Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
جمعرات، 12 جون، 2025
*اس را_ئیل کا ایران پر بڑا حملہ، مسلح افواج اور پاسدران_انقلاب کے سربراہان سمیت کئی کمانڈر اور جوہری سائنسدان جاں بحق*BBC PK News
**اس را_ئیلی فوج نے 5 مرحلوں میں ایران کے 8 مقامات پر حملے کیے*اس را_ئیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری اور ایرانی پاسداران_انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، جوہری سائنسدان محمد مہدی طہرانچی اور فریدون عباسی بھی جاں بحق ہوگئے، اس را_ئیل نے حملے میں ایران کے جوہری اور عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 6 شہری جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ایران کے سپریم_لیڈر آیت_اللہ_علی_خامنہ_ای نے خبردار کیا ہے کہ اس را_ئیلی حکومت نے ایران پر رات کے وقت کیے گئے حملوں سے اپنی کڑوی اور تکلیف دہ تقدیر رقم کر دی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس را_ئیل نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل فیکٹریوں اور عسکری کمانڈرز کو نشانہ بنایا ہے اور خبردار کیا کہ یہ ایک طویل آپریشن کا آغاز ہے جس کا مقصد تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔
*گاڑی کی ٹکر لگنے پر مشتعل افراد کا سینئر اداکار راشد محمود پر تشدد، شناختی کارڈ بھی چھین لیا*BBC PK News Raheem yar Khan Report MIAN KHUDABUX ABBASI
پنجاب کے علاقے رحیم یار خان میں اداکار راشد محمود پر مشتعل افراد نےتشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔اداکار کو مشتعل افراد نے گاڑی کی ٹکر لگنے کے بعد راشد محمود کو رحیم یار خان میں تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ گاڑی کو نقصان پہنچا کر شناختی کارڈ چھین کر لے گئے۔تشدد کے نتیجے میں اداکار کے چہرے اور سینے پر اندرونی چوٹیں آئیں۔راشد محمود نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کو لینے رحیم یار خان کی جانب جا رہے تھے کہ اس دوران موٹر وے سے رحیم یار خان انٹرچینج کے قریب انہوں نے غلط سمت میں گاڑی موڑی، ایک سڑک پر چلتے چلتے وہ شیخ زید پل کے قریب پہنچ گئے۔ پل کے سامنے ایک ڈھلوان اور مٹی کا ٹیلہ تھا، اسی مقام پر ایک موٹر سائیکل تیز رفتاری سے آ رہی تھی، جس پر ایک مرد، تین خواتین اور دو بچے سوار تھے۔راشد محمود نے کہا کہ موٹر سائیکل اتنی تیزی سے ان کی گاڑی سے ٹکرائی کہ وہ بھی خوفزدہ ہو گئے، حادثے کے بعد موٹر سائیکل سوار تمام افراد ایک جانب جا گرے، مگر کسی کو شدید چوٹ نہیں آئی۔ تاہم، اسی دوران قریبی افراد موقع پر پہنچ گئے اور بغیر تحقیق کئے تشدد شروع کر دیا۔انہوں نے مشتعل افراد نے نہ صرف میری گاڑی کو نقصان پہنچایا بلکہ شناختی کارڈ اور دیگر اشیاء چھیننے کی کوشش بھی کی۔اداکار راشد محمود کا کہنا تھا کہ اس دوران ایک نیک دل شخص نے ان کی مدد کی اور ہجوم سے بچا کر انہیں محفوظ مقام تک لے گیا اور پولیس کو اطلاع دی۔بعد ازاں راشد محمود کو پولیس اسٹیشن سے کال موصول ہوئی جس میں ان سے رہائش اور فون نمبر کی تفصیل لی گئی۔راشد محمود نے کہا کہ وہ اس واقعے سے شدید صدمے میں ہیں،اگر ان کے ساتھ کوئی اور ہوتا تو شاید وہ اس افسوسناک حملے سے بچ جاتے۔راشد محمود کے مداحوں اور شوبز انڈسٹری کی شخصیات نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اعلیٰ حکام سے واقعے کی مکمل تحقیقات اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
*سولر پینل پر 18 فیصد ٹیکس کا اعلان، منافع خوروں نے سولر پلیٹس کی قیمتیں بڑھا دیں*BBC PK News Islamabad Khyber Pakhtunkhwa Report
وفاقی بجٹ میں سولر پینل پر 18 فیصد ٹیکس کے اعلان کے بعد ہی منافع خوروں نے قیمتوں میں 5 سے 7 روپے کلو واٹ اضافہ کردیا، شہری کہتے ہیں کہ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ میں سولر لگانا بھی مشکل ہوگیا، درآمد کنندگان کے مطابق ٹیکس عوام پر منتقل کیا جائے گا۔شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا، بجٹ میں سولر پر 18 فیصد ٹیکس کا اعلان ہوا تو منافع خور سرگرم ہوگئے اور گوداموں میں پہلے سے موجود سولر کی پلیٹس کی قیمتیں بڑھا دیں۔شہری کہتے ہیں کہ 2 روز کے دوران قیمتوں میں 75 ہزار روپے کا فرق آگیا۔بجٹ میں 18 فیصد ٹیکس کے اعلان پر 27 روپے کلو واٹ کی قیمت بڑھ کر 35 روپے کلو واٹ تک پہنچ گئی، درآمد کنندگان کہتے ہیں ٹیکس کا بوجھ صارفین پر منتقل کریں گے۔بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان سولر درآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے، 2024 میں 17 گیگا واٹس کے سولر پینلز درامد کیے گئے۔
*بھارتی طیارہ حادثے کی اصل وجہ کیا تھی؟ ماہرین بھی چکرا گئے*
ماہرین نے بھارتی شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی ممکنہ وجوہات بتادیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں اس افسوسناک واقعے کے پیچھے نہ تو بے رحم موسم اور نہ ہی کوئی ٹیکنیکل خرابی سامنے آئی ہے لیکن ماہرین نے ایک الگ ہی تصویر پیش کی ہے۔
سابق پائلٹ سوربھ بھاٹناگر نے نیو دہلی ٹیلی ویژن سے گفتگو میں بتایا کہ طیارے کا ٹیک آف بالکل درست تھا لیکن لینڈنگ گیئر واپس لینے سے پہلے ہی طیارہ نیچے آنے لگا تھا۔
سوربھ بھاٹناگر کے بقول اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات انجن پاور یا لفٹ ہونے کو اچانک کوئی شدید قسم کا نقصان پہنچا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ حادثے کے مقام کی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ کسی حد تک کنٹرول انداز میں زمین سے لگا لیکن ٹکراؤ کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے طیارہ تباہ ہوا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ مسافر بردار طیارے سے ممکنہ طور پر متعدد پرندوں کے ٹکرائے جس سے دونوں انجنوں نے کام کرنا بند کر دیا ہوگا۔
یونیورسٹی آف یارک کے پروفیسر جان میکڈرمیڈ نے بتایا کہ ٹیک آف اور لینڈنگ پرواز کے سب سے خطرناک مراحل ہوتے ہیں۔ یہ حیران کن ہے کہ طیارہ 200 میٹر کی بلندی پر بھی نہیں پہنچ پایا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ جدید طیارے ایک انجن پر بھی پرواز جاری رکھنے کے قابل ہوتے ہیں اس لیے اتنے بڑے حادثے کی فوری وجہ غیر معمولی لگتی ہے۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر پال ولیمز نے بتایا کہ حادثے کے وقت موسم انتہائی سازگار تھا۔ درجہ حرارت 40 ڈگری، ہوا ہلکی، دھوپ نکلی ہوئی، فضا اجلی اور بارش یا طوفانی صورتحال نہیں تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح بھارتی طیارہ حادثے کی وجہ موسم نہیں تھی بلکہ کچھ اور تھی جو تکینیکل وجہ بھی نہیں لگتی۔
خیال رہے کہ اس حادثے کی مکمل تحقیقات بھارت کی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر برطانیہ کی ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن برانچ بھی میں شامل ہوسکتی ہے۔
خیال رہے کہ کسی بھی طیارے میں پرندوں کے جھنڈ انجن میں داخل ہو کر خطرناک حد تک نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس لیے برڈ ہٹس (پرندوں سے طیارے کے ٹکراؤ) سے بچاؤ کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں جن میں طیاروں پر روشنیاں لگانا اور ہوائی اڈوں پر شور مچانے والے آلات کا استعمال شامل ہے۔
تاحال بھارتی طیارہ حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی تحقیق جاری ہے۔
*ضلع کرم: فتنہ الخوارج کا فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 7 زخمی*
*خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے سرحدی علاقے حسین میلہ میں فتنہ الخوارج نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید اور 7 زخمی ہوگئے*
*مردان: موٹروے پولیس اہلکار اپنی بیوی کے ہاتھوں قتل*
خیبرپختونخوا کے شہر مردان کے علاقے میاں خان میں موٹروے پولیس اہلکار کی بیوی نے گھریلو جھگڑے پر اپنے شوہر کو گولی مار کر قتل کردیا۔
مردان پولیس کے ترجمان فہیم خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ بیزئی تھانے میں شکایت کنندہ سلیم خان کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف & ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر عمرکوٹ ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز ضلع پولیس عمرکوٹتاریخ: 11 جون 2025🖊 پریس ریلیزایس ایس پی عمرکوٹ کی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن، BBC PK News Umer Kot Om Prakash Hira Lal Report
ضلع بھر میں مختلف تھانوں کی کامیاب کارروائیاں۔ایس ایس پی عمرکوٹ کی جانب سے ضلع بھر میں جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں، اور ممنوعہ اشیاء کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے عمرکوٹ پولیس نے مختلف کارروائیوں میں متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے قابلِ اعتراض و ممنوعہ اشیاء برآمد کیں۔🔹 تھانہ کنری کی کارروائی:تاریخ 11-06-2025جرم نمبر 98/2025 بجرم دفعہ 4، 5، 8 سندھ ممنوعہ گٹکا و مین پوری ایکٹ 2019پولیس نے ملزم جمیل ولد عمر الدین ذات مارواڑی بھٹی سکنه شہباز پاڑہ کنری کو گرفتار کیا۔ ملزم کے قبضے سے:📌 880 پوری سیفینہبرآمد کی گئی۔مقدمہ میں ابوذر حارث مارواڑی بھٹی بھی نامزد ہے۔🔹 تھانہ عمرکوٹ سٹی کی کارروائی:تاریخ 10-06-2025جرم نمبر 105/2025 بجرم دفعہ 506(2)، 452، 504 PPCملزمان:1. ولی ولد یوسف راہیموں2. اللہ داد ولد یوسف راہیموں3. یونس ولد احمد راہیموں سکنه سلیمان رسہیموں پاڑہ عمرکوٹ سٹیکو گرفتار کیا گیا۔🔹 تھانہ چھور کی کارروائی:تاریخ 10-06-2025جرم نمبر 15/2025 بجرم دفعہ 302، 212، 120B، 109، 34 PPCملزم ارباب علی ولد محمد رحیم کنبھار سکنه عمرکوٹ سٹی کو گرفتار کیا گیا۔🔹 تھانہ تعلقہ عمرکوٹ کی کارروائی:تاریخ 11-06-2025جرم نمبر 20/2025 بجرم دفعہ 506(II)، 504، 337F(6) PPCپولیس نے ملزم ہمیرو ولد کستورو کولہی سکنه بھدیلی، تعلقہ عمرکوٹ کو گرفتار کیا۔ایس ایس پی عمرکوٹ کی جانب سے تمام ایس ایچ اوز، سی آئی اے اور دیگر متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ضلع بھر میں جرائم پیشہ، منشیات فروش، اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے۔🖋 ترجمان عمرکوٹ پولیس
*اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں کی منظوری حکومت نے دی، سیکرٹریٹ ذرائع*BBC PK News Islamabad Report MIAN KHUDABUX ABBASI
اسلام آباد:اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے سیکرٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منظوری خود وفاقی حکومت نے دی ہے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ نے تنخواہیں بڑھانے کا الزام مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے پاس اسپیکر یا چیئرمین کی تنخواہیں بڑھانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ خود سے اپنی تنخواہ نہیں بڑھا سکتے۔ اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا اختیار وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے پاس ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں و مراعات ایکٹ میں ترمیم کی منظوری وفاقی حکومت نے دی ہے۔ وزارت پارلیمانی امور نے تنخواہوں و مراعات میں اضافے کانوٹیفکیشن جاری کیا ۔اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کا خود سے تنخواہوں میں اضافے کا الزام بے بنیاد ہے۔
*احمد آباد میں جائے حادثہ کے مناظر: ’ہر کوئی زندگیاں بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا‘*BBC PK News India Report
بھارت کی ریاست گجرات میں احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب برطانیہ کے شہر لندن کے لیے اڑان بھرنے والا ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ڈاکٹرز کے ہاسٹل کی عمارت پر گر کر تباہ ہوگیا، حادثے میں 200 سے زائد مسافر ہلاک ہوگئے، شہری آبادی پر طیارہ گرنے کے بعد کئی زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایئرانڈیا کی فلائٹ نمبر اے آئی 171 بھارتی ریاست گجرات کے احمد آباد ایئرپورٹ سے لندن (برطانیہ) کے لیے روانہ ہوئی تھی، انڈیا ٹوڈے کے مطابق طیارے کو حادثہ ٹیک آف کے دوران پیش آیا۔برطانوی روزنامہ ’ دی گارجیئن ’ نے ڈپٹی کمشنر پولیس کنان ڈیسائی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حادثے میں اب تک 200 سے زائد مسافر ہلاک ہوچکے ہیں۔طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے، طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت کے وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے میں ’بہت سے افراد‘ ہلاک ہو گئے ہیں، جب کہ ریسکیو نے 30 لاشیں نکال لی ہیں، تاہم درجنوں افراد اب بھی اس عمارت میں موجود ہیں، جس سے طیارہ ٹکراکر تباہ ہوا، کئی زخمی زیر علاج ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے میں 242 افراد سوار تھے جن میں 217 بالغ اور 11 بچے تھے، ایئر انڈیا کے مطابق ان میں سے 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، 7 پرتگالی، اور ایک کینیڈین تھا، مسافروں میں سابق وزیراعلیٰ گجرات وجے روپانی بھی شامل ہیں۔احمد آباد طیارہ حادثہ: 242 افراد کو لے جانے والا طیارہ ’ٹیک آف کے فوراً بعد ڈاکٹروں کے ہاسٹل پر گِرا‘، امدادی کارروائیاں جاریانڈیا کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک مسافر طیارہ گِر کر تباہ ہو گیا ہے جس پر مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت 242 افراد سوار تھے۔ انڈیا کی وزارت ہوا بازی کے مطابق طیارے سے ٹیک آف کے فوراً بعد مے ڈے کی کال موصول ہوئی مگر پھر خاموشی چھا گئی۔انڈیا کے شہر احمد آباد میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، طیارے پر مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت 242 افراد سوار تھےفلائٹ ریڈار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ لندن جا رہا تھا اور 'ٹیک آف کے فوراً بعد 625 فٹ کی بلندی پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا'انڈیا کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہونے کا منظر چونکا دینے والا ہے۔ حادثے کے چند گھنٹے بعد بھی جائے حادثہ پر عمارتوں کے کھنڈرات سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویروں میں گلی میں پڑے ایک جلے ہوئے بیڈ کا فریم دکھایا گیا ہے۔بی بی سی کی ٹیم جب جائے وقوعہ پر پہنچنی تو دیکھا کہ ہر کوئی بھاگ کر زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔فائر فائٹرز کو جلی ہوئی زمین پراپنا راستہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اپنے آگ بجانے والے آلات کے ساتھ وہ اس جگہ پر پڑے سلگتے ہوئے ملبے کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہر طرف ایمبولینسیں موجود ہیں جبکہ سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں۔ان جگہوں کے قریب وہ لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں جن کے رشتہ دار لندن جا رہے تھے۔لندن جانے والا یہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر جمعرات کی سہ پہر مقامی وقت کے مطابق ٹیک آف کے فوراً بعد نیچے گر گیا۔اس جہاز میں 242 افراد سوار تھے- اس طیارے پر انڈین شہریوں کے علاوہ برطانوی، اور کچھ پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری سوار تھے۔مغربی انڈین شہر میں لوگوں نے پہلے ایک دھماکے کی آواز سنی پھر آسمان میں سیاہ دھواں اُڑتے دیکھا۔احمد آباد کے ایک رہائشی نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’میں گھر پر تھا جب ہم نے ایک بڑی زوردار آواز سنی۔‘ان کے مطابق ’جب ہم یہ دیکھنے باہر گئے کہ کیا ہوا ہے تو ہوا میں دھوئیں کی ایک تہہ تھی، جب ہم یہاں پہنچے تو تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ اور لاشیں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔‘طیارہ ایئرپورٹ سے کچھ فاصلے پر سول ہسپتال کے قریب ڈاکٹرز کے ہاسٹل پر گرا۔یہ واضح نہیں ہے کہ جہاں پر یہ طیارہ گراہ ہے وہاں اندر کتنے لوگ موجود تھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق،لوگوں کو ’خود کو بچانے کے لیے‘ تیسرے منزل سے چھلانگ لگاتے دیکھا گیا۔نامعلوم رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’طیارہ آگ کی لپیٹ میں تھا۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہم نے لوگوں کو عمارت سے باہر نکالنے میں مدد کی اور زخمیوں کو ہسپتال بھیج دیا۔‘رمیلا نے انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ اس کا بیٹا جو ابھی دوپہر کے کھانے کے لیے ہاسٹل واپس آیا تھا چھلانگ لگانے والوں میں شامل تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ انھیں چوٹیں آئیں لیکن وہ محفوظ ہے۔باہر لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ فائر سروس میں مقامی کمیونٹی کے رضاکاروں نے شرکت کی۔تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ لوگوں کو سٹریچر پر لے جایا جا رہا ہے اور ایمبولینس میں رکھا جا رہا ہے۔ہجوم میں وہ لوگ بھی تھے جن کے خاندان کے افراد فلائٹ میں سوار تھے۔پونم پٹیل، جو احمد آباد کے سول ہسپتال میں ہیں نے اے این آئی کو بتایا کہ ان کی بھابھی لندن جانے والی فلائٹ میں تھیں۔انھوں نے کہا کہ ’روانگی سے ایک گھنٹے کے اندر جب مجھے خبر ملی کہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس لیے میں یہاں آئی۔‘انڈیا کے شہر احمد آباد میں جس مقام پر مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے وہاں طیارے کے مختلف پُرزے بکھرے پڑے ہیں۔طیارہ ڈاکٹروں کے ہاسٹل پر گرنے کے بعد 50 میڈیکل طلبا کو ہسپتال پہنچایا گیاانڈیا کی فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایئر انڈیا کے طیارے کو پیش انے والے حادثے کے بعد میڈیکل کے 50 سے 60 کے قریب طلبا کو ہسپتال میں طبی امداد کے لیے پہنچایا گیا ہے۔یاد رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ مسافر طیارہ ڈاکٹروں کے ایک ہاسٹل پر گِرا تھا۔ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل کے پانچ طلبا تاحال لاپتہ ہیں جبکہ دو شدید زخمیوں کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے۔حکام کے مطابق ڈاکٹروں کے چند رشتہ دار بھی لاپتہ ہیں۔ میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک طیارے میں سوار جن مسافروں کو ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے، اُن میں کوئی بھی زندہ حالت میں نہیں ہے۔مسافر طیارہ کریش ہونے سے قبل آخری آٹھ منٹ میں کیا کچھ ہو رہا تھا؟فلائٹ ریڈار سے موصول ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر ایک ٹائم لائن ترتیب دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے ٹیک آف کرنے کے موقع پر کیا ہو رہا تھا۔انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق دن ڈیڑھ بجے (1:30) مسافر طیارہ رن وے پر موجود تھا اور اس کی رفتار صفر ناٹس تھیدن ایک بج پر چونتیس منٹ (1:34) پر طیارے نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور رن وے پر دوڑتے ہوئے اس طیارے کی رفتار دس ناٹس تھیدن ایک بج پر 38 منٹ (1:38) پر طیارہ فضا میں 625 فٹ تک بلند ہوا اور اس وقت اس کی سپیڈ 174 ناٹس تھی اور اسی موقع پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ایئر انڈیا کی فلائٹ کے کریش کرنے کے چند گھنٹے بعد احمد آباد ایئر پورٹ پر پروازیں بحالایئر انڈیا کا کریش وہ پہلا موقع ہے جب بوئنگ 787 طیارے کو اس طرح کا حادثہ پیش آیا ہو۔یہ ماڈل 14 برس پہلے لانچ کیا گیا تھا اور صرف چھ ہفتے قبل ہی بوئنگ کی جانب سے ڈریملائنر ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس نے ایک ارب مسافروں کو اپنی منزلوں تک پہنچانے کا سنگِ میل عبور کر لیا۔اس موقع پر کمپنی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عالمی سطح 1175 بوئنگ 787 طیاروں کی فلیٹ نے 50 لاکھ پروازیں اڑیں جن میں 3 کروڑ فلائٹ آورز شامل ہیں۔یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں ہو ہے جب کمپنی کو متعدد مسائل کا سامنا تھا جن میں اس کے 737 طیاروں کے حادثے شامل ہیں۔یہ کمپنی کے سی ای او کیلی آرٹبرگ کے لیے ایک اور امتحان ہو گا جنھیں اس نوکری کو سنبھالے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا۔انھیں کمپنی میں لانے کی وجہ یہی تھی کہ وہ بوئنگ کی مختلف مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکیں جو اس کی بقا کے بارے میں سوالات کو جنم دے رہے تھےایئر انڈیا کا کریش وہ پہلا موقع ہے جب بوئنگ 787 طیارے کو اس طرح کا حادثہ پیش آیا ہو۔یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں ہو ہے جب کمپنی کو متعدد مسائل کا سامنا تھا جن میں اس کے 737 طیاروں کے حادثے شامل ہیں۔یہ کمپنی کے سی ای او کیلی آرٹبرگ کے لیے ایک اور امتحان ہو گا جنھیں اس نوکری کو سنبھالے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا۔انھیں کمپنی میں لانے کی وجہ یہی تھی کہ وہ بوئنگ کی مختلف مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکیں جو اس کی بقا کے بارے میں سوالات کو جنم دے رہے تھےجب طیارے کو حادثہ پیش آیا تو موسم کی صورتحال مستحکم تھی اور مطلع صاف تھا: فلائٹ سیفٹی کے ماہرفلائٹ سیفٹی کے ماہر مارکو چین کا کہنا ہے کہ جب طیارے کو حادثہ پیش آیا تو موسم کی صورتحال مستحکم تھی اور مطلع صاف تھا۔ایوی ایشن ویدر فورکاسٹ جیسے ایم ای ٹی اے آر کے نام سے جانا جاتا ہے کے مطابق کہ اس موقع پر ہواؤں کی رفتار ہلکی تھی اور حدِ نگاہ چھ کلومیٹر تک تھی۔چین کا مزید کہنا تھا کہ ’اس دوران بادلوں یا کوئی غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں اور نہ ہی آندھی، طوفان یا ایسی مشکل صورتحال تھی جس سے یہ حادثہ ہوا ہو۔ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے۔فلائٹ ریڈار کے مطابق اس سے آخری سگنل چند سیکنڈ پہلے صرف 625 فٹ کی بلندی پر موصول ہوا۔ (ایئرپورٹ سطح سمندر سے 200 فٹ کے بلندی پر ہے)احمد آباد میں ایک سینیئر پولیس افسر نے خبررساں ادارے ’اے این آئی‘ کو بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی پرواز ایئرپورٹ کے حدود کے باہر نزدیک واقع ڈاکٹروں کے ایک ہاسٹل پر گری ہے۔انھوں نے بتایا کہ پولیس، فائر فائٹرز اور دیگر امدادی اہلکار موقع پر چند ہی منٹ میں پہنچ گئے اور تاحال ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔انڈیا میں ایوی ایشن کے ادارے ’ڈی جی سی اے‘ کی جانب سے اس حادثے کے بعد پہلا بیان سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی فلائٹ احمد آباد کے ایئرپورٹ سے ٹیک آف کرنے کے فوراً بعد کریش ہو گئی تھی۔بیان کے مطابق:طیارے پر 242 افراد سوار تھے جن میں دو پائلٹ اور 10 کیبن کریو شامل تھے۔ (خیال رہے کہ ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہلکار نے اس سے قبل یہ تعداد 244 بتائی تھی۔)طیارے کے کپتان کا 8200 گھنٹوں کا فلائنگ کا تجربہ تھا جبکہ ان کے ساتھی پائلٹ کا تجربہ 1100 گھنٹوں کا تھا۔طیارے نے احمد آباد ایئرپورٹ کے رن وے نمبر 23 سے دن ایک بج کر 39 منٹ پر اڑان بھری۔اس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال دی لیکن اس کے بعد طیارے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔طیارہ ایئرپورٹ کی حدود کے باہر کریش ہوا ہے۔ایئرانڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر سوار مسافروں میں 169 انڈین شہری، 53 برطانوی شہری، پرتگال کے سات شہری اور کینیڈا کا ایک شہری شامل ہیں۔انڈین وزارت برائے ایوی ایشن کے مطابق طیارے پر مجموعی طور پر 242 افراد سوار تھے جن میں دو پائلٹ اور عملے کے دس اراکین شامل ہیں۔ایئرانڈیا کے مطابق طیارہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو نزدیکی ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے
رحیم یار خان (حاکم سنجرپوری) نیشنل پریس کلب (رجسٹرڈ) رحیم یارخان کی جنرل کونسل کے اجلاس میں عہدیداروں کی خالی نشستوں پر انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا، BBC PK News Raheem yar Khan Hakim Sanjarpuri Report
قائم مقام صدر بشیر احمد چوہدری کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اہم ترین اجلاس میں کلب کی ورکنگ کے حوالے سے بھی دورس نتائج کے حامل فیصلے کیئے گئے اور کلب کے آئین میں ضروری ترامیم کی منظوری بھی دی گئی جن میں عہدیداروں اور ارکان مجلس عاملہ کی تعداد بڑھانے والی اہم ترامیم اور خالی نشستوں پر نئے عہدیدار منتخب کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا، اگر چہ عہدیداروں کے انتخاب کیلئے سادہ اکثریت اور آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی لیکن جنرل کونسل نے دونوں معاملات پر کامل اتفاق رائے کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 فیصد اکثریت کے ساتھ یہ تمام فیصلے کیئے، یوں عہدیداروں و ارکان مجلس عاملہ کی باڈی مکمل ہوگئی جس میں سرپرست اعلیٰ میاں نوید احمد (خبریں) ، چیئرمین بشیر احمد چوہدری(قوم) ، صدر فقیر عبدالقدوس سرخ پوش (اوصاف) ، سینئر نائب صدر حاکم سنجر پوری (ایکسپریس) ، نائب صدر اول میاں سجاد اسلم ( پاکستان) ، نائب صدر دوم ابراہیم بھٹی (ایکسپریس) ، جنرل سیکرٹری محمد نعیم چوہدری ( دی ایوری ڈے) ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری غلام محی الدین ( مشرق) ، ڈپٹی سیکرٹری اعجاز خان (شہادت) ، جوائنٹ سیکرٹری اللہ نواز گوپانگ (نوائے وقت) ، فنانس سیکرٹری مشتاق احمد بھٹی (سنگ میل) اور انفارمیشن سیکرٹری احمد اشفاق (قوم) شامل ہیں ، ارکان مجلس عاملہ میں عرفان الحق ملک ( ڈان) ، کیوان دانش ( پیام مشرق) ، عبدالغفار مہر ( خبریں) ، چوہدری محمد حفیظ ( کلام وقت) ، محمد اشرف بھٹی ( بھید) ، ڈاکٹر پرویز اقبال ( پہچان پاکستان ) ، شیخ ذوالفقار علی (اسرار) ، چوہدری غلام مرتضیٰ چیمہ ( دستور) ، اعجاز احمد ( کلام وقت) ، عبد الستار خالطی (روزنامہ 92) شامل ہیں، الیکشن کمشن کے فرائض رحمت علی ندیم ( ایکسپریس) اور رانا بشیر احمد ( ملتان نامہ) نے انجام دیئے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل پریس کلب (رجسڑڈ) رحیم یارخان کو ضلع کی چاروں تحصیلوں کے صحافیوں کا مشترکہ پلیٹ فارم بنایا جائے گا اور دیہی پریس کلب تحصیل صادق آباد کی طرح باقی 3 تحصیلوں میں بھی دیہی پریس کلب قائم کیئے جائیں گے، اسی طرح نیشنل پریس کلب ( رجسٹرڈ) رحیم یارخان کے آئین میں تفصیلی ضابطہ اخلاق شامل کرنے اور دیگر مجوزہ ترامیم کا بھی فیصلہ کیا گیا، نیشنل پریس ( رجسٹرڈ) رحیم یارخان کا اپ ڈیٹڈ سرٹفکیٹ حاصل کرنے کے عمل کو بھی فوری مکمل کرنے اور انویسٹی گیٹو جرنلزم کیلئے بھی سات سات رکنی کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، بانی رکن کیوان دانش کو ضابطہ اخلاق و آئینی کمیٹی کا چیف آرگنائزر منتخب کیا گیا، سرپرست اعلیٰ میاں نوید احمد کو انویسٹیگیٹو جرنلزم کیلئے قائم کمیٹی کا چیف آرگنائزر ، چیئرمین بشیر احمد چوہدری کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اپ ڈیٹڈ اجرا کمیٹی کا چیف آرگنائزر جبکہ صدر فقیر عبدالقدوس سرخ پوش کو چاروں تحصیلوں میں دیہی پریس کلبوں کی تشکیل اور نیشنل پریس کلب (رجسٹرڈ) رحیم یارخان کو ضلع کا سب سے بڑا اور وسیع البنیاد پریس کلب بنانے کیلئے قائم آرگنائزنگ کمیٹی کا چیف آرگنائزر منتخب کیا گیا۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
*💫News Details**Sunday 19 Shaban Al-Mu'azzam 1447 AH* *February 8, 2026💫*
سانحہ اسلام آباد، بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی فنڈنگ انڈیا سے، پہلے 5 سو اب 15 سو ڈالر دیئے جاتے ہیں، وزیر داخلہ ...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...