اتوار، 30 نومبر، 2025

Karachi: Two boats collide at sea, two women killed, several people missing*Report by Jaidev Maheshwari Sindh


*🌼کشتیاں منوڑہ سے بابا بھٹ آئی لینڈ جارہی تھی، 25 افراد سوار تھے، ریسکیو حکام*

کراچی میں کیماڑی کے قریب سمندر میں دو کشتیوں میں تصادم کے نتیجے میں دو خواتین جاں بحق ہوگئیں۔

حکام کے مطابق کشتیوں میں 25 افراد سوار تھے، امدادی ٹیموں نے 12 افراد کو بچا لیا جبکہ دیگر 11 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

کشتیاں منوڑہ سے بابا بھٹ آئی لینڈ جارہی تھی، زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں 2 بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔

ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ نے کہا ہے کہ تصادم کا شکار ہونے والی دونوں کشتیوں میں 20 سے 25 افراد موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، جن میں سے 12 افراد زخمی ہوئے، جنہیں نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

Foundation Day Ceremony TharparkarThe 58th Foundation Day of Pakistan Peoples Party was celebrated by the PPP District Tharparkar at Sadiq Faqir Chowk Mithi, with the participation of the President of Division Mirpurkhas, MNA Dr. Mahesh Kumar Malani and the District Tharparkar.

کیلاش لانگھنی تحصیل رپورٹر مٹھی 
ڈیلی بی بی سی نیوز پاک لندن ۔کام

*~
تقریب میں یومِ تاسیس کے موقع پر کیك بھی کاٹا گیا اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا لائیو خطاب بھی سنا گیا۔

ڈاکٹر مہییش کمار ملانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
"پیپلز پارٹی دنیا کی واحد جماعت ہے جس کی 58 سالہ جمہوری جدوجہد ہے۔ پارٹی قیادت نے جانیں قربان کیں مگر کبھی آمروں کے سامنے جھکنا قبول نہیں کیا، اور نہ ہی اپنے کارکنوں کو جھکنا سکھایا۔ چاہے وہ شہید بابائے قوم ذوالفقار علی بھٹو ہوں، شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو ہوں، یا ہمارے قائد بلاول بھٹو زرداری اور مردِ حر آصف علی زرداری—سب نے اپنے جمہوری طرزِ سیاست سے ملک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"

ڈاکٹر مہییش ملانی نے مزید کہا کہ
"میرا خاندان 1986 سے پیپلز پارٹی کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور تھرپارکر و میرپورخاص ڈویژن میں پارٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں ہمارے خاندان کا نام شامل ہے، جو میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہم اس پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں جس کی قیادت نے عوام، کارکنوں اور جمہوریت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے مگر اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔"

تقریب میں ایم پی اے فقیر شیر محمد بلالانی، ایم پی اے قاسم سراج سومرو، سینیٹر انجینئر گیانچند تھاروانی، پیپلز پارٹی ضلع تھرپارکر کے جنرل سیکریٹری سشیل کمار ملانی، انفارمیشن سیکریٹری ویرجی کولہی، سينيڻر کرشنـا کولھي ونود کمار ملانی، فيصل بلالاڻي ـ راجا بلالاڻي راہول جیون، سمترا منجياڻي ـ ڪملا ڀيل ضلع و تعلقہ عہدیداران، پیپلز پارٹی کلچر وِنگ ضلع تھرپارکر کے جنرل سیکریٹری برکَت جان بجیر، ذیلی وِنگز کے عہدیداران، ٹاؤن چیئرمین، یوسی چیئرمین، کونسلرز، معزز شہری، معزز تاجر، معزز صحافی اور پارٹی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

*4 killed, 10 injured in shooting at banquet hall in California, US**💥FC headquarters suicide blast: All three attackers confirmed to be Afghan nationals**💥Pakistan People's Party is celebrating its 58th foundation day today**💥Imran Khan's sisters are defaming the country on Indian channels, they should just drown in water: Atta Tarar**💥Staff-level agreement has been reached with IMF, says Federal Finance Minister**💥The process of notifying the Chief of Defense Forces has begun: Khawaja Asif**💥Rules should not mess with scholars, women's feet will not be able to bear the hot ground, JUI**Consideration on imposing Governor's rule in Khyber Pakhtunkhwa**Karachi: Human torso recovered from sack, legs and head missing*Report by Jaidev Maheshwari Sindh**😂Imran Khan has been kept in isolation since November 4, worrying news is coming from the international media: Sohail Afridi**13 Pakistanis arrested in Saudi Arabia for cattle theft**💥Governor's rule being considered in KP due to terrorism and border situation: Minister of State**It was said that Imran Khan was working on the Western agenda, but the current government is implementing the real agenda of the West: Maulana Fazlur Rehman*


امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اسٹاکٹن کے ایک بینکوئٹ ہال میں خاندانی اجتماع کے دوران مسلح ملزم کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہو گئے

سی این این کی رپورٹ کے مطابق سان جوآقن کاؤنٹی شیرف آفس کی ترجمان ہیتر برینٹ نے بتایا کہ زخمیوں میں بچے اور بالغ بھی شامل ہیں، فوری طور پر زخمیوں کی ہسپتال میں حالت کے بارے میں کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی۔

برینٹ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ کسی ہدف شدہ حملے کا حصہ ہو سکتا ہے، یہ ایک بہت ہی سرگرم اور جاری تحقیقات والا کیس ہے اور معلومات محدود ہیں۔

شیرف آفس کے مطابق فائرنگ شام 6 بجے سے تھوڑی پہلے شہر کے شمالی حصے میں ہوئی۔

یہ بینکوئٹ ہال ڈیری کوئن سمیت کئی کاروباروں کے ساتھ پارکنگ شیئر کرتا ہے، خاندانی تقریب کی میزبانی کر رہا تھا۔

برینٹ کے مطابق مشتبہ فائرنگ کرنے والا فرار ہو گیا ہے اور اب تک گرفتار نہیں ہوا، حکام نے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے تاکہ محققین ممکنہ مقصد جان سکیں، تفتیش کار تمام ممکنہ پہلوؤں کو کھنگال رہے ہیں۔

سان جوآقن کاؤنٹی شیرف آفس اس واقعے کی تحقیقات کی قیادت کر رہا ہے۔

یہ تشدد اسٹاکٹن کو ان امریکی کمیونٹیز کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل کرتا ہے، جہاں روزمرہ کے مقامات (اسکولز، شاپنگ سینٹرز، بارز اور دفاتر) میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔

گن وائلنس آرکائیو کے مطابق اس سال اب تک امریکا میں کم از کم 380 بڑے پیمانے کی فائرنگ کے واقعات ہو چکے ہیں، اس تعریف کے مطابق ’جب 4 یا زیادہ افراد پر گولیاں چلائی جائیں، شوٹر کو شمار نہیں کیا جاتا۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیوین نیوسم کو اس فائرنگ کے واقعے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اسٹاکٹن کی میئر کرسٹینا فوگازی نے ایک بیان میں کہا کہ گورنر نے کمیونٹی کی مدد کے لیے ریاست کی مکمل حمایت کی پیشکش کی ہے۔

فوگازی نے لکھا کہ آج رات ہمارا شہر ایک دل دہلا دینے والی اور تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، براہ کرم زخمیوں، ان کے اہلِ خانہ اور ہمارے فرسٹ رسپانڈرز کے لیے دعائیں کریں۔

پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کردی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔

واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شـہیـد جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی آج اپنا 58واں یوم تاسیس منا رہی ہے جس کی مناسبت سے ملک بھر میں ضلعی سطح پر تقریبات کا انعقاد اور کراچی کے علاقے کورنگی میں مرکزی جلسہ ہوگا۔

کورنگی میں جلسے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، شہر کے مختلف اضلاع میں پارٹی پرچم لگا دیئے گئے ہیں، بلاول بھٹو اور پارٹی کے دیگر مرکزی و صوبائی رہنما جلسے سے خطاب کریں گے۔

*🌼پی ٹی آئی کا ملک دشمن کے ساتھ گٹھ جوڑ بےنقاب ہو چکا، وزیر اعلیٰ کے پی کا منشیات فروشوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے، ان کی کارکردگی صفر ہے: وزیر اطلاعات*

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئندہ ہفتے اجلاس ہوگا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا ہے، اصلاحات کے عمل میں پیش رفت جاری ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ فنانسنگ بہت اہم ہے، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بہتری خوش آئند ہے، پائیدار ترقی کے لیے ادائیگی کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں، مجموعی طور پر برآمدات میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی بہتری کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے،آئی ٹی شعبے میں ماہانہ بنیادوں پر بہتری دیکھی جارہی ہے،ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، آئی ٹی سیکٹر بہترین کارکردگی پیش کر رہا ہے، حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

 اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن مناسب وقت پر جاری کر دیا جائے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر مزید کسی طرح کی قیاس آرائیوں کی گنجائش نہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلم غوری نے کہا کہ حکمراں اگر دینی اداروں کی اتنی ہی مدد کرنا چاہتے ہیں تو مساجد کے بل معاف کردیں۔ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا اس کی حکومت کی پالیسیوں سے جھگڑا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکمران گرم زمین پر پاؤں نہ رکھیں ورنہ پاؤں جل جائیں گے۔ زنانہ پاؤں گرم زمین برداشت نہیں کر سکیں گے۔ پنجاب کے حکمران خوف کی فضا پیدا کرکے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔

ترجمان جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اگر غریب کو تنگ کرو گے تو یہ آگ تمہارے محلات تک بھی پہنچے گی۔ پنجاب کے حکمران علماء کرام سے پنگا بند کردیں۔ پنجاب کے حکمرانوں! علماء کرام کو پچیس ہزار میں خریدنا چاہتے ہو۔ حکمران اختلافات پیدا کرکے مذہبی تصادم کو ہوا دیتے ہیں۔ ہم تمام مسالک کی نمائندگی کرتے ہیں کسی ایک مسلک کے نمائندہ نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عسکری لیبارٹریز سے پیدا ہونے والو! علماء کو کوئی نہیں دبا سکتا۔ جس ضیاء الحق کی لیبارٹری سے تم پیدا ہوئے ہم نے اسے بھی چین سے حکومت نہیں کرنے دی۔ 27ویں ترمیم سے متفقہ آئین کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔

پشاور: خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور شروع کردیا گیا، گورنر راج کے لیے فیصل کریم کنڈی کو رکھنے یا ان کی جگہ نیا گورنر لانے کی تجویز زیر غور ہے، متوقع نئے گورنر کے لیے تین سابق فوجی افسران اور تین سیاسی شخصیات کے نام سامنے آگئے۔

ذرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا کے لیے 6 ناموں پر غور کیا جارہا ہے جس میں تین سیاسی شخصیات اور تین سابق فوجی افسران شامل ہیں۔

سیاسی شخصیات میں امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیر پاؤ اور پرویز خٹک کے نام زیر غور ہیں۔

گورنر کے عہدے کیلئے سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کے ناموں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی بھی بدستور پہلی چوائس کے طور پر موجود ہیں۔ گورنر کی تبدیلی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ یا صوبائی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پالیسی کے تحت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب عہدے سے ہٹانے کی خبروں پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ردعمل سامنے آگیا۔

فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے مجھے کچھ علم نہیں، اگر میڈیا ہی گورنر لگائے گا تو پھر اللہ حافظ ہے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ انکی تبدیلی کے حوالے سے پارٹی کا جو فیصلہ ہوگا وہ قبول کریں گے۔

گلشن اقبال بلاک 5 سے بوری سے انـسانی دھڑ برآمد ہوا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک فائیو سے بوری میں بند انـسان کا آدھا دھڑ ملا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو پہلے بڑے کالے شاپر اور پھر بوری میں ڈالا گیا۔

 پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مقتول کے جسم کو آرے یا تیز دھار آلے سے کــاٹا گیا ہے، لاش کی دونوں ٹانگیں اور اوپر کا حصہ موجود نہیں ہے، پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کرلیا۔

ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے تازہ قـتـل کیا گیا ہے، جائے وقوعہ کے اطراف کی سی سی ٹی وی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملنے والے انسانی دھڑ کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے اور بین الاقوامی میڈیامیں ان سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے پھراڈیالہ جیل بھی جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 4 نومبر سے بانی پی ٹی آئی کو آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا سے بانی پی ٹی آئی سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں، ہم اڈیالہ گئے وہاں دو منٹ کیلئے نہیں ملنے دیا گیا، ہائیکورٹ بھی گئے پھر بھی ملاقات نہ ہوسکی۔

ان کا کہنا تھاکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ این ایف سی ایوارڈ میں شرکت کریں گے، وہاں پر ضم اضلاع اور صوبے کی حقوق کیلئے لڑیں گے، 2018 سے اب تک صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ نہیں مل رہا، ضم اضلاع کو اپنے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ ایک ہزار 350 ارب روپے 7 سال کے وفاق پر این ایف سی ایوارڈ میں واجب الادا ہے، صوبے بھر کے جامعات میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سیمینار کررہے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی صوبے کے حقوق کیلئے مٹینگ کرنی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ سب کو مل کر صوبے کیلئے لڑنا ہوگا، سیاسی جدوجہد الگ، این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے حقوق کیلئے مشترکہ لڑنا ہوگا۔

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم نہیں جائیں گے، میں بحیثیت وزیر اعلیٰ اور پارٹی کارکن بھی کام کر رہا ہوں، صوبے کے وزیر اعلیٰ کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، اس صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں مویشیوں کی چوری کے الزام میں پولیس نے 13 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔

سعودی میڈیا کے مطابق مویشیوں (بھیڑوں) کی چوری کے الزام میں 13 پاکستانیوں کو طائف میں گرفتار کیا گیا ہے۔

سعودی اخبار کے مطابق ملزمان مویشی چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔

پولیس نے ملزمان کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق معاملہ زیر غور ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام نیاپاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ دہشتگردی اور سرحد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو کچھ فائدہ تو دے،کب تک کے صوبے کے شہریوں کو بےیار ومددگار چھوڑیں گے۔

بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں لگایا جاتا ہے، صوبے کے حالات اس کا تقاضا کررہے ہیں، ماضی میں پنجاب میں بھی گورنر راج لگانے کا تجربہ کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے گورنر خیبرپختونخوا کے لیے 5 نام زیر غور ہیں، زیر غور ناموں میں 3 سیاسی شخصیات اور 2 سابق فوجی افسران شامل ہیں۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ سیاسی شخصیات میں امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیر پاؤ اور پرویز خٹک کے نام زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود کے نام بھی گورنر کے پی کے لیے زیر غور ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود سابق آئی جی ایف سی رہ چکے ہیں جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی سابق کور کمانڈر پشاور رہ چکے ہیں۔

*🌼ملک کی معیشت تباہ ہو چکی، پاکستان وہ نہیں جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں: سربراہ جے یو آئی*

مردان میں تقریب سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور شہباز شریف، ٹرمپ کو امن کا نوبل دلوانے کی بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، مسلح گروہ جنگ چھوڑ دیں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہماری افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے۔

*Pakhtunkhwa government decides to investigate alleged rigging in Haripur by-election*

*💥پختونخوا حکومت کا ہری پور ضمنی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا فیصلہ*

*🌼وزیر اعلیٰ نے ہری پور ضمنی الیکشن کی انکوائری کا حکم دیا ہے، کلاس فور سے لیکر ڈی سی تک انکوائری ہو گی، کوئی ملوث پایا گیا تو سخت سزا دیں گے: معاون خصوصی کے پی حکومت*

ہفتہ، 29 نومبر، 2025

There is a famous incident where a Bhangi was given the opportunity to appear in the court of a king and a strange thing happened.


دربار میں داخل ہوتے ہی وہ دھڑام سے فرش پر گرا اور بےہوش ہوگیا۔
اسے ہوش میں لانے کی سر توڑ کوشش کی گئی مگر بے سود...

آخر ایک دانا درباری نے ایک گندگی سے آلودہ جوتا لانے کا مشورہ دیا،

جوتا لایا گیا تو دانا نے کہا،
"اس بھنگی کو یہ جوتا سونگھایا جائے۔"

بظاہر اس بے سر و پا دکھائی دینے والےحکم پر بادل نخواستہ عمل درآمد کیا گیا تو یہ دیکھ کر درباریوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بھنگی عالم بے ہوشی کو خیر باد کہہ کر عالم ہوش میں آگیا۔

یعنی جو کام شاہی حکیم کی اعلی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ قیمتی دوائیں نہ کر سکیں، غلاظت سے بھرا جوتا وہ کمال دکھا گیا!

سب لوگ دانا درباری سے ہوچھنے لگے،
"یہ کیا ماجرا ہے..؟"

تب اس نے جو حکمت بتائی وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھ دی گئی،
اس نے کہا،
"اس بھنگی کی عمر گندگی اور غلاظت کی رفاقت میں بسر ہوئی اور اب یکا یک اسے شاہی دربار کی نفیس خوشبوؤں میں دھکیل دیا گیا جس کی اس کو عادت نہیں تھی۔
چونکہ اس کی طبیعت میں اس نفاست کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ تھی تو یہ برداشت نہ کرسکا اور اپنے حواس کھو بیٹھا۔
اور جب اس کو اس کی طبیعت کے موافق ماحول دیا گیا تو فورا اس کو قبول کرتے ہوئے ہوش میں آگیا۔"

اس واقعے کو پڑھنے کے بعد مجھے کئی بھٹکتے سوالوں کے تسلی بخش جواب مل گئے...
آئیے آپ بھی سنیے اور سر دھنئیے...
ہم ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیں تو بلامبالغہ گھنٹوں کے گزر جانے کا احساس تک نہیں ہوتا جبکہ نماز شروع کردیں تو پانچ منٹ گزارنے محال ہو جاتے ہیں۔

ناول پڑھنا شروع کریں تو لگاتار بہت سا ٹائم اسے پڑھنے میں گزارنا بے حد سہل معلوم ہوتا ہے اور اگر تلاوت قرآن کی توفیق مل بھی جائے تو سر سے اتارنے کی کوشش ہوتی ہے..
محافل دینیہ میں شمولیت کا وقت نہیں ملتا جبکہ بازاروں میں وقت کے گزرنے کا پتہ نہیں چلتا..
ایک طرف درباری اور دوسری طرف بھنگی..
ہمارا شمار کس میں ہے ؟؟؟
#MIAN KHUDA BUKHSH ABBASI 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جمعہ، 28 نومبر، 2025

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد یحییٰ خان کی گم نامی سقوطِ ڈھاکہ کے محض چار دن بعد 20 دسمبر 1971ء کو جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے صدارت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات ذوالفقار علی بھٹو کے سپرد کر دیے

، یوں ایک فوجی حکمران کا اقتدار خاموشی سے اپنے انجام کو پہنچا۔ نئے حکمران نے ملک کی سیاسی، عسکری اور انتظامی خرابیوں کا بڑا حصہ یحییٰ خان کی پالیسیوں اور فیصلوں پر ڈال کر نہ صرف انہیں اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل کیا بلکہ اخلاقی و سیاسی طور پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھٹو صاحب نے عوامی غصے کے طوفان اور سیاسی دباؤ کے پیشِ نظر جنرل یحییٰ خان کی نقل و حرکت محدود کر کے انہیں نظربند کرنے کا فیصلہ کیا اور جنوری 1972ء میں باضابطہ طور پر گھر میں قید کروا دیا۔ راولپنڈی کے آرمی ہاؤس/ہارلے اسٹریٹ کے اس گھر تک صرف چند سرکاری اہلکار، سکیورٹی اسٹاف اور منتخب افسران کو رسائی حاصل تھی، عام شہری تو درکنار، صحافی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے، یوں ایک سابق صدر اور فوجی حکمران اچانک عوامی منظرنامے سے غائب ہو گیا۔ اُس کے بعد برسوں تک نہ یحییٰ خان کا کوئی باقاعدہ بیان منظرِ عام پر آیا، نہ کسی اخبار کو انٹرویو ملا، نہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر ان کی آواز سنائی دی۔ قومی سانحے کے بعد قوم جاننا چاہتی تھی کہ اقتدار کی راہداریوں میں کیا ہوا، فیصلے کیسے ہوئے، مگر جس شخص کے دستخطوں سے تاریخ کا دھارا بدل گیا، وہ اختیارات چھن جانے کے بعد مکمل خاموشی اوڑھ کر اپنے ہی سائے سے باتیں کرتا رہ گیا۔ جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کی تو اسی سیاسی طوفان کے درمیاں یحییٰ خان کی نظر بندی ختم ہوئی اور انہیں رہائی مل گئی۔ نئی فوجی حکومت کو امید تھی کہ شاید وہ ماضی کے راز افشا کریں گے، سقوطِ ڈھاکہ، جنگِ 1971ء اور اندرونی سازشوں پر روشنی ڈالیں گے، مگر یحییٰ خان نے بیان بازی سے مکمل گریز کیا اور حمود الرحمن کمیشن کو دی گئی اپنی گواہی ہی کو حرفِ آخر قرار دیا۔ آزادی ملنے کے باوجود وہ عملی طور پر گوشہ نشین ہی رہے، نہ سیاسی بحث میں شریک ہوئے، نہ کسی نئی مہم جوئی کا حصہ بنے، حالانکہ ان کے خلامقدمات کی بازگشت، الزامات اور تنقید کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ اپنی بقیہ زندگی راولپنڈی کی ہارلے اسٹریٹ کے ایک نسبتاً مختصر سے گھر میں گمنامی اور سکوت کے ساتھ گزارتے رہے، جہاں سے کبھی کبھار بیماری کے علاج کے لیے باہر آنا جانا ہی ان کی ’سرکاری خبر‘ بن جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانہ تھا جب انہی یحییٰ خان کے گرد طاقت کے متلاشی سیاست دانوں، درباریوں اور خوشامدیوں کے ہجوم ہوتے تھے، محفلیں گرم رہتی تھیں، فیصلوں کی بازگشت دارالحکومت سے مشرقی پاکستان تک سنی جاتی تھی۔ لیکن سقوطِ ڈھاکہ کے بعد وہی شخص تنہائی، ندامت، بیماری اور خاموشی کے حصار میں ایسا قید ہوا کہ تاریخ کی عدالت تو انہیں کٹہرے میں کھڑی کرتی رہی، مگر خود ملزم نے اپنا دفاع عوام کے سامنے پیش کرنا گوارا نہ کیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ جس جنرل کے دور میں مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، اس کی آخری رسومات بھی قومی سطح پر معمولی خبر بن کر رہ گئیں؛ 1980ء میں محض 63 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو نہ کوئی بڑے اجتماع کی گونج تھی، نہ کسی بڑے اعتراف یا تلافی کا اعلان۔ یوں ایک فوجی حکمران کی کہانی اقتدار کے ہنگاموں سے شروع ہو کر گمنامی اور سکوت میں ختم ہوئی، اور آج بھی سقوطِ ڈھاکہ کے ملبے تلے دبے سوال جواب کے منتظر ہیں کہ اصل ذمہ دار کون تھا، فیصلہ کہاں غلط ہوا اور کس موڑ پر تاریخ کا رُخ بدل گیا۔  

انجنیئر اوم پرکاش ڈسٹرکٹ بیورو چیف عمرکوٹ۔۔*درویش جاکھرانی بلوچ – آسٹریلیا تک کا سفر*انیس صدی کے آخری عشروں میں جب برصغیر اور بلوچستان کے باسی روزگار، تجارت اور نئی دنیا کی تلاش میں دور دراز خطّوں کا سفر کرتے تھے، انہی مسافروں میں بیجا درویش جاکھرانی بلوچ کا نام بھی آتا ہے۔


بیجا درویش کا تعلق جاکھرانی بلوچ قبیلے کے ایک معزز خاندان سے تھا۔ کم عمری ہی سے انہیں دیہی زندگی، مالداری، گھوڑوں اور اونٹوں سے خاص لگاؤ تھا۔ انہی مہارتوں نے انہیں ایک ایسے سفر کی طرف دھکیل دیا جو آخرکار انہیں دنیا کے سب سے دور دراز براعظم آسٹریلیا تک لے گیا۔
اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے سفر کی دعوت
اس زمانے میں آسٹریلیا کے اندرونی علاقوں (Outback) کو آباد کرنے اور ریل لائنیں بچھانے کے لیے ماہر اونٹ بان اور مالداروں کی ضرورت تھی۔
برطانوی ٹھیکیداروں نے بلوچستان، سندھ اور موجودہ افغانستان کے علاقوں سے بلوچ، پشتون اور پاکستانی اونٹ بانوں کو بھرتی کرنا شروع کیا۔
اسی مہم میں بیجا درویش جاکھرانی بلوچ نے بھی شمولیت اختیار کی۔
سمندر پار کا لمبا سفر
کراچی یا بمبئی کی بندرگاہ سے بیجا درویش نے ایک لمبے بحری سفر کا آغاز کیا۔
سفر 30 سے 40 دن کا ہوتا تھا، جس میں:
سخت سمندری طوفان
محدود خوراک
اور دوری کا غم

جیسے مراحل شامل تھے۔
لیکن بیجا درویش اپنے قبیلے کی روایت کے مطابق بہادر، ثابت قدم اور مقصد کے پکے تھے۔
آسٹریلیا میں بلوچوں کا کردار
آسٹریلیا پہنچ کر بیجا درویش کو "کیمیل مین" یعنی اونٹ بان کہا جاتا تھا۔
انہوں نے:
ریلوے لائنیں بچھانے
صحرائی علاقوں میں سامان پہنچانے
دور دراز بستیوں تک راشن سپلائی کرنے
اور Outback کو آباد کرنے میں
اہم کردار ادا کیا۔
بلوچ اونٹ بانوں کو وہاں کے لوگ Afghan Cameleers کہتے تھے، حالانکہ وہ بڑی تعداد میں بلوچ تھے۔
بیجا درویش کی پہچان
بیجا درویش جاکھرانی اپنی راست گوئی، درویش مزاجی اور محنت کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں ایک معزز شخصیت بن گئے۔
ان کی وجہ سے کئی مزید بلوچ خاندان آسٹریلیا پہنچے۔
یہ بلوچ آج بھی آسٹریلیا کی تاریخ میں "Cameleer Community" کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
درویش نے پہلی مسجد وہا بنائی جو مری نام سے جمع مسجد 
مشھور ہے 
وہا ایک دریاں بھتا ہے 
اسے بھی مری دریاں کھا جاتا ہے 
۔اور آج آسٹریلیا میں کثیر تعداد میں بلوچ آباد ہیں سلیمانی لیحجہ اور مکرانی لیحجہ میں بات کرتے 
اور اپنے علاقے کو اور قومیت کو بلوچ قوم سے ظاھر کرتے ہیں 
بشکریہ ،میر حسن بلوچ
۔






#بلو

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...