جمعرات، 29 مئی، 2025

طورخم بارڈر وسطی ایشیا کے لئے پاکستان کا اقتصادی دروازہ، تجارتی حب کی تشکیل جاری — BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

محتاط اندازے کے مطابق سالانہ تجارتی حجم 6 ارب ڈالر سے زائد۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے اہم زمینی گزرگاہ طورخم بارڈر کو جدید تجارتی حب میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے۔ حکام کے مطابق جدید ٹرمینل کے طرز پر تعمیراتی کام کا 80 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے، جس سے علاقائی تجارت کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوگا۔طورخم بارڈر کی اقتصادی اہمیتطورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے مابین سالانہ دو طرفہ تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے، جبکہ حالیہ اقدامات کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں (تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان وغیرہ) کے ساتھ ممکنہ براہ راست تجارتی راہ ہموار ہونے سے یہ حجم 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔جدید سہولیات اور سرمایہ کاری کے مواقعجدید ٹرمینل پر مشتمل اس منصوبے میں شامل ہیں:خودکار کسٹمز کلیئرنس سسٹمجدید اسکننگ اور سیکیورٹی سسٹمزامیگریشن، ٹرانسپورٹ، اور لاجسٹک زونزکارگو پارکنگ ایریاز اور روف ٹاپ آفسزان اقدامات سے نہ صرف تجارتی عمل میں شفافیت اور رفتار بڑھے گی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور لاجسٹکس کمپنیوں کو بھی راغب کیا جا رہا ہے۔روزگار اور مقامی معیشت پر اثرطورخم بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں میں وسعت سے:ہزاروں مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گےضلعی اور قبائلی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بحال ہوں گیٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، گودام، اور دیگر ذیلی صنعتیں فروغ پائیں گیعلاقائی رابطوں کے فروغ میں اہم سنگ میلیہ منصوبہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور پاکستان-افغانستان-وسطی ایشیا تجارتی روابط (PACT) کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو ایک علاقائی ٹریڈ کورریڈور میں تبدیل کرنا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل ہوا تو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ، زرمبادلہ کی آمد اور علاقائی پوزیشننگ کو نئی جہت ملے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Monday 20th Shaban 1447 AH**February 9, 2026💫*

غزہ بورڈ اجلاس، پاکستان شریک ہوگا، وزیراعظم کا واشنگٹن جانے کا قوی امکان، نمائندگی کا حتمی فیصلہ جلد، مشاورت شروع ٹی 20 ورلڈکپ، ...