جمعرات، 13 نومبر، 2025

سچ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ لوگ اصولوں کے نام پر ڈھونگ رچاتے ہیں، prem Singh report

پریم سنگھ تحصیل رپورٹر ننگر پارکر ڈیلی بی بی سی پاک نیوز لنڈن۔کاممگر جیسے ہی اپنا فائدہ سامنے آ جائے، سارا نظریہ، ساری اخلاقیات، سارا “ضمیر” ایک سیکنڈ میں پگھل کر بہہ جاتا ہے۔ ہم دعوے بہت کرتے ہیں—دیانت، اصول پسندی، سچائی—مگر جب اپنی جیب، اپنی سہولت، اپنی خواہش یا اپنی انا بچانی ہو تو یہی دعوے سب سے پہلے قربان کر دیتے ہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کے اصول نہیں، اس کے مفاد کے وقت کا رویہ ہے، اور ہمارا معاشرہ اس امتحان میں مسلسل فیل ہو رہا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں یہ مثال کمزور دلائل کو نہیں، بلکہ ہماری سوچ کی ریڑھ کی ہڈی کو بے نقاب کرتی ہے۔ آرٹیکل: معاملہ مکھی کا نہیں، ہماری دوغلی سوچ کا ہے۔ اگر مکھی چائے میں گرے تو ہم پوری چائے ضائع کر دیتے ہیں لیکن اگر وہی مکھی دیسی گھی میں گرے تو نکال کر گھی بچا لیتے ہیں، کیونکہ بات اصول کی نہیں، مالیت کی ہے۔ چائے سستی ہے، اس لیے ضمیر بھی سستا چلتا ہے؛ گھی مہنگا ہے، اس لیے اصول فوراً خاموش ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ اصول نہیں مانتے، مسئلہ یہ ہے کہ اصول صرف وہیں مانتے ہیں جہاں ان کا اپنا کوئی نقصان نہ ہو۔ آج کے انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ اپنے مفاد کو اصول کا درجہ دے بیٹھا ہے، اور اصول کو صرف ایک سجاوٹی نعرہ بنا رکھا ہے۔ ہم دوسروں کو اصول یاد دلاتے ہیں مگر اپنی باری آئے تو سب سے پہلے انہی اصولوں کے گلے میں “لیکن، اگر، مگر” ڈال دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے میں فیصلے اصولوں سے زیادہ حیثیت، رتبے، دولت اور فائدے کو دیکھ کر کیے جائیں وہاں انصاف بھی تماشا بن جاتا ہے، اخلاقیات بھی رسوا ہوتی ہیں اور کردار بھی کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں طاقتور غلطی کرے تو جواز ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور کمزور ٹھوک بجا کر سزا پاتا ہے۔ اصول کمزوروں کے لیے سخت، طاقتوروں کے لیے نرم ہو جائیں تو پھر معاشرہ سیدھا نہیں چلتا، جھکتا ہے، بگڑتا ہے اور آخرکار ٹوٹ جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں یہ رویہ غلط ہے، پھر بھی اسے چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں فائدہ چاہیے، سچ نہیں۔ ہمیں اصولوں کی جیت نہیں، اپنی آفیت چاہیے۔ ہم نے اپنے کردار کو اتنا لچکدار بنا دیا ہے کہ وہ مفاد کے سامنے ہر بار جھک جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچ کمزور پڑ رہا ہے اور جھوٹ طاقت پکڑ رہا ہے۔ انصاف کے نظام سے لے کر روزمرہ کے تعلقات تک، ہر جگہ یہی خامی ہمارے سامنے آتی ہے کہ لوگ سچ نہیں دیکھتے، وہ دیکھتے ہیں کون کہہ رہا ہے اور اس سے انہیں کیا فائدہ ملے گا۔ اصول اسی لمحے تک اصول ہیں جب تک وہ ہماری جیب، ہماری خواہش، ہماری آسانی کے خلاف نہ جائیں۔ ورنہ ہم خود کو دھوکا دینے کے ماہر ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک قوم تب مضبوط بنتی ہے جب اصول شخصیت سے نہیں، سرمائے سے نہیں، فائدے سے نہیں بلکہ سچ سے باندھے جائیں۔ ورنہ چائے میں پھینکنے والی مکھی اور گھی سے نکال کر معاف کر دینے والی مکھی کے درمیان جو فرق ہے، وہی ہمارے کردار اور ہماری زوال پذیر سوچ کا اصل چہرہ ہے — کڑوا، مگر سچ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...