*تحریر: آصف محمود*
ہم بھارت سے مسلسل ہار رہے ہیں اور بے بسی سے ذلت آمیر طریقے سے ہار رہے ہیں ۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
برسوں پہلے کی بات ہے ، عمران خان ہمارے ہاں سرگودھا تشریف لائے ۔ میرے بہنوئی نے اپنا کالج تعمیر کیا تھا اور اس عمارت کے افتتاح کے لیے خان صاحب کو زحمت دی تھی ۔
سلیم الہی نے ان ہی دنوں اوپر تلے دو سنچریاں سکور کی تھیں ، افتخار سید میرے دوست تھےا ور سلیم الہی کے بھی دوست تھے۔ کھانا کھاتے ہوئے میں حسب عادت خان صاحب سے پوچھنے لگا کہ فلاں کیسا کھلاڑی تھا۔ میانداد کیسا تھا؟ سرفراز نواز کیسا تھا؟ وقار یونس کیسا تھا؟ آپ نے وقار کو ورلڈ کپ کیوں نہیں کھلایا تھا ؟ وہ ان فٹ تھے یا آپ ان سے ناراض ہو گئے تھے ، وغیرہ وغیرہ۔
افتخار نے مجھے کہا کہ سلیم الہی کے بارے میں بھی پوچھو۔ وہ شاید اپنے دوست کی تعریف سننا چاہتا تھا ۔ میں نے کہا خان صاحب سلیم الہی کیسا کھلاڑی ہے؟
عمران خان نے کھانا کھاتے ، بے نیازی سے کہہ دیا کہ وہ انٹر نیشنل کرکٹ کا آدمی نہیں ہے۔ اس کی ٹیم میں جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
یہ جواب سن کر مجھے شدید حیرت ہوئی مگر افتخار کا تو منہ ہی اتر گیا۔ میں نے افتخار کی دل جوئی اور اپنی حیرت کے تقاضے سے مجبور ہو کر کہا کہ خان صاحب اس نے دو سنچریاں ماری ہیں ۔۔۔۔
عمران خان نے اسی طرح کھاتے کھاتے جواب دیا: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
ایک مہمان ہو اور اوپر سے عمران ہو تو اس سے سوال کی تکرار کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے لیکن میں نے پوچھ لیا : فرق کیسے نہیں پڑتا؟ دو سنچریاں ہیںَ۔
عمران خان کہنے لگے: وہ کمزور ہے ، دباو آئے گا تو دباؤ میں وہ بیٹھ جائے گا۔ انٹر نیشنل کرکٹ کا بندہ نہیں ہے۔
بات آئی گئی ہو گی۔ ۔۔۔۔اور پھر کچھ وقت کے بعد سلیم الہی کا کیریر ختم ہو گیا۔ عمران خان کی بات درست نکلی۔
تو جناب بات یہ ہے کہ سازگار ماحول میں ذاتی اننگز کھیل لینے والے سورماؤں میں سے چیک کیجیے کہ کتنے ہیں جو دباؤ میں کھیل سکتے ہیں ۔ دباؤ میں بیٹنگ کر سکتے ہیں اور دباؤ میں بال کر سکتے ہیں۔ کتنے ہی جن کے ہاتھ پاؤں نہیں پھولتے۔
اصول وہی ہے: جو دباؤ میں نہیں کھیل سکتا، اس کا انفرادی ریکارڈ کسی کام کا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں