منگل، 15 اپریل، 2025

برصغیر کی تاریخ کا ایک درد ناک دن۔انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان ملاحظہ فرمائیں : BBC PK News Article jadiv baeruo chief executive

اپریل 1919ءمیں رولٹ ایکٹ کے خلاف ہندوستان میں ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا. 10 اپریل کو ڈاکٹر کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کو گرفتار کرلیا گیا. ان کی اسیری پر احتجاج کیلئے13 اپریل 1919ءکو امرتسر کے 15 سے 25 ہزار افراد جلیانوالا باغ میں جمع ہوئے سورج ڈھلنے سے چند منٹ قبل اچانک لوگوں نے ایک عجیب سی آواز سنی۔ایک ہوائی جہاز باغ پر کم بلندی سے پرواز کرتا ہوا گزرا۔ اس کے ایک بازو پر ایک پرچم لگا تھا۔ ان لوگوں نے اس سے پہلے کبھی ہوائی جہاز نہیں دیکھا تھا۔بعض لوگوں نے اسے دیکھ کر وہاں سے چلے جانے میں خیریت سمجھی۔اچانک لوگوں کو عقب سے بھاری بوٹوں کی آواز سنائی دی اور سیکنڈوں میں جلیانوالہ باغ کے تنگ راستے سے 50 فوجی نمودار ہوئے جو دو دو کی 'فورمیشن' بناتے ہوئے اونچی جگہوں پر دونوں طرف پھیلنے لگے۔بھیڑ کے ایک حصے نے چیخ کر کہا:'آگئے، آگئے'۔ اور وہاں سے جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر ایک آواز آئی 'بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ گولی نہیں چلے گی۔'بغیر انتباہ کے فائرنگاسی وقت بریگیڈیئر ریجنالڈ ڈائر نے چیخ کہا: 'گورکھاز رائٹ، 59 لیفٹ۔'25 گورکھا اور 25 بلوچ فوجیوں میں سے نصف نے بیٹھ کر اور نصف نے کھڑے ہو کر 'پوزیشن' لے لی۔ ڈائر نے بلا تاخیر حکم دیا: 'فائر۔‘فوجیوں نے نشانہ لگایا اور بغیر انتباہ گولیاں برسانی شروع کر دیں اور چاروں طرف لوگ گولیاں لگنے سے گرنے لگے۔گھٹنوں کے بل بیٹھے فوجی چن چن کر نشانہ لگا رہے تھے۔ ان کی کوئی گولی ضائع نہیں جا رہی تھی۔ ڈائر نے پھر حکم دیا کہ وہ اپنی بندوقیں دوبارہ لوڈ کریں اور اس طرف فائرنگ کریں جہاں زیادہ بھیڑ ہے۔لیٹ جانے والوں کو بھی نہیں چھوڑالوگ خوف کے عالم میں چاروں طرف بھاگنے لگے۔ لیکن انھیں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل سکا۔سب لوگ تنگ گلی کے راستے پر ہو لیے اور باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ ڈائر کے فوجیوں نے انھیں نشانہ بنایا۔ لاشیں گرنے لگیں۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔بہت سے لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ بھیڑ میں موجود کچھ سابق فوجیوں نے چیخ کر لوگوں سے لیٹ جانے کے لیے کہا۔ لیکن ان لوگوں کو بھی پہلے سے لیٹ کر پوزیشن لینے والے گورکھا نے نہیں بخشا۔ڈائر نے بالآخر فائرنگ تب روکی جب انھیں لگا کہ فوجیوں کے پاس بہت کم گولیاں بچی ہیں۔ فائرنگ روکنے کے بعد ڈائر اپنی گاڑی تک پیدل چل کر گیا اور رام باغ واپس چلا گیا . اس نے زخمیوں کے علاج کیلئے کوئی اہتمام نہ کیا۔ گولیوں کے خولوں کی تعداد 1،650 پائی گئی۔اس رات جلیانوالہ باغ میں گولیوں کا شکار ہونے والوں کو کوئی طبی امداد نہیں ملی۔ نہ ہی لوگوں کو اپنے مرنے والوں اور زخمیوں کو میدان سے باہر لے جانے کی اجازت دی گئی.شہر بھر کا بجلی پانی بند جلیانوالہ باغ میں قتل عام کے بعد جنرل ڈائر شام ساڑھے چھ کے آس پاس اپنے کیمپ پہنچا۔ اس نے پورے شہر کی بجلی اور پانی کاٹ دیا۔رات دس بجے اس نے شہر کا ایک بار پھر دورہ کیا تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ گھر سے نہ نکلنے کے اس کے حکم کی پابندی ہو رہی ہے یا نہیں۔اس سے زیادہ ظلم کی اور کیا بات ہو سکتی تھی کہ لوگوں کے بچے، رشتہ دار اور بزرگ جلیانوالہ باغ میں زخمی تڑپ رہے تھے یا مرے پڑے تھے اور لوگوں کو ان کی مدد کے لیے باہر آنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ڈائر کو اس رات سڑک پر ایک شخص بھی نظر نہ آیا لیکن پورا شہر جاگ رہا تھا اور وہاں ایک منحوس سناٹا چھایا ہوا تھا۔جنرل ڈائر نے بعد میں پنجاب کے چیف سیکریٹری جے پی ٹامسن کو بتایا کہ گولی چلانے کا فیصلہ کرنے میں اسے 'صرف تین سیکنڈ لگے‘۔ اس وقت سٹیج پر بینک کے کلرک برج بیكال اپنی نظم 'فریاد' سنا رہے تھے۔امریکہ میں بھارت کے سابق سفیر نوتیج سارنا نے لکھا ہے 'ایک ذکر ملتا ہے کہ ڈائر کے ایک ساتھی برگز نے کہنی سے پکڑ کر ان کی قمیض کو ہلایا گویا یہ کہہ رہے ہوں کہ اب بہت ہو چکا۔ لیکن ڈائر نے انھیں نظر انداز کر دیا۔ وہاں ایک انگریز ایس پی ریہیل بھی موجود تھے۔ انھوں نے ہنٹر کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ہوا میں لوگوں کے دوڑنے کی وجہ سے دھول اور خون ہی خون تھا۔کسی کی آنکھ میں گولی لگی تھی تو، کسی کا پیٹ باہر آ چکا تھا۔ ہم اس قتل عام کو نہیں دیکھ سکے اور باغ سے باہر نکل آئے۔' ریہیل کی بھتیجی نے ڈائری میں لکھا کہ 'اس واقعے کے بعد ان کی پہلی جیسی شخصیت ختم ہوگئي اور وہ بے تحاشا شراب پینے لگے۔'پیپل کے پیڑ اور دیواروں پر نشانجليانوالہ باغ پر 'اوپن ریبیلين ان پنجاب' نامی کتاب کے مصنف کپل دیو مالویے ایک جگہ لکھتے ہیں: 'ایک مقامی ڈاکٹر کا 13 سالہ بیٹا مدن موہو اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے روز جليانوالہ باغ جایا کرتا تھا۔ اس دن اس پر چلائی گئی گولی نشانے پر لگی اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی۔''چلاتے ہوئے درجنوں لوگوں نے ایک بڑے پیپل کے پیڑ کے تنے کے پیچھے آڑ لی۔ ڈائر نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ پیپل کے درخت کو نشانہ بنائیں۔'بچے کو دیوار کے پار پھینک دیابھرپور سنگھ 13 اپریل 1919 کو صرف چار سال کے تھے۔ لیکن انھیں اس دن کے واقعات تا عمر یاد رہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'میں اس دن اپنے دادا کے ساتھ جليانوالہ باغ گیا تھا۔ جیسے ہی گولیاں چلنا شروع ہوئیں، میرے دادا مجھے اٹھا کر دیوار کی طرف دوڑنے لگے۔ جب انھیں لگا کہ باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، انھوں نے مجھے سات فٹ اونچی دیوار کے پار پھینک دیا۔نیچے گرنے سے میرا بازو ٹوٹ گیا لیکن میں وہ کہانی سنانے کے لیے زندہ رہا۔ ہم اس تکلیف میں بھی کئی دنوں تک ہسپتال نہیں گئے، کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں ہم پر اور ظلم نہ ڈھائے جائیں۔'رتن دیوی کی دردناک کہانیمعروف کتاب 'جلیانوالہ باغ - اے ٹرو سٹوری' کی مصنفہ كشور ڈیسائی بتاتی ہیں: 'رتن دیوی کا گھر جلیانوالہ باغ کے اتنا قریب تھا کہ انھوں نے اپنے سونے کے کمرے سے گولیوں کی آوازیں سنیں۔ وہ بدحواسی کی حالت میں دوڑتی ہوئی باغ پہنچیں۔ ان کے سامنے لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ وہ اپنے شوہر کو ڈھونڈنے لگیں۔ لاشوں کو ہٹاتے ہٹاتے اچانک ان کی نظر اپنے شوہر کے مردہ جسم پر پڑی۔ تھوڑی دیر بعد انھیں لالہ سندر کے دو بیٹے آتے دکھائی دیے۔ انھوں نے ان سے کہا کہ وہ کسی طرح ایک چارپائی لے آئیں، تاکہ ان کے جسم کو گھر لے جایا جا سکے۔ انھوں نے مدد کا وعدہ کیا لیکن وہ لوٹ کر نہیں آئے۔ رتن دیوی نے ایک سکھ شخص سے درخواست کی کہ وہ ان کے شوہر کے جسم کو ایک خشک جگہ پر لے جانے میں ان کی مدد کریں، کیونکہ جہاں ان کا جسم تھا، اس کے چاروں طرف خون ہی خون تھا۔ انھوں نے سر کی طرف سے ان کے جسم کو پکڑا اور رتن دیوی نے پاؤں کی طرف سے اور انھیں ایک لکڑی کے سہارے لٹا دیا۔ رات کے دس بجے تک انھوں نے انتظار کیا. لیکن کوئی نہیں آیا۔ انھوں نے اپنے مردہ شوہر کے سر کو اپنی گود میں رکھ کر پوری رات گزاری۔ ان کے ایک ہاتھ میں ڈنڈا تھا تاکہ خون کی بو سونگھ کر آنے والے کتوں کو بھگایا جا سکے۔’انھوں نے دیکھا کہ ایک 12 سال کا لڑکا ان کے پاس پڑا ہوا ہے، جو شدید زخمی تھا۔ انھوں نے اس سے پوچھا کیا وہ اسے کوئی کپڑا اوڑھا دیں؟ لڑکے نے کہا کہ نہیں، لیکن مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔ انھوں نے کہا میں اپنے شوہر کو چھوڑ کر کہاں جاؤں گی؟'’تھوڑی دیر بعد لڑکے نے کہا مجھے پانی چاہیے۔ لیکن وہاں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد رتن دیوی کو اس کی كراہیں سنائی دینا بند ہو گئیں۔'لاشوں پر منڈلاتی چیلیںصبح تک باغ کے اوپر چیلیں اڑنے لگیں تاکہ خوراک حاصل کر سکیں۔ گرمی کے سبب لاشیں جلدی ‎سڑنے لگیں۔اس واقعے کے تین ماہ بعد جب کانگریس کا وفد جانچ کے لیے وہاں پہنچا اس وقت بھی فضا میں لاشوں کی بدبو موجود تھی۔35 سالہ ٹھیکیدار لالہ ناتھو رام نے کانگریس کی جانچ کمیٹی کو بتایا: 'میں اپنے بیٹے اور بھائی کو ڈھونڈنے نکلا تھا۔ مجھے اپنی پگڑی سر پر رکھنے میں بہت محنت کرنی پڑ رہی تھی، کیونکہ گوشت حاصل کرنے کی کوشش میں چيلیں اپنی چونچوں سے سر پر حملہ آور تھیں۔' بعد میں پولیس انسپکٹر ریہل اور جواهر لال نے ہنٹر کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا تھا: 'لوگوں کے فرار کی وجہ سے فضا میں پیدا ہونے والی دھول اور خون ہی خون تھا۔ کسی کی آنکھ میں گولی لگی تھی تو کسی کی انتڑیاں باہر آ گئی تھیں۔ ہم اس قتل عام کو دیکھ نہیں پائے اور باغ سے باہر چلے آئے۔ہنٹر رپورٹ کے مطابق، ڈائر نے اندازہ لگایا کہ تقریباً 200 سے 300 افراد ہلاک ہو گئے ہوں گے، لیکن بعد میں اس نے تسلیم کیا کہ مرنے والوں کی تعداد 400 سے 500 کے درمیان رہی ہوگی۔باغ سے ملحق مکانات میں رہنے والے ایک قصائی محمد اسماعیل اس وقت اپنے گھر کی چھت پر کھڑے تھے۔انھوں نے کانگریس کی تفتیشی کمیٹی کو بتایا: ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ میرے حساب سے تقریباً 1،500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔خیرالدین تیلی بھی مرا پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اس کا چھہ یا سات ماہ کا بچہ بھی تھا۔'آٹھہ بجے کے بعد پورے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اگلی صبح تک زخمی بغیر كسی طبّی مدد کے وہیں پڑے رہے۔انسانی خون کی بو پا کر کچھ آوارہ کتے جلياں والا باغ پہنچ گئے اور پوری رات انھوں نے ادھر ادھر بکھری لاشوں کو کھایا. ڈائر کو ہاؤس آف لارڈز نے کلین چٹ دیابتدا میں تو برطانوی حکومت نے اس قتل عام کا کوئی نوٹس نہیں لیا لیکن جب خبر پھیلنے لگی تو انھوں نے اس کی تحقیقات کے لیے ہنٹر کمیٹی تشکیل دی۔نوتیج سارنا بتاتے ہیں: 'ہنٹر کمیٹی کی رپورٹ میں ایک متفقہ رپورٹ تھی اور دوسری اقلیت کی رپورٹ تھی۔ دونوں فریقوں نے ڈائر کو غلط کہا لیکن کس حد تک، اس میں دونوں میں اختلافات تھے۔ لیکن پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈائر کو انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا۔'’برطانوی حکومت نے ڈائر کو استعفی دینے کے لیے کہا۔ وہاں کے ہاؤس آف كامنز میں اس معاملے پر شدید بحث ہوئی اور وہاں بھی یہ طے پایا گیا کہ جو ڈائر نے کیا، وہ مکمل طور پر غلط تھا۔ لیکن ہاؤس آف لارڈز نے اس کو الٹ دیا۔ اور برطانوی حکومت سے کہا کہ اس نے ڈائر کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔'اموات کی متنازع تعدادہنٹر کمیٹی نے اعتراف کیا کہ فائرنگ میں 379 افراد ہلاک ہوئے جن میں 337 مرد اور 41 بچے شامل تھے۔اس رات ڈائر نے جب پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر او ڈائر کو اپنی رپورٹ بھیجی تو اس میں کہا کہ تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔لیکن كشور ڈیسائی بتاتی ہیں: 'بہت سے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کم از کم ہزار لوگوں کی موت ہوئی اور قریب چار پانچ ہزار زخمی ہوئے۔ کچھ زخمی اپنے گھر جا کر مرے۔انگریزوں کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ اگر آپ جلیانوالہ باغ میں موجود تھے، تو آپ نے حکومت کے خلاف غداری کی۔ اس لیے لوگ بتا ہی نہیں رہے تھے کہ ہمارا کوئی رشتہ دار مرا یا زخمی ہوا۔' 'آرٹ اور کلچرل ہیریٹیج ٹرسٹ' اور 'پارٹیشن میوزیم' نے مرنے والوں کی تمام فائلوں کی گہری جانچ پڑتال کی ہے۔ ہم نے 502 مرنے والوں کے مکمل طور پر 'كنفرم' نام نکالے ہیں۔ اس کے علاوہ 45 لاشیں ایسی تھیں جو باغ میں پڑی ہوئی تھیں اور ان کی شناخت نہیں ہو پائی۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس 'سانحے' میں کم از کم 547 افراد ہلاک ہوئے تھے۔'مہاتما گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور کا احتجاجاس واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے اپنے تمام تمغے واپس کر دیے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے وائسرائے چیمزفورڈ کو خط لکھ کر نائٹ ہڈ کا اعزاز واپس کر دیا۔بعد میں نہرو نے اپنی سوانح عمری میں لکھا: 1919 کے آخر میں، میں رات کی ٹرین سے امرتسر سے دہلی آ رہا تھا۔ صبح مجھے پتہ چلا کہ میرے ڈبے کے سارے مسافر انگریز فوجی افسر تھے۔ ان میں سے ایک آدمی بڑھ چڑھ کر اپنی بہادری کے قصے بیان کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی مجھے پتہ چل گیا کہ وہ جليانوالا باغ والا جنرل ڈائر تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ کس طرح اس نے پورے باغی شہر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔جنرل ڈائر کو کوئی سزا تو نہیں دی گئی، لیکن وقت سے دو سال پہلے ہی ریٹائر کر دیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ بھارت میں وہ اب کوئی کام نہیں کر پائے گا۔20 اپریل 1920 کو وہ انگلینڈ کے لیے روانہ ہوا، جہاں سات سال بعد 23 جولائی1927 کو اس کا انتقال ہو گیا۔جلیانوالہ باغ سانحے نے پورے پنجاب میں آگ لگا دی تھی جس پر قابو پانے کے لیے دو دن بعد پورے پنجاب میں مارشل لاءنافذ کردیا گیا۔ جلیانوالہ قتل عام سے ہندوستانیوں اور برطانیہ کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی اسے کبھی ختم نہیں کیا جا سکا اور اس واقعے کے 28 سال بعد انگریزوں کو ہندوستان سے جانا پڑا.واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کنجراور کنجر کی تاریخی جڑیں۔۔۔!!انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان ملاحظہ فرمائیں جناب: لفظ "کنجر BBC PK News Article jadiv baeruo chief executive

" اردو اور پنجابی زبان میں آج ایک گالی یا توہین آمیز لفظ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کی تاریخی جڑیں کچھ اور بتاتی ہیں۔لفظ "کنجر" کا ماخذ راجپوتانہ یا راجستھان سے منسوب ایک خانہ بدوش قبیلہ تھا جسے "کنجر" یا "کنجر قبیلہ" کہا جاتا تھا۔ یہ قبیلہ مختلف فنون، خاص طور پر رقص، موسیقی اور تھیٹر میں مہارت رکھتا تھا۔مغل دور میں کنجر قبیلے کی عورتیں اکثر درباروں میں رقص و سرود پیش کیا کرتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فنون بدنامی کا شکار ہو گئے، اور ان کے پیشے کو "فحاشی" سے جوڑا جانے لگا۔ نوآبادیاتی دور (برطانوی راج) میں بھی ان قبائل کو "criminal tribes" قرار دیا گیا، یعنی پیدائشی مجرم۔ اس سے ان کی ساکھ مزید متاثر ہوئی، اور معاشرہ ان کو نیچی نظر سے دیکھنے لگا۔ وقت کے ساتھ "کنجر" کا مطلب اخلاقی لحاظ سے گرا ہوا یا بے غیرت شخص بن گیا، اور یہ لفظ آج ایک سخت اور توہین آمیز گالی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔"کنجر" ایک مخصوص قبیلے سے وابستہ لفظ تھا، جو فنون لطیفہ سے جڑا ہوا تھا، لیکن معاشرتی تعصبات اور تاریخی تبدیلیوں نے اسے ایک توہین آمیز گالی میں بدل دیا۔مندرجہ ذیل اس تصویر میں جو چہرہ دکھائی دے رہا ہے، وہ "Sookha" نامی شخص کا ہے، جو اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس تصویر میں ان کے چہرے کی خاموشی، آنکھوں کی گہرائی اور بیٹھنے کے انداز سے صاف عیاں ہے کہ یہ محض ایک انسان نہیں، بلکہ ایک تاریخ کا ٹکڑا ہے۔ ایک ایسا کردار جس کے اندر ثقافت، درد، عزت اور بقا کی جدوجہد پوشیدہ ہے۔ آج ہم جس لفظ کو ہنسی یا غصے میں استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل ایک پورے قبیلے کی داستانِ زوال ہے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی زبان سے نکالے گئے الفاظ کی تاریخ کو پہچانیں، اور الفاظ کو سوچ سمجھ کر برتیں۔یہ تصویر 1858–1868 کے درمیان شمالی ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں لی گئی تھی، جس میں کنجر قبیلے سے تعلق رکھنے والے "Sookha" کو دکھایا گیا ہے۔ یہ تاریخی تصویر Rijksmuseum (نیدرلینڈز) کے محفوظ ذخیرے میں شامل ہے۔

"شاعروں ادیبوں فلسفیوں کو ہمیشہ کم ظرفوں سے ہی محبت ہوتی ہے" Musa Pasha BBC PK Article

ایسا کہتے ہیں اگر کسی ادیب مصنف شاعر کو آپ سے محبت ہوجائے تو آپ کبھی نہیں مرتے، ہمیشہ زندہ ہی رہتے ہیں. یہ تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والے ادیب فلسفی شاعر کوئی معمولی ذہن کے مالک نہیں ہوتے بلکہ یہ انتہائی ذہین لوگ ہوتے ہیں - جرمن گاڈ فادر فلسفی آرتھر شوپنہاؤر کے مطابق ذہین افراد کا مرتبہ صالحین صوفیوں اور ولیوں کے برابر ہوتا ہے. یہ نہ صرف اچھے دل و دماغ کے مالک ہوتے ہیں بلکہ ان کی فکر اور عمل بھی عام لوگوں سے منفرد اور ممتاز ہوتا ہے. اب جتنی بھی شاعری پڑھ لی جائے اکثر مقبول عام وہ شاعری ہے جو دکھی، غمزدہ اور افسردہ ہے ، ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ عظیم شعرا کرام اپنی اچھی فطرت کے باعث دوسروں کو بھی اچھا اور نفیس انسان تصور کر لیتے ہیں اور کسی ایسے شخص سے محبت کر بیٹھتے ہیں جو وقت گزرنے پر ہمیشہ کی طرح کم ظرف ہی ثابت ہوتا ہے. آج مرزا غالب، ناصر کاظمی، ساغر صدیقی.. کی محوبوباؤں کے نام کوئی بھی نہیں جانتا، وہ مر گئیں، مٹ گئیں فنا ہوگئیں خاک میں مل کر خاک ہوگئیں مگر یہ شعرا کرام اپنے لازوال کلام کے ساتھ آج بھی زندہ ہیں، لوگ ان سے محبت کرتے ہیں، اور رہتی دنیا تک یہ ادبی شخصیات ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہی رہیں گی. سیلویا پلاتھ اور پروین شاکر نے جن مردوں سے شادی کی وہ کم ظرف اور بے وفا ثابت ہوئے ، یہ غمزدہ رہیں، سلویا نے تو اپنے شوہر کی دوسری عورت کے ساتھ معاشقے سے عاجز آکر خود کشی کرکے خود کو ختم کرلیا تھا. تو کس کو اپنے لیے چنیں اور کس سے محبت کریں؟ اس مسئلے کا ممکنہ حل یہ ہے کہ ذہین لوگوں؛ شاعروں ادیبوں، فنکاروں، تخلیقی صلاحیتوں کے مالک لوگوں کو اپنے لیے اپنے جیسے ذہین لوگوں کا انتخاب ہی کرنا چاہیئے، کیونکہ یہی لوگ ان کے ساتھ مقام و مرتبہ میں برابر ہوتے ہیں، جو انھیں سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں.تحریر: Musa Pasha

عورت ناقص العقل ؟؟ عورت کا تو نہیں پتہ ۔ البتہ بیوی ضرور ناقص العقل ہوتی ہے. MIAN KHUDABUX ABBASI BBC PK News Article

شوہر سے کتنی ہی سخت ناراض کیوں نہ ہو.اس کے ایک تعریفی جملے پر فوراً پگھل جاتی ہے. مان جاتی ہے. خوش ہوجاتی ہے.سخت روٹھی ہوئی ہو. شاپنگ کا یا آؤٹنگ کا سن کر فی الفور راضی ہوجاتی ہے. خلافِ عادت پانچ منٹ میں تیار بھی ہوجاتی ہے. میری بیوی ایک مرتبہ بیمار ہوئی. اس نے اپنے لیے دلیہ بنایا اور میرے لیے روٹین کا کھانا.میں نے یونہی ازراہِ ہمدردی کہدیا کہ چلو میں بھی تمہارے ساتھ دلیہ کھالیتا ہوں.اکیلی دلیہ کھاتی اچھی نہیں لگوگیمیرے الفاظ کا جادوئی اثر ہوا. وہ اپنی بیماری بھول گئی اور لپک جھپک کر دستر خوان بچھانے لگی. ساتھ میں بار بار پوچھتی بھی کہ آپ بھی دلیہ کھائیں گے میرے ساتھ. آدھے گھنٹے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کبھی بیمار ہی نہیں ہوئی.مجھے بہت شرمندگی ہوئی کہ اتنی جلد مان جانے والی مخلوق کو بھی میں نہیں مناپاتا.فوراً اپنے دکھ بھول کر خوش ہوجانے والی ناقص العقل کو خوش نہیں کرپاتا.میں نے ایک مرتبہ باتوں باتوں میں اسے کہا کہ عورتیں تو ناقص العقل ہوتی ہیں.اس نے بڑے رسان سے جواب دیا. "اگر کامل العقل بھی ہوتیں. تو پھر بھی گھر چلانے کے لیے انہیں ناقص العقل بننا پڑتا".میں سوچ میں پڑگیا کہ ہم نے عورت کو باوجود اس کی اعلیٰ تعلیم کے کس ڈگر پر سوچنے پر مجبور کردیا ہے. یعنی کمپرومائز اسے ہی کرنا ہے. مرد بری الذمہ ہے. قربانی وہی دے گی. مرد بری الذمہ ہے.بیمار ہونے کے باوجود سب کی خدمت اس کا فرض ہے. مرد بری الذمہ ہے.اس حساب سے تو عورتیں کامل العقل ہیں اور ہم ناقص العقل ہیں. جو عورت کا مقام و مرتبہ اور اس کے جذبات بھی نہیں سمجھ پاتے. لیکن کیا کریں.بڑوں سے یہی سنتے آئے ہیں کہ عورت ناقص العقل ہے.🌷

پیر، 14 اپریل، 2025

بدین :12 سالن جي نينگري بيني ڪولھي کي اغوا ڪري زبردستي نڪاح ڪرڻ جي خلاف شيوا رام وڪيل سوڍي ڪولھي، شوجي ڪولھي ،آلو ڪولھي ء ٻين جي اڳواڻي ۾ اقليتي برادري جي عورتن ء مردن ايس ايس پي آفيس بدين کان ريلي ڪڍي پريس ڪئی۔ BBC PK Umer Kot

رپورٹ: انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان

عمرکوٹ: عمرکوٹ این اے 213 ضمنی الیکشن ، جے یو آئی سندھ کے سربراہ مولانا راشد محمود سومرو نے 17 اپریل 2025 کو عمرکوٹ میں ہونے والے انتخابات میں دریا بچاؤ تحریک کے متفقہ امیدوار لالچند مالہی کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا ، اپنی جماعت کے تمام کارکنان اور مداحوں کو ضمنی الیکشن این اے 213 میں متفقہ امیدوار لالچند مالہی سے بھرپور تعاون اور سرگرم عمل رہنے کی ھدایت ۔

رپورٹ: ھیرالال مالھی تحصیل رپورٹر عمرکوٹ بی بی سی پاکستان

قدیم ہندوستان کا میزائل "چکرم" .ایڈیٹر: انجنیئر جئدیو مھیشوری بیورو چیف بی بی سی پاکستان تفصیل: ہندوستانی ہتھیار “چکرم” جسے عام طور پر پنجاب کے سکھ جنگجو استعمال کرتے BBC PK News Article jadiv baeruo chief executive

تھے لیکن ہندوستان کی بعض دوسری قومیں بھی استعمال کرتی تھی یہ ہتھیار تیز بلیڈ پر مشتمل ہوتا تھا جو دشمن پر پوری طاقت اور ٹھیک نشانے سے مارا جاتا تھا اس ہتھیار سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے جنگجو کا ماہر ہونا ضروری ہوتا تھا اچھے طریقے سے فائر کئے جانے کی صورت میں یہ 20 سے 30 فٹ تک کے فاصلے پر مار کر سکتا تھا جب اسے پوری رفتار سے فائر کیا جاتا تو یہ دشمن کو چیر ڈالتا کہا جاتا ہے کہ خاص ٹیکنیک استعمال کر کے یہ فائر ہونے کے بعد واپس آ جاتا تھا لیکن ایسا شاز و نادر ہی ہوتا تھا(البتہ یہ ناممکن سی بات ہے) تیزی سے ہوا میں گھومتا ہوا یہ ہتھیار چکرم دشمن کے پیدل فوج تیز اندازوں حتی کہ گھڑ سواروں کو بھی گرا سکتا تھا اس کی رفتار کی وجہ سے اسے روکنا بڑا مشکل تھا اس ہتھیار کی خاص بات Unpredictability تھی یہ کہیں سے بھی اڑتا ہوا دشمن پر آ لگتا جس سے دشمن پر نفسیاتی دباؤ رہتا یہ ہتھیار جب بڑی تعداد میں دشمن کی طرف فائر کئے جاتے تو ان کی صفوں کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اس ہتھیار کی ایک اور خاص بات Anti missile system تھی یعنی دشمن کی طرف سے آنے والے تیر اکثر ہوا ہی میں چکرم روک لیتا یہ قدیم دنیا کا ہندوستانی میزائل تھا جو کہیں سے بھی اچانک دشمن پر آ گرتا اور خوف پھیلا دیتا ۔منقول ۔۔

*💫خبروں کی تفصیل**ہفتہ 18 شعبان المعظم 1447ھ* *7 فروری 2026ء💫*

پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینگے، ازبک صدر، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت، وزیراعظم ا...