بدھ، 9 جولائی، 2025

*Raid on office of party providing free Ajrak number plates to citizens in Karachi, several arrested*Bureau Chief Jaidev Maheshwari Report Karachi

کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ نئی اجرک والی نمبر پلیٹ شہریوں کو مفت میں فراہم کرنے والی فلاحی و سیاسی تنظیم کے دفتر پر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے چھاپہ مار کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

ایکسائیز اینڈ نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنر نے بلال کالونی تھانے کی حدود میں واقع نارتھ کراچی 5L میں خفیہ اطلاع پر چھاپہ مارا، جس میں مقامی تھانے کی پولیس بھی ہمراہ تھی۔

چھاپے کے دوران کراچی نوجوانان پارٹی کے دفتر سے متعدد کارکنان کو گرفتار کر کے نمبر پلیٹس برآمد کی گئیں جنہیں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔

ایکسائز ذرائع کے مطابق چھاپہ اعلیٰ افسران کی خفیہ اطلاع پر کیا گیا جبکہ فیضان حسین کو فی الفور طلب کرلیا گیا ہے۔

کراچی نوجوانان پارٹی کے چیئرمین فیضان حسین نے ایکسائز کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جانب سے شہریوں کو مفت نمبر پلیٹ فراہم کی جارہی ہیں جبکہ شہر میں تو ایسی نمبر پلیٹ فروخت ہورہی ہیں اور وہاں پر کوئی چھاپہ نہیں مارا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اگر شہر کے لوگوں کی مدد کررہے ہیں تو کوئی گناہ نہیں اور کارروائی کا مقصد بھی لوگوں کی خدمت کے سلسلے کو روکنا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ایکسائز پولیس نے دفتر سے متعدد نوجوانوں کو گرفتار کر کے بلال کالونی تھانے منتقل کردیا ہے۔ ہم ایکسائز کی اس کاروائی کے خلاف احتجاج اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

*🔴Faisalabad: Money was collected through honey traps, revealed in call center fraud case*Idris Babar Report

*فیصل آباد: ہنی ٹریپ کے ذریعے پیسے وصول کیے جاتے تھے،کال سینٹر فراڈ کیس میں انکشاف*

فیصل آباد میں پکڑے گئےکال سینٹر فراڈ کیس کی ابتدائی تفتیش میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔

 ابتدائی تفتیش کے مطابق ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرکے پیسےوصول کیے جاتے تھے، خاتون ظاہر کرکے تصاویر بھیجتے اور اصرار پرکیمرے پر خاتون سے بات کرائی جاتی، جب لوگ ہنی ٹریپ میں پھنس جاتے تو پھر ان کوبلیک میل کرکے رقم وصول کی جاتی۔

ذرائع کے مطابق یورپ اور دوسرے ممالک پر آن لائن کاروبار کی ویب سائٹ بنائی جاتی، ویب سائٹ کاروبار پر ٹاسک کے تحت کلک پر ایک ہزار سے 1500 روپے دیے جاتے،کام کرنے والوں سے بھی انویسٹمنٹ کرائی جاتی اور پھر نقصان ظاہر کیا جاتا، لوگوں کو آن لائن کاروبار میں پیسے ٹرانسفر کروا کر رقم ہڑپ کرلیتے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ عمارت فیسکو کے سابق چیئرمین کی ملکیت ہے، عمارت سے ملنے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہےکہ کال سینٹر سابق چیئرمین فیسکو کا تھا، دستاویزات میں سابق چیئرمین فیسکو نے ملازمت پر رکھنےکے معاہدے کیے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب گرفتار کیےگئے ملزمان کو عدالت نے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا۔ ملزمان میں 18 خواتین اور 71 غیرملکیوں سمیت 149 افراد شامل ہیں۔

*Talal Chaudhry announces criminal action against sensationalist YouTubers*Mian Khudabakhsh Abbasi Islamabad Report

*🔴طلال چوہدری کا سنسنی پھیلانے والے یوٹیوبرز کیخلاف کرمنل کارروائی کا اعلان*

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سنسنی پھیلانے والے یوٹیوبرز کے خلاف کرمنل کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جن 27 یو ٹیوب چینلز کو بند کیا جا رہا ہے، ان میں سے زیادہ تر بھگوڑے ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک قانون ہے اس قانون کی پاسداری ہونی چاہیے، پوری دنیا میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر سے متعلق قوانین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ نہیں کرسکتے کہ کوئی بھی ہاتھ میں موبائل اٹھا کر کسی کے قتل کا فتویٰ دے دیں یا کسی کی قیمت لگادیں یا پھر کسی کو مذہی طور پر ایسی کوئی بات کرلیں کہ اس کی جان کو خطرہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ انتشار کے لیے سوشل میڈیا اور موبائل استعمال نہیں کرسکتے، پوری دنیا میں اس کو ریگولیٹ کرنے کے قوانین ہیں اور پاکستان میں بھی اس کے قوانین ہیں۔

مزید کہا کہ انہیں قوانین کے تحت یہ سب کچھ چل سکتا ہے، جو ان قوانین کے تحت اپنے وی لاگز بناتا ہے یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے وہ ٹھیک ہے۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’ ان میں سے بیشتر لوگوں کو تو سنا ہی نہیں گیا؟

جس پر طلال چوہدری نے جواب دیا کہ ان میں زیادہ تر بھگوڑے ہیں، یہ سوشل میڈیا سے پیسے کمانے کے لیے سنسنی پھیلاتے ہیں اور اپنی ریٹنگ بڑھاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایک بات بتائیں کہ جو لوگ صحافتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنے وی لاگ بناتے ہیں، ان کو نہ تو اتنے ویوز ملتے ہیں اور نہ ان کے اتنے سبسکرائبر ہوتے ہیں لیکن ان لوگوں کو پیسے مختلف چینل اور ویب سائٹ سے ملتے ہیں لیکن افراتفری یہاں پھیلاتے ہیں، یہ نہیں چلے گا اور اب ان کے خلاف کریمنلر کارروائی بھی ہوگی۔

راٹھی نندلال ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی ڈیلی بی بی سی پاک نیوز تھرپارکر میں ننگرپارکر برسات کے بعد سیاحوں کا مرکز بن جاتا ہے۔ BBC PK News Thaarparkr Report Rathe Nand Lal

تفصیلات :- ہر سال لاکھوں سیاح تھر کی سیر کو آتے ہیں، مگر سندھ کے محکمہ سیاحت نے نہ کوئی سہولت فراہم نہیں کی ہے اور نہ ہی تاریخی مقامات کی حفاظت کی جا رہی ہے سندھ کے سابق وزیر ثقافت و سیاحت کی جانب سے سارڌڑو لک کے مقام پر بنائی گئی چوئنری کے کپڑے بھی ایک سال سے اُڑ چکے ہیں، جبکہ سیاحتی مقامات کے راستے اور سڑکیں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں، لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی سیاحت محکمہ کی بچیٹ کاغزوں میں پوری ہو جاتی ہےضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے تاریخی اور سیاحتی مقامات کو محفوظ بنایا جائے اور عوام کو چند لمحے سکون کے میسر آئیں تاکہ تھر کا نام روشن رہےراٹھی نندلال  
ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی   
ڈیی بی بی سی پاک نیوز   

                                      ہر سال برسات کے موسم میں کمشنر میرپورخاص اور ڈپٹی کمشنر تھرپارکر صرف رسمی کارروائی کرکے دفعہ 144 لگا دیتے ہیں

تفصیلات :-
                                            گاؤچر اور سرکاری زمینوں پر کاشتکاری کی پابندی کے لیے دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن جاری کرکے خاموش ہو جاتے ہیں۔ پورے سال نہ تو کوئی ریونیو افسر فیلڈ میں نکلتا ہے، نہ اس نوٹیفکیشن پر کوئی عمل درآمد ہوتا ہے، اور نہ ہی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔

ہر سال تھر میں ہزاروں ایکڑ غیر قانونی طور پر زمین آباد کی جاتی ہے۔
1982/83 سے یکسالوں پر پابندی کے باوجود پورے تھر میں لاکھوں ایکڑ زمین یکسالوں کے نام پر قابض کی جا رہی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف مال مویشیوں کے چراگاہ تباہ ہو چکے ہیں، بلکہ اکثر جھگڑوں اور تنازعات کی وجہ بھی یہی زمینیں بنی ہوئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کو چاہیے کہ وہ خود دیہاتوں کا دورہ کرکے کھلی کچہریاں منعقد کرے، غیرقانونی طور پر آباد کی گئی گاؤچر، سرکاری زمینیں، مال مویشیوں کے راستے اور چراگاہیں خالی کروائے۔

کم از کم تھر کے ہر گاؤں میں ایک مخصوص آسائشی زمین کی حد بندی کرکے اسے باضابطہ طور پر ڈکلیئر کیا جائے تاکہ مالدار لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ باعزت طریقے سے گزر بسر کر سکیں اور روزمرہ کے جھگڑوں کا خاتمو ممکن ہو سکے۔
راٹھی نندلال  
ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی  
ڈیلی بی بی سی پاک نیوز

تھرپارکر کے ڈپٹی کمشنر آفس کے قریب واقع شہید بینظیر بھٹو لائبریری کی بجلی گزشتہ دو ہفتوں سے بند، طلباء شدید پریشانی کا شکار۔۔۔


 تفصیلات :-

مِٹھی کی واحد شہید بینظیر بھٹو لائبریری، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں طلباء تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، گزشتہ دو ہفتوں سے بجلی بند ہونے کے باعث شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
ہم ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لائبریری کی بجلی فوری طور پر بحال کی جائے۔ یہ طلباء کا جائز مطالبہ ہے شدید گرمی کی وجہ سے بیحد پریشان ہیں

Report Rathi Nandlal Bureau Chief District Tharparkar Mithi

راٹھی نندلال  
ڈسٹرکٹ بیورو چیف تھرپارکر مٹھی  
ڈیلی بی بی سی پاک نیوز  
                           

*مٹھی: ایس ایس پی تھرپارکر جناب عادل میمن صاحب کی زیر صدارت ایس ایس پی آفیس میں کرائیم میٹنگ*
میٹنگ میں ضلع کے تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔

  تفصیلات :-
 میٹنگ میں *ایس ایس پی تھرپارکر جناب عادل میمن صاحب* نے تمام ایس ایچ اوز کی کارگردگی کا تفصیلی جائزہ لیا
 اس موقع پہ ایس ایس پی عادل میمن صاحب نے کہا کے تمام ایس ایچ اوز کو دلیری اور محنت سے کرائیم فائیٹ کرنا ہوگا.
 کجھ ایس ایچ اوز کی ناقص کارکردگی اصل ملزمان کی عدم گرفتاری پہ کجھ افسران کی سخت سرزنش سزائیں و شوکاز نوٹس جاری
 ایک بار پھر واضع کرتا چلوں کہ ضلع میں امن امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا اولین ترجیح ہے، جس پہ کسی قسم کا سمجہوتا نہیں کرونگا عوام کی جان و مال کا تحفظ عزیز ہے جسے یقینی بنانا ہوگا.
 جرائم پیشہ افراد سماجی برائیاں، سماج دشمن عناصرین کے خاتمے کی پالیسی میں کسی قسم کی کوتاہی غفلت ہرگَز برداشت نہیں کی جائے گی.

 منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیوں میں مزید تیزی لائیں اور اصل ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنائیں.
 تمام ایس ایچ اوز سرکاری پوليس موبائيل میں گشت کو یقینی بنائیں.
  پیٹرولنگ, اسنیپ چیکنگ کو مزید میسر بنائیں جرائم کی روک تھام کے لیے میسر حکمت عملی کے ساتھ کام کریں شکایات کافر کوئی موقع نہ ملنا چاۓ

*

منگل، 8 جولائی، 2025

⭕ مباشرت سے پہلے کیا کریں؟جس رات مباشرت کرنے کا ارادہ ہو اس روز میاں‌ بیوی دونوں‌ کو پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیئے۔ Written by: Mian Khudabakhsh Abbasi, Islamabad

دونوں‌ میں سے کسی ایک کا رات کے پروگرام سے لاعلم ہونا دوسرے کے لئے کوفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس رات میاں‌ بیوی دونوں تازہ دم ہوں۔ صبح ناشتے میں مرغن غذا لیں۔ گھی، مکھن اور بالائی وغیرہ کا استعمال مفید ہے۔ رات کا کھانا زود ہضم ہونا چاہیئے اور اس رات کھانا ذرا جلدی کھا لیا جائے۔ ترش اور گرم اشیاء سے اس رات مکمل پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس رات نمک کا استعمال بھی کم ہو تو بہتر ہے۔ شام کےکھانے کے بعد چہل قدمی کرنا بھی مفید ہے۔ اس کے بعد علیحدہ علیحدہ سو جانا چاہیئے۔ سونے سے پہلے مرد کو پیشاب کر لینا چاہیئے۔کھانے کے تقریبا چار گھنٹے بعد اٹھیں۔ بیوی اٹھ کر پیشاب وغیرہ سے فارغ ہو لے تاکہ فرج کی غیرضروری رطوبت خارج ہو کر تنگی پیدا کرے، اس سے مرد اور عورت دونوں‌ کو مباشرت کے دوران زیادہ لطف مل سکے گا۔اگر عورت کو جلد انزال مقصود ہو تو وہ پیشاب نہ کرے، تاہم مرد کو مباشرت سے فوری پہلے پیشاب نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے شہوت اور قوت میں کمی آ جاتی ہے اور انزال وقت سے پہلے ہو جاتا ہے۔اگر چار پائی کی بجائے زمین پر گدا بچھا کر اس پر مباشرت کی جائے تو نہ صرف دونوں‌ کو زیادہ لطف اور سکون ملے گا بلکہ ایسی مباشرت استقرار حمل میں بھی مفید ہے۔مباشرت سے پہلے بستر پر ایک موٹا کپڑا بچھا لیا جائے تاکہ فرج سے باہر بہہ نکلنے والی فالتو منی بستر کو خراب نہ کر دے۔ اسی طرح مباشرت کے بعد شرمگاہوں کی صفائی کے لئے پہلے سے اپنے قریب ایک صاف کپڑا بھی رکھ لیں۔باقاعدہ مباشرت سے پہلے میاں‌ بیوی کا چند منٹ کے لئے ایک دوسرے کی جسم سے کھیلنا دونوں‌ میں محبت پیدا کرتا ہے۔ پہلے دونوں‌ کپڑوں‌ سمیت ایک دوسرے کے جسم سے اپنے جسم کو مسلیں اور کچھ دیر بعد ایک دوسرے کے جنسی اعضاء کو ہاتھ سے ٹٹولیں اور مسل کر اسے لذت دیں اور خود بھی لطف اندوز ہوں۔ لباس اتارنے سے پہلے چند منٹ کا یہ کھیل نہ صرف حصول لذت کا ایک اچھا ذریعہ ہے بلکہ اس سے بیوی کو مباشرت کے لئے مکمل طور پر تیار ہونے میں‌ بھرپور مدد ملتی ہے۔ تاہم اگر مرد سرعت انزال کا شکار ہو تو اسے اس دوران خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔میاں بیوی کا جنسی تعلق کوئی گناہ نہیں بلکہ صدقہ ہےمباشرت، مجامعت، جماع، وطی، ہمبستری، فریضہ زوجیت، وظیفہ زوجیت، جنسی ملاپ، ملنا، ساتھ سونامیاں بیوی کا تعلق اور اس سے حاصل ہونے والا سکون، محبت اور رحمت اللہ رب العزت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں آیا ہے:ترجمہ:اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کی حکمتوں ‌پر غور و خوض کرنے اور اس کا شکر بجا لانے کی بجائے اسے مکمل طور پر نظرانداز کئے رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر میاں‌ بیوی کے تعلق پر بات کرنے والوں‌ کے بے حیاء سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے نوبیاہتا جوڑے کسی بڑے سے اپنے جنسی مسائل پوچھنے سے شرماتے ہیں اور یوں ان کے مسائل گھمبیر ہوتے چلے جاتے ہیں۔مباشرت یعنی فریضہ زوجیت ایک صدقہ ہے۔ میاں‌ بیوی کے درمیان الفت بڑھانے اور نسل انسانی کے تحفظ کا ضامن یہ عمل کوئی شجر ممنوعہ نہیں‌ کہ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اس بارے میں‌ بات کرنا بے شرمی کی بات سمجھی جائے۔ جائز حدود میں رہ کر جنسی مسائل کو ڈسکس کرنا اور ان کا حل معلوم کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہماری غیر شرعی معاشرتی اقدار ہمیں‌ ہمارے اس جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔اسلام کی تعلیمات میں بکثرت جنسی معلومات دی گئی ہیں۔ قرآن و حدیث کی بے شمار نصوص میاں‌ بیوی کے تعلق کو نہ صرف واضح کرتی ہیں بلکہ مباشرت کے جائز اور ناجائز طریقوں سے بھی آگاہ کرتی ہیں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ جیسے ہم نے اس مادیت زدہ دور میں اسلام کی روحانی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا، اسی طرح اسلام کی ان تعلیمات کو بھی بے شرمی کی باتیں‌ قرار دیتے ہوئے ان سے بھی صرف نظر شروع کر دیا جو ایک مسلمان کے تکمیل ایمان کی ضامن ہیں۔ من گھڑت شرم و حیاء کا لیبل جہاں‌ ایک طرف شریعت اسلامیہ کی اتباع کرنے والوں کو ضروری جنسی معلومات کے حصول سے محروم کر دیتا ہے، وہیں شریعت کو بوجھ سمجھنے والوں‌ کو جنسی معلومات کے حصول کے لئے شرط بے مہار کی طرح مغرب کی تقلید کے لئے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ منقول

Crime Rising from the Ashes of Love: A True Story of Ego, Revenge, and Tragedy This painful, true-to-life story is written in dark words of cruelty and selfishness.Written by Advocate Chaudhry Aamir Abbas Lahore

محبت کی راکھ سے اٹھتا جرم: انا، انتقام اور المیے کی سچی داستان
یہ حقیقت پر مبنی دردناک داستان، ظلم اور خودغرضی کے سیاہ الفاظ سے لکھی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ محبت دلوں کی زمین پر اگتی ہے، لیکن اس کے پھل کے لیے خلوص، سچائی اور قربانی کی آبیاری ضروری ہوتی ہے۔ مگر جب دل زنگ آلود ہو جائیں تو وہاں چاہتیں نہیں، سانحات جنم لیتے ہیں۔

یہ کہانی بھی ایسی ہی ایک ادھوری خواہش کی ہے، جو محبت کے بستر پر نہیں، مفاد پرستی کی چھری کے نیچے ذبح ہو گئی۔
پانچ سال قبل ایک اکیڈمی میں دو نوجوان دل ایک دوسرے میں کھو گئے۔
ایک طرف تھا عثمان، جذبات سے عاری، بے رحم نوجوان… اور دوسری جانب تصویر میں نظر آنے والی یہ بے رحم لڑکی، جس کا نام شاید اس لیے پردے میں ہے کہ کبھی کبھی جرم سے زیادہ ندامت کا بوجھ سنگین ہوتا ہے۔

ان دونوں نے خواب دیکھے تھے: ہمسفر بننے کے، دنیا کو ساتھ چھوڑنے کے۔ لیکن تقدیر کے دھاگے ہمیشہ سچے جذبوں کے ہاتھ میں نہیں ہوتے، اکثر وہ انا کی مٹھی میں جکڑے ہوتے ہیں۔

عثمان کے والدین نے صاف کہہ دیا:

"ہم خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے۔"

یوں جذبات کی دنیا کو رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ عثمان کی شادی اس کی تایا زاد سے ہوئی، اور لڑکی کو چچا زاد کے ساتھ باندھ دیا گیا۔
نئی زندگیاں شروع ہو گئیں، مگر ماضی کے لمس دل سے مٹ نہ سکے۔ اور پھر… شاید محبت نفرت کا زہر بن کر اندر ہی اندر پھیلنے لگی۔

عثمان نے درندگی کی آخری حد پار کرتے ہوئے اپنی بیوی کو بے ہوشی کی دوا دے کر غسل خانے میں لے جا کر اس کے سر پر وار کیا۔
ایک دلدوز چیخ، آخری سانس… اور ایک بے گناہ جان ظلم کی بھینٹ چڑھ گئی۔

مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔

وہ لڑکی بھی خاموش نہ رہی۔ اس نے انتقام کی راہ چنی، اور ایک دن اپنے شوہر کے کھانے میں زہر ملا دیا۔
دو جنازے اٹھے، دو خاندان صف ماتم پر بیٹھے، اور دو زندگیاں وقت کی بے رحم لہروں میں بہہ گئیں۔

لوگ سمجھے شاید کہانی تمام ہو گئی…
مگر سازش ابھی باقی تھی، زہر ابھی مکمل طور پر بہا نہیں تھا۔

لڑکی کے والدین نے اُسے دوسری بار بیاہ دیا۔
لیکن پرانی آگ دل میں جلتی رہی، پرانا عشق ابھی بھی سانسیں لے رہا تھا۔
نئی سازش کی بنیاد رکھی گئی — ایک تفریحی سفر کی آڑ میں مری کی برفانی وادیوں میں دوسرے شوہر کو سابقہ عشق کی بھینٹ چڑھانے کا منصوبہ۔

لیکن تقدیر نے ایک بار پھر مداخلت کی۔

شاید ضمیر نے آواز دی، یا کسی قریبی نے شک کیا — اور یوں اس راز نے تھانے کی فائل میں جگہ بنا لی۔
اعتراف جرم ہوا، اور وہ لڑکی آج سلاخوں کے پیچھے ہے۔
ایک ایسی عورت جو کبھی محبت کی علامت تھی، آج بربادی کی مثال بن چکی ہے۔

اگر یہ سب کچھ سچ ہے، تو مجھ پر اختیار ہوتا تو صرف قاتلوں کو نہیں بلکہ ان کے والدین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لاتا، جن کی ضد اور انا نے دو بے گناہ جانوں کو قبر میں اتار دیا۔

ذرا سوچیے…

اگر والدین اُس وقت اپنی انا کو دفن کر دیتے، بچوں کے جذبات کو سمجھ لیتے، تو شاید دو گھر آج سلامت ہوتے۔
دو نوجوان زندگی کے سفر پر ہوتے، اور یہ لڑکی عبرت کا نمونہ نہ بنتی۔

یاد رکھیں:

محبت کو قید میں مت ڈالیے۔
اولاد کی مرضی کو جکڑ کر جرم کی بنیاد مت رکھیے۔
ان کی پسند کو تھوڑی سی عزت دے دیجیے،
کیونکہ اکثر وہ لوگ جو محبت کی زمین پر زبردستی کی فصل اگانے کی کوشش کرتے ہیں،
ان کے آنگن میں جنازے اگ آتے ہیں۔

تحریر نو: از چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور بازگشت کے ساتھ

*💫News Details**Friday 17th Shaban Al-Mu'azim 1447 AH**February 6, 2026💫*

ازبکستان سے 29 معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ایکشن پلان بنانے پر اتفاق 9 مئی مقدمہ، وزیر...