اتوار، 28 ستمبر، 2025

*💥سرکاری افسر کی بیٹی کی 24 کروڑ روپے سے زائد کی شاہانہ شادی، صرف سجاوٹ پر 4 کروڑ خرچ کیے گئے*BBC PK NEWS Islamabad MKB ABBASI REPORT

اسلام آباد: اقتصادی بحران کے شکار پاکستان کے ایک سینئر سرکاری افسر کی بیٹی کی پرتعیش شادی پر 24 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ 

اس صورتحال نے امیروں کے طرز زندگی اور ملک کے ٹیکس نظام میں ان کے معمولی حصے کے درمیان ہوشربا فرق کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، ایف بی آر (جس نے اب ایسے ’’بلیک ہولز‘‘ کو ہدف بنانا شروع کیا ہے) کو ایک ہائی پروفائل شادی کا کیس ملا ہے جو 6 پرتعیش تقریبات پر مشتمل تھی اور جس پر اندازاً 248 ملین (24 کروڑ 80 لاکھ) روپے خرچ ہوئے۔ 

شاندار مقامات، ڈیزائنر ملبوسات، ہیروں کے زیورات، آتش بازی اور غیر ملکی کنسلٹنٹس پر فضول خرچی کے باوجود متعلقہ سرکاری افسر اور نہ ہی ان کی بیٹی (دلہن) کے ٹیکس ریٹرنز میں اس خرچ کا کوئی جواز سامنے نہیں آیا۔ جہاں ٹیکس لاگو ہوتا تھا وہاں بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔ 

شادی کے اخراجات کی تفصیل خاندان کی تقریب سے زیادہ کسی فیچر فلم کے بجٹ جیسی لگتی ہے، صرف سجاوٹ اور مقامات کے انتخاب پر تقریباً 4 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 6 تقریبات میں 400 مہمانوں کے کھانے پر 3 کروڑ روپے لگا دیے گئے۔

دلہا دلہن اور قریبی رشتہ داروں کے ملبوسات ساؤتھ ایشین ڈیزائنرز سے تیار کرائے گئے تھے اور ان پر 3 تین کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ 

سب سے حیران کن خرچ زیورات پر کیا گیا تھا۔ ہیروں اور سونے کے سیٹ جن کی مالیت 8 کروڑ روپے تھی۔ میک اپ، اسٹائلنگ، تفریح اور فوٹوگرافی پر 3 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ دعوت نامے، تحائف اور کری ایٹیو (تخلیقی) کنسلٹنسی پر تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ مجموعی اخراجات 24 کروڑ 80 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئے۔

پر تعیش انداز کو مزید نمایاں کرنے کیلئے ڈرون فوٹیج سے سنیما اسٹائل ویڈیو شوٹس کی گئیں، ملٹی کورس گورمے کھانے (مینو)، آتش بازی اور ڈرون لائٹ شوز، ہاتھ سے تیار کردہ دعوت نامے اور ذاتی نوعیت کے تحائف و موم بتیوں کے گلدستے بھی شامل تھے۔ 

اس شادی میں دولت کی کھلے عام نمائش کی گئی لیکن ایف بی آر (ٹیکس حکام) کا کہنا ہے کہ اخراجات کو درست ثابت کرنے کیلئے کوئی ڈیکلیریشن موجود نہیں۔ آمدنی کے ذرائع بھی نامعلوم ہیں۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سروسز خفیہ طور پر حاصل کی گئیں، وینڈرز کو نقد ادائیگی کی گئی اور کوئی انوائس موجود نہیں، یہ ٹیکس کی جانچ پڑتال سے بچنے کی عام ترکیب ہے۔ 

دلہن نے کینیڈا، برطانیہ، میکسیکو اور متحدہ عرب امارات کے کئی دورے کر رکھے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیے گئے اعداد و شمار کے برعکس ان کا اصل طرز زندگی بہت زیادہ شاندارہے۔ 

ٹیکس حکام کے مطابق، یہ کیس ٹیکس چوری کے انتظامی مسئلے کی بہترین مثال ہے۔ امیر طبقے کی شادیاں، بیرونِ ملک سفر، جائیداد اور زیورات پر ہونے والا پرتعیش خرچ اکثر سامنے نہیں آتا اور ٹیکس کے دائرے سے باہر رہتا ہے۔ 

ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ بالکل وہی چھپی ہوئی دولت ہے جس کا ریاست سراغ لگانے میں ناکام رہتی ہے، ایسی تقریبات میں کروڑوں خرچ ہوتے ہیں لیکن ایک روپیہ تک ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک متوازی معیشت ہے جو نظام کی نظروں سے اوجھل ہے۔

*’ آج بھارت کا غرور خاک میں ملانے کا دن ہے ’ سیاستدان بھی قومی ٹیم کی جیت کیلئے پُرامید BBC PK NEWS

*نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیا کپ کے فائنل میں قومی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک تمناؤں اور عزم کا اظہار کیا ہے کہ شاہین آج بھارتی ٹیم کو دھول چٹائیں گے۔نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ سب کھلاڑی محنتی ہیں اورجیت کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، دعاگو ہوں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم جیتے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ انشاء اللہ آج پاکستان جیتے گا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے میچ میں بھارتی ٹیم کا انداز متکبرانہ تھا اور غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہمارے کھلاڑیوں کو دبایا جاتا ہے تو ان کا جذبہ حب الوطنی ابھر کر سامنے آتا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی پاک بھارت ایشیاء کپ کے فائنل مقابلے پر شاہینوں کیلئےنیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ قومی ٹیم آج قوم کی امنگوں پر پورا اترے گی۔انہوں نے کہا کہ شاہین آج بھرپور کھیل کا مظاہرہ کرکے فتحیاب ہوکر لوٹیں گے، شاہین میچ کا پاسا پلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھارت کا غرور خاک میں ملانے کا دن ہے، پوری قوم شاہینوں کی فتح کے لیے دعاگو ہے۔دریں اثنا مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستانی شاہین آج روایتی حریف بھارت کے خلاف جم کر کھیلیں گے، گزشتہ دو میچوں میں شاہینوں نے شاندار ٹیم ورک اور جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ آج بھی اسی جذبے سے میدان میں اتریں گے، شاہین قومی جذبے سے کھیلیں گے تو جیت ہمارا مقدر ہوگی۔

*💥وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی تقریر لکھنے کا ٹاسک دیا اور خود وفد کا حصہ بنایا: شمع جونیجو BBC PK NEWS

*اقوام متحدہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کے ساتھ موجود خاتون شمع جونیجو کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وزارت خارجہ کو وضاحت دینی پڑی تھی کہ پاکستانی وفد میں متعلقہ خاتون شامل نہیں تھیں تاہم اب متعلقہ خاتون کا تفصیلی بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستانی مشن میں وزیراعظم کے ایڈوائزر کے طور پر شریک تھیں۔شمع جونیجو نے لکھا میں پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کے لیے کام کر رہی تھی، پاک بھارت جنگ کے دوران میرے پالیسی بریفس، ایڈوائس اور پوائنٹس، سب کچھ ریکارڈ کا حصہ اور محفوظ ہیں۔شمع جونیجو نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ مجھے وزیراعظم صاحب نے اقوام متحدہ کی تقریر لکھنے کا ٹاسک دیا اور خود وفد کا حصہ بنایا، میرا نام باقاعدہ ایڈوائزر کے طور پر شامل کیا گیا اور میرا سکیورٹی پاس بھی اسی حوالے سے ایشو کیا گیا، میں نے اُن کی ٹیم کے ساتھ مل کے دن رات کام کیا اور میں نے اُن کے ساتھ سفر کیا۔سوشل میڈیا پر انہوں نے لکھا کہ میں نے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا، اُن کی بِل گیٹس جیسی اہم ترین سائیڈ لائین میٹنگس کا حصہ بنی جس کی فوٹیج ٹی وی پر بھی آئیں، کلائیمیٹ کانفرنس میں وزیراعظم صاحب کے پیچھے میں اور اسحاق ڈار صاحب ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جن کی وزارت نے میرے بارے میں ٹوئٹ کیا ہے کہ میں وفد کا حصہ نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا اس کانفرنس کے بعد مجھے پروٹوکول ٹیم والے اے آئی کانفرنس میں لے گئے جہاں خواجہ آصف کے پیچھے بلال اور میں سارا وقت ناصرف ساتھ بیٹھے رہے بلکہ بلال نئی تقریر بھی لکھتے رہے، اس تقریر کے بعد ہم نے مل کے چائے پی، گاڑی کے انتظار میں 40 منٹ ساتھ بیٹھے، دوبارہ تصویریں لیں، اور ایک ہی کار میں تینوں ساتھ واپس ہوٹل بھی آئے، خواجہ صاحب کار میں پیچھے میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔شمع جونیجو نے یہ بھی لکھا کہ آخری دن وزیراعظم کی تقریر کے وقت بھی میں سب کے ساتھ اقوام متحدہ میں تھی جہاں خواجہ آصف میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور ہم سب نے مل کے وزیراعظم کے لئے تالیاں بجائیں۔انہوں نے ایکس پر کہا وزیراعظم کی تاریخی تقریر صرف میری لکھی ہوئی نہیں تھی، ہم سب کے ٹیم ورک کا حصہ تھی، اور ہم سب کی محنت شامل تھی، میری واپسی کی فلائٹ بھی پہلے ہی طے تھی اور مجھے مشن پروٹوکول والے خود ائیرپورٹ تک ڈراپ کرنے آئے۔ان کا کہنا ہے اب خواجہ صاحب ایسے بیان کیوں دے رہے ہیں اور کس ایجنڈے کے تحت اپنی حکومت کے ایک تاریخی دورے کو بدنام کر رہے ہیں، وہ وزیراعظم صاحب کو اُن سے پوچھنا چاہیے، کیونکہ اُن کی اتھارٹی چیلنج ہوئی ہے، میری نہیں!

*💥اقوام متحدہ: متنازع شمع جونیجو کو پاکستانی وفد میں کس نے شامل کرایا؟**تحریر: سینئر صحافی عامر خاکوانی*BBC PK NEWS

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل اجلاس میں وزیردفاع خواجہ آصف نے وزیر اعظم پاکستان کی غیر موجودگی میں خطاب کیا۔ خواجہ صاحب اچھا بولے، فلسـطیـن کے حق میں انہوں نے کھل کر گفتگو کی۔ اصل مسئلہ یا تنازع تب شروع ہوا، جب تصاویر میں خواجہ آصف کے پیچھے شمع جونیجو نامی ایک متنازع سوشل میڈیا ایکٹوسٹ خاتون بیٹھی نظر آئی۔ قواعد وضوابط کے مطابق اقوام متحدہ کے کسی فورم میں وزیراعظم یا وزیر جب خطاب کریں تو ان کے پیچھے صرف فارن آفس سے تعلق رکھنے والے ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ شمع جونیجو وہاں کیسے مزے سے براجمان ہیں ؟ستم ظریفی یہ کہ جب خواجہ آصف اسـرائیـل پر سخت تنقید کرتے ہوئے فلسـطینیـوں کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے، ٹھیک ان کے پیچھے اسـرائیـل کے لئے نرم موقف رکھنے اور متنازع ٹوئٹ کرنے والی شمع جونیجو ان کے وفد کے ایک اہم رکن کے طور پر موجود تھیں۔شمع جونیجو اسـرائیـل کو تسلیم کرنے کی مہم چلاتی رہی ہیں، اس حوالے سے بہت سے ٹؤئٹس، کئی تحریریں موجود ہیں۔ وہ برٹش نیشنلٹی حاصل کر چکی ہے، ان کی ایک ملاقات اسـرائیـلی سفیر سے ہوئی جس پر انہوں نے بڑے تفاخر کا اظہار کیا۔ ایک ٹوئٹ میں تو یہ تک کہا کہ ان کی اگر اسـرائیـلی وزیراعظم نیـتن یاہو سے ملاقات ہوئی تو یہ ان کے لئے اعزاز ہوگا۔یہ ٹھیک ہے کہ شمع جونیجو اب دھڑا دھڑا اپنے پچھلے ٹوئٹ ڈیلیٹ کر رہی ہیں، مگر سوشل میڈیا کی دنیا میں یہ آسان نہیں۔ لوگ فوری سکرین شاٹ بنا لیتے ہیں جو برسوں محفوظ رہتے ہیں۔ شمع جونیجو کے وہ متنازع ٹوئٹ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔اس پورے معاملے کا سب سے افسوسناک اورقابل مذمت پہلو یہ ہے کہ کوئی یہ ماننے اور ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہی نہیں کہ شمع جونیجو کیسے پاکستانی وفد میں شامل ہوئیں؟ خواجہ آصف نے اپنے وضاحتی ٹوئٹ میں شمع جونیجو سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا کہ وہ فلسـطیـن کے ہمیشہ سے حامی ہیں اور غاصب قوت کے لئے ان کے دل میں نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ خواجہ آصف نے اپنے اس ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ وفد میں موجود افرا دکی تفصیل محکمہ خارجہ ہی بتا سکتا ہے، یہ ان کا کام ہے، ان کی جانب سے میں جواب دوں تو وہ مناسب نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ خارجہ نے بھی صاف جواب دے دیا اور ان کی طرف سے باضابطہ طور پر بیان آ چکا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ شمع جونیجو نامی خاتون کو کس نے وفد میں شامل کیا۔ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور وفد کے اراکین کی فہرست میں شمع جونیجو کا نام ہی نہیں۔اس بحث کو یہیں پر چھوڑتے ہوئے شمع جونیجو کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا تعلق ایک سندھی گھرانے سے ہے، کوٹری سندھ میں پیدائش ہے۔ ان کے اپنے پبلک فورمز پر موجود تفصیل کے مطابق ریڈیو پاکستان کے لیے بطور نیوز اینکر وہ سلیکٹ ہوئی، عبرت گروپ آف پبلشرز کے ایک جریدے میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام بھی کیا۔ شمع جونیجو کو پی ٹی وی کے ایک ڈرامے عروسہ میں کام کر کے شہرت ملی۔ اس ڈرامے میں دو نئی اداکارائوں کو موقعہ ملا، مشی خان جن کا ایک معصوم سی لڑکی کا کردار تھا ، دوسری شمع جونیجو جو ایک تیز طراز ، بااعتماد لڑکی کا رول نبھا رہی تھیں۔ یہ ڈرامہ سپر ہٹ ہوا۔ تاہم شمع جونیجو نے زیادہ عرصہ کام نہیں کیا اور جمشید قاضی نامی شخص سے شادی کر کے انگلینڈ چلی گئیں۔شمع جونیجو جو اب ڈاکٹر شمع جونیجو کہلاتی ہیں، ان کے لنکڈ ان پروفائل کے مطابق انہوں نے ملٹری ایتھکس میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پچھلے تین عشروں سے صحافت کر رہی ہیں۔ ویسے انہیں پچھلے پانچ سات برسوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہی شہرت ملی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف بہت ہی سخت، تندو تیز اور زہریلے کمنٹس اور پوسٹیں لگانا ہے۔ ان میں سے بعض پوسٹیں اور ٹوئٹس شدید ذاتی حملے کی صورت میں بھی تھے۔ شمع جونیجو زبردست قسم کی پرو ن لیگی ہیں اور وہ اپنے ٹؤئٹر ، فیس بک وغیرہ کے ذریعے ہمیشہ تحریک انصاف پر بمبـاری کرتی اور شریف خاندان کی ستائش میں لکھتی پائی گئیں۔چار پانچ برس قبل وہ غالباً گلے کے کینسر کا شکار ہوئی تھیں، پھر ٹریٹمنٹ کے بعد ٹھیک ہوگئیں، اس حوالے سے فیس بک پر پوسٹیں بھی کی تھیں۔ شمع جونیجو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے مریم نواز شریف سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور شریف فیملی کے ساتھ وہ مسلسل لندن میں اِن ٹچ رہی ہیں۔پچھلے کچھ عرصے میں وہ شہباز شریف حکومت کے قریب آئیں اور ایک آدھ جگہ پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں وزیراعظم شہباز شریف کے لئے پالیسی ایڈوائزر کی ذمہ داری انجام دے رہی ہوں، تاہم اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن موجود نہیں اور یہ دعویٰ بھی بعد میں ڈیلیٹ کر لیا گیا۔فیس بک پر جولائی کی ایک پوسٹ میں شمع جونیجو وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کر رہی ہیں کہ انہوں نے ان کے لئے پاکستانی آم بھجوائے، اسی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں اپنے بھائی عطا تارڑ اور عزیز احسن اقبال کی شکر گزار ہوں جنہوں نے یہ آم میرے تک پہنچوائے۔اندازہ یہ ہے کہ شمع جونیجو کا پاکستانی وفد میں شامل ہونا وزیراعظم شہباز شریف کی غلط بخشی کا نتیجہ ہے۔ تاہم اب وزیراعظم پاکستان کو سامنے آ کر کھل کر اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔یہ تو نہایت افسوسناک اور قابل مذمت بات ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد میں ایک غیر متعلقہ خاتون شامل ہو جائے ، فارن آفس اس بارے میں بے خبر ہو اور آفیشل لسٹ میں اس خاتون کا نام ہی نہ ہو، جو وزیر صاحب تقریر کر رہے ہیں، انہوں نے بھی پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ بی بی کہاں سے اور کیوں آ گئی ہیں؟ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ خواجہ آصف شمع جونیجو کو نہ جانتے ہوں۔ ڈاکٹر شمع ن لیگی حلقوں کے بہت قریب رہی ہیں اور اہم ن لیگی لیڈران ان سے اور شریف خاندان سے ان کے قریبی تعلق سے باخبر ہیں ۔ ویسے خواجہ آصف کو شمع جونیجو کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ جون میں اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے خواجہ صاحب کی جگمگاتی تصویر لگا کر انہیں مسلم امہ کا ہیرو قرار دیا، (رئیلی ؟ خواجہ صاحب نے مسلم امہ کے لئے کیا کر ڈالا ؟)۔شمع جونیجو کی پاکستانی وفد میں یوں شمولیت کو معروف پاکستانی صحافی خواتین نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینئر صحافی ماریانہ بابر نے ٹوئٹ کیا کہ یہ نری حماقت ہے، کس اصول کے تحت شمع جونیجو پاکستانی وفد میں شامل ہوئی ہیں؟ کیا اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن ہے؟ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے ٹؤئٹ کیا “مسئلہ یہ ہے کہ شمع جونیجو ایک مکمل فیک ہونے کے باوجود مسلسل لندن میں نواز شریف اور شہباز شریف کے پاس بیٹھی پائی جاتی ہیں۔ پچھلے سال انہیں صدارتی ایوارڈ (تمغہ امتیاز) دیا گیا اور اب اس ٹرپ کا تحفہ۔۔۔ ظاہر ہے شہباز شریف کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ شمع جونیجو نے اسـرائیـلی وزیراعظم نیـتن یاہو کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے ۔ ”پاکستانی صحافی اور سیاسی حلقے جانتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف یا شریف خاندان اپنے قریبی لوگوں پر نوازشات کرنے کی خاصی شہرت رکھتا ہے، تاہم اس سب کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ اگر وزیراعظم شہباز شریف واقعی شمع جونیجو کو اپنی ٹیم کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر جرات سے کام لیں اور انہیں ان کے متنازع افکار، آرا اور متنازع ترین سابق ٹوئٹس سمیت باقاعدہ نوٹیفکیشن کر کے شامل کرائیں۔ جس بھونڈے انداز سے یہ واقعہ ہوا ، اس سے پاکستان کی خاصی بھد اڑی ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

A Sad Chapter in the History of Tando JamREPORT...RATHI NANDLAL DISTRICT BUREAU CHIEF THARPARKAR MITHIDAILY BBC PAK NEWSThe golden chapter of Tando Jam’s history, filled with light and love, has come to an end. A respected name of the city, former Minority District Councillor of Hyderabad, Maharaj Manghan Lal Goswami, is no more. He was not just an individual but the very identity of Tando Jam — a symbol of brotherhood and a living character of its history. BBC PK NEWS Report Nandlal Rathi Thar parkr

Being the uncle of Maharaj Deep Raj Goswami, we too lovingly called him Chacha Manghan. Our Rashdi family had a deep bond with Chacha Manghan and his brother, Maharaj Purshottam Lal (father of Deep Raj). My late father used to say that just as his friendship with Deepak Raj was strong, the same bond of friendship had always existed with their elders as well. He often recalled how Maharaj Raghunath Goswami’s flour mill was once very famous. According to him, when he was a student at One School in Tando Jam, he would come on horseback from our village and tie the horses at the well-known flour mill.Later, when I, along with Rais Farman Ali Khattian and Virender Kumar, returned from university, we would often sit in the old-style rooms of the mill on antique chairs, holding long gatherings and discussions. Whenever Chacha Purshottam or Chacha Manghan Lal arrived, we would stand up out of respect and offer them our seats. They always spoke to us with great affection, sharing stories of the past. Newspapers were also read there regularly. Today, their departure fills us with deep sorrow.This family, which has long been settled in Tando Jam, is truly unique. Be it the days of Partition or other difficult times, the Goswami family always illuminated the soil of Tando Jam with their presence. At the time of Partition, Maharaj Raghunath Goswami was the owner of “Raj Flour Mill,” and after Partition, this was the only Hindu family that chose to remain permanently in Tando Jam.Twice, the Goswami family considered migrating to India, but Maharaj Raghunath Bharati Ji’s sons — Manghan Lal Goswami and Purshottam Raj Goswami — vowed never to leave their homeland. At that time, the Rajput, Magsi, Talpur, Samo, Suthar, and other local communities assured them:"You are safe here; this is your home. We are with you and will always stand by you."It was this trust, this love, and this bond that became the foundation of the Goswami family’s continued presence in Tando Jam — a bond that remains unbroken to this day.The late Maharaj Manghan Lal Goswami was the uncle of Maharaj Deepak Raj Goswami, Rajesh Goswami, Subhash Chander, and Dr. Naqash Goswami, and the affectionate father of Ramesh Goswami, Naresh Goswami, and Suresh Goswami. At the time of his Samadhi (funeral rites), every heart was heavy with grief, and people from various communities and backgrounds came together to pay their heartfelt tributes and express solidarity with the Goswami family.The passing of Chacha Maharaj Manghan Lal Goswami is undoubtedly an irreparable loss. Yet his memories, his services, and his dignity will forever remain alive in the golden pages of Tando Jam’s history.

*💥دبئی: ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج پہلی بار فائنل میں ٹکرائیں گے*BBC PK NEWS India and Pakistan

*🌼میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا، بھارتی ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان، پاکستان کی جانب سے وننگ کمبی نیشن برقرار رکھنے کی توقع، میچ کے تمام ٹکٹس فروخت ہوگئے*

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...