جمعرات، 13 نومبر، 2025

پریم سنگھ تحصیل رپورٹر ننگر پارکر ڈیلی بی بی سی پاک لندن ۔کام*🐖 اعضاء کی کمی کا حل: BBC PK NEWS

*خنزیر کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ گردے اور سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجیدنیا بھر میں گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے خواہشمند مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، مگر اعضاء کی فراہمی میں شدید کمی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، گردے کے ٹرانسپلانٹ کے ضرورت مند مریضوں میں سے صرف دس فیصد خوش نصیبوں کو ہی یہ سہولت میسر آ پاتی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، سائنسدانوں نے ایک متبادل حل پر کام شروع کیا، اور وہ حل خنزیر (سؤر) کے اعضاء کو انسانوں میں ٹرانسپلانٹ (زینو ٹرانسپلانٹیشن) کرنا ہے۔اس میدان میں انقلابی پیش رفت کا سہرا سی آر آئی ایس پی آر (CRISPR) جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کو جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے پر ہی 2020 میں کیمسٹری کا نوبل انعام ایما نوئیل شارپینٹیئر اور جینیفر ڈوڈنا کو دیا گیا تھا۔ سی آر آئی ایس پی آر کی مدد سے خنزیر کے ڈی این اے میں تبدیلی (جینیٹک ایڈیٹنگ) کر کے اس کے اعضاء کو انسانی مدافعتی نظام کے لیے زیادہ قابل قبول بنایا جاتا ہے، جس سے اعضاء کے فوری مسترد ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ سائنسدان خنزیر کے جینز میں رد و بدل کرتے ہیں تاکہ ان میں ایسے مالیکیولز ختم کیے جا سکیں جو انسانی جسم میں شدید ردِ عمل پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ای جیینسز (eGenesis) نامی کمپنی نے خنزیر کے گردے میں 69 جینیاتی تبدیلیاں کیں، جس میں نقصان دہ خنزیر کے جینز کو ہٹانا اور انسانی جینز شامل کرنا شامل ہے۔اس ٹیکنالوجی کی بدولت، میساچوسٹس جنرل ہسپتال میں ٹم اینڈریوز نامی مریض، جس نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا گردہ لگوایا، 271 دن سے زیادہ زندہ رہ کر طویل ترین بقا کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ (بعد میں یہ ریکارڈ دیگر مریضوں نے توڑا ہے، جیسا کہ توانا لونی 130 دن تک زندہ رہی، اور حالیہ رپورٹس کے مطابق ٹم اینڈریوز 7 ماہ سے زیادہ بھی زندہ رہ چکے ہیں، جس سے یہ ٹیکنالوجی مزید مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔)امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (FDA) نے اب ای جیینسز اور یونائیٹڈ تھراپیوٹکس جیسی امریکی کمپنیوں کو اس ٹیکنالوجی کے ساتھ خنزیر کے گردوں کے مکمل کلینیکل ٹرائلز (فیز ون/ٹو/تھری ٹرائلز) شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس میں گردے کی بیماری کے آخری مرحلے سے دوچار مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کیا جائے گا۔ یہ منظوری زینو ٹرانسپلانٹیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے، اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں یہ پیش رفت انسانی اعضاء کے ٹرانسپلانٹ کے لیے سپلائی کی کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، اور ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...