Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
اتوار، 28 ستمبر، 2025
*💥اقوام متحدہ: متنازع شمع جونیجو کو پاکستانی وفد میں کس نے شامل کرایا؟**تحریر: سینئر صحافی عامر خاکوانی*BBC PK NEWS
اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل اجلاس میں وزیردفاع خواجہ آصف نے وزیر اعظم پاکستان کی غیر موجودگی میں خطاب کیا۔ خواجہ صاحب اچھا بولے، فلسـطیـن کے حق میں انہوں نے کھل کر گفتگو کی۔ اصل مسئلہ یا تنازع تب شروع ہوا، جب تصاویر میں خواجہ آصف کے پیچھے شمع جونیجو نامی ایک متنازع سوشل میڈیا ایکٹوسٹ خاتون بیٹھی نظر آئی۔ قواعد وضوابط کے مطابق اقوام متحدہ کے کسی فورم میں وزیراعظم یا وزیر جب خطاب کریں تو ان کے پیچھے صرف فارن آفس سے تعلق رکھنے والے ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ شمع جونیجو وہاں کیسے مزے سے براجمان ہیں ؟ستم ظریفی یہ کہ جب خواجہ آصف اسـرائیـل پر سخت تنقید کرتے ہوئے فلسـطینیـوں کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے، ٹھیک ان کے پیچھے اسـرائیـل کے لئے نرم موقف رکھنے اور متنازع ٹوئٹ کرنے والی شمع جونیجو ان کے وفد کے ایک اہم رکن کے طور پر موجود تھیں۔شمع جونیجو اسـرائیـل کو تسلیم کرنے کی مہم چلاتی رہی ہیں، اس حوالے سے بہت سے ٹؤئٹس، کئی تحریریں موجود ہیں۔ وہ برٹش نیشنلٹی حاصل کر چکی ہے، ان کی ایک ملاقات اسـرائیـلی سفیر سے ہوئی جس پر انہوں نے بڑے تفاخر کا اظہار کیا۔ ایک ٹوئٹ میں تو یہ تک کہا کہ ان کی اگر اسـرائیـلی وزیراعظم نیـتن یاہو سے ملاقات ہوئی تو یہ ان کے لئے اعزاز ہوگا۔یہ ٹھیک ہے کہ شمع جونیجو اب دھڑا دھڑا اپنے پچھلے ٹوئٹ ڈیلیٹ کر رہی ہیں، مگر سوشل میڈیا کی دنیا میں یہ آسان نہیں۔ لوگ فوری سکرین شاٹ بنا لیتے ہیں جو برسوں محفوظ رہتے ہیں۔ شمع جونیجو کے وہ متنازع ٹوئٹ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔اس پورے معاملے کا سب سے افسوسناک اورقابل مذمت پہلو یہ ہے کہ کوئی یہ ماننے اور ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہی نہیں کہ شمع جونیجو کیسے پاکستانی وفد میں شامل ہوئیں؟ خواجہ آصف نے اپنے وضاحتی ٹوئٹ میں شمع جونیجو سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا کہ وہ فلسـطیـن کے ہمیشہ سے حامی ہیں اور غاصب قوت کے لئے ان کے دل میں نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ خواجہ آصف نے اپنے اس ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ وفد میں موجود افرا دکی تفصیل محکمہ خارجہ ہی بتا سکتا ہے، یہ ان کا کام ہے، ان کی جانب سے میں جواب دوں تو وہ مناسب نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ خارجہ نے بھی صاف جواب دے دیا اور ان کی طرف سے باضابطہ طور پر بیان آ چکا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ شمع جونیجو نامی خاتون کو کس نے وفد میں شامل کیا۔ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور وفد کے اراکین کی فہرست میں شمع جونیجو کا نام ہی نہیں۔اس بحث کو یہیں پر چھوڑتے ہوئے شمع جونیجو کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا تعلق ایک سندھی گھرانے سے ہے، کوٹری سندھ میں پیدائش ہے۔ ان کے اپنے پبلک فورمز پر موجود تفصیل کے مطابق ریڈیو پاکستان کے لیے بطور نیوز اینکر وہ سلیکٹ ہوئی، عبرت گروپ آف پبلشرز کے ایک جریدے میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام بھی کیا۔ شمع جونیجو کو پی ٹی وی کے ایک ڈرامے عروسہ میں کام کر کے شہرت ملی۔ اس ڈرامے میں دو نئی اداکارائوں کو موقعہ ملا، مشی خان جن کا ایک معصوم سی لڑکی کا کردار تھا ، دوسری شمع جونیجو جو ایک تیز طراز ، بااعتماد لڑکی کا رول نبھا رہی تھیں۔ یہ ڈرامہ سپر ہٹ ہوا۔ تاہم شمع جونیجو نے زیادہ عرصہ کام نہیں کیا اور جمشید قاضی نامی شخص سے شادی کر کے انگلینڈ چلی گئیں۔شمع جونیجو جو اب ڈاکٹر شمع جونیجو کہلاتی ہیں، ان کے لنکڈ ان پروفائل کے مطابق انہوں نے ملٹری ایتھکس میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پچھلے تین عشروں سے صحافت کر رہی ہیں۔ ویسے انہیں پچھلے پانچ سات برسوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہی شہرت ملی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف بہت ہی سخت، تندو تیز اور زہریلے کمنٹس اور پوسٹیں لگانا ہے۔ ان میں سے بعض پوسٹیں اور ٹوئٹس شدید ذاتی حملے کی صورت میں بھی تھے۔ شمع جونیجو زبردست قسم کی پرو ن لیگی ہیں اور وہ اپنے ٹؤئٹر ، فیس بک وغیرہ کے ذریعے ہمیشہ تحریک انصاف پر بمبـاری کرتی اور شریف خاندان کی ستائش میں لکھتی پائی گئیں۔چار پانچ برس قبل وہ غالباً گلے کے کینسر کا شکار ہوئی تھیں، پھر ٹریٹمنٹ کے بعد ٹھیک ہوگئیں، اس حوالے سے فیس بک پر پوسٹیں بھی کی تھیں۔ شمع جونیجو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے مریم نواز شریف سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور شریف فیملی کے ساتھ وہ مسلسل لندن میں اِن ٹچ رہی ہیں۔پچھلے کچھ عرصے میں وہ شہباز شریف حکومت کے قریب آئیں اور ایک آدھ جگہ پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں وزیراعظم شہباز شریف کے لئے پالیسی ایڈوائزر کی ذمہ داری انجام دے رہی ہوں، تاہم اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن موجود نہیں اور یہ دعویٰ بھی بعد میں ڈیلیٹ کر لیا گیا۔فیس بک پر جولائی کی ایک پوسٹ میں شمع جونیجو وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کر رہی ہیں کہ انہوں نے ان کے لئے پاکستانی آم بھجوائے، اسی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں اپنے بھائی عطا تارڑ اور عزیز احسن اقبال کی شکر گزار ہوں جنہوں نے یہ آم میرے تک پہنچوائے۔اندازہ یہ ہے کہ شمع جونیجو کا پاکستانی وفد میں شامل ہونا وزیراعظم شہباز شریف کی غلط بخشی کا نتیجہ ہے۔ تاہم اب وزیراعظم پاکستان کو سامنے آ کر کھل کر اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔یہ تو نہایت افسوسناک اور قابل مذمت بات ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد میں ایک غیر متعلقہ خاتون شامل ہو جائے ، فارن آفس اس بارے میں بے خبر ہو اور آفیشل لسٹ میں اس خاتون کا نام ہی نہ ہو، جو وزیر صاحب تقریر کر رہے ہیں، انہوں نے بھی پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ بی بی کہاں سے اور کیوں آ گئی ہیں؟ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ خواجہ آصف شمع جونیجو کو نہ جانتے ہوں۔ ڈاکٹر شمع ن لیگی حلقوں کے بہت قریب رہی ہیں اور اہم ن لیگی لیڈران ان سے اور شریف خاندان سے ان کے قریبی تعلق سے باخبر ہیں ۔ ویسے خواجہ آصف کو شمع جونیجو کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ جون میں اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے خواجہ صاحب کی جگمگاتی تصویر لگا کر انہیں مسلم امہ کا ہیرو قرار دیا، (رئیلی ؟ خواجہ صاحب نے مسلم امہ کے لئے کیا کر ڈالا ؟)۔شمع جونیجو کی پاکستانی وفد میں یوں شمولیت کو معروف پاکستانی صحافی خواتین نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینئر صحافی ماریانہ بابر نے ٹوئٹ کیا کہ یہ نری حماقت ہے، کس اصول کے تحت شمع جونیجو پاکستانی وفد میں شامل ہوئی ہیں؟ کیا اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن ہے؟ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے ٹؤئٹ کیا “مسئلہ یہ ہے کہ شمع جونیجو ایک مکمل فیک ہونے کے باوجود مسلسل لندن میں نواز شریف اور شہباز شریف کے پاس بیٹھی پائی جاتی ہیں۔ پچھلے سال انہیں صدارتی ایوارڈ (تمغہ امتیاز) دیا گیا اور اب اس ٹرپ کا تحفہ۔۔۔ ظاہر ہے شہباز شریف کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ شمع جونیجو نے اسـرائیـلی وزیراعظم نیـتن یاہو کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے ۔ ”پاکستانی صحافی اور سیاسی حلقے جانتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف یا شریف خاندان اپنے قریبی لوگوں پر نوازشات کرنے کی خاصی شہرت رکھتا ہے، تاہم اس سب کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ اگر وزیراعظم شہباز شریف واقعی شمع جونیجو کو اپنی ٹیم کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر جرات سے کام لیں اور انہیں ان کے متنازع افکار، آرا اور متنازع ترین سابق ٹوئٹس سمیت باقاعدہ نوٹیفکیشن کر کے شامل کرائیں۔ جس بھونڈے انداز سے یہ واقعہ ہوا ، اس سے پاکستان کی خاصی بھد اڑی ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*
ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں