جمعرات، 22 مئی، 2025

18+جب جنس بولتی ہے: وہ فرق جو ہم سمجھ نہیں پاتے! بلال شوکت آزادرات کے سناٹے میں ایک بیوی نے شوہر سے پوچھا: "BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI

تمہیں ہمیشہ جلدی کیوں ہوتی ہے؟" شوہر نے حیرانی سے کہا: "جلدی؟ میں تو سمجھا تم بھی خوش ہو۔"یہ جملہ سن کر وہ عورت مسکرا دی۔ نہیں، وہ خوش نہیں تھی۔ وہ صرف سمجھوتہ کر رہی تھی, ہر اُس رات کی طرح، جب وہ جسم سے تو پاس ہوتی ہے مگر روح سے کہیں دور۔یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ ہر اُس بیوی کی کہانی ہے جس کا شوہر جنسی میلاپ کو صرف دخول اور انزال تک سمجھتا ہے، قربت کو نہیں۔ اور ہر اُس مرد کی کہانی بھی ہے، جو سوچتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہش پوری کر رہا ہے، جب کہ دراصل وہ اپنی بیوی کے جذبات کو روند رہا ہوتا ہے۔مرد اور عورت، دونوں کے جسم میں وہی خون، وہی ہارمونس، وہی نیند، وہی تھکن، مگر جنسیات کے معاملے میں دونوں زمین و آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ یہ فرق فقط حیاتیاتی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور جذباتی بھی ہے۔مرد کا جسم جنسی ہیجان پر جلدی ردعمل دیتا ہے۔ وہ تیزی سے بھڑکنے والی آگ کی طرح ہے، جو جلتی بھی تیزی سے ہے اور بجھتی بھی اتنی ہی جلدی ہے۔ اس کے برعکس عورت ایک جلتا ہوا دیپ ہے، جسے روشنی تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے، مگر پھر اس کا نور مسلسل پھیلتا رہتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق مردوں کی جنسی خواہش 18 سے 30 سال کی عمر میں عروج پر ہوتی ہے۔ جبکہ خواتین کی خواہش 30 کے بعد مزید جِلا پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کم یا زیادہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کی فطری ضرورتوں کی ‘رفتار’ مختلف ہے۔ اسی لیے شادی کا ابتدائی دور مرد کے لیے جنت، اور درمیانی دور عورت کے لیے اہم تر بن جاتا ہے۔جنسی میلاپ یا رومانس؟مرد کی ترجیح جنسی میلاپ، عورت کی ترجیح رومانس, یہ سادہ مگر گہری سچائی ہے۔ مرد کو آرام اور انتہائے لذت کم سے کم دو منٹ میں مل جاتا ہے (لیکن جنسی میلاپ کی تعلیم سے مزین مرد کا دورانیہ آدھے گھنٹے تک بھی ہوسکتا ہے, بغیر کسی ایفروڈائزک کے)، جبکہ عورت کو مطمئن ہونے میں تیس سے پچاس منٹ لگ سکتے ہیں۔ عورت کو foreplay یعنی ذہنی و جذباتی قربت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے جسم کو اس لمحے کے لیے آمادہ کر سکے۔اب اگر مرد صرف اپنے سکون کو مدِنظر رکھے، اور عورت کے جذبات و جسمانی ردعمل کو نظرانداز کرے تو یہ ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا ظلم بن جاتا ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جو عدالت میں نہیں دکھائی دیتا، مگر بیوی کے چہرے پر خاموشی سے لکھا ہوتا ہے۔ہمارے ہاں لڑکی کو جنسی میلاپ کے بارے میں جاننے کی اجازت نہیں۔ اُسے یہی سکھایا جاتا ہے کہ جنسی میلاپ مرد کی ضرورت ہے، اور بیوی کا فرض۔ اسے کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ جنسی میلاپ دونوں کی ضرورت ہے، اور دونوں کا حق۔ نتیجہ؟ عورت مباشرت میں لکڑی کی طرح جامد ہو جاتی ہے۔ وہ نہ اپنی خواہش کا اظہار کرتی ہے، نہ خوشی۔ وہ صرف "فرض" نبھاتی ہے، محبت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مرد کبھی کبھی اس عورت کی طرف مائل ہو جاتا ہے جو خود کو خوش دکھاتی ہے، اپنی لذت کا اظہار کرتی ہے، اور جنسی تعلق میں بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ یہاں عورت کو سوچنا ہو گا: کیا خاموشی وفا ہے؟ کیا بےحسی عزت ہے؟ کیا جنسی تعلق میں اظہار، فحاشی ہے؟نہیں۔ مرد محبت اُس عورت سے کرتا ہے جو اس کی بانہوں میں خود کو کھو دینے کو محبت سمجھے، نہ کہ صرف ایک "ذمہ داری"۔گھریلو جھگڑوں کی جڑ: نامکمل مباشرت؟جب ایک مرد اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ ہر بار انکار کر دیتی ہے، تو وہ یہ انکار صرف جسم کا نہیں، محبت کا سمجھتا ہے۔ جب ایک عورت ہر بار مباشرت میں pleasure سے خالی ہو، تو وہ سمجھتی ہے کہ شوہر صرف اپنی تسکین چاہتا ہے، اُس کی نہیں۔ایسے میں دل میں شک، ذہن میں بےچینی اور رشتے میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھروں میں محبت کم اور برداشت اور سمجھوتے زیادہ چل رہے ہیں۔ شوہروں کے چہرے اُترے ہوئے، بیویاں چڑچڑی، اور رشتے خالی… خالی جسموں کی طرح۔جنسی میلاپ صحت کے لیے مضر؟ یا دوا؟یہ بھی ایک بڑا مغالطہ ہے۔ جدید طب مانتی ہے کہ شادی شدہ زندگی میں باقاعدہ اور خوشگوار جنسی میلاپ انسان کے دل، دماغ اور نفسیات کے لیے مفید ہے۔ خاص طور پر عورتوں میں یہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ اور مردوں میں testosterone کا لیول برقرار رکھتا ہے جو ان کی توانائی، خوداعتمادی، اور یہاں تک کہ موڈ کو بھی بہتر کرتا ہے۔البتہ یہ تب ہی فائدہ مند ہے، جب جنسی میلاپ دونوں کی رضامندی، جذبات، اور آرام سے جُڑا ہو, نہ کہ زبردستی، تھکن یا "فرض" سمجھ کر کیا جائے۔ازدواجی راز، صرف ازدواجی زندگی تک رہنے چاہییں:نئی نویلی دلہنوں کا اپنی سہیلیوں سے جنسی میلاپ کی تفصیلات شیئر کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور شرعی طور پر ممنوع عمل ہے۔ یہ بات مردوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ جنسی میلاپ ایک راز ہے، ایک مان، ایک اعتماد۔ اگر یہ کسی تیسرے شخص کو بتایا جائے تو یہ اُس رشتے کی حرمت کو پامال کر دیتا ہے۔ اور اگر شوہر کو علم ہو جائے، تو وہ اعتبار کی بنیاد کھو بیٹھتا ہے۔جنسی میلاپ محبت کا اظہار ہے، جسم کی زبان ہے، اور روح کی قربت ہے۔ اگر مرد صرف دخول اور انزال کو ہی مقصد بنائے، اور عورت فقط خاموشی کو وفا سمجھے، تو رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر دونوں ایک دوسرے کے جذبات، خواہشات اور ضرورتوں کو سمجھیں، تو یہی جنسی میلاپ، محبت کا بلند ترین مقام بن جاتا ہے۔میرا علم, مشاہدہ اور تجربہ یہی کہتا ہے کہ: "جنس صرف شہوت نہیں، محبت کی دعا ہے۔ یہ تبھی قبول ہوتی ہے، جب دونوں سچ بولیں, زبان سے نہیں، جسم سے، دل سے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Sunday 19 Shaban Al-Mu'azzam 1447 AH* *February 8, 2026💫*

سانحہ اسلام آباد، بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی فنڈنگ انڈیا سے، پہلے 5 سو اب 15 سو ڈالر دیئے جاتے ہیں، وزیر داخلہ ...