اتوار، 1 جون، 2025

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز ایک بڑی کمپنی کے لیئے "مئنیجر" درکار ہے ۔ BBC PK News Article jadiv baeruo chief executive Report

ایک بڑی کمپنی کو منیجر کی پوسٹ کےلئے کسی انتہائی قابل شخص کی تلاش تھی تاہم پینٹ کوٹ پہنے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کے درجنوں انٹرویوز کے باوجود کوئی بھی امیدوار یہ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا ، اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ کمپنی کا مالک انٹرویورز کے پینل میں خود بھی بیٹھتا تھا اور جب پینل کے دیگر ممبران اپنے سوالات مکمل کر لیتے تو مالک آخر میں ہر امیدوار سے یہ سوال ضرور پوچھتا کہ ایک اچھے منیجر کی سب سے خاص بات کیا ہوتی ہے. اس سوال کے جواب میں میں کوئی امیدوار کہتا کہ ایک اچھے منیجر کو وقت کا پابند ہونا چاہیے، کسی کا جواب ہوتا اسے پروفیشنل ہونا چاہیے، کوئی کہتا اسے سکلڈ ہونا چاہیے اسی طرح کوئی تجربہ کاری، کوئی ذمہ داری تو کوئی ایمانداری کو اچھے منیجر کی پہچان بتاتا، تاہم کمپنی مالک ان میں سے ہر جواب پر غیر تسلی بخش انداز میں خاموش ہو جاتا اور امیدوار کو جانے کا کہہ دیتا، پینل کے دیگر ممبران ایک تو انٹرویو کرکر کے تنگ آچکے تھے دوسرا وہ اس تجسس میں تھے کہ آخر کمپنی مالک کے نزدیک ایک اچھے منیجر کی سب سے خاص بات کیا ہو سکتی ہے، انھوں نے خود بھی اس سوال کا جواب کمپنی مالک سے جاننے کی کوشش کی تاہم مالک نے اپنا مطلوبہ جواب کسی پر ظاہر نہیں کیا. اور پینل کو انٹرویوز جاری رکھنے کو کہا.ایک روز ایک سادہ سے کپڑوں میں ملبوس اور عام سے حلیے والا نوجوان انٹرویو دینے آ گیا، اسے دیکھ کر پینل کے ممبران طنزیہ انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں کہ اتنے ماڈسکاڈ اور اپ ٹو ڈیٹ قسم کے لوگ یہ انٹرویو پاس نہیں کر پاے تو یہ دیسی سا انسان کہاں سلیکٹ ہو پائے گا اور اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسے اس سوال کا جواب معلوم ہو جو باقی امیدواروں کی ناکامی کی وجہ بنا.خیر نوجوان نے پینل کے سوالات کے انتہائی اعتماد سے جواب دیے. جس کے بعد کمپنی کے مالک نے اپنا سوال پوچھا ' جینٹل مین، یہ بتائیں کہ ایک اچھے منیجر کی سب سے بہترین کوالٹی کیا ہوتی ہے؟'نوجوان نے سوال سن کر کچھ دیر کے لیے سر جھکایا اور پھر کمپنی مالک کی طرف دیکھ کر پورے اعتماد سے مسکرا کرکہا 'سر، اچھا منیجر وہی ہے جو کمپنی کے معاملات کو کمپنی کے مالک سے بھی زیادہ بہتر جانتا اور سمجھتا ہو اور جس کے ہوتے ہوئے مالک برائے نام مالک ہی کہلائے'یہ عجیب و غریب سن کر پینل ممبران چونک گئے، وہ نوجوان کی اس بدتمیزی اور گستاخانہ لہجے پر تلملا اٹھے اور اس پر 'شٹ اپ' اور' ماینڈ یور لینگویج' جیسے کلمات کی بوچھاڑ کر دی. تاہم کمپنی مالک نے ممبران کو خاموش رہنے اور انتظار کرنے کو کہا. پھرمسکرا کر نوجوان سے مخاطب ہو کر کہا، ' بالکل ٹھیک جواب دیا آپ نے، لیکن یہ بات آپ نے کس سے سیکھی ؟' پینل ممبران حیرت سے ایک دوسرے کے منہ دیکھنے لگے. نوجوان نے بد دستور خود اعتمادی کے ساتھ مسکراتے ہوئے جواب دیا. 'سر اپنے گھر سے اور اپنے والدین سے'پینل ممبران نوجوان کی بات غور سے سننے لگے. نوجوان نے باری باری ان ممبران کی جانب دیکھتے ہوئے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی. ' ہم بہن بھائیوں نے اپنے والد کو اپنے گھر کے سربراہ کا درجہ دیا. ایک منٹ کے لئے مان لیجیے کہ وہ کمپنی مالک تھے. گھر بھر کی کفالت ان کی ذمہ داری تھی. لیکن گھر کو چلانا کس منیجر کا کام تھا. کس کے کپڑے کہاں ٹانگے ہیں، کس کے جوتے کہاں رکھے ہیں، کس کی کتابیں کہاں دھری ہیں، کس کے کھلونے کہاں پڑے ہیں، کپڑے گندے ہو گئے تو کون دھوے گا، استری کر کے کون دے گا، سب کی من پسند کھانا بنانا، بنا کے سامنے رکھنا، پھر برتن دھونا کس کی ذمہ داری ہے، پھر گھر بھر کی صفائی، جھاڑوپونچھ، فرش کی دھلائی، رات سب کو سلاکر پھر سونا، صبح سب سے پہلے جاگ کر سب کو جگانا، ایک ایک کو کھلا پلاکر تیار کر کے سکول بھیجنا، کپڑے پھٹ جاتے تو پیوند لگانا، بٹن ٹوٹ جاتا تو ٹانکا لگانا، بیمار پڑ جاتے تو پرہیز والا کھانا اور دوائی دینا،عید شادیوں، سیر سپاٹے، رشتہ داروں سے ملنے جانے کے لئے سب کی تیاری،گھر میں دعوت پر درجن بھر مہمانوں کا کھانا بنانا، سر میں تیل ڈالنا، جوییں نکالنا، بخار میں ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھنا، مالش کرنا، کبھی کھیر، کبھی حلوہ، کبھی گجریلا کبھی کھچڑی، کبھی زردہ، کبھی شربت، کبھی ابلے ہوئے انڈے، اور نہ جانے کیا کیا کچھ. یہ سب مینج کرنے والی میری امی تھیں ، وہ شاندار منیجر تھیں، کبھی بھول کر ہم ابو سے پوچھ لیتے کہ ہماری فلاں چیز کہاں پڑی ہے تو ڈانٹ کر کہتے 'ارے بھئی مجھے کیا معلوم، اپنی امی سے پوچھو' اور اس سے بھی مزیدار بات یہ کہ خود ابو کا موبائل، پرس، کپڑے، جوتے، موٹر سائیکل کی چابی حتیٰ کہ دفتر کی فائلیں تک امی کے پتے پر ہوتی تھیں. تبھی ہم اکثر ابو کو چھیڑتے ہوئے کہا کرتے تھے، آپ تو بس برائے نام ہی گھر کے مالک ہیں، آپ سے کہیں زیادہ تو امی گھر کو جانتی اور سمجھتی ہیں اور ابو بھی ہنس کر اعتراف کیا کرتے کہ امی کے ہوتے ہوئے انھیں کبھی کسی بھی بات کی فکر نہیں ہوتی اس لیے وہ گھر کے برائے نام مالک ہی ٹھیک ہیں .... بس سر اس لیے میرے نزدیک ایک اچھے منیجر کی یہی تعریف ہے'کمپنی مالک نے تحسین آمیز نگاہوں سے نوجوان کو دیکھا اور پھر پینل سے مخاطب ہوکرکہا' آپ سب نے اس نوجوان کا جواب سن کر اسے ڈانٹ دیا تھا. لیکن اب جبکہ اس نے اپنے جواب کی تشریح کی ہے تو مجھے امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس کے جواب کے پیچھے اس کا مشاہدہ بھی ہے اور عمر بھر کا تجربہ بھی اور ایک ٹھوس نظریہ بھی. مجھے بھی ایسے ہی منیجر چاہیے جس کے ہوتے ہوئے میں برائے نام مالک اور بے فکر شخص بن جاؤں' یہ کہہ کر کمپنی مالک نے نوجوان کو منیجر کی پوسٹ کےلئے منتخب ہونے کی مبارک باد دیتے ہوئے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا اور پینل کے ممبران کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگ گئے اس کہانی کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ کہ گھر کا ماحول بہترین درسگاہ ہے اور دوسرا یہ کہ دوسروں کو قائل کرنے کے لیے رٹی رٹائی اور گھسی پٹی کتابی باتوں کا سہارا لینے کی بجائے سادہ الفاظ عملیت پسندی اور فطری مشاہدات پر مبنی سوچ سے کام لیں۔ 🌷 منقول ۔۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز چین کے سائنسدانوں نے ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو شوگر کا کامیاب علاج دریافت کر لیا۔ BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

شوگر کے علاج کیلئے اربوں ڈالر کی ادویات تیار کرنے والی کمپنیاں سخت پریشانی میں مبتلاء۔چین کے سائنسدانوں کی جانب سے بڑی پیش رفت ،شوگر ٹائیپ ون اور شوگر ٹائیپ ٹو کے کامیاب علاج کی دریافت ۔منقول ۔۔۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاک ۔تخم بالنگا : تخمِ بالنگا جسے عام زبان میں تخم بلنگو بھی کہا جاتا ہے۔جیسی قدرتی نعمت کو پاکستان میں بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے جو صحت کا ایک خزانہ ہونے کی بنا پر طبی فوائد سے بھرپور ہے۔صرف شربت اور فالودہ بناتے وقت ہی تخمِ بلنگو کی یاد آتی ہے لیکن تاریخ میں اس بیج کو بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ازطق سپاہی جنگ سے پہلے اسے کھاتے تھے کیونکہ یہ توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ BBC PK News Article jadiv baeruo chief executive Report

اسی بنا پر تخمِ بلنگو کو دوڑنے والے کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔تخمِ بلنگو کی 28 گرام مقدار میں 137 کیلوریز، 12 گرام کاربوہائیڈریٹس، ساڑھے چار گرام چکنائی، ساڑھے دس گرام فائبر، صفر اعشاریہ چھ ملی گرام مینگنیز، 265 ملی گرام فاسفورس، 177 ملی گرام کیلشیئم کے علاوہ وٹامن، معدنیات، نیاسن، آیوڈین اور تھایامائن موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تخمِ بلنگو میں کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔اب تخمِ بلنگو کے فوائد بھی جان لیجئے۔(اے آر شیرانی)جلد نکھارے اور بڑھاپا بھگائےمیکسکو میں تخمِ بلنگو پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں قدرتی فینولِک (اینٹی آکسیڈنٹ) کی مقدار دوگنا ہوتی ہے اور یہ جسم میں فری ریڈیکل بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس طرح ایک جانب تو یہ جلد کے لیے انتہائی مفید ہے تو دوسری جانب بڑھاپے کو بھی روکتا ہے۔ہاضمے کے لیے مفیدفائبر کی بلند مقدار کی وجہ سے تخمِ بلنگا ہاضمے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ السی اور تخمِ بلنگا خون میں انسولین کو برقرار رکھتے ہیں اور کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو بھی لگام دیتے ہیں۔ طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر پانی جذب کرکے پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے اور وزن گھٹانے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کا استعمال معدے کے لیے مفید بیکٹیریا کی مقدار بڑھاتا ہے۔قلب کو صحتمند رکھےتخمِ بلنگو کولیسٹرول گھٹاتا ہے، بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے اور دل کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال خون کی شریانوں کی تنگی روکتا ہے اور انہیں لچکدار بناتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی وجہ سے یہ دل کا ایک اہم محافظ بیج ہے۔ذیابیطس میں مفیدتخمِ بلنگو میں الفا لائنولک ایسڈ اور فائبر کی وجہ سے خون میں چربی نہیں بنتی اور نہ ہی انسولین سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ یہ دو اہم اشیا ہیں جو آگے چل کر ذیابیطس کی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے بلنگا بیج کا باقاعدہ استعمال ذیابیطس کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔توانائی بڑھائےجرنل آف اسٹرینتھ اند کنڈشننگ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق تخمِ بلنگو ڈیڑھ گھنٹے تک توانائی بڑھاتا ہے اور ورزش کرنے والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ جسم میں استحالہ (میٹابولزم) تیز کرکے چکنائی کم کرتا ہے اور موٹاپے سےبھی بچاتا ہے۔ہڈیوں کی مضبوطیبقول منقول ایک اونس تخمِ بلنگو میں روزمرہ ضرورت کی 18 فیصد کیلشیئم پائی جاتی ہے جو ہڈیوں کے وزن اور مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس میں موجود بورون نامی عنصر فاسفورس، مینگنیز اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور یوں ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زنک اور دیگر اجزا منہ اور دانتوں کی صحت برقرار رکھتے ہیں۔طریقہ استعمال۔۔ روزانہ ایک چمچہ ایک گلاس تازہ پانی میں مکس کر کے صبح خالی پیٹ پی لیں۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز "ایک بستی جو اچانک نقشے سے غائب ہوگئی."28 مئی 2025 کو سوئٹزرلینڈ کے جنوبی علاقے میں واقع خوبصورت پہاڑی گاؤں "BBC PK News Article jadiv baeruo chief executive Report

بلاتن" ایک ہولناک قدرتی سانحے کا شکار ہو گیا۔ وادی "برش" میں واقع گلیشیئر میں دراڑیں پڑنے کے بعد برف اور چٹانوں کا ایک عظیم تودہ اچانک نیچے آ گرا، جس نے پوری بستی کو تقریباً دفن کر دیا۔ یہ تودہ کئی میٹر موٹا اور دو کلومیٹر سے زیادہ طویل تھا۔خوش قسمتی سے جدید سرویلیئنس سسٹمز نے ممکنہ خطرے کو بروقت بھانپ لیا اور مقامی انتظامیہ نے دو دن پہلے ہی تمام مکینوں کو بحفاظت منتقل کر دیا۔ اس طرح ایک بڑا جانی نقصان ٹل گیا۔ماحولیاتی ماہر رافائیل لودووِک کے مطابق، الپس جیسے نسبتاً مستحکم پہاڑی علاقے میں ایسا واقعہ غیر معمولی ہے۔ تاہم گلوبل وارمنگ اور پرفراسٹ (یخ بستہ زمین) کے پگھلنے کی رفتار اس طرح کے سانحات کو جنم دے رہی ہے۔پہاڑ سے گرا تودہ دریا "لونزا" کو بند کر کے ایک مصنوعی جھیل بنا چکا ہے جو مسلسل پھیل رہی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کا پھٹنا ایک طوفانی سیلاب لا سکتا ہے۔ سوئس فوج اور ریسکیو ٹیمیں دن رات پانی کی نکاسی کے لیے سرگرم ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تبدیلی کو کنٹرول نہ کیا گیا، تو صرف الپس ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام پہاڑی سلسلے اور بستیاں اس جیسے خطرات کی زد میں آ سکتی ہیں۔ فرانس، اٹلی، نیپال جیسے علاقوں میں بھی ایسی دراڑیں اور تودے رپورٹ ہو رہے ہیں۔یہ واقعہ صرف ایک قدرتی حادثہ نہیں بلکہ قدرت کا انتباہ ہے۔ ہمیں خود سے، اپنی نسلوں سے اور زمین سے کیے گئے وعدے نبھانے ہوں گے۔منقول ۔

ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر ڈیلی بی بی سی پاک نیوز عمرکوٹ تاریخ: 31/05/2025عمرکوٹ : عمرکوٹ ویمن پولیس اسٹیشن کی بروقت کاروائی شراب فروشی میں ملوث ملزمہ گرفتار کاروائی کے دوران ملزمہ سے 10 لیٹر دیسی شراب BBC PK News Umer Kot Hira Lal Report

برآمدگرفتار ملزمہ کا نام روکی زوجہ گل شیر، ذات رُونجھو، سکونت رُونجھا پاڑو عمرکوٹملزمہ کے خلاف ایف آئی آر جرم نمبر: 26/2025دفعات: 3/4 پی ایچ او تھانہ ومن میں درج کر دی گئی یہ مقدمہ مذکورہ بالا نامزد ملزمہ کے قبضے سے دیسی شراب کی برآمدگی کے نتیجے میں درج کیا گیا۔ *ترجمان* *ایس ایس پی ڈسٹرکٹ عمرکوٹ* *میڈیا سیل*

ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز عمرکوٹ : نادرا آفس ملازم لال محمد کنبھر کی بازیابی کے لیئے کنبھر برادری کا احتجاجی مظاہرہ ۔تفصیلات : BBC PK News Umer Kot Hira Lal Report

عمرکوٹ : 12 روز قبل عمرکوٹ نادرا آفس کے باہر گمشدہ نادرا آفس ملازم لال محمد کنبھر کی بازیابی کے سلسلے میں کنبھر برادری کا پریس کلب عمرکوٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ ۔

انجنیئر جئدیو مھیشوری ایگزیکٹو بیورو چیف ڈیلی بی بی سی پاک نیوز ماہرین حیاتیات کی ایک نئی تحقیق سے یہ حقیقت ایک پھر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ انسان مسلسل ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے اور یہی ارتقائی تبدیلیاں لمبے ٹائم اسکیل پر ایک نوع کو بالکل تبدیل کرکے نئے انواع میں ڈھالتی ہیں۔ BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive Report

یہ تحقیق اس حیاتیاتی ڈیٹا کی مدد سے مکمل کی گئی ہے جو تبت کے سطح مرتفع کی انسانی آبادیوں سے لی گئی ہیں، جہاں آکسیجن کی مقدار سمندر کی سطح کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہے۔ یہاں کے مقامی باشندوں کے جسموں نے ہزاروں سال کے دوران کچھ حیرت انگیز تبدیلیاں اختیار کرلی ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تبت کے لوگوں کی جینز میں خاص قسم کی تبدیلیاں (EPAS1 اور EGLN1 جینز) وقوع پذیر ہوئی ہیں جو خون میں آکسیجن کی مقدار کو متوازن رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف زندہ رہتے ہیں بلکہ صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی تولیدی کامیابی نے ان مفید جینیاتی خصوصیات کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا ہے۔ یہ منفرد ارتقائی عمل صرف تبت تک محدود نہیں۔ بحیرہ سولاوسی کے غوطہ خور باجاؤ قبیلے اور آرکٹک کے انوئٹ باشندے بھی اپنے ماحول کے مطابق ڈھل چکے ہیں۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی گواہ ہیں کہ انسان کا ارتقائی سفر ابھی اختتام کو نہیں پہنچا، بلکہ ہم اپنے ماحول کے مطابق ڈھلنے کی دوڑ میں ہنوز سرگرم عمل ہیں۔ قدرت کا یہ نرالا کرتب جاری و ساری ہیں۔منقول ۔۔

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...