Daily Bbc Pakistan: Deliver Latest news breaking news urdu news current news,top headlines in urdu from Pakistan, world, sports, Business, Cricket, Politics and Weather,
ہفتہ، 26 اپریل، 2025
*کراچی: 28 اپریل سے شروع ہونیوالے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات مؤخر*۔ BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive report
کراچی: اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نے 28 اپریل سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات مؤخر کردیے۔اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق انٹر کے امتحانات اب 5 مئی سے شروع ہوں گے۔اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ امتحانات کی تاریخ میں تبدیلی 2 وجوہات کی بناء پر کی گئی جس کی ایک وجہ خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں انٹرمیڈیٹ حصہ اول کے امتحانات 2024 کے سائنس، پری میڈیکل، پری انجینئرنگ اور سائنس جنرل گروپس کے تمام طلبہ کو ریاض، کیمسٹری اور فزکس کے پرچوں میں گریس مارکس دینے کا عمل جاری ہے۔تعلیمی بورڈ کی جانب سے دوسری وجہ میٹرک اور انٹر کے کچھ مراکز میں میٹرک کے جاری امتحانات بتائی گئی ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ طلبہ اور والدین سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ نئے شیڈول کے مطابق اپنی تیاری جاری رکھیں
*پہلگام واقعے پر غیرجانبدارانہ عالمی تحقیقات کیلئے تیار، پانی روکا تو طاقت سے جواب دیں گے، شہباز شریف*BBC PK News Islamabad report
کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، مسلح افواج ہر صورتحال کیلئے تیار ہیں، پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے، الزامات کا سلسلہ بند کیا جائے، پی ایم اے کاکول میں خطاب*
*اہل غ، ز، ہ سے اظہار یکجہتی کیلئے کراچی سے پشاور تک شٹر ڈاؤن ہڑتال، کاروباری مراکز بند، سڑکوں سے ٹریفک غائب*BBC PK News Karachi Jaidev baeruo chief executive report
اہل غ، ز، ہ سے اظہار یکجہتی کیلئے جماعت اسلامی اور تاجر تنظیوں کی ہڑتال کی کال پر ملک کے بیشتر شہروں میں کاروباری مراکز بند ہیں۔راولپنڈی کے راجہ بازار، مری روڈ، صدر اور کمرشل مارکیٹ میں دکانیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ڈرگسٹ اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ہڑتال کی جا رہی ہے جس کے باعث بیشتر بازاروں میں میڈیکل اسٹورز بند ہیں۔پاکپتن اور گردونواح میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ملکہ کوہسار مری میں اہل غ، ز، ہ سے یکجہتی کے لیے مکمل شٹر ڈاون ہڑتال ہے، جماعت اسلامی کی شٹر ڈاون ہڑتال کی کال پر تمام کاروباری مراکز بند ہیں، مال روڈ، کینٹ مارکیٹ، بھوربن مارکیٹ، علیوٹ اور پھگواڑی سمیت تمام بازار اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی کم ہے۔پشاور میں بھی شٹرڈاون ہڑتال کے باعث قصہ خوانی بازار، چوک یادگار، اشرف روڈ، چوک ناصر خان اور خیبر بازار میں دکانیں بند ہیں، اہم شاہراؤں پر چھوٹی بڑی مارکیٹیں اور شاپنگ مالز بھی بند ہیں۔کوئٹہ میں بھی ہڑتال کی جا رہی ہے، شہر میں تمام اہم بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں۔مستونگ، قلات، خضدار اور پشین سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے، تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور دکانیں بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔کورنگی كراسنگ روڈ پر سیاسی جماعت کی جانب سے غ، ز، ہ کے حق میں دھرنا دیا جا رہا ہے جس کے باعث روڈ ٹریفک کے لیے بند ہے، مظاہرین کی جانب سے سڑکوں کو ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث روڈ بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کو گودام چورنگی اور ناصر جمپ سے چمڑا چورنگی بھیجا جا رہا ہے۔
*بھارت کی جانب سے اٹاری بارڈر بند، پاکستان آنے والے شہری سرحد پر پھنس گئے*BBC PK News report
بھارت کی جانب سے اٹاری بارڈر بند ہونے کے بعد پاکستان آنے والے شہری سرحد پر پھنس گئے۔اٹاری بارڈر بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور پاکستان واپس آنے والوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔بھارتی حکام نے بھارتی پاسپورٹ رکھنے والی ایک خاتون کو بھی پاکستان جانے سے روک دیا۔خاتون کا کہنا تھا کہ امیگریشن حکام نے بھارتی پاسپورٹ ہونے کی وجہ سے روکا ، ان کی شادی پاکستان میں ہوئی ہے اور وہ گھر واپس جانا چاہتی ہیں۔ادھر کراچی میں موجود بھارتی خاتون جو 40 برس بعد پاکستان اپنے بھائی سے ملنے آئی تھیں اب حالات کے پیشِ نظر وطن واپس جارہی ہیں، خاتون کا کہنا تھا یہاں آکر بہت اچھا لگا، اب جلدی جانا پڑ رہا ہے تو رونا آرہا ہے۔
*لندن: پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ہنگامہ آرائی پر 4 انتہاپسند ہندو مظاہرین گرفتار*BBC PK News report London
پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف جانے کی کوشش میں بھارتی مظاہرین کو لندن پولیس نے گرفتار کرلیا۔بھارتی انتہا پسند مظاہرین نے برطانوی دارالحکومت میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف بڑھنے کی کوشش، جسے لندن پولیس نے ناکام بنا دیا۔برطانوی پولیس نے 4 انتہا پسند بھارتی مظاہرین کو ہنگامہ آرائی کرنے پر گرفتار کر لیا۔*برطانوی نژاد پاکستانیوں کا بھی مظاہرہ*لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر برطانوی نژاد پاکستانیوں اور کشمیریوں نے پاکستان سے اظہار یکجہتی اور بھارتی دھمکیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔پاکستانی اور کشمیری پرچم اٹھائے ہوئے پُرجوش پاکستانیوں اور کشمیریوں نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بلند کیے۔مظاہرہ بھارتی انتہا پسندوں کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کی کال کے ردعمل میں کیا گیا۔
*بھارتی سکھ فوجیوں کا پاکستان مخالف جنگی منصوبوں میں حصہ لینے سے انکار*
سکھ فوجیوں نے پاکستان کے خلاف مودی کے جنگی منصوبوں میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ مودی کا بھارت بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے سکھ فوجیوں کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔بھارتی فوج کے سکھ سپاہیوں نے پاکستان کے خلاف مودی کے کسی بھی جنگی منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے خود کوانتہا پسندانہ مہم جوئی سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جب نکاح خواں آئے اور میں اپنی بیوی کو طلاق دینے لگا تو میں خوش تھا کہ اب سب مسائل ختم ہو جائیں گے۔ جب اس نے مجھ سے پوچھا، "کیا آپ اپنے فیصلے پر پکے ہیں؟" تو میں نے فوراً جواب دیا، "ہاں، بالکل پکا ہوں۔"BBC PK News Article Islamabad
میری بیوی خاموش بیٹھی سب کچھ برداشت کر رہی تھی، مجھے وہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔ اس کے گھر والے اس کے ساتھ تھے، لیکن وہ اتنی کمزور تھی کہ ان کی موجودگی کا احساس نہیں کر سکتی تھی۔ جب میں نے اس کی آنکھوں میں شکست کی نظر دیکھی تو مجھے خوشی ہوئی کہ میں نے اپنا حق لے لیا اور اسے دکھا دیا کہ وہی ہمیں اس حال تک لے آئی ہے۔چند منٹ بعد میں نے اسے طلاق دے دی۔ اُس دن میں اپنے بستر پر لیٹا اور محسوس کیا کہ دنیا کی سب مشکلات غائب ہو گئی ہیں۔ میں آزاد ہو گیا، دل بھر کے کھانا کھایا۔ تین سال تک میں مسائل، سر درد اور اختلافات کا سامنا کر رہا تھا۔"آخر کار" میں سکون میں آگیا، نماز پڑھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور وہ خوش تھے کہ میں نے اس سے نجات پا لی۔میں نے اپنی زندگی دوبارہ آزادانہ طور پر جینے کا آغاز کیا۔لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا اور چیزیں میری توقعات کے خلاف ہو گئیں۔ ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا۔ ہر رات کے آخر میں وہ اپنے کمرے میں بند ہو جاتے اور میں اپنے کمرے میں اکیلا، کمزور اور تنہا رہ جاتا۔میرے گھر والوں کا ساتھ کہاں گیا؟میرے بھائی جو ہمیشہ میری بیوی کے بارے میں باتیں کرتے تھے، انہوں نے میری طرف دھیان دینا چھوڑ دیا۔ میری ماں جو یہ دکھانے کی کوشش کرتی تھی کہ وہ میری بیوی سے زیادہ محبت کرنے والی ہے، اس نے بھی وہی محبت اور توجہ دینا چھوڑ دی۔ وہ اپنی پرانی حالت میں واپس آ گئی۔جو لوگ مجھے اُس پر بھڑکاتے تھے، وہ بھی کال کرنا چھوڑ چکے تھے۔ جب میں عید کی رات بیمار ہوا اور بخار چڑھ گیا، میں نے اپنے بھائی کو فون کیا، اس نے میری آواز سے نہیں پہچانا کہ میں بیمار ہوں، حالانکہ میری آواز بخار کی وجہ سے صاف نہیں تھی۔ مجھے ایک دفعہ یاد آیا کہ میری بیوی نے مجھے ایک دن باہر جاتے ہوئے فون کیا اور پوچھا، "آپ خیریت سے ہیں؟" وہ بے وجہ پریشان تھی۔ اس وقت مجھے کمزوری محسوس ہو رہی تھی اور میں نے ہسپتال میں ڈرپ لگوائی تھی بغیر اسے بتائے۔کہاں ہے وہ سکون جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا؟ کیوں کوئی میری زندگی کی خبریں جاننے کا خواہشمند نہیں رہا جیسے وہ میری بیوی کے ہوتے ہوئے تھے؟اگر وہ سب شروع سے ہی اتنے دور رہتے تو ہمارے درمیان اتنے مسائل نہ ہوتے۔جب میں نے کہا کہ میں اپنی بیوی کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں، تو سب نے مجھے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پرانے مسائل اٹھائے، اس کی غلطیاں گنوائیں، اس کے بارے میں ایسی باتیں کیں جو حقیقت میں نہیں تھیں اور میں نے ان سب پر یقین کیا۔ انہوں نے بہت نجی معاملات میں مداخلت کی، جو انہیں بالکل نہیں کرنے چاہیے تھے۔انہوں نے میری زندگی کی تفصیلات میں اتنی مداخلت کی کہ ان کا اندر ہونا یا حتی کہ دروازے پر ہونا بھی مناسب نہیں تھا۔مجھے یہ سب دیر سے سمجھ آیا جب میں نے اپنی زندگی میں ایک وقفہ لیا۔ جب میری بیوی دور ہو گئی، تو مجھے پتہ چلا کہ وہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی کہ ہمارا گھر نہ گرے اور میں اس کا ہاتھ چھوڑ رہا تھا۔وہ ہماری نجی باتوں کو چھپا رہی تھی اور میں سب کچھ دوسروں کے سامنے کھول رہا تھا۔جب میں نے افسوس کے ساتھ اسے واپس لانے کی کوشش کی، تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ اس نے کہا، "میں سکون میں ہوں۔" یہ جملہ مجھے کہنا چاہیے تھا۔ میں نے بہت کوشش کی، لیکن ہر بار وہ ضد کرتی، جیسے وہ کسی محفوظ جگہ پر ہو اور وہاں سے نکلنے سے ڈرتی ہو کہ کہیں واپس نہ جا سکے۔اس نے صاف الفاظ میں کہا، "کبھی بھی مجھے میرے حقوق کا احساس نہیں ہوا، حتی کہ تمہاری بیوی ہونے کا حق بھی میرے پاس نہیں تھا۔"اور آخر کار، میں ہی واحد ہارا ہوا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ میں صحیح ہوں اور میرے آس پاس کے لوگ میرے خیر خواہ ہیں۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
NEWS HEADLINES BBC PAKISTAN NEWS DIGITAL URDU ENGLISH
*خبروں کی تفصیل* *بدھ 25 ذیقعدہ1447ھ* *13 مئی 2026ء* ایران، ہرمُز کی حدود بڑھا دی، حملہ ہوا تو یورینیم افزودگی 90 فیصد کردینگے، تہران، یقین...
-
مسیحا کھلاڑی بن گئے، یہ ڈاکٹر ہیں یا جلاد؟ یہ لاہور کا لیڈی ولنگٹن ہسپتال ہے جس میں مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے جبکہ ڈاک...
-
تحریر بقلم، ، کے بی عباسی مضمون، حافظ قرآن حماد واصف ڈیلی بی بی سی نیوز پاک یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور بے پایاں احسا...
-
خبروں کی تفصیل ہفتہ 15 شوال المکرم 1447ھ 4 اپریل 2026ء *پٹرول 80 روپے سستا، قیمت 378، عوام کو ریلیف ایک ماہ کیلئے ہوگا، وزراء تنخواہیں 6 ماہ...