پیر، 28 اپریل، 2025

*کیا آپ نے کبھی سوچا؟**والدین کا بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنا زندگی کی ان تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے، جسے نہ دل قبول کرتا ہے اور نہ ہی آنکھیں دیکھنا چاہتی ہیں۔ BBC PK News Article MIAN KHUDABUX ABBASI Islamabad

جن ہاتھوں نے ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، وہی ہاتھ جب کپکپاتے ہیں، تو دل جیسے چھلنی ہو جاتا ہے۔ جو آواز کبھی شیر کی طرح گرجتی تھی، جب وہ دھیمی ہو جائے، تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت نے کسی پہاڑ کو خاموش کر دیا ہو۔**اولاد کے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک لمحہ وہ ہوتا ہے، جب وہ اپنے والدین کو کمزور، تھکا ہوا اور بیمار دیکھتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ وقت وہیں رک جائے، زندگی کی رفتار تھم جائے، اور ہمارے ماں باپ ہمیشہ جوان، توانا اور مسکراتے رہیں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ وقت کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ وہ والدین جو ہماری نیندوں کے پہرے دار تھے، اب خود ہماری توجہ، محبت اور دیکھ بھال کے محتاج ہو جاتے ہیں۔**بڑھاپا صرف جسم کا زوال نہیں، یہ جذبات کا امتحان بھی ہے — والدین کے لیے اور اولاد کے لیے بھی۔ ماں کی لرزتی ہوئی آواز، باپ کی کمزور ہوتی ہوئی کمر، اور ان آنکھوں میں اُترتی ہوئی اداسی، اولاد کے دل پر نقوش چھوڑ جاتی ہے جو زندگی بھر مٹ نہیں سکتے۔**یا اللہ! ہمارے والدین کو سلامت رکھ، ان کے بڑھاپے کو آسان بنا، اور ہمیں وہ اولاد بنا جو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے، ان کا فخر بنے۔ اے رب! اگر ممکن ہو تو کسی کی ماں، کسی کے باپ کو کبھی بوڑھا نہ کرنا — یا کم از کم ہمیں اتنی طاقت دے کہ ہم ان کی خدمت، ان کی محبت، اور ان کی دعاؤں کے قابل بن سکیں۔**آمین۔ کہہ کر اس تحریر کو آگے ضرور شیئر کیجئے گا۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...