بدھ، 23 اپریل، 2025

*کینالز کے معاملے پر وفاق کا سندھ سے رابطہ، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ملاقات طے پاگئی*BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive

پیغام بھجوایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ملاقات آج ہونے کا امکان ہے، آج ملاقات نہ ہوئی تو کل ہوگی، پیپلز پارٹی کے ذرائع کا دعویٰ

: *کوئٹہ: انسداد پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور لیویز اہلکار پر فائرنگ، 2 اہلکار شہید*کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز کے 2 اہلکار شہید ہوگئے۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مستونگ کے علاقے کلی تیری میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے لیویز اہلکاروں پر فائرنگ کی۔پولیس نے بتایا کہ فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار شہید ہوگئے، شہید لیویز اہلکار انسدادپولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور تھے۔[23/04, 2:10 pm] null: *امریکی رکن کانگریس کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ*امریکی کانگریس کے رکن جیک برگمین Jack Bergman نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں جیک برگمین نے کہا کہ پاکستان کے دورے اور وہاں رہنماؤں سے رابطے کے بعد وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کی شراکت داری جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی خوشحالی جیسی مشترکہ اقدار پر قائم ہے، آئیے آزادی اور استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔یاد رہے کہ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے جیک برگمین نے اپریل کے وسط میں دورہ پاکستان کے دوران سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔[23/04, 2:31 pm] null: *ٹرمپ نے گھٹنے ٹیک دیئے؟ چین پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان*امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر عائد 145 فیصد ٹیرف کو "نمایاں طور پر کم" کرنے کا اعلان کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنی جارحانہ ٹیرف جنگ میں نمایاں کمی کا یہ اعلان ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ چین پر عائد ٹیرف کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خزانہ نے ان ٹیرف کو "ناقابلِ برداشت" قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی کی پیش گوئی کی۔[23/04, 2:36 pm] null: *پاکستانی ماہرین نے سالانہ 200 انڈے دینے والی مرغی تیار کرلی*فیصل آباد: پاکستانی ماہرین نے پولٹری فارمنگ کے شعبے میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے لیے موزوں نئی مرغی کی نسل متعارف کروا دی ہے، جو سال بھر میں 200 سے زائد انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے اس منفرد بریڈ کو ’’یونی گولڈ‘‘ کا نام دیا ہے، جو کم فیڈ پر پلتی ہے اور شدید موسم، خاص طور پر گرمی کو بخوبی برداشت کر سکتی ہے۔نئی نسل کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عام دیسی مرغی کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ انڈے دیتی ہے، جبکہ خوراک کی طلب نسبتاً کم ہے، جو اسے چھوٹے فارمرز کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔ماہرین کے مطابق یونی گولڈ بریڈ دیہی علاقوں میں پولٹری انڈسٹری کے فروغ کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے انڈوں کی پیداوار کے ساتھ ساتھ گوشت کی ضروریات بھی پوری کی جا سکتی ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی پاکستان میں گزشتہ 6 دہائیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، جو ملکی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اس نسل کو ملک بھر کے فارمنگ کرنے والوں تک پہنچانے کا منصوبہ بھی ترتیب دیا ہے، تاکہ مقامی سطح پر دیسی پولٹری کی پیداوار میں اضافہ ہو اور دیہی معیشت کو فروغ ملے۔یہ مرغی نہ صرف ماحول کے لحاظ سے ہم آہنگ ہے بلکہ دیہی خواتین کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، کیونکہ اس کی دیکھ بھال آسان اور کم لاگت ہے۔ BBC PK News Islamabad MIAN KHUDABUX ABBASI

 *کوئٹہ: انسداد پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور لیویز اہلکار پر فائرنگ، 2 اہلکار شہید*

کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز کے 2 اہلکار شہید ہوگئے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مستونگ کے علاقے کلی تیری میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے لیویز اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

پولیس نے بتایا کہ فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار شہید ہوگئے، شہید لیویز اہلکار انسدادپولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور تھے۔
 *امریکی رکن کانگریس کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ*

امریکی کانگریس کے رکن جیک برگمین Jack Bergman نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں جیک برگمین نے کہا کہ پاکستان کے دورے اور وہاں رہنماؤں سے رابطے کے بعد وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کی شراکت داری جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی خوشحالی جیسی مشترکہ اقدار پر قائم ہے، آئیے آزادی اور استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔

یاد رہے کہ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے جیک برگمین نے اپریل کے وسط میں دورہ پاکستان کے دوران سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔
[23/04, 2:31 pm]  *ٹرمپ نے گھٹنے ٹیک دیئے؟ چین پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان*

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر عائد 145 فیصد ٹیرف کو "نمایاں طور پر کم" کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنی جارحانہ ٹیرف جنگ میں نمایاں کمی کا یہ اعلان ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ چین پر عائد ٹیرف کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خزانہ نے ان ٹیرف کو "ناقابلِ برداشت" قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی کی پیش گوئی کی۔
[23/04, 2:36 pm]  *پاکستانی ماہرین نے سالانہ 200 انڈے دینے والی مرغی تیار کرلی*

فیصل آباد: پاکستانی ماہرین نے پولٹری فارمنگ کے شعبے میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے لیے موزوں نئی مرغی کی نسل متعارف کروا دی ہے، جو سال بھر میں 200 سے زائد انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے اس منفرد بریڈ کو ’’یونی گولڈ‘‘ کا نام دیا ہے، جو کم فیڈ پر پلتی ہے اور شدید موسم، خاص طور پر گرمی کو بخوبی برداشت کر سکتی ہے۔

نئی نسل کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عام دیسی مرغی کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ انڈے دیتی ہے، جبکہ خوراک کی طلب نسبتاً کم ہے، جو اسے چھوٹے فارمرز کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یونی گولڈ بریڈ دیہی علاقوں میں پولٹری انڈسٹری کے فروغ کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے انڈوں کی پیداوار کے ساتھ ساتھ گوشت کی ضروریات بھی پوری کی جا سکتی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی پاکستان میں گزشتہ 6 دہائیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، جو ملکی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس نسل کو ملک بھر کے فارمنگ کرنے والوں تک پہنچانے کا منصوبہ بھی ترتیب دیا ہے، تاکہ مقامی سطح پر دیسی پولٹری کی پیداوار میں اضافہ ہو اور دیہی معیشت کو فروغ ملے۔

یہ مرغی نہ صرف ماحول کے لحاظ سے ہم آہنگ ہے بلکہ دیہی خواتین کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، کیونکہ اس کی دیکھ بھال آسان اور کم لاگت ہے۔

*کسان اتحاد نے آئندہ سال گندم کی کاشت میں بڑی کمی لانے کا اعلان کر دیا* BBC PK News

پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین کھوکھر نے آئندہ سال اگلے سال گندم کی کاشت میں بہت بڑی کمی لانے کا اعلان کر دیا۔لاہور پریس کلب میں پاکستان کسان اتحاد کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد حسین کھوکھر نے کہا کہ کسان اگلی فصل کہاں سے کاشت کریں گے؟، کسان کے لیے کوئی درد نہیں، کیا ہم گندم جلا دیں؟۔انہوں نے کہا کہ گندم کا مسئلہ صوبائی یا ضلعی نہیں، بلکہ یہ قومی مسئلہ ہے، دنیا بھر میں فود سیکورٹی پہلے نمبر پر ہوتی ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔

[23/04, 12:27 pm] null: *پولیس کو دھمکیاں دینے کا کیس؛ عالیہ حمزہ کو عدالت سے ریلیف مل گیا*راولپنڈی: جوڈیشل مجسٹریٹ قمر عباس تارڑ نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔پولیس نے جمعہ کو راولپنڈی ایئرپورٹ ایریا میں ورکرز کنونشن کے دوران سڑک بلاک کرنے اور پولیس کو دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کرکے عالیہ حمزہ اور پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔[23/04, 12:39 pm] null: *پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں  کیلئے سرمایہ کاری؛ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کیساتھ معاہدہ*پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سرمایہ کاری کے سلسلے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا۔اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے الیکٹریکل وہیکلز (ای وی) کے شعبے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے وزارت صنعت کی جانب سے بڑا اقدام کیا گیا ہے، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری کے لیے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ساتھ معاہدہ ہوگیا۔الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار کے لیے پالیسی اور ریگولیشن میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں سے ایندھن پر انحصار کم اور آلودگی میں کمی متوقع ہے۔[23/04, 12:44 pm] null: *مقبوضہ کشمیر میں 26 سیاحوں کی ہلاکت، دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا**پاکستان کا پہلگام حملے میں سیاحوں کی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار**ہم لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمنائیں ہیں، ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان**حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا*[23/04, 12:48 pm] null: *ہنی ٹریپ گینگ کے 16 کارندے گرفتار، راولپنڈی پولیس کے 5 پولیس اہلکار اور خواتین بھی شامل**راولپنڈی پولیس کے ملوث اہلکاروں کو نوکری سے معطل کرنے کی کارروائی شروع، ملزمان سے 7 لاکھ روپے اور اسلحہ برآمد*راولپنڈی پولیس نے ہنی ٹریپ کرکے شہریوں کو لوٹنے والے دو سرگرم گینگز کے 16ملزمان کو گرفتار کرلیا جس میں پولیس کے پانچ حاضر سروس اہلکار بھی شامل ہیں۔ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی پولیس نے ہنی ٹریپ کر کے شہریوں کو لوٹنے والے دو گروہوں کو گرفتار کیا، جن میں سے ایک گروہ میں پانچ راولپنڈی پولیس کے حاضر سروس اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق دوسرا گینگ مشرقی افریقن ملک ملاوی کی شہریت کی حامل پاکستانی نژاد خاتون آپریٹ کرتی تھی، ملزمان سے مجموعی طورپر شہریوں سے ہتھیائی گی ساڑھ سات لاکھ روپے نقدی برآمد ہوئی ہے۔ ملزمان سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے شہریوں کو پھانس کا تاوان اور بلیک کرکے رقوم ہتھیاتے تھے۔ایس ایس پی آپریشن راولپنڈی کاشف ذوالفقار نے کہا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف جوڈیشل کروائی کے ساتھ محکمانہ کاروائی کرتے ہویے محکمے سے ڈسمس کیا جارہا ہے۔ایس ایس پی آپریشن راولپنڈی کاشف ذوالفقار نے ایس پی راول کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہویے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل تک کچے کے علاقے سے شہریوں کو ہنی ٹریپ کرکے تاوان طلب کرنے اور لوٹے جانے کی اطلاعات سامنے آتی تھیں لیکن اب راولپنڈی سمیت جڑواں شہروں میں ہنی ٹریپ کے واقعات سامنے آئے اور راولپنڈی پولیس نے اس پر زیرو ٹالرینس رکھ کر کاروائی کرتے ہوئے نہ صرف مشرقی افریقہ کے ملک کی شہریت رکھنے والی پاکستانی نژاد خاتون و اسکے خاوند کے 6 رکنی گینگ کو گرفتار کیا۔انہوں نے بتایا کہ خود احتسابی کے تحت پولیسں ملازمین کے ملوث ہونے کا پتہ چلا تو 5 پولیس ملازمین سمیت اس دوسرے دس رکنی گینگ کو بھی گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کا کہناتھاکہ ہنی ٹریپ سے شہریوں کو لوٹنے والے 2بڑے گینگز کے مجموعی طور 16 ملزمان جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں کو گرفتار کرکے ساڑے سات لاکھ روپے کی نقدی اسلحہ اور دیگر اشیا برآمد کی ہیں۔پولیس افسر کے مطابق گینگز صدر بیرونی اور صادق آباد پولیس نے گرفتار کیے، دونوں گینگز کے ارکان سوشل میڈیا کے زریعے شہریوں کو ٹریپ کر کے ان کو لوٹتے و بلیک میل کرکے رقوم ہتھیاتے تھے۔ایس ایس پی آپریشن نے بتایاکہ مرینہ خان گینگ کی سرغنہ مشرقی افریقن ملک ملاوی کی شہریت رکھتی ہے اور بلال نامی شخص کو اپنا خاوند بتاتی ہے جو دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پیج کے ذریعےشہرہوں جو ٹریپ کرکے لوٹتے اور بلیک کرتے تھے۔گینگ کی لیڈی سرغنہ مرینہ خان اسکے شوہر بلال اور فاروق، طیب، کامران اور عبدالجبار تمام چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا جن سے ڈھائی لاکھ نقدی اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ ملزمان نے دیگر مختلف وارداتوں کا بھی انکشاف کیا ہے جبکہ صادق آباد پولیس نے10رکنی آفتاب عرف تابی گینگ گرفتار کیا، جس میں تھانہ صادق آباد کے کانسٹیبل سے ہیڈ کانسٹیبل سطح کے 5 پانچ حاضر سروس اہلکار شامل ہیں۔گینگ میں شامل پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل مبشرعنصر ، کانسٹیبل افضال، کانسٹیںل نعمان، ہیڈ کانسٹیبل فضل عباس، ہیڈ کانسٹیبل رضا عباس شامل ہیں جبکہ دیگر ملزمان میں آفتاب عرف تابی، حمزہ، شان اور دو خواتین مسماتہ ہاجرہ اور مسماتہ عظمیٰ شامل ہیں۔ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کا کہنا تھا کہ آفتاب عرف تابی گینگ سے 5 لاکھ روپے اور اسلحہ برآمد ہوا، ملزمہ ہاجرہ مخصوص سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے شہریوں کو ٹریپ کرتی تھی۔شہری کو ملنے کے بہانے بلایا جاتا تھا اور ان کی نازیبا ویڈیوز، تصاویر بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا، گینگ جڑواں شہروں کے شہریوں کو ہنی ٹریپ کے زریعے بلیک میل کر کے لوٹنے کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے،گینگ میں شامل پولیس اہلکار گینگ کے دیگر ممبران کی پشت پناہی کرتے اور شہریوں کو بلیک میل کرنے میں ان کا ساتھ دیتے تھے۔ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کا کہناتھاکہ پولیس اور سوسائٹی میں جرائم کا ایسا رجحان افسوسناک ہے کہ اس میں خواتین اور محکمہ پولیس کے لوگ ملوث پائے جارہے ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کرمنل کروائی کے ساتھ ساتھ محکمانہ کاروائی بھی کرکے انکو محکمے سے ڈسمس کیا جارہا ہے۔ایس ایس پی کاشف ذوالفقار کا کہنا تھا ایسے جرم پر شہری خاموش نہ رھیں مزکورہ گروہوں سمیت دیگر کسی کے متلعق ایسا گھناونا فعل کرنے کی اطلاع موجود تو پولیس کو ضرور آگاہ کریں۔ BBC PK News report Islamabad MIAN KHUDABUX ABBASI

[23/04, 12:27 pm] null: *پولیس کو دھمکیاں دینے کا کیس؛ عالیہ حمزہ کو عدالت سے ریلیف مل گیا*

راولپنڈی: جوڈیشل مجسٹریٹ قمر عباس تارڑ نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

پولیس نے جمعہ کو راولپنڈی ایئرپورٹ ایریا میں ورکرز کنونشن کے دوران سڑک بلاک کرنے اور پولیس کو دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کرکے عالیہ حمزہ اور پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔
[23/04, 12:39 pm] null: *پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں  کیلئے سرمایہ کاری؛ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کیساتھ معاہدہ*

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سرمایہ کاری کے سلسلے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا۔

اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے الیکٹریکل وہیکلز (ای وی) کے شعبے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے وزارت صنعت کی جانب سے بڑا اقدام کیا گیا ہے، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری کے لیے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ساتھ معاہدہ ہوگیا۔

الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار کے لیے پالیسی اور ریگولیشن میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں سے ایندھن پر انحصار کم اور آلودگی میں کمی متوقع ہے۔
[23/04, 12:44 pm] null: *مقبوضہ کشمیر میں 26 سیاحوں کی ہلاکت، دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا*

*پاکستان کا پہلگام حملے میں سیاحوں کی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار*

*ہم لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمنائیں ہیں، ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان*

*حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا*
[23/04, 12:48 pm] null: *ہنی ٹریپ گینگ کے 16 کارندے گرفتار، راولپنڈی پولیس کے 5 پولیس اہلکار اور خواتین بھی شامل*

*راولپنڈی پولیس کے ملوث اہلکاروں کو نوکری سے معطل کرنے کی کارروائی شروع، ملزمان سے 7 لاکھ روپے اور اسلحہ برآمد*

راولپنڈی پولیس نے ہنی ٹریپ کرکے شہریوں کو لوٹنے والے دو سرگرم گینگز کے 16ملزمان کو گرفتار کرلیا جس میں پولیس کے پانچ حاضر سروس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی پولیس نے ہنی ٹریپ کر کے شہریوں کو لوٹنے والے دو گروہوں کو گرفتار کیا، جن میں سے ایک گروہ میں پانچ راولپنڈی پولیس کے حاضر سروس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق دوسرا گینگ مشرقی افریقن ملک ملاوی کی شہریت کی حامل پاکستانی نژاد خاتون آپریٹ کرتی تھی، ملزمان سے مجموعی طورپر شہریوں سے ہتھیائی گی ساڑھ سات لاکھ روپے نقدی برآمد ہوئی ہے۔

 ملزمان سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے شہریوں کو پھانس کا تاوان اور بلیک کرکے رقوم ہتھیاتے تھے۔

ایس ایس پی آپریشن راولپنڈی کاشف ذوالفقار نے کہا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف جوڈیشل کروائی کے ساتھ محکمانہ کاروائی کرتے ہویے محکمے سے ڈسمس کیا جارہا ہے۔

ایس ایس پی آپریشن راولپنڈی کاشف ذوالفقار نے ایس پی راول کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہویے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل تک کچے کے علاقے سے شہریوں کو ہنی ٹریپ کرکے تاوان طلب کرنے اور لوٹے جانے کی اطلاعات سامنے آتی تھیں لیکن اب راولپنڈی سمیت جڑواں شہروں میں ہنی ٹریپ کے واقعات سامنے آئے اور راولپنڈی پولیس نے اس پر زیرو ٹالرینس رکھ کر کاروائی کرتے ہوئے نہ صرف مشرقی افریقہ کے ملک کی شہریت رکھنے والی پاکستانی نژاد خاتون و اسکے خاوند کے 6 رکنی گینگ کو گرفتار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ خود احتسابی کے تحت پولیسں ملازمین کے ملوث ہونے کا پتہ چلا تو 5 پولیس ملازمین سمیت اس دوسرے دس رکنی گینگ کو بھی گرفتار کرلیا۔

ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کا کہناتھاکہ ہنی ٹریپ سے شہریوں کو لوٹنے والے 2بڑے گینگز کے مجموعی طور 16 ملزمان جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں کو گرفتار کرکے ساڑے سات لاکھ روپے کی نقدی اسلحہ اور دیگر اشیا برآمد کی ہیں۔

پولیس افسر کے مطابق گینگز صدر بیرونی اور صادق آباد پولیس نے گرفتار کیے، دونوں گینگز کے ارکان سوشل میڈیا کے زریعے شہریوں کو ٹریپ کر کے ان کو لوٹتے و بلیک میل کرکے رقوم ہتھیاتے تھے۔

ایس ایس پی آپریشن نے بتایاکہ مرینہ خان گینگ کی سرغنہ مشرقی افریقن ملک ملاوی کی شہریت رکھتی ہے اور بلال نامی شخص کو اپنا خاوند بتاتی ہے جو دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پیج کے ذریعےشہرہوں جو ٹریپ کرکے لوٹتے اور بلیک کرتے تھے۔

گینگ کی لیڈی سرغنہ مرینہ خان اسکے شوہر بلال اور فاروق، طیب، کامران اور عبدالجبار تمام چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا جن سے ڈھائی لاکھ نقدی اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ 

ایس ایس پی نے بتایا کہ ملزمان نے دیگر مختلف وارداتوں کا بھی انکشاف کیا ہے جبکہ صادق آباد پولیس نے10رکنی آفتاب عرف تابی گینگ گرفتار کیا، جس میں تھانہ صادق آباد کے کانسٹیبل سے ہیڈ کانسٹیبل سطح کے 5 پانچ حاضر سروس اہلکار شامل ہیں۔

گینگ میں شامل پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل مبشرعنصر ، کانسٹیبل افضال، کانسٹیںل نعمان، 
ہیڈ کانسٹیبل فضل عباس، ہیڈ کانسٹیبل رضا عباس شامل ہیں جبکہ دیگر ملزمان میں آفتاب عرف تابی، حمزہ، شان اور دو خواتین مسماتہ ہاجرہ اور مسماتہ عظمیٰ شامل ہیں۔

ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کا کہنا تھا کہ آفتاب عرف تابی گینگ سے 5 لاکھ روپے اور اسلحہ برآمد ہوا، ملزمہ ہاجرہ مخصوص سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے شہریوں کو ٹریپ کرتی تھی۔

شہری کو ملنے کے بہانے بلایا جاتا تھا اور ان کی نازیبا ویڈیوز، تصاویر بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا، گینگ جڑواں شہروں کے شہریوں کو ہنی ٹریپ کے زریعے بلیک میل کر کے لوٹنے کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے،گینگ میں شامل پولیس اہلکار گینگ کے دیگر ممبران کی پشت پناہی کرتے اور شہریوں کو بلیک میل کرنے میں ان کا ساتھ دیتے تھے۔

ایس ایس پی آپریشن کاشف ذوالفقار کا کہناتھاکہ پولیس اور سوسائٹی میں جرائم کا ایسا رجحان افسوسناک ہے کہ اس میں خواتین اور محکمہ پولیس کے لوگ ملوث پائے جارہے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کرمنل کروائی کے ساتھ ساتھ محکمانہ کاروائی بھی کرکے انکو محکمے سے ڈسمس کیا جارہا ہے۔

ایس ایس پی کاشف ذوالفقار کا کہنا تھا ایسے جرم پر شہری خاموش نہ رھیں مزکورہ گروہوں سمیت دیگر کسی کے متلعق ایسا گھناونا فعل کرنے کی اطلاع موجود تو پولیس کو ضرور آگاہ کریں۔

*ڈیڑھ سال بعد ریمانڈ کیوں یاد آیا ؟ سپریم کورٹ نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی اپیلیں نمٹادیں*اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر انکار کرتے ہوئے اپیلیں نمٹا دیں۔سپریم کورٹ میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دائر پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت ہوئی جس دوران پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت سے کہا کہ ملزم کے فوٹو گرامیٹک، پولی گرافک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے ہیں۔اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ درخواست میں استدعا ٹیسٹ کرانے کی نہیں جسمانی ریمانڈ کی تھی، ٹرائل کورٹ سے اجازت لے کر ٹیسٹ کروالیں۔عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا درخواست دائر ہونے پر مخالفت کرنے کا حق رکھتے ہیں، ملزم کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزرچکا، ڈیڑھ سال بعد جسمانی ریمانڈ کیوں یاد آیا ؟ اب تو جسمانی ریمانڈ کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسپیشل پراسیکیوٹر نےکہا کہ ملزم نے تعاون نہیں کیا، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا جیل میں زیرحراست ملزم سے مزید کیسا تعاون چاہیے؟ میرا ہی ایک فیصلہ ہےکہ ایک ہزار سے زائد ضمنی چالان بھی پیش ہوسکتے ہیں۔جسٹس کاکڑ نے کہا 5 دن پہلے ایک فوجداری کیس سنا،کیس میں نامزد ملزم 7سال تک ڈیتھ سیل میں رہا جسے باعزت بری کیا گیا، ہمیں 3 ماہ کا وقت دیں فوجداری کیسز ختم کر دیں گے۔جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کسی عام قتل کیس میں تو ایسے ٹیسٹ کبھی نہیں کرائے گئے، توقع ہےعام آدمی کے مقدمات میں بھی حکومت ایسے ہی کارکردگی دکھائے گی۔عدالت نے کہا بانی پی ٹی آئی کےجسمانی ریمانڈ کے لیے دائر کی گئی اپیلیں دو بنیادوں پر نمٹائی جاتی ہیں، استغاثہ بانی پی ٹی آئی کے پولی گرافک ٹیسٹ،فوٹوگرافک ٹیسٹ،وائس میچنگ ٹیسٹ کیلئےٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے میں آزاد ہے، بانی پی ٹی کی قانونی ٹیم ٹرائل کورٹ میں ایسی درخواست آنے پر لیگل اور فیکچوئل اعتراض اٹھاسکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دائر پنجاب حکومت کی اپیلیں نمٹا تے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت چاہے تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ BBC PK News Islamabad

*ڈیڑھ سال بعد ریمانڈ کیوں یاد آیا ؟ سپریم کورٹ نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی اپیلیں نمٹادیں*

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر انکار کرتے ہوئے اپیلیں نمٹا دیں۔

سپریم کورٹ میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دائر پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت ہوئی جس دوران پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت سے کہا کہ ملزم کے فوٹو گرامیٹک، پولی گرافک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے ہیں۔

اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ درخواست میں استدعا ٹیسٹ کرانے کی نہیں جسمانی ریمانڈ کی تھی، ٹرائل کورٹ سے اجازت لے کر ٹیسٹ کروالیں۔

عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا درخواست دائر ہونے پر مخالفت کرنے کا حق رکھتے ہیں، ملزم کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزرچکا، ڈیڑھ سال بعد جسمانی ریمانڈ کیوں یاد آیا ؟ اب تو جسمانی ریمانڈ کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نےکہا کہ ملزم نے تعاون نہیں کیا، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا جیل میں زیرحراست ملزم سے مزید کیسا تعاون چاہیے؟ میرا ہی ایک فیصلہ ہےکہ ایک ہزار سے زائد ضمنی چالان بھی پیش ہوسکتے ہیں۔

جسٹس کاکڑ نے کہا 5 دن پہلے ایک فوجداری کیس سنا،کیس میں نامزد ملزم 7سال تک ڈیتھ سیل میں رہا جسے باعزت بری کیا گیا، ہمیں 3 ماہ کا وقت دیں فوجداری کیسز ختم کر دیں گے۔

جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کسی عام قتل کیس میں تو ایسے ٹیسٹ کبھی نہیں کرائے گئے، توقع ہےعام آدمی کے مقدمات میں بھی حکومت ایسے ہی کارکردگی دکھائے گی۔

عدالت نے کہا بانی پی ٹی آئی کےجسمانی ریمانڈ کے لیے دائر کی گئی اپیلیں دو بنیادوں پر نمٹائی جاتی ہیں، استغاثہ بانی پی ٹی آئی کے پولی گرافک ٹیسٹ،فوٹوگرافک ٹیسٹ،وائس میچنگ ٹیسٹ کیلئےٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے میں آزاد ہے، بانی پی ٹی کی قانونی ٹیم ٹرائل کورٹ میں ایسی درخواست آنے پر لیگل اور فیکچوئل اعتراض اٹھاسکتی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دائر پنجاب حکومت کی اپیلیں نمٹا تے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت چاہے تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔

*کینالز منصوبے میں سیلاب کا پانی استعمال ہوگا، اس پر سندھ ہمیں ڈکٹیشن نہیں دے سکتا: عظمیٰ بخاری**ابھی تک کوئی نہربننا شروع نہیں ہوئی مگر ایسا نہیں کہہ رہی کہ اتفاق رائے نہیں ہوا تونہریں نہیں بنیں گی: وزیر اطلاعات پنجاب* BBC PK News

*کینالز منصوبے میں سیلاب کا پانی استعمال ہوگا، اس پر سندھ ہمیں ڈکٹیشن نہیں دے سکتا: عظمیٰ بخاری*

*ابھی تک کوئی نہربننا شروع نہیں ہوئی مگر ایسا نہیں کہہ رہی کہ اتفاق رائے نہیں ہوا تونہریں نہیں بنیں گی: وزیر اطلاعات پنجاب*

منگل، 22 اپریل، 2025

*غصہ، مایوسی نفرت: کراچی میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کے بڑھتے واقعات**تحریر: ایس رضا حسن*دو ہزار کی دہائی کے ہنگامہ خیز دور میں کراچی اور میں ’ BBC PK News Article S Raza Hassan Karachi

نے پہلی بار ہجوم کے ہاتھوں قتل دیکھا۔ اولڈ سٹی ایریا میں نشتر روڈ پر تین ’ڈاکو‘ ایک مشتعل ہجوم کے ہتھے چڑھ گئے تھے جنہیں تشدد کا نشانہ بنا کر آگ لگا دی گئی۔یہ واقعہ 14 مئی 2008 کو بدھ کو پیش آیا، جب چار افراد ایک اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے، قیمتی اشیا لوٹیں اور رہائشیوں پر فائرنگ کی۔ جب وہ فرار ہو رہے تھے تو گھر والوں نے شور مچایا، جس سے پڑوسیوں کو پتا چل گیا۔ اس کے بعد لوگوں نے ان ڈاکوؤں کا پیچھا کیا اور کچھ دیر بعد انہیں ہجوم نے گھیر لیا۔ہجوم کے ہاتھوں ایک مشتبہ شخص فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، باقی تین افراد کو ہجوم نے موقع پر موجود ہر چیز سے مارا ، ڈنڈے، لوہے کی سلاخیں، اینٹیں، لاتیں اور گھونسے۔ بعد میں انہیں مرکزی سڑک پر گھسیٹا گیا جہاں ان پر پیٹرول ڈالا گیا اور آگ لگا دی گئی۔جب شعلے اُن ڈاکوؤں کو لپیٹ میں لے رہے تھے، پولیس قریب ہی کھڑی دیکھتی رہی۔ اسی طرح ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار بھی، کیونکہ ہجوم نے انہیں ان افراد کو بچانے کی اجازت نہیں دی۔ یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ تینوں افراد کی آگ لگانے سے پہلے ہی موت واقع ہو چکی تھی یا وہ جل کر ہلاک ہوئے۔میرے لیے اس دن جو کچھ ہوا اسے سمجھنا مشکل تھا، ایک مشتعل گروہ نے سڑک پر استغاثہ، جیوری اور جج کے تمام کردار ادا کیے۔ کراچی کے ایک کرائم رپورٹر کے طور پر میں خون ریز دھماکوں اور گولیوں سے چھلنی لاشوں کا عادی ہو چکا تھا لیکن ہجوم کے ہاتھوں قتل، جہاں مشتبہ افراد کو انصاف کے نام پر مارا پیٹا اور جلایا گیا، ایک بالکل نئی کہانی تھی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ایک دہائی بعد ایسے واقعات معمول بن جائیں گے۔ہجوم کے ہاتھوں ’انصاف‘ کا عروجشہری پولیس رابطہ کمیٹی کے مرتب کردہ اعداد و شمارکے مطابق، گزشتہ سال 2024 میں کراچی میں ڈکیتیوں کے دوران مزاحمت کرتے ہوئے تقریباً 100 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس دوران اسٹریٹ کرائم میں ملوث گینگز کی تعداد میں نمایاں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا، جو 20 سے 35 سے بڑھ کر 50 سے 60 ہو گئی۔جرائم میں اضافے کے ساتھ شہر میں ہجوم کے ہاتھوں قتل بھی بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) کے مطابق پچھلے تین سال میں کراچی کی سڑکوں پر 55 مشتبہ افراد کو ہجوم نے قتل کیا۔ 2023 اور 2024 میں ہر سال 20 اور 2022 میں 15 افراد مارے گئے۔یونیورسٹی آف وارویک انگلینڈ میں کرمنالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زوہا وسیم نے کہا کہ ’اس نام نہاد ہجوم کے ہاتھوں انصاف حاصل کرنے کے واقعات بڑھنے کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ پولیس، عدالتوں اور مجموعی طور پر فوجداری نظام انصاف پر اعتماد کی کمی جزوی طور پر مسئلہ ہے۔‘ایک واقعہ جو میری یادداشت میں تازہ ہے وہ سال 2010 میں سیالکوٹ کے دو بھائیوں کا قتل ہے، جس نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ 17 سالہ مغیث اور 15 سالہ منیب کو دن دہاڑے ایک ہجوم نے پولیس کی موجودگی میں قتل کر دیا۔ بھائیوں کو ڈاکو قرار دیا گیا، ان کی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور ایک پانی کی ٹنکی کے ساتھ لٹکا دیا گیا۔ ہجوم انہیں آگ لگانے ہی والا تھا کہ ان کے خاندان کے افراد موقع پر پہنچے اور انہیں گھر لے گئے۔یہ شاید ہجوم کے ہاتھوں قتل کے ان چند واقعات میں سے ایک تھا جہاں سات افراد کو سزائے موت دی گئی، چھ کو عمر قید کی سزا ہوئی اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو تین سال کے لیے جیل بھیجا گیا۔اس واقعے پر ایک نجی یونیورسٹی کی دو طالبات نے ’سیالکوٹ سانحہ کے پیچھے کی نفسیات‘ کے عنوان سے مقالہ مرتب کیا جو 2018 میں ایک بین الاقوامی جریدے میں شائع بھی ہوا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سوشل سائنسز کی فارغ التحصیل فرحین ناصر اور خدیجہ نعیم نے اس مقالے میں لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ بدعنوان، برائیوں اور بغض میں مبتلا ہو رہا ہے جہاں لوگ خود پر قابو کھو رہے ہیں، ہمدردی کے جذبات ختم ہو رہے ہیں، دوسروں پر اعتماد نہیں رہا اور دوسروں کی تکلیف سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘مقالے کی روشنی میں یہ ظاہر ہوا کہ انسانی برائی کی عام وجوہات میں شخصیت کا خاتمہ، دوسروں کے ذریعے کی گئی برائی کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینا، خود کو دوسروں سے ممتاز کرنے کے لیے پروپیگنڈا کرنا، نفسیاتی فاصلے، جواز، معنوی فریمنگ اور دقیانوسی لیبلنگ شامل ہیں، جو غیر انسانی سلوک کا باعث بنتی ہیں۔طالبات کے مقالے میں سفارش کی گئی کہ مستقبل میں ان قوموں پر توجہ مرکوز کی جائے جہاں ایسے ہولناک تشدد کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کون سی سماجی اقدار کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں اپنی قوم میں شامل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔نظام انصاف کی ناکامیسندھ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل محمد علی قاسم نے کہا کہ عام آدمی کے لیے ہجوم کے ہاتھوں قتل منصفانہ سلوک اور فوری انصاف کی مانند ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن ایک قانون دان کے لیے، یہ ایک تباہ کن منظر ہوتا ہے اور اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت کہ قانونی نظام کہیں نہ کہیں ناکام ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘۔آج کی مہذب دنیا میں پرانے ادوار کی خونریزی، انتشار اور بےامنی کی جگہ عدالتی نظامِ انصاف نے لے لی ہے۔ قانونی نظام کے وجود کا بنیادی مقصد ہی تشدد کو روکنا اور بے گناہ جانوں کا تحفظ کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ مجرموں کو ان کے جرائم کی سنگینی کے مطابق سزا دینے کے لیے بھی موجود ہے۔محمد علی قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اور یہی اصول شہری اور مہذب معاشروں میں غالب رہنا چاہیے، نہ کہ سڑکوں پر کیا جانے والا انصاف۔‘کراچی کے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) ذیشان صدیقی نے کہا کہ ’پولیس کے مطابق ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات زیادہ تر کم تعلیم یافتہ علاقوں اور محلوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ حال ہی میں عوام کا برداشت کا پیمانہ کم ہوتا جا رہا ہے اور انہیں بس ایک چنگاری درکار ہوتی ہے اپنے غصے کو نکالنے کے لیے‘۔انہوں نے زور دیا کہ پولیس کی اولین ترجیح ایسے حالات کو ابتدا میں ہی روکنا ہے اور وہ بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ مشتبہ افراد کو ہجوم کے چنگل سے نکالا جائے۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل کی مثال دیتے ہوئے ایس ایس پی نے بتایا کہ ایک سال میں وہاں ایک بھی ہجوم کے ہاتھوں قتل کا واقعہ پیش نہیں آیا۔تاہم اس بات سے شہر میں اس مسئلے کی سنگینی کم نہیں ہو جاتی۔ رواں ماہ 10 اپریل کو ایک ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار کے زخمی ہونے کے بعد مشتعل ہجوم نے 9 ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ نارتھ کراچی میں فور کے چورنگی کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ پر پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق ہجوم نے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا جب وہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔اس واقعے کے محض دو دن بعد نارتھ ناظم آباد میں ایک اور واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس کے بیان کے مطابق ٹینکر کے ڈرائیور نے پاپوش نگر کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر ماری اور جائے وقوع سے فرار ہو گیا۔ تاہم، 10 سے 12 افراد نے اس کا پیچھا کیا اور فائیو اسٹار چورنگی کے قریب اسے روک کر اس پر حملہ کیا، گاڑی کی کھڑکیاں توڑیں اور اسے آگ لگا دی۔اسی طرح گزشتہ ماہ قائد آباد کے علاقے میں ایک ڈکیت نے ایک تاجر کو قتل کیا، جس کے بعد اسے پکڑ کر مارا پیٹا گیا، اسے شدید زخمی حالت میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔اسی قسم کا ایک اور واقعہ گزشتہ سال نومبر میں گلستانِ جوہر میں پیش آیا تھا جہاں ایک اور مشتبہ ڈاکو کو مار مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ گزشتہ سال ہی مئی میں اورنگی ٹاؤن پولیس نے ایک مشتبہ ڈاکو کو ہجوم کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے سے بچالیا تھا۔عوامی اعتماد کی بحالیوارویک یونیورسٹی کی ڈاکٹر وسیم نے سماجی و معاشی تفاوت کو ہجوم کے ہاتھوں انصاف کے بڑھتے واقعات کی بڑی وجوہات میں شمار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’لوگ مہنگائی، طبقاتی تفریق، اور بنیادی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ مایوسی اب غصے کی شکل اختیار کر رہی ہے، آپ اس ملک کے مذہبی و سیاسی منظرنامے کو سماجی و معاشی ناہمواریوں اور فوجداری نظامِ انصاف میں موجود بڑی خرابیوں سے الگ نہیں کر سکتے ، یہی وہ مشترکہ عوامل ہیں جو کراچی یا پاکستان کے دیگر شہروں میں ہجوم کے ہاتھوں قتل اور تشدد میں اضافے کے ذمہ دار ہیں‘۔جب 2008 میں کراچی نے پہلی بار ہجوم کے ہاتھوں قتل کا مشاہدہ کیا تو اس نے ایک سلسلہ شروع کر دیا۔ محض چند دن بعد 18 مئی کو نارتھ ناظم آباد میں دو مشتبہ ڈاکوؤں کو شدید مارا پیٹا گیا اور آگ لگا دی گئی۔ اس واقعے کے بعد اُس وقت کے سندھ پولیس چیف ڈاکٹر شعیب سڈل نے اعتراف کیا کہ عوام اس نظام سے بدظن ہو چکے ہیں جو ان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا کیونکہ یہ نظام ان کی شکایات کا کبھی جواب نہیں دیتا۔اس کے بعد کے دنوں میں اخبارات نے سرخیاں لگائیں جیسے ’کراچی میں ہجوم کا انصاف حکومت کے لیے پریشان کن‘، ’جنگل کا قانون؟‘ وغیرہ وغیرہ ۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی۔بلوچستان کے سابق انسپکٹر جنرل عبدالخالق شیخ جنہوں نے اپنی ملازمت کے ایام زیادہ تر سندھ اور اس کے دارالحکومت کراچی میں گزارے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہر واقعے کو نظامِ انصاف پر ایک واضح فرد جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور اس پر پالیسی سازوں، قانونی ماہرین، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو ایک انتباہ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ قانون و انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے، قانون کی حکمرانی اور برداشت کو فروغ دینے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

NEWS HEADLINES BBC PAKISTAN NEWS DIGITAL URDU ENGLISH

 *خبروں کی تفصیل* *بدھ 25 ذیقعدہ1447ھ* *13 مئی 2026ء* ایران، ہرمُز کی حدود بڑھا دی، حملہ ہوا تو یورینیم افزودگی 90 فیصد کردینگے، تہران، یقین...