جمعرات، 29 مئی، 2025

*جب جان حلق تک آجائے!*٭٭٭دو دن قبل بیگم صاحبہ کے *BBC PK News Article Muhammad Faisal Shahzad Karachi

ساتھ گرین بس پر نارتھ کراچی کا سفر ہوا۔ناظم آباد بس اسٹاپ سے بیٹھے تو بس میں حسبِ توقع رش تھا۔بیگم خواتین کے کمپارٹمنٹ میں تھیں، اور ہم کچھ ہی فاصلے پر دروازے کے قریب مردانہ حصے میں کھڑے تھے۔بیگم کے سامنے والی سیٹوں پر دوکالج طالبات سہیلیاں بیٹھی باہم ہنسی مذاق کرتی تھیں۔ایک اسٹاپ آیا تو اہلیہ محترمہ کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی اٹھنے لگی۔یہ دیکھ کر بیگم سیٹ پر بیٹھنے کے لیے آگے بڑھیں تو لڑکی نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں روکا اور رش میں کچھ فاصلے پر کھڑی ایک ضعیف خاتون کو بلا کر سیٹ پر بیٹھنے کو کہا۔وہ بزرگ خاتون آئیں، مسکرا کر اس لڑکی کا شکریہ ادا کیا اور سیٹ پر بیٹھ گئیں۔لڑکی ان کا شکریہ وصول کر ، نیکی کے جذبے سے سرشار بس سے اتر گئی۔بیگم خاموش کھڑی رہیں۔کچھ دیر بعد سخی حسن کا اسٹاپ آ گیا۔ اب بالکل برابر والی سیٹ پر جو طالبہ بیٹھی تھی، وہ اٹھنے لگی تو ہماری محترمہ بے چاری پھر حرکت میں آئیں کہ سیٹ پر تشریف فرما ہوں، لیکن اس لڑکی نے بھی اُسی ادا سے ہاتھ کے اشارے سے انھیں روکا ، بولی رکیں، پھر دور کھڑی ایک لڑکی کو بلا لیا، جس کی گود میں ایک ننھا بچہ تھا۔وہ آئی تو ہماری محترمہ کو ہٹا کر طالبہ نے اسے اپنی سیٹ دے دی اور خود لڑکی کا شکریہ اور مفت میں ملنے والا ڈھیروں ثواب دوپٹے کے پلو میں باندھ کر بس سے اتر گئی۔اب آپ ہی بتائیں، کیا واقعی یہ ثواب کمایا گیا اور کیا یہ واقعی خدمتِ خلق کا جذبہ تھا؟ہو سکتا ہے کہ آپ کو ہماری بات پر اعتراض ہو کہ بھئی، نیکی تو کی نا، آپ کی بیگم کو بھی بزرگ اور بچوں والیوں کے خیال سے دل بڑا کرنا چاہیے،لیکن ذرا ٹھہریے! ایک بار پھر غور کیجیے،کیا واقعی یہ نیکی تھی؟ بیگم نے تو خیر صبر کا دامن تھامے رکھا، اگرچہ ہم جانتے تھے کہ ہمارے ’’ساتھ کی برکت 😉‘‘ سے اب وہ ہر بات کا منطقی جائزہ ضرور لیتی ہیں۔ سو انھوں نے یہ ضرور سوچا ہوگا کہ یہ کیسی نیکی ہے، جو آرام دہ سیٹ انجوائے کرنے کے بعد، منزل پر پہنچ کر، آخری لمحے میں اس وقت یاد آتی ہے جب نیکی کا موقع ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے؟ویسے ہم چاہتے ضرور تھے کہ بیگم صاحبہ اِس موقع پر دونوں لڑکیوں کی مہذب انداز میں تھوڑی بہت اصلاح کرتیں، کیونکہ ہماری رائے میں بزعمِ خود ثواب کمانے والے ایسے گھٹیا اور عامیانہ طریقوں کی اصلاح تو سب کے سامنے ہونا ہی مفید ہے۔جو ہمارے قارئین اب بھی نہیں سمجھے، ان کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔ایک صحابی کے دریافت کرنے پر آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو، فقر سے ڈرتے ہو، اور لمبی زندگی کی امید رکھتے ہو، اور (خود کو) اس قدر مہلت نہ دو کہ جب تمہاری جان حلق تک پہنچ جائے تو پھر (وصیت کرتے ہوئے) کہو فلاں کا اتنا ہے اور فلاں کا اتنا ہے (حالانکہ) وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا۔ یعنی محتاجی کے ڈر کے وقت تو خرچ نہ کیا کہ لمبی زندگی کی امید ہے، لیکن جب روح حلق تک آگئی تو کہنے بیٹھ گئے کہ اتنا مال فلاں کے لیے، فلاں کو اتنا دینا، ارے بھئی! اب تو یہ مال فلانے کا ہو ہی گیا (کہ تو تو دنیا سے چلا)!گویا اب جس کا مال ہو گیا، یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ صدقہ کرے یا نہ کرے!تو بالکل یہی بات تو یہاں بھی ہے۔ ذرا حدیث مبارکہ کو اس واقعے پر منطبق کیجیے۔وہ بیچاری بزرگ خاتون تو کب سے کھڑی تھیں اور بچے والی لڑکی بھی،یعنی محتاج تو پہلے بھی تھے، لیکن اس کنجوس کو جیسے فقر کا ڈر تھا اور لمبی زندگی کی امید، سو اس وقت تو صدقہ نہیں کیا، اسی طرح) طالبات کو بھی تھکن کا ڈر تھا اور اپنی منزل ابھی دور تھی تو اُس وقت کہ جب سیٹ پر اپنا استحقاق تھا، اپنی سیٹ بزرگ خاتون کو پیش نہیں کیں بلکہ آرام کو انجوائے کرتی رہیں، لیکن جب (جان حلق تک آگئی یعنی) اپنی منزل آگئی اور سیٹ چھوڑنا ہی تھی کہ سیٹ پر استحقاق ختم ہوگیا تھا تو اب سیٹ کی جو اصل مستحق ہے اسے دینے کی بجائے محترماؤں نے جاتے جاتے یکایک ثواب کمانے کا ارادہ کر لیا۔قصہ مختصر یہ ہے کہ بزرگوں، محتاجوں اور معذوروں پر اکرام تب مستحسن ہوتا ہے جب آپ اپنی وہ چیز، جس کی ضرورت آپ کو خود ہے، انھیں دیں۔ سفر میں ہیں تو اپنی سیٹ انھیں دے کر خود کھڑے ہو جائیں۔مگر یہ کیا کہ جب آپ کی منزل آ گئی ہے اور سیٹ اب سامنے والے کی ہے تو آپ گونگلوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے فوراً حاتم طائی بن جائیں!یہ اب جس کی سیٹ ہے، اسے فیصلہ کرنے دیں کہ وہ اپنی سیٹ خود سے بزرگوں کو پیش کر دے یا نہ دے!اور الحمدللہ، ہمارا ہی نہیں، بیگم بچوں کا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ معمول ہے کہ سیٹ پر بیٹھے ہوں اور کسی بزرگ یا کمزور پر نظر پڑ جائے تو فوراً سیٹ دے دیتے ہیں۔بطور یاددہانی یہ تفصیل لکھ دی کہ یہ گونگلوؤں پر سے مٹی جھاڑنے والی ذہنیت کہیں نظر آئے تو اصلاح ضرور کریں۔٭٭٭*محمد فیصل شہزاد 🥰**روشنی کا سفر 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...