Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
پیر، 26 مئی، 2025
*میرا پردیس کا سفر**سعودی عرب سے دو مہینے کی چھٹی BBC PK News
کا آج آخری دن تھا اور بچوں کے ساتھ آخری ناشتہ بھی، گھر کی دہلیز پار کی تو پھر دوسال بعد ہی لوٹوں گا ۔**یہ سوچ کر آج آلو کے پراٹھے کا ذائقہ بھی سعودی عرب کے سوکھے خبز کی طرح لگ رہا تھا، روز کی طرح آج سب کے چہرے کِھلے ہوئے نہیں تھے بلکہ مُرجھائے ہوئے تھے ۔**آج گھر میں چہل پہل نہیں تھی ۔ سب اداس تھے سوائے چھوٹے بیٹے کے جو ہاتھ میں غبارہ لئے کھیل رہا تھا۔ جس کو ابھی یہ نہیں معلوم کہ ہجر کیا ہے ، پردیس کیا ہوتا ہے ، اپنوں سے بچھڑنے کا غم کیا ہوتا ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے ناآشنا ہاتھ میں غبارہ لئے مجھ سے اس بات کی ضد کئے جا رہا تھا کہ میں بھی جہاز پر بیٹھوں گا ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔**میں اس کے معصوم سوالوں پر نادم ، اپنی مجبوریوں پر ماتم کناں، دسترخوان پر بیٹھا اسے روٹی کے ٹکڑوں سے بہلا رہا تھا، کھلونوں میں الجھا رہا تھا، جیب میں پڑے چند روپے دے کر خوش کر رہا تھا (چھٹی کے آخری دنوں میں جیب میں چند روپے ہی ہوتے ہیں ۔ )**لیکن آج وہ بھی اپنی ضد پر اسی طرح اڑا تھا جیسے میری مجبوری مجھے سعودی لے جانے پر اڑی تھی۔**دل میں سوچ رہا تھا کاش میں اس کو اپنے ساتھ لے جا سکتا، کاش میں ہردیس جاتا ہی نہیں، اپنے بچوں کے ساتھ ہی رہتا لیکن ہرخواہش کی تکمیل اور ہر خواب کی تعبیر کہاں …. میرے ساتھ جڑے نصیب اور ذمہ داریوں کے بیچ جذبات کی گنجائش کہاں ہے … اللہ کے فیصلے پر سر تسلیم خم اپنے جذبات کو ناشتے کے ہر نوالے کے ساتھ اتار رہا تھا ۔**اور ابھی ناشتے کی پلیٹ میں آخری لقمہ بچا ہی تھا کہ باہر کار ہارن بجاتے ہوئے مجھے لے جانے کے لئے آ پہنچی۔ کار کی آواز میں اس قدر سوز اور ہارن میں ہجرت کی ایسی وحشت تھی کی آخری لقمہ حلق سے نہ اتر سکا ، بیگ اٹھانے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا کونے میں کھڑی بیٹی نے سوال کیا۔۔۔**"ابو پھر کب آئیں گے؟؟”**اس کا یہ سوال دل کو چھلنی کر گیا، میرا ضبط ٹوٹتا تو پاس میں کھڑی ماں، بہن، بیوی کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ پڑتا، اپنے آنسووں کو پی کر، غموں کو چھپا کر بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے زبان سے صرف اتنا کہہ کر باہر نکل گیا کہ جلد ہی واپس آؤں گا۔۔۔۔ بیٹی کو خوش رکھنے کے لئے میری زبان سے نکلا ہوا یہ ایک ایسا سفید جھوٹ تھا جس کو صرف میرا دل ہی جانتا تھا ۔**اماں میرے سامنے تو نہیں روتیں لیکن میرے جانے کے بعد یہ کہہ کر رو پڑتیں کہ میرا بیٹا ہر بار یہ کہہ کر سعودی عرب واپس چلا جاتا ہے کہ یہ آخری سفر ہے لیکن ہر سفر پر ضرورت اپنا منہ کھولے، ہاتھ پھیلائے، سینہ تانے ایسے کھڑی ہوتی ہے کہ مجبور ہوکر پھر وہ اسی اداس سفر پر واپس لوٹ جاتا ہے ۔**سعودی عرب کی کمائی سے گھر کی تنگی ختم ہوئی تو چھت کا سلیب باقی تھا، سر پر چھت ہوئی تو جوان بہن کا نکاح باقی تھا، بہن کا گھر بسا تو بھائی کی تعلیم باقی تھی۔ بھائی پیروں پر کھڑا ہوا تو باپ کا علاج باقی تھا ۔ پرانی ذمہ داریوں کی تکمیل کے بعد تھوڑی سی مہلت ملی تو ماں کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھایا کہ اماں اب یہ آخری سفر ہوگا ۔**دوسال بعد جب لوٹا تو ایک نئی ذمہ داری کو بالغ ہوتے دیکھ کر قَسم توڑ دی کہ اماں اب بیٹی بڑی ہورہی ہے ۔ اس کے نکاح کے لئے پھر پردیس جانا ہوگا ۔ اپنی اس بے بسی اور قربانی پر کلیجہ پھٹ گیا کہ اس بار حلوے کی جگہ صرف اپنی دوائیں لے کر واپس آیا۔**اچار کی جگہ صرف سیرپ لے کر گیا، یہ کہتے ہوئے کہ اماں شوگر، بلڈ پریشر اتنا زیادہ ہے کہ اب حلوے کی نہیں، دوا کی ضرورت ہے۔ میرے بیٹے کی اس تیس سالہ جدو جہد کے باوجود بھی نہ اس گھر کی ضروریات پوری ہو سکیں اور نہ ہی میرے بیٹے کی آخری سفر کی حسرت……سعودی عرب جانے کے بعد گھر کی پوری کیفیت بیگم ہمیشہ مجھے لکھ بھیجتیں ۔**اس لئے مجھے پتا تھا کہ اماں اس بار بھی ہمیشہ کی طرح روئی ہوں گی، بچے اداس ہوئے ہوں گے۔ گاؤں ، گھر ، بیوی ، بچے ، اماں ، ابا کی انھیں تمام باتوں کو یاد کرتے ہوئے پتہ نہیں کب میں ایئر پورٹ پہنچ گیا ۔ پتہ ہی نہیں چلا۔**ایئرپورٹ پہنچ کر سامان کو لیگیج میں ڈالنے کے بعد کسٹم آفیسر کے سامنے پاسپورٹ لیکر کھڑا ہوا ۔ اس نے اپنے چشمے کے اوپر سے مجھ پر ایک تحقیقی نظر ڈالتے ہوئے پاسپورٹ پر اس شدت سے مہر لگائی جیسے کسی جج نے ایک لمبی سنوائی کے بعد سزا سنانے ہوئے اپنی قلم توڑ دی ہو اور اس آخری مرحلے اور فیصلے کے بعد واپسی کے سارے راستے بند ہو گئے ہوں۔**ایک سزا یافتہ مجرم کی طرح ہاتھوں میں پاسپورٹ اٹھائے بوجھل قدموں سے ویٹنگ لاونج میں جا بیٹھا، ملک چھوڑنے سے پہلے آخری فون کرتے ہوئے بیگم اور اماں کو خدا حافظ کہتے ہوئے سیٹ بیلٹ باندھ لیا لیکن بیگم کا آنسووں میں بھیگا ہوا لہجہ اور اماں کی رندھی ہوئی آواز یہ ثابت کر گئی کہ ہجرت ۔۔۔ وقت کا دیا ہوا ایسا زخم ہے جو بھر بھی جائے تو اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے ۔**اور پھر جہاز ٹیک آف کرگیا۔**کیونکہ ہجرت ہمیشہ وجود کی ہی ہوا کرتی ہے ۔ دل اور رشتے کبھی ہجرت نہیں کرتے ۔ یہ اپنی زمین ہی میں پیوست رہتے ہیں۔ بلکہ ہجرت کے بعد ماں ، باپ ، بیوی ، بچے گھر بار ، گاوں ، ملک سے محبت کا رشتہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے ، اور اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ گلی کا وہ پتھر بھی عزیز لگتا ہے جس سے کبھی چوٹ لگی ہوتی ہے۔**سعودی عرب پہنچتے ہی آنکھوں کی ساری رنگت، سارے نظارے، ساری ہریالی اس ملک کی زمین کی طرح صحرا میں بدل گئی، پھر سے وہی زندگی شروع ہوئی جسے چھوڑ کر گیا تھا ۔ عربیوں کی وہی تال۔ سرعۃ یلا یلا ،**وہی دال و کبسہ دو سال کا مقدر بن گیا، پورا ہفتہ تو کام میں گزر جاتا لیکن جمعہ کو کمرے کی تنہائی ڈسنے لگتی ۔**آج شام کو بچوں کی اس قدر یاد آئی، دل ایسا گھبرایا کہ روم سے باہر نکلا اور سمندر کے کنارے جا بیٹھا کہ شاید سمندر کی لہروں میں کھو کر کچھ غم کو ہلکا کر سکوں .. شام ڈھل چکی تھی ۔۔۔۔ اس اداس شام میں سمندر کے کنارے ریت پر بیٹھا سمندر کی لہروں کو ساحل پر سر پٹکتا دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا ۔**کہ یہ بھی میری طرح غم تنہائی کا ماتم اور ہجر کا شکوہ کر رہی ہیں ۔۔۔ یہ بھی پردیسی مسافرکی طرح سمندر میں میلوں کا سفر طے کرکے موجوں سے لڑتے ہوئے ساحل سے ٹکراکر اپنا وجود اسی طرح خاک میں ملا رہی ہیں ۔ جس طرح ایک پردیسی سات سمندر پار آکر مجبوریوں اور ضرورتوں سے لڑتے ہوئے اپنا وجود مٹی میں ملا دیتا ہے۔**ساحل پر سر ٹکراتی ان لہروں اور ہواؤں سے اٹھنے والی آواز میں ایسا سوز و غم تھا جیسے کوئی ماں اس درد سے کراہ رہی ہو جس کے بے گناہ بیٹے کو زعفرانی بھیڑ نے پِیٹ پِیٹ کر مار دیا ۔ سوچا تھا ساحل سمندر جاکر اس کی ٹھنڈی ہواؤں اور اس کی بل کھاتی لہروں سے لطف اندوز ہوکر غمِ تنہائی کو کچھ کم کر سکوں گا ۔**لیکن یہاں کی اداس شام اور سرپٹکتی لہروں نے میرے غم اور درد کی شدت کو اور بڑھا دیا ۔ گھبرا کر وہاں سے اٹھا ۔ اپنے روم پر واپس آیا، بیوی کو فون لگایا تو چھوٹا بیٹا ابو ۔۔۔ ابو کہہ کر رو رہا تھا ۔ گھر سے نکلتے وقت ایک جھوٹ بیٹی سے بولا تھا کہ جلد ہی آوں گا اور اب دوسرا جھوٹ بول کر بیٹے کو بہلا رہا ہوں کہ بازار سے آپ کے لئے کھلونا لینے آیا ہوں۔**اس معصوم نے میرے اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر اپنا آنسو پوچھ لیا اور آج وہ ایک سال سے میری راہ تکتے ہوئے اپنے کھلونے کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ گھر کے باہر رکنے والی ہر گاڑی کی طرف دوڑ کر آتا ہے اور پھر مایوس واپس لوٹ جاتا ہے۔**اور وہ باپ ہے کہ لوٹنے کو تیار نہیں، معصوم بیٹے کی مایوس آنکھوں کو سوچ کر دل خون کے آنسو روپڑتا ہے ، ہائے رے میری مجبوری کہ بیٹا جھوٹ کو سچ مان کر کھلونے کے انتظار میں دوسال گزار دیتا ہے اور باپ اپنی مجبوری ۔۔۔۔ اس بار جب گھر گیا تو سعودی عرب کی تپتی ریت اور بیماریوں نے اس قدر نچوڑ لیا تھا کہ آنے کی ہمت نہ کر سکا ۔**جو کسی سے نہیں ہارتا، وہ دکھ سے ہار جاتا ہے، مہنگی دوائی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گھر کے بھاری اخراجات کے پیش نظر لوگوں نے علاقائی روایت کے مطابق مجھے بھی یہی مشورہ دیا کہ بیٹے کو سعودی عرب بھیج دو لیکن سعودی عرب سے نکلتے وقت میں اس روایتی کشتی کو اس خوف سےجلا کر آیا تھا ۔**کہ میرے بعد کہیں یہ کشتی میرے بچوں کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ اس لئے اب پردیس لوٹنے کا تو کوئی سوال نہیں تھا لیکن مجبوری اور ضرورت پھرکہیں میرا ایمان نہ توڑ دے، اس خوف سے پھرمیں نے اپنے عزم کو چٹانوں سی مضبوطی دی ۔ سعودی عرب جانے والے مشورے اور خیال کو اپنے دل و دماغ سے کھرچ کر نکال دیا ۔**بیماریوں اور پریشانیوں سے سمجھوتا کیا ، ضروریات کو کم کیا، ہر ممکن حد تک بچت کی، بیٹے کی تعلیم کو فوقیت دی، اس کو ہر چیز پر مقدم رکھا اور جب وہ میڈیکل کے بعد میڈیکل آفیسر بن کر گھر لوٹا تو سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا ۔ میری ساری قربانیاں، پریشانیاں بیٹے کی کامیابی کے آگے چھوٹی ہوگئیں ۔**اس وقت اگر میں نے اپنی وقتی پریشانیوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بیٹے کو سعودی عرب بھیج دیا ہوتا ۔**آج وہ بھی میری طرح کسی سمندر کے کنارے بیٹھ کر اپنی مجبوری اور تنہائی کا شکوۃ کرتا، بیوی، بچوں کی محبت و قربت سے دور شب تنہائی کاٹتا اور پھر آخیر عمر میں گھر بیٹھ کر اپنی قسمت کا رونا روتا ، یہ باعزت تعلیم یافتہ اور پرسکون زندگی اس کا مقدر نہ بن پاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔**لکھاری: نامعلوم*
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
*💫News Details**Monday 20th Shaban 1447 AH**February 9, 2026💫*
غزہ بورڈ اجلاس، پاکستان شریک ہوگا، وزیراعظم کا واشنگٹن جانے کا قوی امکان، نمائندگی کا حتمی فیصلہ جلد، مشاورت شروع ٹی 20 ورلڈکپ، ...
-
عمرکوٹ: ضمنی انتخابات این اے 213 عمرکوٹ کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی امیدوار میڈم صبا یوسف تالپور 161934 ووٹ حاصل کر کے بھاری ...
-
بلوچستان کے ضلع زیارت سے 2 ماہ پہلے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور اس کے بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔لیوی...
-
پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ، ٹرمپ کی دعوت قبول، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تعمیر نو ہوسکے گی، دفتر خارجہ ارکان پارل...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں