جمعرات، 22 مئی، 2025

#عورت_مرد_اور_نفس_کے_درمیان_کھنچی_لکیر!دنیا کے ہر شہر، ہر گلی، ہر زاویے میں اگر کوئی چیز مرد کی آنکھ کو کھینچتی ہے، تو وہ عورت ہے۔ BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI

حسن کا خمیر ہو یا نزاکت کا مظہر، عورت ایک تماشہ نہیں، ایک تخلیق ہے, وہ تخلیق جسے ربِ کائنات نے خود اپنی کاریگری کا شاہکار کہا۔ مگر تماش بینی کے بازار میں اس شاہکار کی بولی لگنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ آدم کی نسل پھر کسی حوا کی وارث کی بے لباسی سے خود کو بے قابو کر چکی ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ مرد عورت کو دیکھتا ہے، سوال یہ ہے کہ عورت خود کو دکھاتی کیوں ہے؟یہ جو ہمارے سوشل میڈیا کے پردوں میں چھپی "دیسی مغربیت" ہے، یہ جو دوپٹوں کی بے وزنی اور لہجوں کی مٹھاس سے سجی بات چیت ہے، یہ جو "سمائل پاس" کرنے کی بے فکری اور "سجی سجائی پروفائل پک" کا منہ بولتا اشتہار ہے, یہ سب وہ خاموش دعوتیں ہیں جنہیں مرد کبھی بھی رد نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں کہ وہ خراب ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ مرد ہے۔ ہوس اس کی فطرت نہیں، مگر نسائی فتنہ اس کی کمزوری ہے۔تم ایک مرد کو چائے کے ڈھابے پر بٹھاؤ، پاس سے ایک عورت گزرے، چاہے ساٹھ برس کی ہو یا سولہ کی، مرد کی نگاہ اسے اسکین کرتی ہے۔ کہیں لاشعوری طور پر، کہیں پورے ادراک سے۔اب چاہے وہ نقاب میں ہو یا نک سک سے تیار، مرد کی نظر اُس کی موجودگی سے ایک خوشی سی محسوس کرتی ہے۔ یہ کوئی فلسفہ نہیں، یہ تجربہ ہے۔ مشاہدہ ہے۔ انسانی جبلت کا وہ زاویہ ہے جسے ہم لاکھ الفاظ میں ملفوف کریں، مگر کبھی ختم نہیں کر سکتے۔مگر بات وہیں آکر رکتی ہے جہاں مرد کا نفس عورت کی نسوانیت کو ایک "پیکج" سمجھنے لگتا ہے۔ فری ٹرائل، یا ڈسکاؤنٹ پر دستیاب۔ عورت کی موجودگی مرد کو خوشی دیتی ہے, یہ بات درست۔ لیکن اگر وہ عورت خود اس خوشی کی "بخشش" بن کر مرد کے نفس کو مزید کھلونے فراہم کرے، تو پھر شکایت کیسی؟ نہ اُس مرد کو جو تمہیں آنکھوں میں بسائے بیٹھا ہے، اور نہ تمہیں، جو اپنی آنکھوں سے کسی کو بسنے دیتی ہو۔اب ایک عورت کہے کہ "ہم کیا کریں؟" تو عرض ہے، "وہی کرو جو اللہ نے تم سے کہا ہے"۔اپنی زینت کو چھپاؤ۔ لہجوں میں سختی لاو۔ لبوں سے بے ضرر سمائل بھی ختم کر دو, اگر سامنے والا مرد تمہارے نام کا ولی نہیں۔ یہ زبان، یہ جسم، یہ آنکھیں، یہ خدوخال, یہ سب صدقہ نہیں، جو راہ چلتے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو بھی مل جائے۔ یہ سب امانت ہیں، جو صرف اُس کے لیے ہیں جو تمہیں عزت دے، نان نفقہ دے، نام دے، وراثت دے۔ایک مرد تب تک تمہارا کچھ نہیں جب تک وہ قاضی کے سامنے تمہارے نام کا اعلان نہ کرے۔ تب تک وہ تمہارا بھائی ہے، اور اگر بھائی بھی نہ ہو، تو بھی غیر محرم ہے, مکمل غیر محرم۔ اس غیر محرم کو اگر تمہارے چہرے کی ہنسی کا ذائقہ ملے، تمہارے لہجے کی مٹھاس کی عادت پڑے، تو پھر کل جب وہ تمہاری عزت کا تماشا بنائے، تو اس میں حیرت نہیں، صرف تمہاری "سستی" کا عکس ہوتا ہے۔عورت، اپنے لہجے کو لوچدار بنانے سے پہلے ایک بار ضرور سوچے کہ جس کے سامنے زبان رس گھول رہی ہے، کیا وہ اس رس کا اہل بھی ہے؟ جس کو وہ "ریپلائی" کر رہی ہے، کیا وہ کل کو نکاح نامے میں اُس کا "والی" بن سکے گا؟ اگر نہیں, تو لہجہ زہر بناؤ، تاکہ اُس کی نیت مرتی رہے۔ یہ نرم زبان، یہ ہنستی آنکھیں، یہ بے ساختہ سلام، یہ سب وہ چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے "حرام لمحات" ہوتے ہیں جو بعد میں پوری زندگی کو برباد کر دیتے ہیں۔دوسری طرف مرد کے لیے بھی ایک بات واضح ہے, اللہ نے تمہیں عورت کے ہر روپ سے لُطف اندوز ہونے کی اجازت دی ہے، لیکن صرف اُس کے جو تمہاری بیوی ہو۔ باقی ہر عورت تمہارے نفس کی آزمائش ہے، نہ کہ دل بہلانے کا ذریعہ۔مگر تم تو ہر عورت کو تفریح سمجھ بیٹھے ہو۔ بازار میں، موبائل میں، سوشل میڈیا میں, نظروں کا زنا تمہاری فطرت نہیں، تمہاری لاپرواہی ہے۔ کیونکہ تم جانتے ہو، ایک لمحے کی لذت کا انجام جہنم کا شعلہ بھی ہو سکتا ہے۔لہٰذا عورت بھی باوقار بنے اور مرد بھی باخوف۔ عورت سمائل پاس کرنا بند کرے، مرد کمنٹ کرنا بند کرے۔ عورت اپنی زینت چھپائے، مرد نگاہیں جھکائے۔ عورت بات کرے تو لہجہ فولادی ہو، مرد بات کرے تو نگاہ درویشانہ ہو۔تب جا کر وہ معاشرہ ممکن ہے جہاں عورت "زینت" بنے گی, "تماشہ" نہیں، اور مرد "محافظ" بنے گا, "شکاری" نہیں۔فیصلہ عورت کا بھی ہے اور مرد کا بھی۔ چاہو تو نفس کی منڈی بن جاؤ، یا غیرت و حیاء کا وہ قلعہ بن جاؤ جسے نہ نظر چھو سکے نہ نیت ڈگمگا سکے۔اب توپیں باندھنے کی ضرورت نہیں۔ بس آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھو, تم اپنے رب کو خوش کر رہی ہو یا دنیا کے مردوں کو؟ اور اے مرد, تم عورت کو چاہ رہے ہو یا صرف اس کا جسم؟یہی سوال تمہاری خوداحتسابی اور اخروی نجات کا پہلا دروازہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Sunday 19 Shaban Al-Mu'azzam 1447 AH* *February 8, 2026💫*

سانحہ اسلام آباد، بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی فنڈنگ انڈیا سے، پہلے 5 سو اب 15 سو ڈالر دیئے جاتے ہیں، وزیر داخلہ ...