اتوار، 25 مئی، 2025

حقیقت پر مبنی کہانی آپ کے پیشِ نظر کرنے جا رہی ہوں۔ BBC Pakistan news stories writer Iram Batool Sukkur

اس کہانی سے سبق حاصل کریں اور والدین کی خدمت اپنی اولین ترجیح رکھے۔گاؤں کے ایک پُرانے مگر صاف ستھرے گھر میں بانو بی بی اور حاجی بشیر احمد رہتے تھے۔ دونوں کی عمریں اسی کے قریب ہو چکی تھیں۔ چہرے پر جھریاں، ہاتھوں میں کپکپاہٹ، مگر دل اب بھی وہی تھا—والدین والا، قربانی دینے والا۔کبھی یہ گھر قہقہوں سے گونجتا تھا۔ صبح کا سورج بیداری کی آوازیں لے کر آتا تھا، اور شام کو بچوں کی باتوں اور کھیلوں سے ہر کونا روشن ہو جاتا تھا۔ بانو بی بی آٹھ بچوں کی ماں تھیں—پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں۔ ہر بچے کی پرورش انہوں نے ماں کی ممتا اور باپ کی محنت سے کی۔ حاجی صاحب کسان تھے، محنت مزدوری کر کے بچوں کو پڑھایا، بڑا کیا، اور سب کی شادیاں دھوم دھام سے کیں۔سب بچے اب شادی شدہ اور اپنے اپنے گھروں میں خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ کسی کا بزنس چل رہا تھا، کوئی سرکاری نوکری پر تھا، کوئی دبئی میں، کوئی اسلام آباد میں، اور بیٹیاں بھی بڑے گھروں میں بیاہی گئی تھیں۔مگر…اب وہ گھر جہاں کبھی خوشبو تھی، ویران ہو چکا تھا۔ دیواروں پر جمی گرد اور چھت سے ٹپکتا پانی، گویا وقت کے تھپیڑوں کی گواہی دے رہے تھے۔بانو بی بی اب گاؤں کی کچھ خواتین کے گھروں میں صفائی، برتن دھونا، اور روٹی پکانے کا کام کرتی تھیں۔ ان کی کمزور کمر اور لرزتے ہاتھ اکثر ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے، مگر مجبوری تھی۔ دو وقت کی روٹی اور دوائیوں کا خرچ، اب وہ خود اٹھاتی تھیں۔حاجی صاحب مسجد میں صفائی کرتے، اذان دیتے، اور کبھی کوئی صدقہ خیرات مل جاتا تو شکر ادا کرتے۔ ان کی آنکھیں اب بھی راستہ تکتی تھیں کہ شاید کوئی بیٹا یا بیٹی آئے اور کہے:"ابا، چلیں ہمارے ساتھ، ہم آپ کو آرام دیں گے۔"مگر یہ صرف ایک خواب تھا۔ایک دن بانو بی بی نے چولہے پر ہاتھ جلا لیا۔ ہاتھ جل گیا، چھالے بن گئے۔ انہوں نے ایک بیٹی کو فون کیا۔"بیٹا، ذرا دو دن کے لیے آ جاؤ، ہاتھ جل گیا ہے، گھر کا کام نہیں ہو پا رہا۔""امی، بچے اسکول جا رہے ہیں، میاں کی میٹنگ ہے، میں کیسے آؤں؟ کسی اور کو بلا لیں کام کے لیے۔"بانو بی بی نے خاموشی سے فون رکھ دیا۔ایک دن محلے کی ایک عورت، نجمہ، بانو بی بی کے پاس آئی۔ وہ بولی:"باجی، تمہارے آٹھ آٹھ بچے ہیں۔ اور تم لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہو؟ کیا فائدہ ایسی اولاد کا؟"بانو بی بی کے آنسو پلکوں سے ٹپک گئے، مگر انہوں نے صرف اتنا کہا:"بس نصیب کی بات ہے بہن۔ اللہ ہدایت دے میرے بچوں کو۔"ایک رات حاجی صاحب کو شدید بخار ہو گیا۔ بانو بی بی دوائی لینے گئیں، مگر دوا کی قیمت زیادہ تھی۔ انہوں نے اپنے کان کی بالیاں بیچ دیں۔حاجی صاحب نے کمزور آواز میں کہا:"ہم نے بچوں کو اس لیے پڑھایا تھا کہ وہ ہمیں سہارا دیں، نہ کہ ہم بوجھ بن جائیں۔"بانو بی بی نے ہاتھ تھاما اور کہا:"اللہ سب جانتا ہے، بس ہمیں اپنی آخرت سنوارنی ہے۔"کچھ ہفتے گزر گئے۔ حاجی صاحب کی طبیعت مزید خراب ہوتی گئی۔ بانو بی بی دن میں کام کرتیں، رات کو شوہر کی تیمارداری۔ اُن کے پاس اب دوا کے پیسے نہ بچے تھے، نہ کھانے کے۔ایک دن انہوں نے سب بچوں کے مشترکہ واٹس ایپ گروپ پر پیغام بھیجا:"بیٹو، ابا کی طبیعت بہت خراب ہے۔ اگر کسی کے پاس وقت ہو تو آ جائے۔ دوا کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نے اسپتال لے جانے کا کہا ہے۔"چوبیس گھنٹے گزر گئے۔کوئی جواب نہ آیا۔صرف ایک بیٹے نے میسج کیا:"امی، میں مصروف ہوں۔ اگلے ہفتے دیکھتا ہوں۔"اور ایک بیٹی نے صرف "اللہ شفا دے" لکھا۔وہ ماں جس نے راتوں کو جاگ جاگ کر بچوں کو دودھ پلایا تھا، جو خود بھوکی رہ کر انہیں کھانا کھلاتی تھی، آج وہی ماں ایک ٹھنڈے الفاظ پر قناعت کر رہی تھی۔گاؤں کے کچھ بزرگ اور نوجوان حیران ہوتے تھے۔"حاجی صاحب کے بچے کہاں ہیں؟ کیا وہ اکیلے ہیں؟""اتنے پڑھے لکھے بچے ہیں، سب شادی شدہ… مگر والدین تنہا؟"ایک دن گاؤں کے امام صاحب نے جمعہ کے خطبے میں یہ کہانی عوام کے سامنے رکھی، مگر نام نہ لیا۔ صرف اتنا کہا:"جن کے والدین زندہ ہیں، وہ جنت کے دروازے کھلے رکھیں۔ اُن کے ساتھ حسن سلوک کریں، ورنہ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان پائیں گے۔"کچھ لوگ متاثر ہوئے، کچھ نے سچ پہچان لیا، لیکن جن کو پہچاننا تھا، اُن کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ایک دن کا واقعہ ہے۔ بانو بی بی بازار میں تھیں۔ کام کے بعد کچھ سبزی لینے گئیں تو اچانک ان کا چھوٹا پوتا نظر آیا، جسے وہ برسوں سے نہیں ملی تھیں۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ آیا تھا۔ بچہ پہچان نہ سکا، مگر بانو بی بی نے خوشی سے پکارا:"ارے، میرا شہزادہ! ادھر آؤ نانی کے پاس!"بچہ ڈر گیا، ماں فوراً بولی:"بچے کو ہاتھ مت لگائیے، وہ بیمار ہو جائے گا۔ اور پلیز راستہ چھوڑ دیں۔"بانو بی بی کا دل ٹوٹ کر بکھر گیا۔ انہوں نے نظریں جھکا لیں اور بغیر کچھ کہے واپس پلٹ گئیں۔چند دن بعد حاجی صاحب کو دل کا دورہ پڑا۔ بانو بی بی نے دو پڑوسی خواتین کی مدد سے انہیں اسپتال پہنچایا۔ مگر حالت نازک تھی۔ڈاکٹر نے کہا:"اگر اولاد ہے تو بُلا لیجیے، وقت کم ہے۔"بانو بی بی نے پھر ایک آخری بار بچوں کو کال کی۔"بیٹا، تمہارے ابا آخری وقت پر ہیں، آ جاؤ۔"کسی نے فون بند کر دیا، کسی نے کہا: "میں کام پر ہوں"، اور کسی نے جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا۔حاجی صاحب نے آہستہ سے کہا:"بانو، کیا بچے آئیں گے؟"انہوں نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا:"نہیں، اب ہمیں اللہ سے ہی امید رکھنی ہے۔"اسی رات حاجی صاحب نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ اُن کے کفن دفن کا انتظام بھی محلے والوں نے کیا۔اولاد صرف تصویریں دیکھ کر افسوس کے "ایموجی" بھیجتی رہی۔حاجی صاحب کی وفات کے بعد بانو بی بی بالکل ٹوٹ گئیں۔ وہ پہلے ہی کمزور تھیں، اب اندر سے بھی بکھر چکی تھیں۔ اُن کا جسم جیسے صرف ایک خالی سا خول رہ گیا تھا۔انہوں نے ایک دن فیصلہ کیا کہ اب وہ گاؤں چھوڑ دیں گی۔ مگر جانے سے پہلے انہوں نے ایک طویل خط لکھا، آٹھوں بچوں کے نام۔ خط وہی پرانے صندوق میں رکھا، جہاں ان کی شادی کی چوڑیاں، حاجی صاحب کا رومال، اور بچوں کے بچپن کی تصویریں تھیں۔خط کچھ یوں تھا:"میرے پیارے بیٹو اور بیٹیو،> ہم نے تمہیں محبت سے پالا، خود فاقے کیے مگر تمہیں بھوکا نہ سونے دیا۔ ہم نے سردی میں تمہیں کمبل دیا، اور خود رات جاگے۔ تم نے تعلیم حاصل کی، نوکریاں کیں، شادیاں کیں، اللہ نے تمہیں نوازا، یہ سب دیکھ کر دل خوش ہوتا تھا۔مگر جب ہمیں تمہاری ضرورت پڑی، تم دور ہوتے گئے۔ تم نے پوچھا بھی نہیں کہ ہم زندہ ہیں یا نہیں، کھاتے ہیں یا نہیں، بیمار ہیں یا صحت مند۔حاجی صاحب چلے گئے، تم اُن کے جنازے میں بھی نہ آئے۔ شاید تم سمجھتے ہو کہ ہم ضعیف ہیں، بےکار ہیں۔ مگر یاد رکھنا، جو والدین کے ساتھ کرتا ہے، اس کی اولاد بھی وہی کرتی ہے۔> میں جا رہی ہوں، کہیں دور، جہاں تمہاری یاد بھی نہ آئے۔ اب تم آزاد ہو، اور ہم بھی۔ مگر دل میں دعا ہے کہ تمہیں وہ وقت نہ دیکھنا پڑے جو ہم نے دیکھا۔تمہاری ماں،بانو بی بییہ خط پڑوسن زبیدہ بی بی کے حوالے کر دیا، کہ اگر کبھی کوئی بچہ آیا تو دے دینا۔کچھ ماہ بعد ایک ایسا وقت آیا کہ اولاد کو بھی دن دکھائی دینے لگے۔* بڑا بیٹا جِسے دبئی میں بزنس کا گھمنڈ تھا، مالی بحران میں آگیا۔ کروڑوں کا نقصان ہوا، اور واپس گاؤں آ گیا۔* دوسرا بیٹا جو اسلام آباد میں انجینئر تھا، اُس کا بیٹا نشے میں ملوث ہو گیا، اور جیل جا پہنچا۔* تیسرا بیٹا جو دین دار بننے کا دعویٰ کرتا تھا، اُس کی بیوی عدالت لے گئی، اور خلع لے لیا۔* چوتھے بیٹے کو دل کا دورہ پڑا، اور تنہا اسپتال میں پڑا رہا، کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔* پانچویں بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا، اور اُس کا پاؤں کٹ گیا۔بیٹیاں بھی سکھی نہ رہیں، شوہروں سے جھگڑے، سسرال کی ذلت، اور بچوں کی نافرمانیاں ان کا مقدر بن گئیں۔ایک ایک کر کے سب کو احساس ہوا کہ شاید یہ والدین کی بددعا کا اثر ہے۔ اُن سب نے ایک دن گاؤں کا رُخ کیا، ماں کو منانے۔جب وہ سب گاؤں پہنچے تو ان کے بچپن کا گھر خالی تھا۔ در و دیوار خاموش تھے، اور صحن میں اداسی کا بسیرا تھا۔انہوں نے محلے والوں سے پوچھا۔ زبیدہ بی بی نے ان کے سامنے ماں کا خط رکھا۔ سب نے وہ خط پڑھا، اور بے اختیار رو دیے۔ دل شرمندگی سے بھر گئے۔"ہم بہت گناہگار ہیں… ہم نے والدین کو رُلایا… اللہ ہمیں معاف کرے۔"سب بچوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی والدین کی تعلیمات پر گزاریں گے۔ انہوں نے گاؤں میں ایک بزرگوں کا مرکز قائم کیا، اور اس کا نام رکھا:دارالفلاح: حاجی بشیر و بانو یادگاروہاں روزانہ قرآن خوانی ہوتی، بزرگوں کی خدمت کی جاتی، اور ہر مہینے والدین کی یاد میں صدقہ و خیرات ہوتا۔یہ سب کرنے سے ان کے دل کو کچھ سکون ملا، لیکن بانو بی بی واپس نہ آئیں۔کوئی نہیں جانتا وہ کہاں گئیں، کہاں دفن ہوئیں۔ لیکن ان کی دعائیں اور بددعائیں، دونوں زندہ تھیں۔*اختتامیہ: سبق*یہ کہانی ان سب کے لیے ہے جو اپنے والدین کو بڑھاپے میں بوجھ سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو، والدین کا سایہ جنت کی چھاؤں ہے۔ جو اسے کھو دیتا ہے، وہ دنیا میں بھی دربدر ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

*💫News Details**Monday 20th Shaban 1447 AH**February 9, 2026💫*

غزہ بورڈ اجلاس، پاکستان شریک ہوگا، وزیراعظم کا واشنگٹن جانے کا قوی امکان، نمائندگی کا حتمی فیصلہ جلد، مشاورت شروع ٹی 20 ورلڈکپ، ...