا درجہ حرارت ہے جو چیت اور وساکھ میں آ گیا ہے۔ موسموں کی یہ تبدیلی بہت خطرناک ہے لیکن یہاں کسی کو پروا نہیں۔ اس معاشرے اور اس کے اہلِفکر و دانش کو سیاست لاحق ہو چکی اور ان کے لیے سیاست کے علاووہ کسی موضوع پر بات کرنا ممکن نہیں رہا۔موسموں کی اس تبدیلی سے صرف مارگلہ متاثر نہیں ہو گا، پورے ملک پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مارگلہ میں تو درجنوں چشمے ہیں اور ندیاں۔ کچھ رواں رہتی ہیں، کچھ موسموں کے ساتھ سوکھتی اور بہتی ہیں لیکن جنگل کے پرندوں اور جانوروں کے لیے یہ کافی ہیں۔ سوال تو انسان کا ہے، انسان کا کیا بنے گا؟ افسوس کہ انسان کے پاس اس سوال پر غور کرنے کا وقت نہیں۔ابلاغ کی دنیا ان کے ہاتھ میں ہے جو سنجیدہ اور حقیقی موضوعات کا نہ ذوق رکھتے ہیں نہ اس پر گفتگو کی قدرت۔ نیم خواندگی کا آزار سماج کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سرِ شام ٹی وی اسکرینوں پر جو قومی بیانیہ ترتیب پاتا ہے اس کی سطحیت اور غیر سنجیدگی سے خوف آنے لگا ہے۔ نوبت یہ ہے کہ دنیا چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہے کہ آپ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن ہمارا دانشور صبح سے شام تک یہی گنتی کر رہا ہوتا ہے کہ کس قائدِ انقلاب کے جلسے میں کتنے لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ یہیحال سوشل میڈیا کا ہے۔ موضوعات کا افلاس آسیب بن چکا ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ماحولیات کی تباہی سے یکسر بے نیاز۔ گلی کوچوں سے پارلیمان تک یہ سوال کہیں زیرِ بحث ہی نہیں کہ درجہ حرارت بڑھنے کا مطلب کیا ہے؟زیرِ زمین پانی کی سطح جس تیزی سے گر رہی ہے، خوفناک ہے۔ چند سال پہلے اسلام آباد میں 70 یا 80 فٹ پر پانی مل جاتا تھا لیکن اب تین سے چار سو فٹ گہرے بور کرائیں تو بمشکل اتنا پانی دستیاب ہے کہ پانچ سے دس منٹ موٹر چل سکتی ہے۔ موسم کی حدت کا عالم یہی رہا تو پانچ دس سال بعد زیرِ زمین پانی چھ سات سو فٹ گہرائی میں بھی مل جائے تو غنیمت ہو گا۔ اسلام آباد دارالحکومت ہے لیکن پانی کا بحران اسے لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ایک ٹینکر اب دو ہزار کا ملتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹینکر بھی تو کنوؤں سے پانی بھر لاتے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح یونہی نیچے جاتی رہی تو ٹینکرز کہاں سے پانی لائیں گے؟ ایک آدھ سیکٹر کو چھوڑ کر سارا شہر اس مصیبت سے دوچار ہے لیکن اپناکمال دیکھیے کہ شہر میں کسی محفل کا یہ موضوع نہیں ہے۔ نہ اہلِ سیاست کا، نہ اہلِ مذہب کا نہ اہلِ صحافت کا۔ سب مزے میں ہیں۔یہ بحران صرف اسلام آباد کا نہیں، پورے ملک کا ہے۔ بس یہ ہے کہ کسی کی باری آج آ رہی ہے کسی کی کل آئے گی۔ جب فصلوں کے لیے پانی نہیں ہو گا اور فوڈ سیکیورٹی کے مسائل کھڑے ہو جائیں گے پھر پتا چلے گا کہ آتش فشاں پر بیٹھ کر بغلیں بجانے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔جنگل کٹ رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے (یعنی کراچی کے سر پر خطرہ منڈلا رہا ہے)، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور سیلابوں کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ابھی گلگت بلتستان میں گلیشئر کے پگھلنے سے حسن آباد پل تباہ ہوا ہے۔ کئی گھر اس کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ خود اس پل کی تزویراتی اہمیت تھی کہ یہ چین اور پاکستان کو ملا رہا تھا۔ پل کی تزویراتی اہمیت کی نسبت سے یہ حادثہ ہمارے ہاں زیر بحث آ جائے تو وہ الگ بات ہے لیکن ماحولیاتی چیلنج کی سنگینی کو ہم آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اخبارات، ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، پریس ٹاک، جلسہ عام۔۔۔ کہیں اس موضوع پر کوئی بات ہوئی ہو تو بتائیے۔مارگلہ کی ندیاں بھی اجنبی ہوتی جا رہی ہیں۔ ابھی چند سال پہلے درہ جنگلاں کی ندی ساون بھادوں میں یوں رواں ہوئی کہ چار ماہ جوبن سے بہتی رہی۔ اب دو سال سے خشک پڑی ہے۔ ساون اس طرح برسا ہی نہیں کہ ندی رواں ہوتی۔ رملی کی ندی بہہ تو رہی ہے مگر….برائے نام۔ جب پوش سیکٹروں کا سیوریج ان ندیوں میں ملا دیا جائے گا تو ندیاں شاید ایسے ہی ناراض ہو جاتی ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے نظام فطرت ہی ہم سے خفا ہو گیا ہے۔ موسم ہم سے روٹھتے جا رہے ہیں۔ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ماحولیات سے جڑے چیلنجز کی سنجیدگی کو سمجھا نہ گیا تو بہت بڑا اور خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دینے والا ہے۔منقول ۔۔

رپورٹ : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاک نیوز کراچی : پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے پوری سندھ کی یونین کونسلوں کو ملنے والے اربوں روپوں کے فنڈز کی آڈٹ کرانے کا حکم ۔تفصیلات : BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

کراچی : خبر کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے پوری سندھ کی یونین کونسلوں کو ملنے والے اربوں روپوں کے فنڈز کی آڈٹ کرانے کا فیصلہ ۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گزشتہ 06 سالوں سے یونین کونسلوں کو دیئے گئے اربوں روپوں کے فنڈز کی آڈٹ نہ کرانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو فی الفور آڈٹ کرانے کا حکم ۔

رپورٹ : انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف بی بی سی پاکستان نیوز کراچی: حکومت سندھ کا بڑا فیصلہ، اسکولوں میں اجرک اور ٹوپی دینے پر پابندی۔تفصیلات: BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

کراچی:سندھ حکومت کے فیصلے کے مطابق سرکاری تقریبات میں تحائف بشمول ٹوپی اور اجرک دینے کی روایت ختم کرنے کی ہدایت۔ کراچی:مہمانوں کے استقبال کے لیے بچوں کو کھڑا کرنے پر بھی مکمل پابندی۔کراچی:تمام ڈائریکٹرز، پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز کو فوری احکامات، نوٹیفکیشن جاری ۔کراچی:تمام ادارے ہدایات پر مکمل عمل درآمد کے پابندکراچی:اجرک، ٹوپی اور تحائف کی روایت سرکاری سطح پر بندکراچی:بچوں کا استقبال کے لیے استعمال غیر مناسب قرار۔کراچی:احکامات کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا عندیہ ۔

*💫News Details**Monday 20th Shaban 1447 AH**February 9, 2026💫*

غزہ بورڈ اجلاس، پاکستان شریک ہوگا، وزیراعظم کا واشنگٹن جانے کا قوی امکان، نمائندگی کا حتمی فیصلہ جلد، مشاورت شروع ٹی 20 ورلڈکپ، ...