منگل، 29 جولائی، 2025

راٹھی نندلال عہدہ ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاکستان نیوز ہاکڑو پراں نالے پر تیزی سے کام شروع! BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal

تفصیلات :-ہاکڑو نالہ، جس میں پانی عمرکوٹ، صوفی فقیر، کنری، تھر، نبیسر سے ہوتا ہوا نئون کوٹ سے گزر کر آر ڈی 210 کے مقام پر پراں نالے میں شامل ہوتا ہے، وہاں پانی کا بہاؤ آر ڈی 261 سے آگے نہ جانے کی وجہ سے کئی علاقے زیرِ آب آ جاتے تھے۔اب حال ہی میں ہمارے حلقے کے ایم پی اے جناب ارباب لطف اللہ صاحب کی کوششوں سے ہاکڑو نالے پر آر ڈی 261 کے مقام سے تیزی سے کام شروع ہو چکا ہے، جو ہمارے علاقوں کے لیے ایک بہت بڑا اور خوش آئند تحفہ ہے۔اس سے پہلے ضلع تھرپارکر کی بیراجی یونین کونسلیں مکمل طور پر پانی کی زد میں آجاتی تھیں، جس کے باعث بہت زیادہ نقصان ہوتا تھا، لوگ بے گھر ہو جاتے تھے، اور دربدر کی زندگی گزارتے تھے۔ تیار فصلیں پانی میں بہہ کر یا گل سڑ کر تباہ ہو جاتی تھیں، اور لوگ بربادی کے دہانے پر پہنچ جاتے تھے لوگوں کا کروڑوں کا نقصان ہوجاتا تھا فصلیں برباد ہو جاتی تھی بڑی مہربانی ارباب لطف اللہ صاحب کی۔ہاکڑو نالے کا کام مکمل ہونے کے بعد ہمیشہ کے لیے ان ڈوبنے والے علاقوں کو نجات مل جائے گی۔پراں نالے کے اصل راستے بحال کروانے اور ہاکڑو نالے کے اس اہم کام کا تمام کریڈٹ پاکستان پیپلزپارٹی کے ایم پی اے ارباب لطف اللہ صاحب کو جاتا ہے۔پھر بھی ہم ارباب لطف اللہ صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ جس طرح پہلے کام کی شروعات کی گئی ہے، اسی رفتار سے اس کام کو جلد از جلد مکمل کروایا جائے، اور جو عناصر اس میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، کیونکہ چند افراد کی وجہ سے پورے علاقے پانی میں ڈوب کر تباہ ہو جاتے تھے۔واضح رہے کہ کچھ وقت پہلے ہی پیپلزپارٹی کے ایم پی اے ارباب لطف اللہ صاحب نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو فوری طور پر ہاکڑو-پراں نالے کا کام مکمل کروانے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد یہ کام باقاعدہ شروع ہو چکا ہے۔

عنوان: عمرکوٹ میں زیرِ زمین پانی زہر بن گیا — عوام صحت کے بحران کا شکارعمرکوٹ، BBC PK News Umer Kot Rajesh Kumar Report

سندھ — سندھ کے صحرائی ضلع عمرکوٹ میں زیرِ زمین پانی روز بروز زہریلا اور ناقابلِ استعمال ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اب پینے کے لیے دستیاب پانی شدید کھارا، بدذائقہ اور بعض جگہوں پر انسانی صحت کے لیے خطرناک ہو چکا ہے۔ اس بحران نے نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ لوگوں کی صحت کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔"ہم زہر پی کر زندہ ہیں"عمرکوٹ کے مضافاتی گاؤں کے رہائشی لچھمن بھیل کہتے ہیں،> "یہ پانی پینے سے گلے میں جلن ہوتی ہے، بچوں کو دست لگتے ہیں، اور ہماری عورتیں بار بار بیمار پڑتی ہیں۔ ہم زہر پی کر زندہ ہیں۔"وجوہات کیا ہیں؟ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کے کھارے اور زہریلے ہونے کی کئی وجوہات ہیں:قدرتی ساخت: تھرپارکر اور عمرکوٹ جیسے صحرائی علاقوں کی زمین میں نمکیات کی مقدار پہلے سے زیادہ ہے، جو پانی میں حل ہو جاتی ہے۔بارش کی کمی: بارش کم ہونے کے باعث میٹھے پانی کا ذخیرہ نہیں ہو پاتا اور زمین کی سطح پر موجود نمک نیچے جذب ہو کر پانی کو کھارا بناتا ہے۔ٹیوب ویلوں کا غیر ذمہ دارانہ استعمال: زرعی مقاصد کے لیے زیادہ پانی نکالنے سے نیچے سے نمکیات اوپر آ جاتے ہیں۔کیمیائی آلودگی: کھادوں، اسپرے اور ممکنہ صنعتی فضلے نے زیرِ زمین پانی کو زہریلا بنا دیا ہے۔صحت پر اثراتڈاکٹر بابل کھیمانی، جو عمرکوٹ سول اسپتال میں تعینات ہیں، کے مطابق: "کھارا پانی گردوں، معدے اور جلد کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ ہم روز ایسے مریض دیکھتے ہیں جو پانی سے جڑی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔"حکومت خاموش، عوام پریشامقامی حکومت کی طرف سے تاحال کوئی واضح اقدام نظر نہیں آتا۔ نہ کوئی فلٹریشن پلانٹ فعال ہے، نہ ہی واٹر ٹینکر کی سپلائی مستقل بنیادوں پر جاری ہے۔ صرف اعلانات اور وعدے رہ گئے ہیں۔ماہرین کی تجویزبارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبےسائنسی بنیادوں پر پانی کے تجزیےدیہی علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیبتھر کول منصوبوں سے ممکنہ آلودگی کی نگرانینتیجہ:عمرکوٹ میں پانی کی قلت نہیں، بلکہ صاف پانی کی قلت ہے۔ جب تک حکومت، مقامی ادارے اور سماجی تنظیمیں مل کر اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام نہیں کرتیں، تب تک لاکھوں لوگوں کی زندگی کھارے پانی کی زہرناکی میں گھلتی رہے گی۔رابطہ:راجیش ساگر جئپالڈسٹرکٹ رپورٹر، بی بی سی نیوزعمرکوٹ، سندھ، پاکستان0347336388603443557945

پیر، 28 جولائی، 2025

از دفتر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سکھر رینج 28 جولائی 2025۔ *اردلی روم*BBC PK News

*آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے محکمہ پولیس کے اندرونی احتسابی عمل کے لئے پالیسی احکامات کی روشنی میں ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی طرف سے سکھر رینج کے پولیس افسران/ اہلکاروں پر کرپشن، غیرقانونی سرگرمیوں، اختیارات کا ناجائز استعمال و تجاوز،جرائم میں اضافہ و جرائم کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کے الزامات پر اچھی شہرت کے حامل نامزد سینیئر افسران سے بعد از محکمہ جاتی انکوائری رپورٹس کی روشنی میں ایکشن/میجر و مائنر پنشمنٹ سزاؤں سمیت دوبارہ نوکری پر بحالی کی اپیلوں پر فیصلہ،شو کاز نوٹسز فائل کرنے،تنبیہ،ٹرانسفر کی درخواستوں پر انسپیکٹر سے لے کر کانسٹیبل رینک کے افسران و اہلکاروں کے لئے درجہ زیل احکامات جاری کیے گئے*۔*میجر پنشمنٹ*انسپیکٹر عمران خان بھیو سکھر،انسپیکٹر محمد رمضان ملاح گھوٹکی،کانسٹیبل عبدالجبار چنا سکھر کی ایک سال کی سروس ضبط کرنے کے احکامات۔ *مائنر پنشمنٹ* انسپیکٹر نظیر احمد منگی سکھر، انسپیکٹرسید آفتاب احمد شاہ گھوٹکی،انسپیکٹر سعید احمد میرانی خیرپور،سب انسپیکٹر رحمت اللہ سولنگی خیرپور، سب انسپیکٹر غلام صفدر بوزدار گھوٹکی،سب انسپیکٹر مہربان کولاچی گھوٹکی، اے ایس ائی تاج محمد ملک گھوٹکی، اے ایس ائی اعجاز علی گڈانی گھوٹکی، اے ایس ائی علی حسن ملاح خیرپور، ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ گھوٹکی،کانسٹیبل فقیر محمد رند خیرپور کا ایک سال کا سالانہ انکریمنٹ روکنے سمیت سب انسپیکٹر سکندر علی لاکھیر خیرپور کا دو سال کا سالانہ انکریمنٹ روکنے کے احکامات۔*اپیلیں* سب انسپیکٹر ذوالفقار علی بھمبرو سکھر، سب انسپیکٹر حق نواز کلوڑ گھوٹکی،کانسٹیبل ثنا اللہ ماچهی گھوٹکی کو ضلعی ایس ایس پیز کی طرف سے دی گئی میجر پنشمنٹس سزاؤں کو ختم کرنے کے لیے کی گئی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے خارج کر دی۔جبکہ ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ گھوٹکی کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے ایک سال کی سروس ختم کرنے کی میجر پنشمنٹ کو تبدیل کرتے ہوئے مائنر پنشمنٹ ایک سال کا انکریمنٹ ختم کردیا،کانسٹیبل شرف الدین ملک گھوٹکی کو ملنے والی میجر پنشمنٹ ایک سال کی سروس اور ہیڈ کانسٹیبل رینک سے کانسٹیبل کے رینک پر تنزلی کی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے ایک سال کا انکریمنٹ ختم کرتے ہوئے دوبارہ ہیڈ کانسٹیبل کے رینک پر بحال کر دیا۔*نوکری پر بحالی کی اپیلیں*ضلعی ایس ایس پیز کی طرف سے دیں گئیں برطرفی کی سزاؤں پر سب انسپیکٹر خیر محمد لغاری گھوٹکی،برطرف ہیڈ کانسٹیبل علی اکبر بھٹو گھوٹکی، برطرف کانسٹیبل محمد شفیق پتافی گھوٹکی، برطرف کانسٹیبل معشوق علی بھمبرو گھوٹکی کی طرف سے برطرفی کی سزا کو ختم کرنے کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے خارج کر دی۔جبکہ برطرف کانسٹیبل آصف علی شیخ سکھر کی برطرفی کی سزا کو (میجر پنشمنٹ ایک سال کی سروس ضبط) کرنے میں تبدیل کرتے ہوئے بحال کر دیا، برطرف کانسٹیبل عبدالنبی اجن خیرپور کی برطرفی کی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے (میجر پنشمنٹ کمپلسری ریٹائرمنٹ) میں تبدیل کر دیا، برطرف کانسٹیبل عابد حسین مہیسر خیرپور کی برطرفی کی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے (میجر پنشمنٹ کمپلسری ریٹائرمنٹ) میں تبدیل کر دیا۔*شو کاز نوٹسز فائل* انسپیکٹر دیدار حسین ابڑو خیرپور، انسپیکٹر جاوید علی میمن سکھر،انسپیکٹر سیف اللہ انصاری گھوٹکی،ہیڈ کانسٹیبل محمد سومر پھوڑ سکھر، ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد دایو رینج آفس،کانسٹیبل تیمور علی کورائی سکھر، کانسٹیبل ممتاز علی کورائی سکھر،کانسٹیبل بشیر احمد ملک سکھر،کانسٹیبل توفیق احمد مہر سکھر،کانسٹیبل زبیر احمد مہر سکھر،کانسٹیبل محمد ابراہیم ڈومکی سکھر رینج، کانسٹیبل انصاف علی گوپانگ سکھر کو رینج آفس کی طرف سے دیے گئے شوکاز نوٹسز بعد از محکمہ جاتی انکوائری میں الزامات ثابت نہ ہونے پر فائل کرنے کے احکامات۔*تنبیہ کے احکامات*انسپیکٹر مصور حسین قریشی گھوٹکی، انسپیکٹر عبدل علی پتافی گھوٹکی، انسپیکٹر رضوان ناریجو گھوٹکی،سب انسپیکٹر عبدالرزاق انصاری گھوٹکی،سب انسپیکٹر غلام صفدر بوزدار گھوٹکی،سب انسپیکٹر ثنا اللہ کونهارو، سب انسپیکٹر محمد پنیل منگی سکھر ،اے ایس ائی عبدالجبار پٹھان گھوٹکی، کانسٹیبل آصف علی سولنگی خیرپور، کانسٹیبل الطاف حسین جتوئی خیرپور، کانسٹیبل نظام الدین مری خیرپور، کانسٹیبل صدام حسین لاڑک خیرپور، کانسٹیبل اسد اللہ لاڑک خیرپور، کانسٹیبل نوید ممتاز بھٹو خیرپور، کانسٹیبل شیر زادہ پٹھان خیرپور، جونیئر کلرک برکت علی لاشاری ڈسٹرکٹ خیرپور کہ شوکاز نوٹسز میں تنبیہ کرتے ہوئے ائندہ محتاط رہنے کے احکامات۔*ڈی آئی جی سکھر رینج کی طرف سے* *اے ایس ائی رسول بخش دایو ویلفیئر آفیسر سکھر، کانسٹیبل مظفر حسین شیخ ویلفیئر برانچ گھوٹکی،جونیئر کلرک منور حسین وسان ویلفیئر برانچ خیرپور کو بحیثیت ویلفیئر برانچز میں تعیناتی کے دوران شہدائے پولیس کی فیملیز، انتقال کر جانے والے پولیس ملازمین کے لواحقین کو درپیش مسائل کے حل میں سستی اور غفلت برتنے کے مرتکب پائے جانے پر تینوں کا سالانہ ایک سال کا انکریمنٹ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ محتاط رہنے کے احکامات* ڈی آئی جی سکھر رینج نے مختلف رینجزز/ یونٹس سے واپسی پر ٹرانسفر کے لیے دی گئی درخواستوں اور سی پیک ڈیوٹیوں کی پوسٹنگ پر مقررہ وقت پورا کر کے رینج سکھر واپسی پر انسپیکٹر سے پولیس کانسٹیبل کے رینک تک کے (30) انسپیکٹر سے لے کر کانسٹیبل رینک کے پولیس افسران و اہلکاروں کی سکھر خیرپور اور گھوٹکی اضلاع میں ان کے ٹرانسفر کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔*ڈی آئی جی سکھر نے اپنے پیغام میں واضح کیا* *کہ سرکاری فرائض میں کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی مجرمانہ سرگرمیاں، قانونی اختیارات سے تجاوز سماجی برائیوں میں ملوث سمیت خاص کر ہمارے ہیروز شہدائے پولیس کی فیملیز کی ویلفیئر کے حوالے سے غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب افسران و اہلکار کسی بھی رعایت کے مستحق نہ ہوں گے اور ان کے خلاف سخت ترین محکمہ جاتی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی*

راجیش جئپال "ساگر"ڈسٹرکٹ رپورٹر عمرکوٹ، بی بی سی پاک نیوز عمرکوٹ: ضلع عمرکوٹ کا تعلیم یافتہ طبقہ، بے بسی کی تصویر!!!!! ڈگری یافتہ لوگ، مگر بیروزگار ۔۔۔۔۔۔✍️

بی بی سی رپورٹ راجیش ساگر جے پالڈسٹرکٹ رپورٹر، عمرکوٹعمرکوٹ، جو سندھ کا ایک قدیمی اور تاریخی ضلع ہے، آج تعلیمی ترقی کے باوجود ایک المیہ کا شکار ہے۔ یہاں کی آبادی کا تقریباً 50 فیصد تعلیم یافتہ ہے، جن میں بڑی تعداد گریجویٹس اور ماسٹرز ڈگری رکھنے والے نوجوان مرد و خواتین کی ہے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگاری کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ان میں سے بہت سے نوجوان اپنی ڈگریاں ہاتھ میں لیے سرکاری دفاتر، پرائیوٹ اداروں اور سیاسی دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ کئی برسوں کی تعلیمی محنت اور خواب آنکھوں میں سجائے جب ان کو جواب ملتا ہے کہ "سفارش کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا"، تو ان کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب علم ہار جاتا ہے اور نظام جیت جاتا ہے۔پرائیویٹ اداروں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ملازمتیں یا تو مخصوص خاندانوں تک محدود ہیں یا پھر ’میرٹ‘ کی جگہ ’سفارش‘ اور ’رشوت‘ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ عمرکوٹ جیسے پسماندہ ضلع میں ایک تعلیم یافتہ فرد کے لیے نوکری تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے اندھیرے میں چراغ ڈھونڈنا۔بیروزگار نوجوان نہ صرف معاشی دباؤ کا شکار ہیں بلکہ ذہنی پریشانیوں اور مایوسی میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ ڈگری یافتہ لڑکیاں معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے مزید مشکلات میں ہیں، کیونکہ ان کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود کوئی مثبت راستہ نظر نہیں آتا۔اگر یہی حال رہا تو عمرکوٹ جیسے اضلاع میں تعلیم کی افادیت پر سوالات اٹھیں گے، اور نوجوان نسل تعلیم کے بجائے دوسرے راستے اپنانے پر مجبور ہو جائے گی۔مطالبہ:حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ عمرکوٹ میں میرٹ پر مبنی نوکریوں کا نظام قائم کریں۔پرائیویٹ سیکٹر میں بھی شفاف بھرتی کو یقینی بنایا جائے۔نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ وہ خود روزگار کی طرف جا سکیں۔اختتامیہ:یہ کالم ایک پکار ہے، ایک آواز ہے ان ہزاروں نوجوانوں کی جو ڈگریاں لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کیا ریاست ان کی پکار سنے گی؟ یا یہ تعلیم یافتہ نسل یوں ہی بے بسی کا نشان بنی رہے گی؟

ڈی آئی جی پی ٹریفک کراچی سے دفتر ہذا میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی جنرل منیجر پرویز عبیداللہ عمرانی صاحب، ایس پی ٹریفک ویسٹ، ایس ٹریفک ملیر، ڈی ایس پی موٹر وے خالد جمیل، ڈی ایس پی ملیر، نے ملاقات کی۔ BBC PK News Karachi Report

اس ملاقات میں نیشنل ھائی وے اتھارٹی کے جانب سے جاری لیاری ایکسپریس وے پرترقیاتی کام کا جائزہ لیا گیا رش کے اوقات کار کے بعد کے بعد رات 10 بجے سے صبح 06 بجے تک ہیوی ٹریفک کو چلانے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے اور لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک کے لیے ترقیاتی کاموں کو روڈ کے تمام حفاظتی امور کو مد نظر رکھتے ھوۓ مکمل کیا جائے۔لیاری ایکسپریس وے پر ٹریفک سائن بورڈ، اسپیڈ لمٹ اور کیمراز نصب کیے جائیں۔*آپ کے سفر میں ہمسفر کراچی ٹریفک پولیس*

*🔴پشاور کے میٹرک بورڈ کے نتائج، ایک ہی اسکول کی طالبات نے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی*BBC PK News

پشاور میں ایک ہی اسکول کی تین طالبات نے میٹرک بورڈ کے امتحانات میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن لے کر سب کو حیران کردیا۔پشاور میٹرک بورڈ کی جانب سے سالانہ امتحان 2025 کے نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں کامیابی کا تناسب 83.5 فیصد رہا۔حیران کن طور پر ابتدائی تین پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنز حاصل کرنے والی طالبات کا تعلق پشاور ماڈل اسکول گرلز برانچ 2 سے نکلا۔ فاطمہ جگنو 1180 نمبر لے کر پہلے، سارہ عمران 1178 لے کر دوسرے نمبر پر رہیں۔ جبکہ اسی اسکول کی ایک اور طالبہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے جن میں یوسرا، شمائلہ اور آئنہ شعیب نے بترتیب 1176 نمبر لئے ہیں۔۔ صوبائی حکومت کی طرف سے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو 1 لاکھ 20 ہزار، دوسری پوزیشن والی کو۔ 90 ہزار اور تیسرے نمبر پر انے والی طالبہ کو 80 ہزار روپے کے انعامات دیے گئےْدستاویزات کے مطابق میٹرک کے امتحانات میں مجموعی طور پر 91 ہزار 589 طلباء و طالبات نے شرکت کی جن میں 76 ہزار 484 کامیاب قرار پائے۔ دوسری جانب جماعت نہم کے امتحانات میں ایک لاکھ ایک ہزار 888 طلباء و طالبات نے حصہ لیا جن میں سے 61 ہزار 753 طلبہ طالبات کامیاب ہوئے اور کامیابی کا تناسب 98.8 فیصد رہا۔*تازہ ترین خبروں 

ENGR JAIDEV MAHESHWARI EXECUTIVE BUREAU CHIEF Mirpurkhas : As per the strict directives of IG Sindh Police Mr. Ghulam Nabi Memon and under the instructions of DIGP Mirpurkhas Range Mr. Muhammad Zubair Dreshak and SSP Mirpurkhas Dr. Sameer Noor Channa, Mirpurkhas Police continues its crackdown against drug dealers. Approximately 2.5 kilograms of charas (hashish), heroin, ice (meth), whiskey bottles, and other narcotics were seized. 14 accuseds were arrested and FIRs registered. BBC PK News

Details : * Mehran Police Station *SHO Mehran Mir Khadim Talpur, along with his team, conducted two successful operations within the jurisdiction, arresting two suspects and recovering over 1 kg of charas.Accused 1: Muhammad Saeed alias Parvez – 550 grams of charas recovered.Accused 2: Asghar Ali alias Azhar – 520 grams of charas recovered.Separate FIRs No. 56/57/2025 under Section 9B of SCNS Act 2024 registered at Mehran PS. Further investigation is underway.* Gharibabad Police Station *SHO Gharibabad Mir Muhammad Kario and his team conducted three separate successful operations within the jurisdiction, arresting four suspects and recovering charas and local liquor.Accused 1: Sajjad alias Gajgaji and Accused 2: Amir alias Molo Baloch – 10 liters of local liquor recovered.Accused 3: Owais Baloch – 250 grams of charas.Accused 4: Gul Muhammad alias Gullo Rind – 560 grams of charas.FIRs No. 54/55/56/2025 under Sections 3/4 of PEHO Act and Sections 9A, 9B of SCNS Act 2024 registered at Gharibabad PS. Further investigation is in progress.* Mahmoodabad Police Station *SHO Mahmoodabad Rahim Gopang and his team conducted three successful operations in their jurisdiction, arresting three suspects and recovering ice (meth), heroin, and whiskey bottles.Accused 1: Asad alias Balo Baloch – 25 grams of ice.Accused 2: Nauman alias Rago Baloch – 24 grams of heroin.Accused 3: Ayaz Baloch – 5 whiskey point bottles.FIRs No. 36/37/38/2025 under Section 9A of SCNS Act and 3/4 of PEHO Act registered at Mahmoodabad PS. Further inquiry is ongoing.* Town Police Station* SHO Kamran Halipoto and his team carried out three successful operations against drug peddlers, arresting three suspects and recovering charas.Accused 1: Sher Ali Shah – 100 grams of charas.Accused 2: Irfan Khan Pathan – 80 grams of charas.Accused 3: Shehryar Qureshi – 70 grams of charas.FIRs No. 92/93/94/2025 under Section 9A of SCNS Act 2024 registered at Town PS. Further investigation is ongoin* Jhuddo Police Station*SHO Jhuddo Farhan Ali Memon and his team conducted an operation on Samaro Road, arresting two suspects and recovering 352 grams of charas. Two suspects managed to escape.Accused: Imtiaz Khosa and Asghar Bhatti.FIR No. 72/2025 under Section 9A of SCNS Act 2024 registered at Jhuddo PS. Further investigation is underway.* Digri Police Station *SHO Digri Aftab Rind and his team conducted a successful raid on Mirwah Road and arrested accused Ali Asghar Machhi, recovering 525 sachets of Safina Gutka.FIR No. 81/2025 under SCNS Act 2024 registered at Jhuddo PS. Further investigation is in progress.

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...