منگل، 8 جولائی، 2025

BBC PK News Islamabad Report Mian khudabukhsh Abbasi

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قطری شہزادی شیخہ اسماء کو پہاڑوں اور سیاحت کے شعبے میں پاکستان کا برانڈ ایمبیسڈر مقرر کردیا۔

وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ عزت مآب شیخہ اسماء الثانی کو پہاڑوں اور سیاحت کے شعبے میں پاکستان کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا ہے۔


شہباز شریف نے لکھا کہ نانگا پربت کو حال ہی میں سر کرنے پر میں دل کی گہرائیوں سے شہزادی شیخہ اسماء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ کارنامہ واقعی قابلِ فخر اور متاثر کن ہے۔

ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق حج 2026 کے لیے عازمین کی لازمی رجسٹریشن کا کل آخری دن ہے اور عازمین حج رجسٹریشن گھر بیٹھے آن لائن بھی کرا سکتے ہیں۔ترجمان کاکہنا تھاکہ حج رجسٹریشن کےلیے کوئی فیس ادا نہیں کرنا ہوگی اور حج 2026 کےلیے قبل ازوقت رجسٹریشن کرانا لازمی ہے۔ BBC PK News Islamabad Report

ترجمان نے بتایاکہ رجسٹریشن کرانے والے درخواستگزار ہی حج 2026 کےاہل تصور ہوں گے، حج رجسٹریشن کے بعد عازمین سرکاری یا نجی حج اسکیم منتخب کرسکیں گے، اخراجات اور دیگر شرائط و ضوابط حج پالیسی کےمطابق الگ سےجاری کیےجائیں گے۔ترجمان کے مطابق حج رجسٹریشن حکومت سعودی عرب کی ہدایت پرکی جارہی ہے، حج رجسٹریشن مکمل ہونے پر اعدادوشمار سے متعلق سعودی حکومت کو آگاہ کیا جائے گا اور رجسٹریشن کی بنیاد پرحکومت سعودی عرب حج کوٹہ مقرر کرے گی۔*

*🔴غصہ نہ کرنے کا فائدہ:*کل دوپہر امی جان کے پاؤں کی فزیو تھراپی کروانے ڈی ایچ اے فیز 7 جا رہا تھا کہ واپسی پر گیگا مال سے پچھلے اشارے پر جیسے ہی میری گاڑی رکی ۔ ایک خوفناک آواز کے ساتھ زوردار جھٹکا لگا۔ BBC PK News Written by Asadullah Shah Ghalib

پہلے فوراً پچھلی سیٹ پر امی جان کی طرف دیکھا کہ وہ خیریت سے ہیں؟ الحمدللہ وہ بالکل ٹھیک تھیں، بس ذرا گھبرا گئی تھیں ۔ خیر گاڑی سے باہر نکلا ایک Toyota aqua سفید رنگ کی گاڑی نے میری گاڑی کو زور سے ٹکر مار کر اچھا خاصا نقصان کر دیا تھا ۔ سامنے ایک نوجوان بچہ سفید کوٹ پہنے کھڑا تھا ۔ جس سے اندازہ ہو گیا کہ وہ ڈاکٹر ہے ۔ گاڑی پر نظر ڈالنے کے فوراًبعد میں نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا آپ کا نام؟انکل حمزہ نام ہے میرا۔۔۔ڈاکٹر ہو؟ جی انکل حمزہ بیٹے غلطی تو آپ کی محسوس ہو رہی ہے؟جی انکل میری ہی غلطی ہے۔۔۔ بس کنٹرول نہ کر سکا۔۔۔کوئی بات نہیں بیٹا ۔۔۔۔ ہو جاتا ہے آپ پریشان نہ ہوں۔جی انکل حمزہ بیٹا اب کیا کرنا ہے ؟انکل آپ میرا موبائل نمبر لے لیں اور اپنا نمبر مجھے دے دیں اور آئی ڈی کارڈ کی تصویر بھی بنا لیں۔ آپ کے ساتھ آنٹی بھی ہیں ۔ میں گھر بابا کو بتاتا ہوں تو آپ کو کال کر دوں گا ۔میں نے کہا ٹھیک ہے بچے ۔۔۔۔۔ کوئی مسئلہ نہیں آپ بھی گھر جاؤ۔۔۔ نروس لگ رہے ہو، گھر جا کر پہلے خود کو ریلیکس کرو اور مجھے بتا دینا ۔۔۔جی ٹھیک ہے انکل ۔۔۔ہم نے ایک دوسرے کو اپنے فون نمبرز دئیے ۔ اور چل دئیے ۔گاڑی میں بیٹھتے ہی اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ اس نے جسمانی طور پر محفوظ رکھا ۔۔۔شام کو حمزہ کا فون آیا ۔ انکل آپ کے گھر کے نزدیک ہی سکیم تھری میں ورکشاپ کی لوکیشن بھیج رہا ہوں، پورے بارہ بجے میں پہنچ جاؤں گا، آپ بھی آ جائیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔آج صبح بارہ بجے جب مطلوبہ مقام پر پہنچا تو حمزہ پہلے ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔ ساتھ ایک خوبصورت سمارٹ شخص ۔۔۔۔ مجھے اندازہ کرنا مشکل ہو گیا کہ یہ بندہ اس کا بڑا بھائی ہے یا ۔۔۔ والد؟خیر میں اپنی گاڑی سے اترا تو یہ دونوں میری طرف بڑھے، بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا ۔۔۔میں حمزہ کا والد ہوں ۔۔۔۔ برگیڈیئر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نام ہے میرا ۔۔۔ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں ہوتا ہوں ۔۔۔۔ آپ کا نام ؟ اسد اللہ شاہ غالب آپ کیا کرتے ہیں؟پہلے تو سوچا ذرا عاجزی کا اظہار کرتا ہوں کہ بس جی ایک عام سا بندہ ہوں، دین کی خدمت کرتا ہوں ۔۔۔پھر اندر سے آواز آئی ۔۔۔یہ عاجزی والی ڈرامہ بازی یہاں نہیں چلے گی ۔۔۔ پیر صاحب یہ بندہ یہاں آنے سے پہلے تمہاری پوری چھان بین کر آیا ہو گا ۔۔۔ اس لئے ایویں یہ عاجزی والی جھخ نہ مار سیدھا سیدھا بتا ۔۔۔اندر کی آواز نے مجھے کافی متاثر کیا ۔۔۔ اور دل ہی دل میں اندر والے انسان کو داد بھی دی کہ یار یہ اندر والا بندہ کافی سیانڑاں لگتا ہے ۔۔۔بس پھر سب کچھ سچ سچ بتا دیا، نہ خدمت دین والی پھنڈ ماری، نہ فقیرانہ عاجزانہ جملے ادا کئے۔۔۔ حمزہ جب کل گھر آیا اور مجھے بات بتائی تو میں نے اس سے پہلا سوال یہی کیا کہ situation کو کیسے handle کیا؟ تو حمزہ نے بتایا کہ انکل بہت cool تھے، ان کے چہرے پہ کوئی پریشانی نہیں تھی۔ انہوں نے مجھے بالکل ایسے treat کیا جیسے اپنے بچوں کو کیا جاتا ہے۔برگیڈئیر صاحب گویا ہوئے ۔ بس میں نے سوچا کہ میں آپ سے ضرور ملوں گا ۔۔۔گاڑی ورکشاپ والوں کے حوالے کی، اس نے بدھ یا جمعرات کو گاڑی دینے کا وعدہ کیا۔ برگیڈئیر صاحب واپسی پر مجھے گھر ڈراپ کر گئے ۔۔۔جیسے ہی گھر پہنچا ۔ بچے پوچھنے لگے کہ بابا گاڑی کب آئے گی؟ میں نے کہا بچوں شکر کرو کہ پریشانی کے وقت اللہ نے صبر دیا اور غصہ دبانے کی عادت دی وگرنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وگرنہ کیا بابا۔۔۔۔؟میں نے کہا وگرنہ آپ یہ نہ پوچھتے کہ گاڑی کب آئے گی؟ آپ لوگوں سے پوچھ رہے ہوتے ۔۔۔۔ کہ بابا کب گھر آئیں گے؟😂🤣😅 اسد اللہ شاہ غالب

*🔴’ریاست مخالف مواد‘ پر پی ٹی آئی اور متعدد صحافیوں کے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم: ’ہمارا مؤقف سنے بغیر ہی سزا سنا دی گئی‘*۔ BBC PK News Islamabad Report Mian khudabukhsh Abbasi

پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی درخواست پر اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان چینلز میں صحافیوں کے علاوہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کا آفیشل چینل بھی شامل ہے۔اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یوٹیوب چینل بلاک کرنے کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ’ریاست مخالف مواد کے حوالے سے این سی سی آئی اے نے دو جون کو انکوائری شروع کی تھی۔‘عدالتی حکم نامے سے یہ پتا چلتا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگشین ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد نے متعلقہ حکام کی منظوری سے یہ انکوائری کی۔واضح رہے کہ ایف آئی اے کے تحت چلنے والے سائبر کرائم ونگ کو تحلیل کر کے این سی سی آئی اے کی صورت میں ایک نئی ایجنسی قائم کی گئی تھی، جو اب سائبر کرائم سے متعلق تحقیقات کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے پیکا ایکٹ 2016 میں متنازع ترامیم بھی متعارف کروائی تھیں۔این سی سی آئی اے کے مطابق یہ یوٹیوب چینلز ریاستی اداروں کے خلاف جعلی اور گمراہ کن خبریں نشر کرتے ہیں۔ ’ایسی خبروں سے معاشرے اور عوام میں خوف، ہیجان، نقص امن یا بے امنی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔‘این سی سی آئی اے کے مطابق جعلی ریمارکس اور اطلاعات کے ذریعے ریاستی اداروں کے حکام کی رازداری کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ این سی سی آئی اے نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یہ چینلز ریاستی اداروں اور حکام کے خلاف دھمکی آمیز، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔ان چینلز پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ یہ عام عوام اور مسلح افواج کے اہلکاروں کو ریاستی ستونوں کے خلاف اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے انکوائری افسرکو سنا اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا اور شواہد کی بنیاد پر عدالت سمجھتی ہے کہ معاملہ پیکا ایکٹ اورتعزیرات پاکستان کے تحت قابل سزا جرم ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ یوٹیوب کے متعلقہ حکام کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کیا جائے۔یہ 27 یوٹیوب چینلز کون سے ہیں؟جن چینلز کو عدالت نے بند کرنے کا حکم دیا، ان میں صحافی مطیع اللہ جان، اسد طور، صدیق جان، حبیب اکرم، ساجد گوندل، رانا عزیر، صبحی کاظمی، اوریا مقبول جان، آرزو کاظمی، عمران ریاض خان، صابر شاکر، عمران خان، آفتاب اقبال، عبدالقادر، وجاہت سعید خان، احمد نورانی، معید پیرزادہ، مخدوم شہاب الدین، نذر چوہان اور شایان علی کے یوٹیوب چینلز بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کا یوٹیوب چینل بھی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔نیا پاکستان، ریئل انٹرٹینمنٹ ٹی وی، ڈیلی قدرت چارسدہ جرنلسٹ اور نائلہ پاکستانی ری ایکشن بھی ان چینلز کی فہرست میں شامل ہیں جنھیں عدالت نے بلاک کرنے کا حکم دیا۔’ہمارا مؤقف سنے بغیر ہی سزا سنا دی گئی‘بی بی سی اردو نے ان 27 یوٹیوب چینلز میں سے تین کے مالکان سے بات کی اور ان تینوں نے یہ بتایا ہے کہ عدالت نے انھیں سنے بغیر یہ فیصلہ سنایا۔ایم جے ٹی وی یوٹیوب چینل کے مطیع اللہ جان نے بتایا کہ ’ہمارا مؤقف سنے بغیر ہی ہمیں سزا سنا دی گئی۔‘انھوں نے کہا کہ ’انکوائری کے دوران انھیں کوئی نوٹس نہیں آیا مگر چینل بند کرنے کا حکم آ گیا۔‘مطیع اللہ جان نے کہا کہ ’روزگار بند کرنے والی اتنی بڑی سزا سنانے سے قبل مجھے سن تو لیتے۔ اب کیا چینل بند کر کے لوگوں کو بھوکا ماریں گے۔‘سینیئر صحافی حبیب اکرم نے کہا کہ ان کو چینل بند کرنے سے قبل ’نہ کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی کچھ اور بتایا گیا۔‘انھوں نے کہا کہ آج کا عدالتی حکمنامہ انھیں کسی نے بھیجا تو انھیں لگا کہ یہ مذاق اور جعلی حکمنامہ ہے۔ انھوں نے بھی یہ کہا کہ اس سارے عمل کے بارے میں ’ہمیں بالکل کسی نہ کچھ نہیں بتایا۔‘حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہلکے پھلکے انداز میں یوٹیوب چینل چلا رہے تھے مگر جب ’مجھے پہلے آف ایئر کیا گیا تو اس کے بعد سے یوٹیوب میرے روزگار کا بھی ذریعہ ہے اور اظہار کا بھی۔‘وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ ’بغیر سنے یہ سزا سنائی گئی۔ مجھے صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔‘جیب اکرم کے مطابق اس حکمنامے سے انھیں یہ بھی نہیں معلوم ہو سکا کہ آخر ایسی کون سی ویڈیو ہے جس کی بنیاد پر یہ سب ہوا۔صحافی صدیق جان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے یوٹیوب کی جو ای میل آئی تو اس کے ساتھ ہی یہ حکمنامہ تھا۔‘انھوں نے کہا کہ ’ابھی ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔‘صدیق جان کا کہنا ہے کہ ’وہ اس بات سے خوش ہیں کہ غلط ہی سہی مگر عدالت کے ذریعے یہ فیصلہ آیا، کم از کم جبری گمشدگی تو نہیں ہوئی۔‘’یوٹیوب کو ہمیں ایک موقع دینا چاہیے‘یوٹیوب انتظامیہ کی طرف سے مطیع اللہ جان کو ای میل بھی موصول ہوئی۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ ’میں نے یوٹیوب کو جواب دیا کہ جس کو آپ عدالتی حکمنامہ کہہ رہے ہیں یہ کوئی حتمی آرڈر نہیں۔ یہ سزا یافتہ والا معاملہ نہیں ایک پروسیجرل معاملہ ہے اور اگر انکوائری کی بنیاد پر چینل بند ہوئے تو پھر سب چینل بند ہو جائیں گے۔‘انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کا قانون پوری دنیا میں عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔اس طرح کے حکم نامے کی بنیاد پر کسی چینل کو ’ہٹایا‘ نہیں جا سکتا۔انھوں نے کہا کہ ’عدالت نے ہمیں سنے بغیر ہی حکم نامہ دیا۔ یوٹیوب کو عارضی احکامات پر چینل بند نہیں کرنا چاہیے۔ یوٹیوب کو ہمیں ایک موقع دینا چاہیے۔‘مطیع اللہ جان کے مطابق ’اگر اس طرح حکومتوں کے کہنے پر چینل بند ہونا شروع ہوئے تو پھر یہ کوئی تحفظ نہیں اور اس سے یوٹیوب کی ساکھ شدید متاثر ہو گی۔‘صدیق جان نے کہا کہ ایسا حکم نامہ دیا ہی نہیں جا سکتا۔ صدیق جان کی رائے میں یہ ایک ماتحت عدالت ہے، یہ کوئی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تو نہیں کہ اس کا حکمنامہ پوری دنیا پر لاگو ہو جائے۔صدیق جان نے کہا کہ وہ اب اپنی لیگل ٹیم کے ذریعے اس حکمنامے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔’مبہم درخواست کی بنیاد پر مبہم فیصلہ‘تجزیہ کار اور صحافی عارفہ نور کے مطابق یہ ایک بری پیشرفت ہے۔ سوشل میڈیا ایکس پر اپنی رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چونکہ ’ریاست آزادی اظہار کی پرواہ نہیں کرتی تو اب یہ یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ کون سے چینلز راہ راست پر ہیں۔ اس عدالتی فیصلے سے ان چینلز کی ساکھ کو ٹھیس پہنچے گی جنھیں عوام سننا چاہتے ہیں۔‘ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم ’بولو بھی‘ کی فریحہ عزیز نے عدالتی فیصلے پر تنقید کی۔ انھوں نے لکھا کہ انڈیا میں اس طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کی طرف سے تعمیل کی گئی اور اس سے دوسروں پر بھی اثر پڑا۔‘فریحہ نے کہا کہ یوٹیوب نے انڈیا میں جو کچھ کیا وہ بالکل مناسب نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس مبہم عدالتی حکم پر کن معیارات کا اطلاق کیا گیا۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ ان چینلز نے قانون یا پالیسی کی کون سی خلاف ورزی کی، یہ کہاں بتایا گیا؟ان کے مطابق یہ عدالتی فیصلہ ہمیں اس بارے میں کوئی تفصلات فراہم نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شواہد نہیں کہ جو عدالت کو قائل کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہوں اور نہ اس میں تفصیلات دی گئی ہیں۔فریحہ کہتی ہیں کہ ایف آئی آرز میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ بھی ایسے ہی مہبم نوعیت کے ہیں۔ ’اس کے علاوہ یہ حکمنامہ ایک مجسٹریٹ کی طرف سے سامنے آیا، جو ایک سب انسپکٹر کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر سنایا گیا۔‘پوڈ کاسٹر شہزاد غیاث شیخ نے کہا کہ یوٹیوب چینلز پر مکمل پابندی آزادی اظہار کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ان کی رائے میں مطیع اللہ جان اور اسد طور تو ایسے صحافیوں میں شامل ہیں جو سب پر تنقید کرتے ہیں اور ان کے بھی چینلز بند کرنا قابل مذمت ہے

*🔴یہ کیا عجیب ڈرامہ بازی ہے؟ کیا آپ فیصلہ سازوں کی مذمت کرتے ہیں؟👇*خبر: وفاقی کابینہ نے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے دی، BBC PK News

 ایک سال کے دوران ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کے بعد اب 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی جارہی، چینی کی درآمد حکومتی شعبے کے ذریعے کی جائے گی، فیصلہ چینی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکومت*ایک بار پھر چینی کی امپورٹ کا فیصلہ کرلیا گیا۔ایک بار پھر اربوں روپے کمائے جائیں گے۔ ایک بار پھر اعلیٰ حکومتی مناصب پر فائز شخصیات نوازی جائیں گی۔ چینی ایکسپورٹ کرکے اربوں روپے کمائے گئے۔ اب چینی امپورٹ کرکے تجوریاں بھری جائیں گی۔دائرے کا ایک سفر ہے جس میں ہم چل رہے ہیں۔ دہائیاں گزرگئیں، کہا جاتا ہے کہ چینی اس قدر زیادہ ہے کہ ایکسپورٹ کرنے کے سوا چار نہیں۔ پھر چند ماہ بعد بتایا جاتا ہے کہ چینی کم پڑگئی، اس لیے امپورٹ کرنا ضروری ہے۔ذرا شوگر ملز مالکان کی فہرست نکالیں اور دیکھیں کہ کون کون اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہا ہے۔ خان صاحب کی حکومت میں شوگر اسکینڈل ہوا، آسمان سر پر اُٹھایا گیا۔ اب پھر وہی کچھ ہورہا ہے، مگر مکمل خاموشی۔ آخر یہ خاموشی کیوں؟ اور آخر کون ہیں وہ لوگ جوسال میں دوبار اربوں لوٹ کر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں؟*جمال عبداللہ عثمان*

پیر، 7 جولائی، 2025

*🟢شمالی غز_ہ میں جانبازوں سے جھڑپ کے دوران 5 دجالی فوجی ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے، 2 کی حالت تشویشناک ہے۔**🔵اسرا_ئیلی فوج نے منگل کے روز بتایا کہ شمالی غز_ہ میں لڑائی کے دوران اس کے 5 فوجی ہلاک ہو گئے۔*BBC PK News gza

*
*⚫اسرا_ئیلی فوج کا کہنا ہے کہ 2 فوجی شمالی غز_ہ میں لڑائی کے دوران مارے گئے، جب کہ اسی واقعے میں 3 دیگر فوجی بھی ہلاک اور 2 شدید زخمی ہوئے۔

چینی، سیاست اور سکینڈلز: پاکستان میں شوگر ملز مالکان کون ہیں اور کتنے بااثر ہیں؟ BBC PK News Tanveer Malik Report

تنویر ملک
عہدہ,صحافی
چائے سے لے کر مشروبات اور مٹھائیوں کی تیاری تک پاکستان میں چینی کا استعمال خوراک کا اہم جزو ہے مگر اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ پاکستانیوں کے کھانے پینے کی چیزوں پر اٹھنے والے اخراجات پر اثر اانداز ہوتا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ہر پاکستانی سالانہ تقریباً 28 کلو گرام چینی استعمال کرتا ہے۔

مگر چینی کا نام کھانے پینے تک محدود نہیں بلکہ اسے پاکستانی سیاست، اس میں سرگرم اہم شخصیات اور خاندانوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اس کی قیمت بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہر چند برس بعد بحران جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

گذشتہ ماہ پاکستان میں چینی کی درآمد کے حکومتی فیصلے پر خاصی تنقید ہوئی ہے۔ ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حکومت نے شوگر ملز کو گذشتہ مالی سال کے دوران چینی برآمد کرنے کی اجازت ہی کیوں دی تھی۔

2 جولائی کو نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق لاکھوں ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت اس لیے دی گئی تاکہ ’مقامی مارکیٹ میں مناسب سپلائی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے ساڑھے سات لاکھ ٹن سے زائد چینی کی برآمد کی تھی جبکہ اب حکومت نے اتنی ہی مقدار درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...