جمعہ، 21 فروری، 2025

*اپوزیشن جماعتوں کا حکومت مخالف اتحاد کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ **دل دہلادینے والی حقیقی کہانی**60 برس قبل اغوا کی گئی حمیدہ بی بی 7 گھنٹوں میں اپنے اہلخانہ سے کیسے ملیں؟**‘*پنجاب کو عالمی معیار کے سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ**ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست**خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، 10 لاکھ غریب خاندانوں کیلئے رمضان پیکیج کے فنڈز منظور**پی ٹی آئی وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات میں عمران خان سمیت دیگر درپیش مسائل اجاگر کیے، اعلامیہ**وسیع پیمانے پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے اپنے اقدامات کے تحت چیف جسٹس نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن قیادت کو مدعو کیا، اعلامیہ**خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹوور، پکنک پر پابندی**یوٹیلیٹی اسٹورز بند نہیں ہوں گے، انتظام بہتر بناکر نجکاری کی جائے گی، حکومت کا اعلان***کراچی؛ اینٹی کرپشن کی کارروائی، اسسٹنٹ کمشنر گڈاپ گرفتار**پاکستان کی پہلی کمپیوٹرائزڈ آبزرویٹری کراچی میں قائم، رمضان اور عیدین کےچاند کا مشاہدہ کیا جائے گا**

*اپوزیشن جماعتوں کا حکومت مخالف اتحاد کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ *

اسلام آباد: اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت مخالف اتحاد کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں اپوزیشن گرینڈ الائنس کے اہم رابطے اور ملاقاتیں جاری ہیں۔

اپوزیشن قیادت سندھ میں بھی پڑاؤ ڈالے گیِ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت آج سندھ روانہ ہوگی، سندھ کے تین روزہ دورے کے دوران گرینڈ الائنس اتحاد کیلئے اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

اپوزیشن الائنس جی ڈی اے کی قیادت سے ملاقات کرے گا جبکہ اپوزیشن رہنما جیے سندھ کے سربراہ ایاز پلیجو سے حیدرآباد میں ملاقات کریں گے۔ 

اپوزیشن الائنس کے وفد میں محمود اچکزئی، اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا، اخونزادہ حسین ، بی این پی مینگل اور ایم ڈبلیو ایم سے رہنما شریک ہوں گے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کے وفد میں سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ بھی شامل ہوں گے۔ 

سندھ کے تین روزہ دورے کے دوران اپوزیشن الائنس کی بزنس کمیونٹی اور بار ایسوسی ایشن سے بھی ملاقاتیں ہوں گی جبکہ وفد کی پی ٹی آئی کراچی کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں، علاوہ ازیں اپوزیشن رہنما صحافی برادری سے بھی ملاقات کریں گے۔*دل دہلادینے والی حقیقی کہانی*

*60 برس قبل اغوا کی گئی حمیدہ بی بی 7 گھنٹوں میں اپنے اہلخانہ سے کیسے ملیں؟*

*ادیب یوسفزئی -اردو نیوز*

خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے بغدادی بازار سے کچھ فاصلے پر نور محمد اپنے بچوں کے ہمراہ اینٹوں کی بھٹی میں کام کرتے تھے۔
یہ تب کی بات ہے جب پاکستان کو آزاد ہوئے قریباً دو دہائیوں کا عرصہ گزر چکا تھا۔ نور خان کی بیٹیوں کے نام حمیدہ، سانگہ اور مجانہ تھے۔

سانگہ کی شادی مالاکنڈ درگئی میں نذیر نامی نوجوان سے ہوئی۔ حمیدہ بی بی نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا۔

وہ درگئی میں اپنی بہن سانگہ کے گھر جایا کرتی تھیں۔ ایک دن جب وہ اپنی بہن کے ہاں پہنچیں تو پڑوس میں گلزار نامی شخص نے مبینہ طور پر انہیں اغوا کر لیا۔ اس وقت حمیدہ بی بی کی عمر لگ بھگ 10 سال تھی۔
کراچی کے سماجی کارکن ولی اللہ معروف کے مطابق ’گلزار نے حمیدہ کو ڈھائی ہزار روپے کے عوض فروخت کیا اور پھر ہاتھ در ہاتھ فروخت ہوتے ہوتے حمیدہ سندھ کے علاقے شکارپور کے ایک شخص کے ہاتھ فروخت ہوئی۔‘
شکارپور میں جس شخص نے حمیدہ کو خریدا اس نے ان سے نکاح کر لیا۔ ولی اللہ معروف بتاتے ہیں کہ ’حمیدہ شکارپور میں رہنے لگیں۔‘
وقت گزرتا گیا اور حمیدہ کے آج 6 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، لیکن دبی ہوئی خواہش تھی جس نے حمیدہ کی زندگی کو بے رنگ سا کر دیا تھا۔‘
شکارپور میں حمیدہ نے اپنی ساری زندگی بسر کی۔ بیٹوں نے انہیں لاڈ پیار سے پالا اور عمرے کی ادائیگی کے لیے بھی بھیجا لیکن وہ اپنی زندگی میں کمی محسوس کرتی رہیں۔ 
وہ اپنے بچھڑے ہوئے بہن بھائیوں اور خاندان سے ملنا چاہتی تھیں۔ انہیں اپنی بہنوں، سگے بھائی کے نام اور مردان میں اپنے آبائی علاقے کا نام یاد تھا لیکن کبھی وہاں جانے کی جرأت نہیں کی۔
ولی اللہ کے مطابق ’حمیدہ نے اپنے بیٹوں کو بتایا تو وہ انہیں مردان لے آئے تاکہ ان کا کھویا ہوا خاندان تلاش کیا جا سکے۔‘
’مردان میں حمیدہ نے اپنا علاقہ تو پہچان لیا لیکن انہیں معلوم ہوا کہ ان کا خاندان وہاں سے راولپنڈی منتقل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد وہ راولپنڈی کے گلی کوچوں میں اپنے بھائی اور بہنوں کو تلاش کرتی رہیں لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔‘
حمیدہ اور ان کے بیٹے مایوس ہوگئے۔ اب تک انہیں اپنے خاندان سے بچھڑے تقریباً 57 سال گزر چکے تھے۔ ان کی امید بھی دم توڑ چکی تھی۔ حمیدہ کے ایک بیٹے نے دینی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور وہ ایک مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے بھی ہیں۔

شکارپور میں حمیدہ کی کہانی زبان زدِعام ہوگئی تھی۔ مقامی افراد کو بھی ان کے خاندان سے متعلق تجسس تھا۔ پھر ایک روز اچانک ایک شخص نے حمیدہ کے بیٹے کو کراچی کے رہائشی ولی اللہ معروف کے بارے میں بتایا۔
 ولی اللہ معروف کے مطابق ’حمیدہ کے بیٹے نے مجھ سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہمارے فیس بک پیج کے ایک فالوور نے نمبر دیا ہے۔‘
فیس بُک فالوور نے انہیں بتایا کہ ولی اللہ معروف کے توسط سے آپ کی والدہ کا خاندان مل سکتا ہے۔ ہم نے حمیدہ سے بات کی تو انہوں نے ہمیں وہ نام بتائے جو انہیں اب تک یاد تھے۔‘
اب تک حمیدہ بی بی اپنی مادری زبان بھول چکی تھیں اور وہ اردو بھی نہیں بول سکتی تھیں۔ حمیدہ زیادہ تر بات چیت سندھی زبان میں کرتی ہیں۔
ولی اللہ معروف کے مطابق انہوں نے حمیدہ سے ابتدائی معلومات لے کر اپنے فیس بُک پیج پر ان کی ایک عدد تصویر اور درخواست شیئر کی۔
’انہیں اپنے والد، والدہ، بھائی، دو بہنوں اور ایک بھانجے کا نام یاد تھا۔ فیس بُک پر ان کی کہانی شیئر کی تو چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں افراد نے وہ پوسٹ شیئر کردی اور مجھ سے دنیا بھر سے رابطے ہونے لگے۔‘
ابھی اس پوسٹ کو فیس بُک پر اَپ لوڈ ہوئے محض 7 گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ولی اللہ کو مردان سے ایک شخص کی کال موصول ہوئی جنہوں نے اپنا نام حاجی شاہ زمان بتایا۔

ولی اللہ نے بتایا کہ ’شاہ زمان کا کہنا تھا کہ حمیدہ ان کی خالہ زاد بہن ہیں اور میری عمر 60 سال ہے۔ ہمیں زیادہ تو یاد نہیں لیکن بچپن میں جب ہم اپنے والد کے ساتھ اینٹوں کی بھٹی پر جاتے تھے تو ان کے والد اور بھائی وہاں کام کرتے تھے۔‘
شاہ زمان نے انہیں مزید بتایا کہ ’یہ وہی حمیدہ بی بی ہیں جو بچپن میں کھو گئی تھیں اور اب ان کا خاندان مل گیا ہے۔‘
حاجی شاہ زمان کا کہنا تھا کہ ’میرا ہاتھ فالج زدہ ہے تو اس لیے میرا دن زیادہ تر گھر پر موبائل استعمال کرتے ہی گزر جاتا ہے۔ میں فیس بُک سکرول کر رہا تھا کہ میرے سامنے ولی اللہ معروف کی پوسٹ آئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’معلوم نہیں کیوں لیکن اس پوسٹ نے میری توجہ حاصل کی۔ میں نے جب تفصیل سے پڑھا تو مجھے حمیدہ بی بی کے بتائے ہوئے نام شناسا لگے۔‘
حاجی شاہ زمان نے فیس بُک پر پوسٹ دیکھنے کے بعد فوری طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں سے رابطے کیے تاکہ تصدیق کی جا سکے۔ اب تک رات کے 11 بج چکے تھے۔ انہوں نے حمیدہ بی بی کے بھائی یار محمد سے رابطہ کیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے یار محمد سے پوچھا کہ آپ کی ایک بہن بچپن میں کھو گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے خود بھی نہیں یاد لیکن بڑی بہن نے بتایا تھا۔‘
یار محمد کہتے ہیں کہ ’ہم نے اپنی بہن کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ آج تک نہیں ملی۔‘ حاجی شاہ زمان نے یار محمد کو بتایا کہ آپ کی بہن مل چکی ہے۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟‘
یار محمد کو یقین نہیں آرہا تھا کیوں کہ انہوں نے بھی اپنی بہن کی تلاش میں عمر کا بہت زیادہ حصہ صرف کیا تھا۔ حاجی شاہ زمان نے ولی اللہ کے ذریعے حمیدہ بی بی سے بات چیت کی اور انہیں یار محمد کی تصویر بھیجی جس کی تصدیق حمیدہ بی بی نے کر دی۔ 

ولی اللہ نے تمام ضروری کوائف مکمل کرنے کے بعد ان کی ملاقات کروانے کا عزم کیا۔ ولی اللہ کے مطابق ’حمیدہ کا صرف ایک بھائی اور بہن زندہ تھے۔‘
وہ حمیدہ اور ان کے بیٹے کے ہمراہ شکارپور سے مردان کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ حاجی شاہ زمان کے ہاں پہنچے اور پھر یار محمد کے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔
ولی اللہ معروف بتاتے ہیں کہ ’یار محمد کے ہاں استقبال کے لیے بہت سارے لوگ جمع تھے۔ حمیدہ کے بھانجوں نے پھولوں کے ہار پکڑے تھے۔ ہمیں ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بارات جا رہی ہو۔‘
’حمیدہ اور یار محمد نے جب ایک دوسرے کو دیکھا تو زار و قطار رونے لگے۔ وہ کافی دیر تک گلے مل کر روتے رہے۔ حمیدہ پھر اپنی بہن سے بھی ملیں۔‘
یار محمد نے ان کے لیے دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا اور مٹھائی بھی بانٹی اور بتایا کہ انہوں نے خانۂ کعبہ میں اپنی بہن کے لیے دعا مانگی تھی کہ وہ انہیں مل جائے۔
ولی اللہ معروف کے مطابق ’یار محمد نے ہمیں بتایا کہ اگر مجھے معمولی نشانی بھی مل جاتی تو میں دنیا کے کسی بھی کونے میں جا پہنچتا لیکن مجھے اپنی بہن سے متعلق کسی چیز کا علم نہیں تھا۔‘
’حمیدہ کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے سب کچھ دیا۔ بیٹے دیے، بیٹیاں دیں اور ہم مال مویشی پالنے لگے لیکن اپنے خاندان سے ملنا میرا خواب تھا جو اب پورا ہوا۔‘
حمیدہ نے اپنے بھائی کے ہاں کئی دن گزارے اور پھر واپس شکارپور کے لیے روانہ ہوگئیں۔ حاجی شاہ زمان بتاتے ہیں کہ ’اب تو ہماری بہن مل گئی ہے۔ اب تو آنا جانا رہے گا۔ وہ شکارپور میں اپنے بچوں کے ساتھ خوش ہے ہمیں اور کیا چاہیے؟‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وقتاً فوقتاً ہم بہن بھائی اور رشتہ دار ان کے ہاں جایا کریں گے تاکہ حمیدہ کو اپنے خاندان کے نہ ہونے کی کمی محسوس نہ ہو۔‘
*پنجاب کو عالمی معیار کے سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ*

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کو تاریخ، تہذیب اور سیاحت کا ریجنل اور انٹرنیشنل مرکز بنانےکا فیصلہ کر لیا۔

اس حوالے سے صوبے کے 170 تاریخی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے تمام مجوزہ منصوبوں کی منظوری دے دی جس کے تحت پنجاب ٹورازم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاریخ، ورثہ اورسیاحت سے متعلق تمام ادارے اتھارٹی کے ماتحت ہوں گے جبکہ اتھارٹی کی منظوری کے لیے سمری کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے، پنجاب کی پہلی جامع ٹورسٹ پالیسی بھی تیار کر لی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے تاریخی مقامات کی 3 مراحل میں بحالی کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کر لیا ہے اور جولائی میں منصوبے کی ٹینڈرنگ شروع کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

منصوبے کا پہلا مرحلہ جون میں جبکہ دیگر تاریخی مقامات کی بحالی دوسرے اور تیسرے مرحلے میں مکمل ہو گی، اس حوالے سے 16 سیاحتی منصوبوں کے پی سی ون کی فوری تیاری کی ہدایت کردی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت بانسرا گلی، ٹورسٹ ویلیج اور پارکس کی تعمیر کی جائے گی جبکہ تاریخی شہر ٹیکسلا کو انٹرنیشنل ٹورسٹ سٹی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

ٹیکسلا میوزیم کی اپ گریڈیشن، جدید ٹیکنالوجی سے ڈسپلے سینٹرز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ٹیکسلا میں بدھ مت پیروکاروں کی سہولت کے لیے عبادت گاہیں، سدھارتا گیلریز بھی تعمیر ہوں گی جبکہ سکھ برادری کی سہولت کے 46 غیر فعال گوردوارے بحال کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

پنجاب حکومت نے منصوبے کے تحت سوئٹزر لینڈ کی طرز پر چھانگا مانگا کو جدید تفریح گاہ بنانے کی منظوری بھی دی ہے جبکہ سیاحت کے فروغ کے لیے بہترین سڑکیں تعمیر، عالمی معیار کی جدید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

*ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست*

لاہور: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی لمز یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی آمد پر اساتذہ، انتظامیہ اور طلبہ کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا، اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی میٹنگ کی۔

نشست کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سکیورٹی صورتحال سمیت مختلف موضوعات پر طلبہ سے مفصل گفتگو کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ کے سوالات اور تحفظات کے مدلل اور تفصیل سے جواب دیئے۔

ذرائع کے مطابق لمز یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے مستقبل میں بھی ایسے سیشنز کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا، لمز کے اساتذہ اور طلبہ نے اس خصوصی نشست کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔


*خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، 10 لاکھ غریب خاندانوں کیلئے رمضان پیکیج کے فنڈز منظور*

پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کے اجلاس میں 10 لاکھ غریب خاندانوں کیلئے رمضان، عید پیکیج کے لئے فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔


صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت منعقد ہوا، انہوں نے ہدایت کی کہ غرباء، یتیموں اور ٹرانسجینڈر افراد کو شفاف طریقے سے پیکیج فراہم کیا جائے، دہشتگردی سے متاثرہ غریب خاندانوں کو پیکیج میں شامل رکھا جائے۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ غریب، معذور افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے، صوبے کے تمام ٹرانسجینڈر افراد کو پیکیج دیا جائے، پیکیج کی تقسیم 15 رمضان سے پہلے مکمل کی جائے، تنخواہیں اور پنشن 25 فروری کو ادا کی جائیں۔

کابینہ اجلاس میں ایبٹ آباد پبلک سکول میں زیرِ تعلیم 15 یتیم طلبہ کے لئے 4.920 ملین روپے کی سالانہ گرانٹ منظور کی، ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کو بانی پی ٹی آئی کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی رُو سے کیڈٹ کالج سوات فیز-III پروجیکٹ کے لیے زمین کی لاگت میں اضافے کے تحت فنڈز کی منظوری اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے 3687 اساتذہ کی تنخواہوں کے لئے 1028.673 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

کابینہ اجلاس میں بس اڈوں کی بہتر انسپکشن کے لئے موٹر وہیکل رولز 1969 میں ترامیم منظور کر لی گئیں، محکمہ اوقاف کے لئے گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں بی ایس نرسنگ گریجویٹس کے لئے ماہانہ 31000 روپے انٹرن شپ منصوبے کی منظوری دی گئی اور سائنس، ٹیکنالوجی و آئی ٹی کے لئے خیبرپختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 میں ترامیم منظور کی گئیں۔
*پی ٹی آئی وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات میں عمران خان سمیت دیگر درپیش مسائل اجاگر کیے، اعلامیہ*

*وسیع پیمانے پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے اپنے اقدامات کے تحت چیف جسٹس نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن قیادت کو مدعو کیا، اعلامیہ*

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے ( 7 رکنی ) وفد کا خیر مقدم کیا اور انہیں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے مجوزہ اجلاس کے بارے میں آگاہ کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے وفد میں عمرایوب، شبلی فراز، بیرسٹر گوہرعلی خان، بیرسٹرعلی ظفر، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ اور ڈاکٹر بابراعوان شامل تھے۔
*خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹوور، پکنک پر پابندی*

ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے تعلیمی اداروں میں ہر قسم کے اسٹڈی ٹور اور پکنک پر پابندی عائد کی گئی ہے۔*یوٹیلیٹی اسٹورز بند نہیں ہوں گے، انتظام بہتر بناکر نجکاری کی جائے گی، حکومت کا اعلان*

*حکومت نے ایوان بالا میں پالیسی بیان میں کہا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند نہیں کیا جائے گا نظام کو بہتر کر کے نجکاری ہوگی، پاک سیکرٹریٹ کے باہر 2 روز سے احتجاج کرتے سرکاری ملازمین کا معاملہ بھی سینیٹ پہنچ گیا، وزیر قانون اعظم نزیر تارڈ نے معاملہ کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔**کراچی؛ اینٹی کرپشن کی کارروائی، اسسٹنٹ کمشنر گڈاپ گرفتار*

کراچی: اینٹی کرپشن نے گلستان جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر گڈاپ کو گرفتار کرلیا۔

ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل نے پولیس کے ہمراہ گلستان جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر گڈاپ زین العابدین کو گرفتار کرلیا۔ 

اسسٹنٹ کمشنر کی گرفتاری کے لیے اینٹی کرپشن کی ٹیم نوشہرو سے کراچی پہنچی تھی اور قواعد کے تحت متعلقہ تھانے میں انٹری بھی کروائی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق قانونی تقاضوں کے بعد گرفتار اسسٹنٹ کمشنر کو صبح عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ 

واضح رہے کہ گرفتار اسسٹنٹ کمشنر کو جمعے کی دوپہر ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔*پاکستان کی پہلی کمپیوٹرائزڈ آبزرویٹری کراچی میں قائم، رمضان اور عیدین کےچاند کا مشاہدہ کیا جائے گا*

*اب کسی بھی محقق کیلیے فلکیاتی مناظر کا مشاہدہ کرنے کیلئے رصدگاہ آنا ضروری نہیں، پروفیسر ڈاکٹر محمد علی اسماعیل**بھارت بنگلادیش میچ؛ دبئی میں خالی اسٹیڈیم دیکھ کر بھارتی شائقین پاکستان کے حق میں بول پڑے*

*25 ہزار کی گنجائش رکھنے والا اسٹیڈیم نہ بھرنے پر سوشل میڈیا صارفین ون ڈے فارمیٹ سے متعلق طرح طرح کی باتیں کرنے لگے*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...