بدھ، 12 مارچ، 2025

کراچی ۔۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ایک سالہ کارکردگی پر بریفنگ ۔رپورٹ ۔۔انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف ، بی بی سی نیوز پاکستان BBC PK

تفصیلات ۔۔۔۔ہمارے واٹر کورسز لائن کرنے کا پروگرام ہے جو ہم پاورز کو اسسٹ کرتے ہیں ، ہاری کارڈ کو استعمال کریں گے ہم نے علان کیا تھا کہ ہم پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام شروع کریں گے،ہم نے اپنے بچوں کو اپنی نیکسٹ جنریشن کو ٹرین کرنا ہےانڈر پروپون انیشٹو پیپل انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام شروع کیا تھا اس پروگرام کے تحت اس سال 13428 سٹوڈنٹس کو ہم تین مختلف یونیورسٹیز میں اسکالرشپ دی،ہم 1171 سٹوڈنٹس گریجوئیٹ کرا چکے ہیں ان گریجوئیٹس میں سے 2528 نے جابز حاصل کر لیے ہیں آخری بیج جو 3057 کا 2357 یہ مئی 2025 میں گریجوٹ کرے گا اس کامیابی کو مدنظر رکھ کر ہمارا ارادہ ہے کہ اگلے سال بھی اس کو ایک اور سکوپ بڑھائیں،اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے 2024 کے اندر 1500 آئی ٹی گریجوٹس کے لیے ایک بوٹ کیمپ کیا تھااور ان 1500 میں سے 870 گریجوٹ سپلائی نہیں سیلف ایمپلائیڈ ہیں ہم ہر ایک کو مانیٹر بھی کرتے ہیں جو اس کے بعد ان کی جابز لینے میں مدد کی،اس کے ساتھ ساتھ ان کو اگر مزید کسی مدد کی ضرورت ہے تو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ان کے ساتھ رابطہ میں رہتا ہے ایک اور پروگرام ہے یہ اس سے تین ہزار یونیورسٹی سٹوڈنٹس جو تھرڈ یا فورتھ ایر میں تھے ان کی جو آئی ٹی ٹریننگ اس کو پروگرام کیا تھا کراچی حیدرآباد سکھر لاڑکانہ خیرپور شہید بے نظیر اباد ڈسٹرکٹ میں 758 یہ ٹرینیز تھے ہم تین ہزار سٹوڈنٹس اور 200 ٹیچرز اور ٹیچنگ اسسٹنس کر چکے ہیں محکمہ آبپاشی نے ہائیڈرو انفارمیٹکس سینٹر ایک بنایا ہےیہ سینٹر ڈیٹا سارا کلیکٹ کرتا ہے اس سے ڈیٹا اویلیبل بھی ہے جو لوگ ڈیٹا حاصل کرنا چاہیں محکمہ آبپاشی مدد ملتی ہے اور یہ بھی ایک ائی ٹی کے اندر ہماری ایڈوانسمنٹ ہے سندھ پیپلز ہاؤزنگ آف فلڈ افیکٹیز اس کے بارے میں اگے میں اپ کو پھر بتاؤں گایہ ہمارا فلیگ شپ پراجیکٹ ہےآئی ٹی میں ہم نے تین پورٹلز بنائے ہیں یہ بینیفیشری پورٹل ہے کوئی بھی بینیفیشری اپنا شناختی کارڈ ڈال کے اپنا سٹیٹس چیک کر سکتا ہے ہمارا ایس پی ایچ اف ہیٹ میپ ہے یہ بھی ٹیکنالوجی میں اہم قدم ہے،جو بھی جس کو ایکسس ہے وہ کسی بھی ڈسٹرکٹ کے کسی بھی تعلقے سے ہو وہ گھر کا سٹیٹس دیکھ سکتا ہے یہ پورے ہمارے دو ملین سے اوپر ڈیٹا بیس ہےہم نے ایک پائلٹ پروگرام شروع کیا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میپنگ ہم کرتے ہیں ڈرون کے ساتھ گاؤں کے اوپر جاتے ہیں اس کی ساری ڈیجیٹل میپنگ کر لیتے ہیں اور پھر ہمیں اس میں جو گیپس ہیں پتہ چلتے ہیں یہ ابھی پائلٹ ہےکچھ ولیجز ہم کر چکے ہیں لیکن ارادہ ہے کہ یہ پورے سندھ میں ہم اس کو ایپلیکیٹ کریں گے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے اٹومیشن کی طرف گئے ہیں گزشہ ایک سال میں یہ سارا کچھ مرتب کیا، ہے، وہ پرانی چیزیں نہیں بتا رہا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے اس سال یہ ڈیجیٹائز کیلئے ایپ بنائیے ہیں،اپ موٹر وہیکل ٹیکس پروفیشنل ٹیکس اپنی ایکسائز لے لی ہے انفراسٹرکچر سائز یہ سارا ان لائن کر سکتے ہیں بائی میٹرک ویریفکیشن اور موٹر وہیکل رجسٹریشن اور ٹرانسفر کر سکتے ہیں پہلا ان لائن اپشن پریمیم نمبر پلیٹ کا ہم نے اس سال کیاہم باقی بھی جو ہماری سکیمز ہیں چاہے وہ میکنائز فارمنگ کے لیے امپلیمنٹس دینا ہو چاہے ا جو ہمارے واٹر کورسز لائن کرنے کا پروگرام ہے جو ہم پاورز کو اسسٹ کرتے ہیں ان سب نے ہم اس ہاری کارڈ کو استعمال کریں گےآن لائن ایپلیکیشن وہ سیکیورٹی فیچر نمبر پلیٹس جو نئے نمبر پلیٹس کے لیے وہ بھی اپ ان لائن ہی سارا کر سکتے ہیں سندھ فوڈ اتھارٹی نے بزنس رجسٹریشن جو ڈفرنٹ فوڈ اؤٹلٹس ہیں ان کے لیے ایک ایپ بنائی ہوئی ہےوہ اپنی بزنس رجسٹریشن اپنی جو لائسنس فیس ہے وہ سب کچھ ان لائن کر سکتے ہیں ہمارے انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک ایپ بنائی ہوئی ہے کاروبار ایپ کے نام سے کہ جس نے بھی کاروبار شروع کرنا ہے وہ اس ایپ کے ذریعے رجسٹر کر سکتا ہے اپنی پرمٹس لے سکتا ہے آپ کو جو مسئلے ہیں جس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہیں وہ بتا سکتا ہے یہ چیزیں انفارچونیٹلی ہم اتنی زیادہ ڈسمنٹ نہیں کر سکے لیکن ابھی ہم شروع کریں گے تاکہ پتہ اور اس کے اندر ہم جو پورٹل ہے انفارچونیٹلی بہت زیادہ ریگولیٹری اپروولز ہوتی ہیں بزنس کو ہم ایز ڈوئنگ بزنس میں کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ریگولیٹومنٹس ہم انٹروڈیوس کریں گے اگے جاتے ہوئے کہ وہ پرمٹس ان لائن لوگ لے سکیں ای پروفیمنٹ یہ ہم نے اس کو تقریبا اٹھ نو مہینے ہو گئے ہم نے شروع کیا ہےہم ہر ڈیپارٹمنٹ کے اینیل پروکیومنٹ پلان سے لے کر اس کی ایوارڈ اف ٹینڈر تک سارا آٹومیٹک کریں گے سارا ا فیسلس ہو تاکہ اپ کے کم از کم ا اس میں کوئی ہیومن انٹروینشن یا کوئی ایسی بات ہو وہ ہمارا ای پیڈز کے نام سے ای پیک ایکویشن ڈسپوزل سسٹم ہم نے اپریل 24 میں اس کو سافٹ سٹارٹ کیا تھا اور اس وقت تک ہم 558 سپلائرز کو رجسٹر کر چکے ہیں 408 ٹینڈرز پبلش میں 308 تک پیمنٹس کمپلیٹ ہوئی ہیں اور 883 پروگریس ہیں ہم نے ماسٹر ٹرینرز آفیسرز اور بڈرز کو ٹرین کرنے کا ایک پروگرام بنا ہوا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم گریجولی پیپر ٹرانزیکشن سے ختم کر کے یہ سارا کا سارا ایک پورٹل پر لے ائیں گے یہ ایک اور ایشو کافی عرصے سے تھا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اندر وہ گندم کا جو اپ کو پتہ ہے کہ گندم ناقص ہے چوری ہو گئی مٹی بھری ہوئی ہے ہم نے ایس جی ایس کے ساتھ ایک کانٹریکٹ کیا اور ہر گندم کی بوری کو چیک کیا اور یہ میں کافی ایک فیئر ا سیٹسفیکشن سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے پاس سٹاک میں جو کچھ بھی موجود ہے وہ واقعی ادھر ہے جہاں پر پرابلمز تھے وہ ہم نے کو ایکشنز لیے جہاں پر گندم کم تھی یا صحیح کوالٹی کی نہیں تھی اس کو ریپلیس کرایا اس دفعے ہم ریکورمنٹ نہیں کر رہے ہیں ہمارے پاس آلریڈی 1.3 ملین اسے اوپر گندم موجود ہے گندم اور ہم ریکورمنٹ ڈیو ٹو اور نیشنل سپیک جو ہم نے سائن کیا ہوا ہے نہ دے سکتے ہیں لیکن ابھی میں اپ کو بتا رہا ہوں ہمیں سندھ حکومت میں ہم نے کافی اس کو کیبنٹ میں ڈسکس کیا ہے کہ ہمیں ڈر ہے کہ اس سال گندم کی پیداوار کم ہوئی اور اکتوبر نومبر میں جا کر ایک مسئلہ بن سکتا ہےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب نے اور پریزیڈنٹ اصف علی زرداری صاحب نے بھی اپنی تقریر میں اس کا ذکر کیا تھا سندھ پولیس کے اندر ایس فور سسٹم جو ہم نے ہمارے 42 ٹول پلازرہ ہیں تو ان کی اینٹری ایگزٹ پہ ہم فیشل ریکمنیشن کے ساتھ نمبر پلیٹیشن کے ساتھ ہم نے لگائے ہوئے ہیں اپنے کیمراز اور ایک سنٹرلائز سسٹم ہے جہاں پہ سارا ڈیٹا اتا ہے اور اسی وجہ سے اگر کوئی کرائم ہو جاتا ہے تو اور کسی گاڑی کا ہمیں پتہ ہوتا ہے وہ ٹریک ہو جاتی ہے پولیس رکارڈ کو ہم نے ڈیجیٹلائیز کیا ہے ،پچھلے ایک سال میں پچھلے تین مہینے میں ہم نے لائسنسنگ برانچ میں بہت زیادہ بہتری کی ہے پہلے لائسنسنگ برانچ کے لیے سفارشیں آتی تھی کہ مجھے پوسٹ کو اب کوئی سفارش نہیں کرتا اس لیے اتنا زیادہ اٹومیٹ ہو گیا ہے اور پچھلے تین مہینے میں ایک لاکھ سے اوپر لائسنس ہم نے ان لائن ڈلیور کیے ہیں ریپیٹ اف انڈرز کی ای ٹیگنگ کرنا یہ سب جو ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے آئے میں نے بات کی تھی جو ہم نے ا نمبر پلیٹ پریمیم نمبرز کی اور اس کا مقصد کیا تھا کہ جو پیسے اس سے ملیں گے اس سے ہم گھروں کو تعمیر کریں گے اس کے تھرو جو ہم نے پیسے اکٹھے ہوئے اس میں سے 640 ملین روپے تھے جس میں ہم 2100 فلڈ ایفیکٹ کے گھر تعمیر کئے ہینِفلڈ پروگرام ہر سٹریم کے الگ لوگ ہیں کہ جہاں سے پیسے اس لیے ہمیں پرائیویٹ ب لوگوں نے بھی ڈونیشنز بھی ہیں فیڈرل گورنمنٹ کے بھی پیسے ہیں لونز کے پیسے ہیں ان سب کو ہم جو ہے الگ الگ سٹریم میں چلاتے ہیں اور یہ پیسے بھی ہم نے یہ استعمال کیے تھےمحکمہ آبپاشی سندھ کی سالانہ کارکردگی سکھر بیراج کی تعمیر 1929 میں مکمل ہوئی جوکہ آسپاس کے علاقوں میں پانی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے،حالیہ دنوں میں سکھر بیراج کے دروازوں کو کافی نقصا پہنچا ہے،سکھر بیراج کے دروازوں کی بروقت دیکھ بھال اور فوری مرمت وقت کی ضرورت ہے، بڑا نقصان 20 دسمبر 1982 کو گیٹ نمبر 31 کو پہنچاگیٹ کی تبدیلی (1987-1992):موٹ میکڈونلڈ انٹرنیشنل کی ایک تحقیق میں بیراج کے دروازوں کی خراب حالت کی نشاندہی کی گئی، جس کے نتیجے میں 1987 سے 1992 کے درمیان تمام دروازوں کی تبدیلی کی گئی۔20 جون 2024 کو گیٹ نمبر 47 کو خراب موسم کے دوران نقصان پہنچا جب بیراج کے اوپر پانی کی سطح 199.50 فٹ تھی۔ نازک صورتحال کے باعث زیادہ مانگ کے وقت اہم نہروں کو پانی کی فراہمی میں خلل پڑا،یہ ہمارے لئے چیلنجنگ صورتحال تھی جس پر ہم فوری فوری کارروائی عمل میں لائی،ڈھائی ٹن وزنی جوٹ کے تھیلوں سے ایک کوفر ڈیم بنایا گیا،گیٹ نمبر 47 پر کوفر ڈیم کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے پہلے کامیابی سے مکمل کر لیا گیا،چھ دن کا منصوبہ تھا جسکو صرف چار دنوں میں مکمل کیا گیا،سکھر بیراج کی بحالی کا منصوبہگیٹ 36 کی تنصیب اور دیگر مرمت کے کام جون 2024 میں مکمل ہوگئے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ13 ریور سلیوس گیٹس کی تیاری مکمل ہو چکی ہےچھ گیٹس کی سینڈ بیلسٹنگ اور پینٹنگ بھی مکمل ہو چکی ہے،دو سلیوس گیٹس کی تیاری جاری ہے،کوفر ڈیم کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے،اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم دونوں طرف تمام شیٹ پائلز ڈرائیو کی جا چکی ہیں،کوفرڈیم کو اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم دونوں طرف جیو ٹیکسٹائل سینڈ بیگ سے ڈھانپ دیا گیا ہے،موجودہ چاروں گینٹری کرینز کی مرمت مکمل ہو چکی ہے،سکھر بیراج کے ری پوائنٹنگ، گراٹنگ، آرچز کی کلڈنگ، سیل بیم اور ایمبیڈڈ پارٹس کے مرمتی کام جاری ہیں،مین بیراج وئیر گیٹ کی تنصیب بے 52 پر مکمل ہو چکی ہے اور دوسرے گیٹ کا نچلا حصہ بے 53 مکمل کر دیا گیا ہے،گڈو بیئراج کی بحالی کا منصوبہ25 نہری ہیڈ ریگولیٹر گیٹس کو تبدیل کیا گیا ہے،10 مرکزی بیراج گیٹس اور ہوئسٹنگ سسٹمز نصب کیے گئے ہیں،20 بیسز کے ایمبیڈڈ پارٹس اور گلیسی کی مرمت کا کام مکمل کر لیا گیا ہے،چین میں JHMC سے گیٹس اور ہوئسٹنگ سسٹمز کی تیاری مکمل ہو چکی ہے،20 یونٹس جن میں ہوئسٹنگ سسٹم شامل ہیں کے کام کے قریب پہنچ چکے ہیں، 10 گیٹس کی تنصیب 25-12-2024 کو مکمل ہو چکی ہے،ہماری انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ جو ہوئی ہے پچھلے ایک سال میں وہ صرف وہ پراجیکٹس بتاؤں گا جو یہاں تو کمپلیٹ ہوئے ہیں یا کوئی ایسے میجر پراجیکٹس انیشییٹ کیے ہیں میری ایک بڑی کمزوری ہے میں اپ کو پتہ ہے میں گراؤڈ بریکنگ پر کبھی نہیں جاتا ہوں مجھے نہیں ہے مجھے زندگی میں یاد ہے شاید مجھے اٹھ سال ہو گئے ہیں دو بار گیا ہوں میرا ماننا ہے کہ پہلے چیز بن چائے اس کے بعد اس کا افتتاح کیا جائے جب وہ لوگوں کے کام میں آئے تو آپ کو بہت سارے گراؤنڈ بریکنگز میں ہم نظر آئیں گے ہم نہیں جاتے زیادہ تو اس لیے یہ وہ چیزیں جو کمپلیٹ ہو گئی ایک دو پراجیکٹ ضرور دکھاؤں گاہمارا روڈ انفراسٹرکچر اس سال میں ہم نے 196 نئی سکیمز جو اور امپرووڈ ایگزسٹنگ روڈز ہیں کمپلیٹ کی ہیں یہ 12 مارچ 2024 سے لے کے اج تک ٹوٹل لینتھ تقریبا 2500 کلومیٹر ہے ٹوٹل کاسٹ تقریبا 54 ارب روپے 53.5 بلین ہے،اس کے علاوہ جو ہمارے فلڈ افیکٹڈ روڈز تھے 120 فلڈ افیکٹڈ روڈز جن کی 704 کلومیٹر ٹوٹل لینتھ تھی ابھی میں اس میں تقریبا ہم 41.8 بلین ٹو بلین ہم کر چکے ہیں یہ لکھنا نہیں چاہیے تھا خیر لکھ دیا ہے تو بتا دیتا ہوں انشاءاللہ 527 کلومیٹر روڈ اور بائی دی اینڈ اف دس فائننشل گیر ہم کمپلیٹ کر لیں گےیہ 75 کلومیٹر کا روڈ ہے ڈسٹرکٹ سانگھڑ اور ڈسٹرکٹ میں یہ کھپرو تلقہ اور عمرکوٹ جو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہیں ان دونوں کو کنیکٹ کرتا ہے سردار شاہ صاحب بیٹھے ہیں اس کا کتنا فائدہ لوگوں کو ہوا ہوگا وہی بتا سکتے ہیں،اس لیے کہ یہاں پر میں نے بھی یہ روڈ بننے سے پہلے بننے کے بعد میں نے ابھی تک ٹریول نہیں کیا ہے بننے سے پہلے میں نے اس پہ ٹریول کیا ہے اور اس روڈ پہ چلنا مشکل ہوتا تھااب الحمدللہ اس کے ساتھ ساتھ اگر اپ دیکھ رہے ہیں تو ایک لائن چینل بھی نظر ا رہا ہے یہ بھی ابھی لائن کے او کو پتہ نہیں مجھے نہیں پتہ یہ کب کیا ہے جو یہ کنال لائننگ ہوئی ہوئی ہے یہ 58 کلومیٹر تھرپارکر میں علی بندر سے ڈیپلو روڈ ہے جو اس سال کمپلیٹ ہوا ہے یہ ٹنڈوالھیار میر پور خاص میں یہ جو ہے ٹنڈوالھیار سے بلا شاک تک 30 کلومیٹر کا روڈ ہے یہ سکھر میں ٹھانڈی سے خانپور واے ٹھکراٹو یہ ناصر شاہ صاحب اور بیٹھے ہیں جہاں اکرام صاحب ان کی کانسٹنٹسز ہیں ان کے یہ 25 کلومیٹر کا روڈ ہے جو اس یہ کمپلیٹ ہوا ہے بدین میں پمپریو منگو روڈ 23 کلومیٹر کا مکمل کیا ہے،ہم نے لانڈھی سے پورٹ قاسم کھجور کے درختوں سے خیرپور کا یہ روڈ ہے پریالو انیشٹو پریلو وایا پلوان رازی گوٹ اٹھ کلومیٹر کا یہ حیدراباد ڈسٹرکٹ روڈ ہے حیدراباد میرپور خاص روڈ ہم نے اس سال مکمل کیا ہے، اس کے علاوہ یہ جو فلڈ کے ہمارے روڈ کی ریپیئرز ہیں یہ تھرپارکر میں ایک روڈ ہے ساڑھے دس کلومیٹر کا یہ ڈسٹرکٹ ٹھٹہ میں سمندر کے ساتھ ساتھ روڈ ہے اس کے ساتھ روڈ کے ساتھ ایک لائن کنال بنائی ہے اس پر ہم نے بہت انویسٹ کیا ہے لائننگ کا ہم نے بہت سارے کام کیے ہیں اس لیے کوئی ایک میجر میں بتاؤں گا جس کو کراچی کے لیے خاص طور پر وہ پراجیکٹ ہم نے کیا ہے لیکن ہمارا بلیف یہی ہے کہ ہم نے پانی پہلے بچانا ہے ہمیں پتہ ہے کہ جیسے ہم اگے بڑھ رہے ہیں ہمیں گندم کی اور ایگریکلچر پراڈکٹس کی ضرورت ہوگی لیکن ہم کسی بھی طریقے سے کسی علاقے کو بنجر کر کے کسی اور علاقے کو اباد کرنے پہ بلیو نہیں رکھتے اسی لیے ہم لائننگ پر جا رہے ہیں تاکہ ہم پانی کنزرو کر سکیں اور پھر ہم ایڈیشنل ایریاز انڈر کلچر لا سکیں یہ میری کانسٹیٹنسی ہے جہاں پر ایک روڈ ہے چھوٹا سا یہ فلڈ میں تباہ ہوا تھا چھڈو ناک کوٹ روڈ سے لے کے میر جان محمد تک یہ ڈسٹرکٹ میرپور خاص میں ہے،ایگریکلچر کے اندر ہم نے اس سال میں تین کاٹننٹ شوگر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام کے تقریبا 125 55 ملین روپے میں بنایا ہے، ریسرچ کے لیے ہم نے ایک قائم ٹنڈو جام میں ایک لیب بنائی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹنڈو جام میں یہ میکسیم ریزیڈیو لیب بنائی ہے یہ پی اے ار سی جو فیڈرل ادارہ ہے اس کے ساتھ کولیبریشن میں ا ایگریکلچر کے اندر ہم نے اس سال 219 16 واٹر پمپس دیے ہیں 434 ایگریکلچر امپلیمنٹس دیے ہیں ان 50 پرسنٹ 100 سولر پینلز ماؤٹڈ موبل ٹرالی نو سولرسپل پمپس اور ایک سولرائز کول سٹوریج یونٹ اس میں بھی میجورٹی وی ٹرانسپورٹ 100 پرسٹ لیکن یہ اب گوئنگ فارورڈ سارا ٹرانسفارم ہو جائے اگر اپ کے پاس رجسٹرڈ فارمر تاکہ وہ ریکارڈ ہمارے پاس ان فارم ایکٹیوٹیز میں میں نے جیسے بتایا ہم 251 کلومیٹر واٹر کورسز کی لائننگ ہم نے اس پچھلے ایک سال میں کمپلیٹ کی ہے آٹھ سولر سسٹم اپریٹڈ واٹرز وائز بنائے ہیں ایک ٹنل فارمنگ کا ایک ہم نے پراجیکٹ کیا ہے ہائی فشریگیشن سسٹم کی ڈریپ یا آپ کی جو ہے پیوٹ اریگیشن ہو استعمال کر رہے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...