اتوار، 1 جون، 2025

انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف & ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر عمرکوٹ ڈیلی بی بی سی پاک نیوز خبر غم پریس کلب عمرکوٹ کی مینیجمینٹ کمیٹی کے چیئرمین اور معروف سماجی رہنما اور سینیئر صحافی رسول بخش رحیمدانی کے بڑے بھائی انتقال کر گئے۔ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین تفصیلات : پریس کلب عمرکوٹ کی مینیجمینٹ کمیٹی کے چیئرمین ، سینیئر صحافی اور معروف سماج سدھارک رسول بخش رحیمدانی کے بڑے بھائی کے ناگہانی انتقال پر عمرکوٹ کی فضا سوگوار ہو گئی۔ BBC PK News Umer Kot Om Prakash Hira Lal Report

مرحوم کی نمازِ جنازہ خاصخیلی چوک میں ادا کی گئی، جہاں ہر چہرہ غمزدہ اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ بعد ازاں تدفین بھنڈاری قبرستان میں عمل میں آئی۔ اس موقع پر علاقے کی نمایاں شخصیات، سیاسی و سماجی رہنما، اساتذہ، صحافی اور شہری بڑی تعداد میں موجود تھے۔ شرکت کرنے والوں میں رئیس الہبچایو کھوسو، پروفیسر سائیں محمد بخش کھوسو، معروف تعلیمدان محمد زمان کھوسو، سید عباس علی شاہ، خدمتگار خالد حسین کھوسو، سابق پروفیسر محمد اکبر خاصخیلی، پرنسپل محمد بخش خاصخیلی، نامور ایڈووکیٹ پرشتوتم کھتری، ڈاکٹر شفیع محمد بجیر، صدر پریس کلب غلام محمد کنبھر، صحافی سیف اللہ منگریو، سجاد علی شیخ، وقاص یوسفزئی، سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔ مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے خاصخیلی چوک عمرکوٹ میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ خاصخیلی محلہ میں مرحوم کے بھائی رسول بخش رحیمدانی بھائیوں اور بھتیجوں سمیت دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ تعزیت کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور رسول بخش رحیمدانی سمیت تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی سی پاکستان نیوز " دہشتگردی، انڈیا کا سفارتی ہتھیار"۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشتگردی صرف چند پاگلوں کا خبط ہے یا چند مدرسوں کا پیدا کردہ جنون، تو آپ اصل کھیل کو سمجھے ہی نہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں جو بنیاد پرستی بوئی گئی تھی، BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

وہ ایک حادثہ نہیں تھا، وہ ایک منصوبہ تھا۔ اور جب وہ منصوبہ سوویت یونین کے خاتمے تک پورا ہو گیا، تو "ٹھیکیدارِ امن" یعنی مغربی اتحادی خاموشی سے اپنا ساز و سامان سمیٹ کر چلتے بنے۔سوال یہ نہیں کہ وہ اس عفریت کو ختم کیوں نہ کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسے ختم کرنا بھی چاہتے تھے؟ یا وہ صرف اتنا ہی چاہتے تھے کہ ایک مستقل آلہ تیار ہو جائے جسے بوقتِ ضرورت استعمال کیا جا سکے؟ دہشتگردی کبھی افغانستان کے پہاڑوں میں مفید رہی، کبھی شام کے کھنڈرات میں۔ کبھی اسے ختم کرنے کا شور مچایا گیا، اور کبھی اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مقصد ایک ہی تھا: مسلمانوں کو یا تو دہشتگرد بنانا ہے، یا دہشتگرد ثابت کرنا ہے۔اب امریکہ میں یہ بحث اٹھنا شروع ہوئی ہے کہ کیا پاکستان میں موجود مذہبی شدت پسندی کو ختم کرنا ممکن بھی ہے؟ خود امریکی ماہرین اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ عالمی سطح پر ہم آہنگی کے بغیر حل ہونا ممکن نہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ بھارت اس عالمی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرتا ہے، کیونکہ وہ اس انتشار کا اصل بینیفیشری ہے۔انڈیا کا کھیل بڑا واضح ہے:1۔ پاکستان میں دہشتگردی کرواؤ۔2۔ پھر عالمی سطح پر شور مچاؤ کہ پاکستان دہشتگردی کا گڑھ ہے۔3۔ سفارتی ہمدردیاں سمیٹو۔4۔ کشمیر پر اپنی کمزور پوزیشن کو “دہشتگردی کے خلاف جنگ” کے پردے میں چھپاؤ۔یعنی بھارت کو دہشتگردی نامی ہتھیار ہاتھ لگ گیا ہے جو اسے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی اجازت دیتا ہے۔ بھارت نے اس ہتھیار کو تین دہائیوں تک پروپیگنڈہ، سفارتکاری اور جنگی بیانیے کے طور پر استعمال کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو مسلسل عدم استحکام میں دھکیلا جاتا ہے۔ کبھی اندرونی شورشیں، کبھی سرحدی دراندازیاں، کبھی عالمی سطح پر تنہائی کی کوششیں۔ بھارت کا مقصد سادہ ہے، پاکستان کو اس نہج پر رکھا جائے جہاں وہ صرف اپنا دفاع کرتا رہے، کسی بڑی بات یا مؤقف کے قابل ہی نہ رہے۔پاکستان کو ایک بہت بہترین موقع ملا ہے کہ وہ دہشت گردی سے اپنی جان چھڑوا لے۔ اس وقت پاکستان کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ خطرہ ہے پاکستان اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لیڈ لے لے اور پورے بیانیے کو ہی بدل ڈالے تو انڈیا کے پلے کچھ بھی نہیں بچتا۔منقول ۔۔۔

ایسی عورت جو نہ گھر کے قابل ہو نہ شوہر کے لیے سکون…نسوانیت کا سب سے بڑا المیہ تب ہوتا ہے جب عورت "برابری" کو غلط معنی پہنا دیتی ہےآج کل کے بہت سے گھروں میں ایک خاموش المیہ پل رہا ہےایک عورت جو گھر کو نظرانداز کرتی ہے شوہر سے مسلسل برابری کی بنیاد پر الجھتی ہے — BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI

یہ سوچ کر کہ یہی اس کی عزتِ نفس اور وقار کا راستہ ہےحالانکہ حقیقت میں وہ نادانستہ طور پر اپنے گھر کی بنیادیں ہلا رہی ہوتی ہےیاد رکھو…مرد عورت کی کمزوری یا تھکن سے نہیں بھاگتا، بلکہ اُس وقت دور ہونے لگتا ہے جب عورت "برابر کی ٹکر" بن کر سامنے آتی ہے اس سے قیادت چھیننا چاہتی ہے، وقار میں مقابلہ کرتی ہے اور ہر موقع پر اسے ایک مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کرتی ہےایسی عورت جو گھر کو پسِ پشت ڈال دیتی ہےرشتہ داروں اور سہیلیوں کی غیر ضروری باتوں میں الجھی رہتی ہےیہ سمجھتی ہے کہ شادی ان سب چیزوں کے باوجود چلتی رہے گی…لیکن وہ خود اپنے ہاتھوں سے جدائی کے بیج بوتی ہےشادی ایسا بندھن ہے جو بےپردگی اور ہر بات کے تماشہ بننے کو برداشت نہیں کرتاوہ بستر جو تم دونوں کو جوڑتا ہے، اُس کے راز شام کی محفلوں کا موضوع نہیں ہونے چاہئیںمرد ایک حد تک درگزر کرتا ہے، لیکن ہمیشہ نہیںجب اُسے لگتا ہے کہ گھر میں شور ہےبے ترتیبی ہےاور اس کے کانوں میں صرف شکایت ضد، اور تلخی گونجتی ہے تو پھر وہ یا تو دوسرا نکاح کر لیتا ہےیا طلاق دے کر اپنے سکون کی راہ نکالتا ہےاصل حقیقت یہ ہے جسے بعض عورتیں ماننے سے انکار کرتی ہیں کہ مرد کو ایک چرب زبان، اونچی آواز والی عورت نہیں چاہیےبلکہ ایک صالحہ عورت چاہیےجو نرمی سے بات کرے، عزت سے پیش آئےشوہر کی خدمت کو اپنی کمزوری نہیں اپنا فخر سمجھےاور اپنے گھر کو قیاس و شکوے نہیں عفت و وقار سے سجائےیاد رکھو…شادی صرف عورت ہونے کی بنیاد پر ملنے والا انعام نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہےاگر تم اس کے لیے تیار نہیں کہ اپنے شوہر اور گھر کو ترجیح دوتو یہ رشتہ تمہارے لیے ایک ناکام سودا ثابت ہو گااگر تم اُس کے لیے سکون بنو گیتو وہ تمہارے لیے ساری دنیا کا امن بن جائے گالیکن اگر تم نے جنگ چُن لی…تو پھر نہ محبت بچے گی نہ سکون بس ایک اجڑا ہوا رشتہ باقی رہ جائے گا

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...